مشیرِ وزیراعلیٰ ملک لیاقت علی خان کی زیرِ صدارت چائلڈ پروٹیکشن کمیشن کا 33واں اجلاس ہوا، جس میں صوبے کی پہلی چائلڈ پروٹیکشن پالیسی کی منظوری دے دی گئی

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے زکوٰۃ و عشر، سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و ویمن ایمپاورمنٹ ملک لیاقت علی خان کی زیرِ صدارت پشاور میں خیبر پختونخوا چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کمیشن کا 33واں اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کی پہلی چائلڈ پروٹیکشن پالیسی کی منظوری دے دی گئی۔ اجلاس میں بچوں کے تحفظ، حقوق اور فلاح و بہبود سے متعلق پالیسی کے مختلف پہلوؤں اور دیگر امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری سماجی بہبود شریف حسین، اراکین صوبائی اسمبلی مس ثریا بی بی اور مس شہلا بانو، وکلاء کی نمائندہ مس لاریب، سول سوسائٹی کے نمائندگان سجاد اللہ اور ڈاکٹر سلیمان خٹک، مذہبی اسکالر غلام اللہ سمیت دیگر متعلقہ اراکین نے شرکت کی۔اجلاس میں خیبر پختونخوا چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر ایکٹ 2010 کے تحت کمیشن کے کردار اور بچوں کے تحفظ سے متعلق مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔ پالیسی میں خطرے سے دوچار بچوں، یتیم و بے سہارا بچوں، معذور بچوں، بے گھر بچوں، سڑکوں پر رہنے والے بچوں اور والدین کی مناسب نگہداشت سے محروم بچوں کے تحفظ اور فلاح و بہبود کے لیے اقدامات شامل ہوں گے۔ پالیسی میں بچوں کو بدسلوکی، جسمانی و ذہنی تشدد، غفلت، استحصال، چائلڈ لیبر، بھیک منگوانے، جنسی استحصال، کم عمری کی شادی اور دیگر خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے روک تھام، بروقت نشاندہی، رپورٹنگ، تحفظ، بحالی اور نگرانی کے مؤثر نظام شامل ہوں گے۔ بچوں کی شناخت و رجسٹریشن، کیس کی جانچ، حفاظتی منصوبہ بندی، متعلقہ اداروں کو حوالگی اور بعد ازاں نگرانی کے طریقہ کار، نیز صوبائی، ضلعی اور کمیونٹی سطح پر متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ کاری کو بھی پالیسی کا حصہ بنایا جائے گا۔ متبادل نگہداشت میں بچوں کے بہترین مفاد، ضرورت اور موزونیت کو بنیادی اہمیت دی جائے گی، خاندان پر مبنی نگہداشت کو ترجیح دی جائے گی اور ادارہ جاتی نگہداشت کو آخری حل کے طور پر اختیار کیا جائے گا۔ متبادل نگہداشت فراہم کرنے والے اداروں میں خوراک، صفائی، صحت، تعلیم، ذہنی صحت، فنی تربیت اور شکایات کے ازالے سمیت کم از کم معیار یقینی بنانے کی پالیسیاں شامل ہوں گی۔ بچوں کی سرپرستی کے لیے ممکنہ سرپرست کی جانچ، گھر کے ماحول کا جائزہ، بچے کی ضروریات کے مطابق سرپرست کا انتخاب، عدالتی نگرانی اور سرپرستی کے بعد مسلسل نگرانی کے طریقہ کار بھی پالیسی میں شامل ہوں گے۔اس موقع پر ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ بچوں کا تحفظ حکومت کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔ یتیم، بے سہارا اور خطرے سے دوچار بچوں کو محفوظ ماحول، مناسب خوراک، صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ان کی جسمانی، ذہنی اور جذباتی نشوونما پر بھی خصوصی توجہ دی جائے۔مشیرِ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر ایکٹ 2010 کے تحت بچوں کے تحفظ کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے، بچوں کے خلاف کسی بھی قسم کی بدسلوکی، تشدد، غفلت یا استحصال کی بروقت روک تھام اور کارروائی یقینی بنائی جائے اور چائلڈ پروٹیکشن یونٹس کی استعدادِ کار مزید بہتر کی جائے۔انہوں نے کہا کہ بچوں کے تحفظ کے لیے روک تھام، بروقت مداخلت، مؤثر کیس مینجمنٹ، ادارہ جاتی رابطہ کاری اور والدین و کمیونٹی کی شمولیت ضروری ہے۔ بچوں کے حقوق، محفوظ ماحول اور ڈیجیٹل تحفظ سے متعلق آگاہی کو بھی فروغ دیا جائے۔اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خیبر پختونخوا میں بچوں کے تحفظ، صحت، تعلیم، نشوونما اور باوقار زندگی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات مزید مؤثر بنائے جائیں گے اور صوبائی، ضلعی و کمیونٹی سطح پر مربوط چائلڈ پروٹیکشن نظام کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں