وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا شفیع جان نے بانی چیئرمین عمران خان سے ان کی فیملی اور وکلاء کو ملاقات کی اجازت نہ دینے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب حکومت اور اڈیالہ جیل انتظامیہ عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی لگا کر مسلسل عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے غیر آئینی اور غیر قانونی اقدامات جمہوری اقدار، بنیادی انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے منافی ہیں۔اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ پنجاب پولیس نے مختلف مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کرکے پارٹی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ سمیت دیگر رہنماؤں اور کارکنوں کو روکا گیا، تاہم اس کے باوجود ہزاروں کارکن اڈیالہ جیل کے باہر پہنچے۔انہوں نے کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان اور ان کی فیملی کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے صوبائی کابینہ کے اراکین، اراکین صوبائی اسمبلی اور کارکن بڑی تعداد میں اڈیالہ پہنچے تھے۔شفیع جان نے کہا کہ پنجاب حکومت عمران خان کی عوامی مقبولیت کے خوف میں غیر قانونی ہتھکنڈوں کے ذریعے آئین و قانون کو پامال کررہی ہے،انہوں نے مزید کہا کہ رات کی تاریکی میں عمران خان کی خفیہ طورپر ہسپتال منتقلی اور ان سے ملاقاتوں پر پابندی پنجاب حکومت کے آمرانہ اور فسطائی طرز عمل کی عکاسی کرتی ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ پنجاب حکومت بتائے کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے آخر کون سی حقیقت چھپائی جا رہی ہے اور اہل خانہ، وکلاء اور ذاتی معالجین کو مکمل رسائی کیوں فراہم نہیں کی جا رہی۔صوبائی وزیر اطلاعات نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کی فیملی، وکلاء اور ذاتی ڈاکٹروں سے فوری ملاقات کرائی جائے تاکہ ان کی صحت سے متعلق تمام خدشات کا خاتمہ ہو سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کو فوری طور پر الشفاء آئی ہسپتال منتقل کرکے بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کی کٹھ پتلی حکومت عمران خان کی صحت کے معاملے پر سیاست کر رہی ہے، تاہم سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے باوجود پاکستان تحریک انصاف اپنے قائد عمران خان کے لیے انصاف کے حصول کی جدوجہد قانونی اور آئینی دائرے میں جاری رکھے گی۔شفیع جان نے کہا کہ فارم 47 کی حکومت یاد رکھے کہ جیل کی مشکلات عمران خان کے عزم، حوصلے اور عوامی حمایت کو کمزور نہیں کر سکتیں اور ان کی آواز کو دبانے کی ہر کوشش ناکام ہوگی۔
