ریڈیو پاکستان پشاور سے متعلق خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائم کی گئی خصوصی کمیٹی کا تیسرا اجلاس پیر کے روز اسمبلی سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا، جس کی صدارت چیئرمین خصوصی کمیٹی اور صوبائی وزیر برائے قانون و پارلیمانی امورافتاب عالم نے کی۔ اجلاس میں کمیٹی کے اراکین سمیع اللہ، ڈاکٹر اسرار، فضل الہی، شیر علی آفریدی، ادریس خٹک، ریاض خان، احمد کنڈی اور طارق سعید نے شرکت کی، جبکہ ایڈووکیٹ جنرل، محکمہ داخلہ، پولیس اور اسمبلی سیکرٹریٹ کے متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔یہ خصوصی کمیٹی سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کی ہدایت پر قائم کی گئی ہے، جس کا بنیادی مقصد 9 اور 10 مئی 2023 کو پیش آنے والے ریڈیو پاکستان پشاور واقعے کی شفاف، غیر جانبدارانہ اور جامع تحقیقات کو یقینی بنانا ہے۔ کمیٹی اس امر کے لیے کوشاں ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کو سامنے لایا جائے تاکہ حقائق کی روشنی میں ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے اور کسی بے گناہ فرد کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔اجلاس کے دوران کمیٹی اراکین نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ پولیس کی جانب سے درج تمام ایف آئی آرز، تفتیشی ریکارڈ اور متعلقہ دستاویزات کی مصدقہ نقول آئندہ اجلاس سے کم از کم تین روز قبل اراکین کو فراہم کی جائیں۔ اس اقدام کا مقصد اراکین کو کیس کے تمام پہلوؤں سے مکمل آگاہی دینا ہے تاکہ وہ دستیاب شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لے کر اپنی حتمی رپورٹ ٹھوس اور ناقابلِ تردید بنیادوں پر مرتب کر سکیں۔اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے بریفنگ دیتے ہوئے زور دیا کہ کیس میں مؤثر پیشرفت کے لیے مستند ریکارڈ اور درست شناختی معلومات کا حصول ناگزیر ہے، کیونکہ ان کے بغیر تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچانا ممکن نہیں۔ اجلاس کے اختتام پر چیئرمین خصوصی کمیٹی افتاب عالم نے پولیس حکام کو ہدایت جاری کی کہ تمام ریکارڈ کو مکمل، منظم اور قابلِ رسائی شکل میں مرتب کر کے مقررہ وقت سے قبل کمیٹی کے حوالے کیا جائے، تاکہ تحقیقات کا عمل شفاف، مؤثر اور تیز رفتار انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔
