مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے خیبرپختونخوا پولیس بجٹ کا دوسرے صوبوں سے موازنہ پر گزشتہ روز دیتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا پولیس بجٹ پورے پاکستان میں سب سے زیادہ ہے خیبر پختونخوا پولیس بجٹ، بجٹ شرح کا 8.7 فیصد ہے جبکہ پنجاب کا 3.9 فیصد ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا آبادی پنجاب کے مقابلے میں ایک تہائی کم اور سندھ کے مقابلے میں نصف ہے، تاہم رواں سال سیکیورٹی پر 170 ارب روپے خرچ کیے اور آخری مالی سال میں خیبرپختونخوا پولیس کے بجٹ میں 37 فیصد اور 46 ارب روپے کا اضافہ کیا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ یہی شرح اور فنڈز میں اضافہ پاکستان کے تمام صوبوں سے سب سے زیادہ ہے اور خیبرپختونخوا حکومت نے سب اپنے وسائل سے کیا وفاق سے تعاون مانگا مگر انہوں نے معزرت کی۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ مالی بحران کے باوجود خیبرپختونخوا پولیس کو مزید 3,550 پوسٹوں کی منظوری دی اور خیبرپختونخوا میں 291 افراد کیلئے ایک سپاہی ہے جو پنجاب اور سندھ سے بہت بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی نمائندے کا بیان کہ وفاق نے 16 ارب روپے ترقیاتی کاموں کے لئے دئیے ہیں گمراہ کن ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ ضم اضلاع کے لئے ترقیاتی فنڈ (AIP) کی مد میں 37 ارب روپے میں کٹوتی کرکے دس ماہ بعد صرف 22 ارب دئیے جبکہ خیبرپختونخوا حکومت وفاق کی پرواہ کئے بغیر AIP کی مد میں ضم اضلاع کو 40 ارب جاری کر چکا ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق پولیس کو ضم اضلاع (AIP) میں 7 ارب سے زیادہ جاری ہو چکے ہیں اور خیبرپختونخوا پولیس کو ضم شدہ ترقیاتی بجٹ سے علیحدہ 3.2 ارب جاری ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا رواں مالی سال میں سی ٹی ڈی(CTD) اور اسپیشل برانچ کو ہتھیاروں کے لئے ریکارڈ اضافی رقم جاری کی جاچکی ہے اور خیبرپختونخوا پولیس کے جاری شدہ فنڈز کے اب تک اخراجات مکمل نہیں ہو سکے اس سے اندازہ لگائیں کہ خیبرپختونخوا حکومت نے کتنے تیزی سے خیبرپختونخوا پولیس کو فنڈز جاری کیے ہیں۔
مزمل اسلم نے کہا کہ دہشت گردی ایک قومی مسئلہ ہے دیگر جرائم کیسز میں خیبر پختنخواہ کا ریکارڈ دیگر صوبوں سے بہت بہتر ہے خیبرپختونخوا پولیس کو قربانیوں اور بہتر کارکردگی پر خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں خیبرپختونخوا پولیس پر فخر ہے ان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی انٹلیجنس بیسڈ آپریشن کے متاثرین کو خیبر پختونخوا حکومت نے اپنے وسائل سے 15 ارب سے زیادہ جاری کیے جس میں وفاق اور کسی صوبائی حکومت نے فنڈز شئیرنگ نہیں کی اور تفصیلات کا مقصد میڈیا میں پھیلائی جانے والی گمراہی کا جواب دینا تھا
خیبرپختونخوا پولیس بجٹ پورے پاکستان میں سب سے زیادہ ہے۔ خیبرپختونخوا پولیس بجٹ صوبائی بجٹ شرح کا 8.7 فیصد ہے جبکہ پنجاب کا 3.9 فیصد ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم
سابق وزیراعظم عمران خان ایک ہزار سے زائد دنوں سے جعلی مقدمات میں قید ہیں، شفیع جان
وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا شفیع جان نے صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان اور انصاف ڈاکٹرز فورم کے نمائندوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان ایک ہزار سے زائد دنوں سے مختلف مقدمات میں قید ہیں جبکہ گزشتہ سات ماہ سے انہیں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان ملک کے مقبول ترین سیاسی لیڈر ہیں اور ان کے ساتھ روا رکھا جانے والا موجودہ طرز عمل مزید قابل برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی آنکھ کے مسئلے پر اہل خانہ اور ذاتی معالجین کو اعتماد میں لیے بغیر رات کے وقت انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا، جو جیل مینوئل کی بھی خلاف ورزی ہے،شفیع جان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے عمران خان کی صحت اور ملاقاتوں کے معاملے پر تمام آئینی اور قانونی راستے اختیار کیے گئے ہیں،انہوں نے کہا کہ وفاقی وزراء نےعمران خان کی ہسپتال منتقلی پر مسلسل غلط بیانیاں کیں، شفیع جان نے بشریٰ بی بی کی صحت سے متعلق معاملات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اہل خانہ اور ذاتی معالجین کو اطلاع دئیے بغیر انکی انکھ کا آپریشن کیا گیا ،صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ جیل مینوئل کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کو کلاس بی کی سہولیات فراہم ہونی چاہئیں تاہم بدقسمتی سے انکو وہ سہولیات بھی نہیں ملیں، عمران خان کو ذاتی ڈاکٹروں، قانونی ٹیم اور اہل خانہ تک رسائی فراہم کی جائے اور انہیں آئین و قانون کے مطابق بنیادی انسانی بنیادی حقوق دیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی فیملی کے مطالبات کے ساتھ کھڑی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ انہیں طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور ذاتی معالجین کی طبی نگرانی کے تحت علاج یقینی بنایا جائے۔شفیع جان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف انتقامی سیاست پر یقین نہیں رکھتی بعد ازاں
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے وفاقی حکومت کی معاشی پالیسیوں، مہنگائی، توانائی اور خیبرپختونخوا کو گندم کی ترسیل پر بات کرتے ہوئے وفاق میں جب بھی مسلم ن کی حکومت آتی ہے تو خیبرپختونخوا کیساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے وزیراعلی سہیل آفریدی نے مسلسل صوبے کے مالی و انتظامی حقوق کے لیے آواز بلند کی ہے،انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت صوبائی مفادات، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور عوامی مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان تاج محمد خان ترند نے آل پاکستان نیشنل جونیئر سکواش چیمپئن شپ 2026 کی اختتامی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان تاج محمد خان ترند نے آل پاکستان نیشنل جونیئر سکواش چیمپئن شپ 2026 کی اختتامی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور کامیاب کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کیے۔ اس موقع پر انہوں نے کھلاڑیوں کی شاندار کارکردگی کو سراہتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کی۔ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سپورٹس خیبرپختونخوا کے زیر اہتمام منعقدہ چیمپئن شپ کے فائنلز میں خیبرپختونخوا کے کھلاڑیوں نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مردوں اور خواتین دونوں کیٹیگریز کے ٹائٹلز اپنے نام کر لیےخواتین کے فائنل میں خیبرپختونخوا کی سحرش علی نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد ماہ نور علی کو 2-3 سے شکست دے کر چیمپئن شپ جیت لی، جبکہ مردوں کے فائنل میں خیبرپختونخوا کے دانش سکندر نے محمد فواد خان کو شکست دے کر گولڈ میڈل اور چیمپئن شپ کا اعزاز حاصل کیا۔اختتامی تقریب میں ڈائریکٹر جنرل سپورٹس تاشفین حیدر، ڈائریکٹر آپریشنز جمشید بلوچ سمیت دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔اس سے قبل خواتین کے سیمی فائنلز میں ماہ نور علی نے پنجاب کی عائشہ شاہد جبکہ سحرش علی نے پنجاب کی فائقہ فدا کو شکست دے کر فائنل کے لیے کوالیفائی کیا۔ مردوں کے سیمی فائنلز میں دانش سکندر نے پاکستان ایئر فورس کے محمد مامون خان کو ہرایا، جبکہ محمد فواد خان نے پاک آرمی کے فیضان علی خان کو شکست دے کر فائنل میں جگہ بنائی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان تاج محمد خان ترند نے کہا کہ یہ خیبرپختونخوا کے لیے باعثِ فخر امر ہے کہ آل پاکستان جونیئر سکواش چیمپئن شپ کے مردوں اور خواتین دونوں ٹائٹلز صوبے کے کھلاڑیوں نے اپنے نام کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا سکواش کے میدان میں ہمیشہ سے ایک زرخیز خطہ رہا ہے اور ماضی میں بھی یہاں کے کھلاڑیوں نے عالمی سطح پر پاکستان کے لیے بے شمار اعزازات حاصل کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نوجوان کھلاڑیوں کو بہترین سہولیات اور مواقع فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ وہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر مزید کامیابیاں حاصل کر سکیں۔مشیر کھیل تاج محمد خان ترند نے فاتح کھلاڑیوں کے لیے ایک، ایک لاکھ روپے جبکہ رنر اپ کھلاڑیوں کے لیے پچاس، پچاس ہزار روپے نقد انعام کا اعلان بھی کیا۔
Delegation of Insaf Doctors Forum Meets Excise Minister Syed Fakhar Jehan
A delegation led by former Provincial President of the Insaf Doctors Forum, Dr. Nabi Jan Afridi, called on Khyber Pakhtunkhwa Minister for Excise, Taxation and Narcotics Control, Syed Fakhar Jehan. During the meeting, detailed discussions were held regarding the annual professional tax currently imposed on non-practicing doctors.
The delegation presented the concerns, suggestions, and demands of the medical community regarding the possible abolition or reduction of the existing professional tax applicable to doctors who do not engage in private practice.
On the occasion, Syed Fakhar Jehan assured the delegation that necessary amendments would be incorporated in the Finance Bill 2026 to provide maximum relief to non-practicing doctors.
The Provincial Minister stated that under the leadership of Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa, Muhammad Sohail Afridi, the provincial government is taking practical measures to promote public welfare, improve healthcare services, and facilitate professional communities.
He further said that in line with the vision of PTI Founder Chairman Imran Khan for a welfare state and people-centric governance, the provincial government is prioritizing decisions that encourage public servants and relieve them of unnecessary financial burdens.
Syed Fakhar Jehan said that it has proposed to substantially reduce the existing taxation rates for non-practicing doctors.
Under the proposed changes, the annual tax for Grade-17 Medical Officers, which was previously around Rs. 40,000, has been proposed to be reduced to Rs. 1,800 per annum.
Similarly, the tax imposed on Grade-18 Consultants, previously ranging between Rs. 70,000 and Rs. 80,000 annually, has been proposed to be reduced to Rs. 2,100 per annum, while the tax for Grade-19 Consultants has been proposed at Rs. 2,400 per annum. He clarified that the existing tax rates for practicing doctors will remain unchanged.
The Provincial Minister said that doctors constitute a highly respected and vital segment of society and play a key role in providing essential healthcare services to the public.
He noted that providing relief to non-practicing doctors would not only address their legitimate concerns but would also boost the morale of healthcare professionals serving in the health sector, ultimately contributing to the overall improvement of the healthcare system.
He added that the government remains committed to resolving the genuine issues faced by different segments of society and is continuing efforts to make the tax system more balanced, equitable, and people-friendly.
Syed Fakhar Jehan also conveyed a clear message to the medical community that the government would make every possible effort to address and resolve their concerns and issues.
The delegation welcomed the government’s decision to provide relief to non-practicing doctors and appreciated the efforts of Provincial Minister Syed Fakhar Jehan in this regard.
خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کی پشاور اور نوشہرہ میں بڑی کارروائیاں، جعلی اور ناقص کولڈ ڈرنکس اور مختلف خوردنوش اشیاء ضبط، جرمانے عائد
خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے پشاور اور نوشہرہ میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے غیر معیاری اور مضرِ صحت خوراک کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھتے ہوئے بڑی مقدار میں جعلی،غیر معیاری اور ناقص مشروبات اور دیگر اشیائے خوردونوش پکڑ ضبط کیا
ترجمان فوڈ اتھارٹی ترجمان نے تفصیلات جاری کی اور کہا کہ گزشتہ روز پشاور فوڈ سیفٹی ٹیموں نے تہکال، ناصر باغ روڈ اور رنگ روڈ کے مختلف علاقوں میں خوراک سے وابستہ کاروباروں کا معائنہ کیا۔
کارروائیوں کے دوران ایک سوڈا واٹر یونٹ سے 500 لیٹر مضرِ صحت اور غیر معیاری سوڈا واٹر برآمد کرکے موقع پر تلف کر دیا گیا، جبکہ ایک گودام سے 500 لیٹر جعلی ڈرنک (سٹنگ) برآمد کرکے ضبط کر لی گئی۔ متعلقہ کاروباروں کے خلاف جرمانے عائد کیے گئے اور مزید قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا۔
دوسری جانب ضلع نوشہرہ میں فوڈ سیفٹی ٹیم نے 4 فیکٹریوں سمیت مختلف خوراکی کاروباروں کا معائنہ کیا۔ معائنے کے دوران حفظانِ صحت کے اصولوں کی خلاف ورزیوں اور غیر معیاری خوراک کی موجودگی پر متعدد کاروباروں کو جرمانے عائد کیے گئے۔
ترجمان کے مطابق کارروائیوں کے دوران تقریباً 5 ہزار کلوگرام ناقص اور غیر معیاری دودھ، آئس کریم، شربت، سموسہ اور رول فلنگ برآمد کرکے تلف کر دی گئی تاکہ عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے خوراک ڈاکٹر محمد اسرار خان نے کہا ہے کہ شہریوں کی صحت سے کھیلنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ غیر معیاری اور مضرِ صحت خوراک کے کاروبار میں ملوث عناصر کا صوبے سے خاتمہ یقینی بنایا جائے گا اور عوام کو محفوظ، معیاری اور حلال خوراک کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
محکمہ زراعت و ایگری بزنس سپورٹ(اے ایس ایف) کے زیر اہتمام کریلے کے کاشتکاروں کے لیے ایک روزہ تربیتی ورکشاپ اور فری ڈسٹری بیوشن تقریب کا انعقاد
اے ایس ایف کے زیر اہتمام چارسدہ میں کریلے کے کاشتکاروں کے لیے ایک روزہ تربیتی ورکشاپ اور ڈسٹری بیوشن تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں ضلع بھر سے تقریباً 50 زمینداروں نے شرکت کی۔ ورکشاپ کے دوران ماہرین نے کاشتکاروں کو جدید زرعی رجحانات، سائنسی طریقہ کاشت اور فصلوں کی بہتر نگہداشت سے متعلق آگاہی فراہم کی۔شرکاء کو موسمی بیماریوں، خصوصاً کریلے کی فصل کو درپیش خطرات اور نقصانات کے بارے میں تفصیلی معلومات دی گئیں۔ماہرین نے موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث کریلے کی فصل پر پڑنے والے منفی اثرات، خصوصاً کیڑوں اور مچھروں کے حملوں سے بچاؤ کے لیے مؤثر اور عملی تدابیر سے بھی آگاہ کیا۔ اس موقع پر محکمہ زراعت اور اے ایس ایف کے اشتراک سے متعارف کرائی گئی جدید، مؤثر اور کم لاگت ٹیکنالوجی کے ذریعے فصلوں کے تحفظ کے مختلف طریقوں پر بھی روشنی ڈالی گئی۔
ورکشاپ میں جدید تحقیق کی بنیاد پر تیار کردہ معیاری اور کم قیمت ”فروٹ فلائی ٹریپ“ بھی متعارف کرایا گیا۔ محققین کے مطابق ماضی میں یہ ٹریپ نسبتاً مہنگا ہونے کے باعث عام کاشتکاروں کی پہنچ سے دور تھا، تاہم اب اسے کم لاگت میں تیار کرکے کسانوں کے لیے آسانی سے دستیاب بنایا گیا ہے۔تقریب کے اختتام پر اے ایس ایف کی جانب سے کاشتکاروں میں فروٹ فلائی ٹریپس مفت تقسیم کیے گئے۔ زمینداروں نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ اس جدید سہولت کی بدولت کریلے کی فصل کو نقصان پہنچانے والے کیڑوں پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور پیداوار میں بہتری آئے گی۔
اے ایس ایف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ محکمہ زراعت کے تعاون سے کسانوں کی فلاح، زرعی ترقی اور جدید ٹیکنالوجی کی ترویج کے لیے مستقبل میں بھی ایسے اقدامات جاری رکھے گا۔
عوام کو خالص، معیاری اور محفوظ گندم اور آٹے کی فراہمی حکومت خیبرپختونخوا کی اولین ترجیح ہے ، معاون خصوصی ڈاکٹر محمد اسرار خان
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے خوراک ڈاکٹر محمد اسرار خان نے کہا ہے
صوبے کے عوام کو خالص، معیاری اور محفوظ گندم اور آٹے کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ خوراک کے حوالے سے پہلے کی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا
اجلاس میں سیکرٹری محکمہ خوراک شاہ محمود خان، ڈائریکٹر محکمہ خوراک محسن اقبال اور دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی، جبکہ تمام ڈویژنل ڈپٹی ڈائریکٹرز اور ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولرز ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے
معاون خصوصی کو سیکرٹری محکمہ خوراک نے محکمے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ڈاکٹر اسرار خان نے اس موقع پر کہا کہ محکمے میں کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی اور بدعنوانی میں ملوث ملازمین کیلئے محکمے میں کوئی جگہ نہیں اور محکمہ میں میں شفافیت، میرٹ اور پیشہ ورانہ اصولوں کو فروغ دیا جائے گا ان کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ کسی بھی ملازم کی عزتِ نفس پر سمجھوتہ بھی نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ باہمی احترام اور ذمہ داری کے احساس کے ساتھ عوامی خدمت کے مشن کو آگے بڑھائے گا۔
اجلاس کے اختتام پر ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولرز نے معاون خصوصی برائے خوراک کو خوش آمدید کہا اور محکمہ خوراک کی مزید بہتری اور عوامی خدمت کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
صوبائی حکومت ایک متوازن اور عوام دوست بجٹ تیار کر چکی ہے،شفیع جان
وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا شفیع جان نے کہا ہے کہ صوبائی بجٹ سے متعلق بانی چیئرمین عمران خان سے مشاورت اور ملاقات کے لیے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے تاکہ بجٹ کی تیاری میں عوامی ترجیحات اور قیادت کے وژن کو مؤثر انداز میں شامل کیا جا سکے،انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ایک متوازن، حقیقت پسندانہ اور عوام دوست بجٹ تیار کر چکی ہے، جس کا مقصد عوامی ضروریات کو پورا کرنا اور صوبے میں ترقیاتی عمل کو مزید مضبوط بنانا ہے۔شفیع جان نے کہا کہ بجٹ میں نوجوانوں کو بااختیار بنانے ،روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے، ڈیجیٹل خیبرپختونخوا،معاشیترقی اور میرٹ کے فروغ کو خصوصی اہمیت دی جائے گی،انہوں نے کہا کہ تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور عوامی فلاح کے شعبوں پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے،صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود خیبرپختونخوا حکومت عوامی خدمت اور ترقیاتی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے اور دستیاب وسائل کو عوام کی فلاح اور صوبے کی ترقی کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں وسائل کو عوام کی فلاح اور صوبے کی ترقی پر خرچ کیا جائے گا ، بجٹ عوام کے بہتر مستقبل، معاشی ترقی اور خوشحالی کے لیے ایک جامع روڈ میپ ثابت ہوگا۔
سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی سے کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس پاکستان کی ملاقات
سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی سے کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس حکومتِ پاکستان عمر علی خان، اکاؤنٹنٹ جنرل خیبرپختونخوا خالد محمود اور ایڈیشنل اکاؤنٹنٹ جنرل سیف الاسلام پر مشتمل وفد نے سپیکر چیمبر میں ملاقات کی۔ملاقات میں سیکرٹری صوبائی اسمبلی سید وقار شاہ اور پرنسپل سیکرٹری ٹو سپیکر میاں محمد سریر بھی موجود تھے۔اس موقع پر کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس حکومتِ پاکستان نے سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کو محکمہ جاتی اصلاحات، جدید اکاؤنٹنگ نظام، ڈیجیٹلائزیشن اور مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ جدید اکاؤنٹنگ نظام کے نفاذ سے شفافیت، احتساب اور ادارہ جاتی کارکردگی میں مزید بہتری آئے گی جبکہ مالیاتی امور کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں مدد ملے گی۔وفد نے صوبائی اسمبلی کے اکاؤنٹنگ نظام میں مزید شفافیت اور جدت لانے کے حوالے سے مختلف تجاویز بھی پیش کیں اور جدید مالیاتی نظم و نسق کے فوائد سے آگاہ کیا۔سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ نظام میں اصلاحات اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید نظام نہ صرف شفافیت اور احتساب کے فروغ میں معاون ثابت ہوتا ہے بلکہ وقت اور وسائل کے مؤثر استعمال کو بھی یقینی بناتا ہے۔سپیکر اسمبلی نے صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں گورننس، انتظامی اصلاحات اور ادارہ جاتی استعداد کار میں بہتری کے لیے کیے گئے اقدامات کا بھی ذکر کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی جدید اور شفاف نظام کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔
صوبے میں جنگلات کا فروغ اور جنگلی حیات کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے، مشیر وزیراعلیٰ پیر مصور خان
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے جنگلات، ماحولیات، جنگلی حیات و موسمیاتی تبدیلی پیر مصور خان کی زیر صدارت سول سیکرٹریٹ پشاور میں محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کا ایک اعلیٰ سطحی بریفنگ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں سیکرٹری جنگلات و جنگلی حیات جنید خان، چیف وائلڈ لائف ڈاکٹر محسن فاروق، محکمہ جنگلات کے چیف کنزرویٹرز اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران مشیر وزیراعلیٰ کو محکمہ جنگلات اور جنگلی حیات کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں، سالانہ ترقیاتی پروگرام، صوبے میں جنگلات کے رقبے میں اضافے، شجرکاری مہم اور نایاب جنگلی حیات کے تحفظ و فروغ کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مشیر وزیراعلیٰ پیر مصور خان نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے جنگلات اور جنگلی حیات صوبے کا قیمتی اثاثہ ہیں اور ان کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں گرین کور کے فروغ، ماحولیاتی تحفظ اور حیاتیاتی تنوع کے استحکام کے لیے مزید مؤثر اور دیرپا اقدامات اٹھائے جائیں انہوں نے ہدایت کی کہ تمام منصوبے مقررہ وقت کے اندر مکمل شفافیت کے ساتھ پایۂ تکمیل تک پہنچائے جائیں۔ مشیر وزیراعلیٰ نے جنگلات کی غیر قانونی کٹائی اور جنگلی حیات کے غیر قانونی شکار کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے پر زور دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو سختی سے قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔پیر مصور خان نے محکمے کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان کے وژن کے مطابق جنگلات، ماحولیات اور جنگلی حیات کے شعبوں میں انقلابی اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی۔انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے کرپشن فری وژن کے تحت محکمہ میں شفافیت، احتساب اور میرٹ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور کرپشن پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
