
ممبر ایڈوائزری کونسل برائے قانون و پارلیمانی امور عامر جاوید نے کہا ہے کہ انسانی حقوق کی پاسداری کسی بھی ملک کے عالمی تشخص، بین الاقوامی ساکھ اور عالمی اشاریوں میں اس کی پوزیشن بہتر بنانے میں کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔ صنفی عدم مساوات (Gender Disparity)، ہیومن رائٹس انڈیکس اور جی ایس پی پلس جیسے بین الاقوامی تقاضوں کے تناظر میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی اقدامات کو مزید مؤثر اور مربوط بنانے کی ضرورت ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں نظامت قانون و انسانی حقوق، خاتون محتسب اور صوبائی محتسب کے مشترکہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس گزشتہ اجلاس میں دی گئی ہدایات کی روشنی میں اداروں کے مابین مربوط رابطہ کاری اور مشترکہ حکمت عملی کو فروغ دینے کے لیے منعقد کیا گیا۔عامر جاوید نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں انسانی حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے 13 ادارے کام کر رہے ہیں، جن پر پبلک ایکسچیکر سے وسائل بھی خرچ کیے جا رہے ہیں۔ ان اداروں کی کارکردگی اور وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے مربوط کوآرڈینیشن، ریفرل میکانزم اور مشترکہ ڈیجیٹل پورٹل کا قیام ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ مشترکہ ڈیجیٹل پورٹل کے ذریعے تمام متعلقہ اداروں کی سرگرمیوں، شکایات، ریفرلز اور پیش رفت کی یکجا رپورٹنگ ممکن ہوگی، جس سے ادارہ جاتی کارکردگی کا درست تعین، دوہرے اقدامات کی روک تھام، وسائل کا بہتر استعمال اور عوامی شکایات کا مؤثر ازالہ ممکن ہو سکے گا۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ ضرورت پڑنے پر اے ڈی سی ریلیف اینڈ ہیومن رائٹس سے بھی معاونت حاصل کی جائے اور مشترکہ ڈیجیٹل پورٹل کو فعال بنانے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔عامر جاوید نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ باہمی تعاون اور معلومات کے تبادلے کو مؤثر بناتے ہوئے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے قابلِ پیمائش نتائج کے حصول کو یقینی بنایا جائے۔
