خیبرپختونخوا فوڈ سیکیورٹی سپورٹ پراجیکٹ کے تحت 9 لاکھ 30 ہزار سے زائد کسانوں کی رجسٹریشن مکمل

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے مشیر برائے زراعت میاں محمد عمر کی زیر صدارت خیبرپختونخوا فوڈ سیکیورٹی سپورٹ پراجیکٹ کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں پراجیکٹ ڈائریکٹر خیبرپختونخوا فوڈ سیکیورٹی سپورٹ پراجیکٹ فضل قادر سمیت متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں مشیر زراعت کو پراجیکٹ کے تحت جاری سرگرمیوں، پیش رفت اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ 88 ملین امریکی ڈالر کی لاگت سے ایشیائی ترقیاتی بنک کی تعاون جاری خیبرپختونخوا فوڈ سیکیورٹی سپورٹ پراجیکٹ کے تحت صوبے میں زرعی ترقی، غذائی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے متعدد اہم اقدامات پر عملدرآمد جاری ہے۔ منصوبے کے ذریعے سیلاب سے متاثرہ سات اضلاع میں کاشتکاروں کی معاونت، زرعی اداروں کی استعدادِ کار میں اضافہ اور جدید زرعی نظام و ٹیکنالوجی کا فروغ یقینی بنایا جا رہا ہے۔مشیر زراعت میاں محمد عمر کا اجلاس میں کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا فوڈ سیکیورٹی سپورٹ پراجیکٹ صوبے میں غذائی تحفظ کے فروغ، زرعی پیداوار میں اضافے، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے، جدید زرعی ٹیکنالوجی کے استعمال اور کاشتکاروں کی معاونت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ منصوبے کے تحت جاری سرگرمیوں کی بروقت تکمیل اور آئندہ مرحلے میں مستحق کاشتکاروں کو زرعی مداخلتوں کی فراہمی سے صوبے کے زرعی شعبے میں مزید بہتری اور غذائی تحفظ کو تقویت ملے گی۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ منصوبے کے تحت اب تک 9 لاکھ 30 ہزار سے زائد کسانوں کی رجسٹریشن مکمل کی جا چکی ہے، جس کے نتیجے میں صوبے میں کسانوں کا ایک بڑا ڈیجیٹل ڈیٹا بیس قائم ہوا ہے۔ کاشتکاروں کو شفاف اور مؤثر انداز میں زرعی معاونت کی فراہمی کے لیے ای سبسڈی سسٹم اور برانچ لیس بینکنگ ماڈل پر کام جاری ہے، جبکہ کسانوں کے اکاؤنٹس کی تصدیق کا عمل بھی جاری ہے تاکہ آئندہ مرحلے میں مستحق کاشتکاروں کو زرعی سہولیات بروقت فراہم کی جا سکیں۔حکام نے بتایا کہ منصوبے کے تحت کاشتکاروں کو گندم، معیاری بیج اور کھاد کی فراہمی کے لیے ضروری انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں کسانوں کے اکاؤنٹس کی تصدیق سمیت دیگر انتظامی و تکنیکی مراحل مکمل کیے جا رہے ہیں۔ کاشتکاروں کو درپیش مسائل اور شکایات کے بروقت ازالے کے لیے مؤثر گریوینس ریڈریسل میکنزم بھی قائم کیا گیا ہے۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ زرعی اداروں کی استعدادِ کار بڑھانے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے جدید GIS اور ریموٹ سینسنگ لیب قائم کی گئی ہے، جبکہ کراپ رپورٹنگ سروسز (CRS) کو بھی ڈیجیٹلائز کیا گیا ہے۔ منصوبے کے تحت 500 موٹر سائیکلیں، 6 ٹریکٹرز اور 6 منی ٹرک فراہم کیے گئے ہیں، جبکہ متعدد زرعی دفاتر اور لیبارٹریوں کی سولرائزیشن اور بحالی کا کام بھی مکمل کیا جا چکا ہے۔بریفنگ کے مطابق منصوبے کے تحت 4 لاکھ 50 ہزار کسانوں کو گندم، دھان اور کھاد کی فراہمی، 42 ہزار سبزی کاشتکاروں کی معاونت جبکہ 28 ہزار خواتین کو کچن گارڈننگ اور فوڈ پروسیسنگ کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اسی طرح 25 ہزار خواتین میں سیڈ کلیننگ اور محفوظ زرعی استعمال کی کٹس بھی تقسیم کی جا چکی ہیں۔

مزید پڑھیں