خواتین کو انصاف تک رسائی، صنفی مساوات کے فروغ اور صنفی بنیاد پر تشدد کے خاتمے کے لیے جاری کوششوں کے سلسلے میں شرکت گاہ ویمن ریسورس سینٹر کے زیر اہتمام، یو این ویمن، جرمن ایمبیسی کے پروگرام ایمپروونگ جینڈر پیرٹی فار سٹرنتنگ جینڈر رسپانسیو جسٹسکے تحت پشاور کے مقامی ہوٹل میں سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ صنفی مساوات اور انصاف فراہمی کے سلسلے میں ادارہ جاتی اہمیت و ضرورت پر گفتگو کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل قانون و انسانی حقوق، خیبرپختونخوا غلام علی نے کہا کہ صنفی مساوات کو یقینی بنانے کے لیے خیبرپختونخوا میں ضلعی لیول تک پورا سیٹ اپ موجود ہے تاکہ انصاف کی فراہمی ہر شخص کو اسان ہو. انہوں نے کہا کہ شرکت گاہ کے زیر انتظام مکمل ہونے والے پراجیکٹ کی تحت ٹارگٹڈ اضلاع میں متعلقہ حکام کی استعداد کار بڑھانے، تربیتی مواد فراہم تیار کرنے، اگہی پروگرامات انتہائی اہمیت کے حامل تھے. پولیس، انسانی حقوق اور عدلیہ میں خواتین کی زیادہ سے زیادہ شمولیت یقینی بنانے میں مدد ملی.سیمینار کا مقصد منصوبے کے دوران پشاور، سوات، کوہاٹ اور خیبر حاصل ہونے والی کامیابیوں کا جائزہ لینا، مستفید ہونے والی خواتین اور پیرالیگل رضاکاروں کے تجربات کو اجاگر کرنا اور خواتین کو انصاف کی فراہمی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے سفارشات مرتب کرنا تھا۔ تقریب میں سول سوسائٹی، پولیس، انسانی حقوق، عدلیہ، میڈیا اور مختلف سرکاری اداروں کے نمائندوں سمیت منصوبے سے وابستہ خواتین اور پیرالیگل رضاکاروں نے شرکت کی۔ڈائریکٹر جنرل لا اینڈ ہیومن رائٹس خیبرپختونخوا غلام علی نے کہا کہ خواتین کے حقوق کا تحفظ ریاست کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ سرکاری اداروں، سول سوسائٹی اور کمیونٹی کے درمیان مؤثر رابطہ صنفی انصاف کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔خیبرپختونخوا جوڈیشل اکیڈمی سے سینئر ڈائریکٹر ریسرچ اینڈ پبلیکیشن شعیب نے سیشن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں شرکت گاہ، یو این وویمن نے صنفی بنیاد پر ہونے والے تشدد کی روک تھام، متاثرہ افراد کو آئینی اور قانونی امداد کی بہترین فراہمی کے سلسلے میں قابل ستائش اقدامات اٹھائے. صنفی بنیاد پر ہونے والے تشدد کے متعلق تیار شدہ تربیتی مواد سے متعقلہ حکام مستفید ہوں گے، جس کے خاطر خواہ نتائج سامنے آئیں گے.
خیبرپختونخوا پولیس کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس ٹریننگ ناصر احمد نے ریمارکس دئیے کہ پراسیکیوشن کی حد تک صنفی مساوات کو یقینی بنانے کا چیلنج اب بھی موجود ہے اس چیلنج پر قابو پانے کے لیے ادارہ جاتی اور پبلک سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے. انہوں نے مزید کہا کہ اس پراجیکٹ کے نتیجے میں محکمہ پولیس میں حالیہ خواتین کی بھرتی میں کئی امیدواروں نے اپلائی کیا، جو عوام میں اگہی کے ذریعے ممکن ہوا. تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایگزیکٹو ڈائریکٹر شرکت گاہ ویمن ریسورس سینٹر ڈاکٹر فریدہ شاہد نے کہا کہ خواتین کو بلاامتیاز انصاف کی فراہمی ایک منصفانہ اور پرامن معاشرے کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیونٹی سطح پر پیرالیگل رضاکار خواتین کی رہنمائی، قانونی آگاہی اور معاونت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور ان کی استعداد کار میں مزید اضافہ ناگزیر ہے۔
رخشندہ ناز نے تربیتی سرگرمیوں کے نتائج پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پیرالیگل رضاکاروں کی صلاحیتوں میں اضافے سے کمیونٹی میں قانونی آگاہی کو فروغ ملا ہے اور خواتین کے اعتماد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔یو این ویمن پاکستان کی نمائندہ زینب قیصر خان نے کہا کہ خواتین کو انصاف تک رسائی فراہم کرنا پائیدار ترقی اور صنفی مساوات کے اہداف کے حصول کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یو این ویمن خواتین کے حقوق کے تحفظ اور بااختیار بنانے کے لیے شراکت دار اداروں کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔تقریب کے اختتام پر ڈائریکٹر شرکت گاہ حمیرا شیخ نے شرکاء، شراکت دار اداروں اور معاون تنظیموں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے اور انصاف تک رسائی کے لیے مسلسل آگاہی، مؤثر قانون سازی، ادارہ جاتی تعاون اور کمیونٹی کی شمولیت ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ شرکت گاہ مستقبل میں بھی خواتین کے حقوق اور صنفی انصاف کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
