صوبائی ٹاسک فورس برائے انسداد پولیو اجلاس میں چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے 18 مئی سے شروع ہونے والی انسداد پولیو مہم کی تیاریوں کاجائزہ لیا

چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے پولیو وائرس کے مکمل خاتمے کیلئے صوبائی حکومت کے پختہ عزم کی تجدید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت بچوں کو پولیو سے بچاوء کے قطرے پلانے کیلئے انسداد پولیو مہمات کا باقاعدہ انعقاد کررہی ہے تاکہ بچوں کو اس موذی مرض سے ہمیشہ کیلئے بچایا جاسکے۔ انہوں نے بچوں کے والدین پر زور دیا کہ چونکہ پولیو ویکسین بچوں میں مستقل معذوری کا سبب بننے والی اس موذی مرض سے مکمل تحفظ فراہم کرکے ان کی صحت مند زندگی کی ضمانت دیتی ہے، لہٰذا وہ اپنے بچوں کو ویکسین پلانے کیلئے ان کی دہلیز پر آنے والے فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور اپنے بچوں کو پولیو سے بچاوء کے قطرے ضرور پلائیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوبائی ٹاسک فورس برائیانسدادپولیو کے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا جس میں رواں ماہ صوبے کے 23 مختلف اضلاع میں شروع ہونے والے چار روزہ انسداد پولیو مہم کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ
پورے ملک میں پولیو خاتمے کے قریب ہیں۔ مائیکرو پلاننگ، منظم مانیٹرنگ اور مہم کے معیار پر توجہ دے کر خیبرپختونخوا سے پولیو کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔ جن علاقوں میں نئے کیسز سامنے آئے ہیں وہاں مائیکرو پلاننگ پر توجہ دی جائے۔ مائیکرو پلاننگ میں موجود خامیوں کو دور کیا جائے۔ چیف سیکرٹری کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت انسداد پولیو اقدامات میں سزا اور جزا کے اصول پر عمل پیرا ہے، پولیو کے حوالے سے کمزور کارکردگی والے اضلاع کو بہتری کیلئے ہدایات جاری کی گئی ہیں جبکہ چیلنجز کے باوجود اچھی کارکردگی والے افسران اور پولیو ورکرز کی پذیرائی کی گئی ہے، انہوں نے ہدایت کی کہ مہم کے بعد کیچ اپ کے دوران حکمت عملی پر خصوصی توجہ دی جائے، پولیو مہم کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ انسداد پولیو مہمات کو مزید موثر اور نتیجہ خیز بنانے کے لئیویکسینیٹرز کو جدید موبائل فونز فراہم کئیجائیں گے۔ چیف سیکرٹری نے پولیو ورکرز، ضلعی انتطامیہ اور متعلقہ عملے کی پولیو کے خاتمے کے حوالے سے کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مئی کی مہم پر خصوصی توجہ دی جائے خصوصا جنوبی اضلاع میں انسداد پولیو مہم کے اہداف کے حصول کیلئے خصوصی اقدامات کئے جائیں۔
صوبائی ای او سی کے کوآرڈینیٹر نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ انسداد پولیو کی 18 مئی سے شروع ہونے والی مہم بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن کے تمام اضلاع، ضلع ایبٹ آباد، تورغر، کوہستان اپر، کوہستان لوئر، کولائی پالس، باجوڑ، دیر لوئر، مہمند، مردان، نوشہرہ، پشاور، خیبر، کوہاٹ، ہنگو، کرم اورضلع کرک میں بیک وقت شروع ہو گی جس میں مجموعی طور پر 46 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔ ضلع پشاور اور خیبر میں یہ مہم سات دن تک جاری رہے گی۔ ویکسین کے ذریعے قابل تدارک موذی امراض کے خاتمے کیلئے ویکسی نیشن کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے شہاب علی شاہ نے کہا کہ محکمہ صحت صوبے میں حفاظتی ٹیکہ جات کے نظام کو مزید مربوط اور فعال بنارہی ہے تاکہ بچوں کو بارہ مختلف موذی امراض سے محفوظ رکھنے کیلئے پولیو ویکسی نیشن سمیت دیگر حفاظتی ٹیکہ جات لگوانے کی شرح بڑھائی جاسکے۔
مئی کی انسداد پولیو مہم کے لیے تربیت یافتہ پولیو ورکرز کی 22،450ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جن میں 20،507موبائل ٹیمیں 1,113 فکسڈ اور 830 ٹرانزٹ ٹیمیں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان ٹیموں کی موثر نگرانی کے لیے 5،444 ایریا انچارجز بھی تعینات کئے گئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مہم کے دوران پولیو ٹیموں کی فول پروف سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ان اضلاع میں مجموعی طور پر تقریبا 35000ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

مزید پڑھیں