مشیر عثمان سیف اللہ خان کا سولر منی گرڈز منصوبے کا جائزہ، 98 فیصد کام مکمل،

خیبر پختونخوا کے ضم اضلاع میں 13 سولر منی گرڈز کی تنصیب کے پائلٹ منصوبے سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس وزیراعلیٰ کے مشیر برائے توانائی و بجلی، منصوبہ بندی و ترقی اور سائنس، ٹیکنالوجی و انفارمیشن ٹیکنالوجی عثمان سیف اللہ خان کی زیر صدارت پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری توانائی و بجلی محمد زبیر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر پیڈو انجینئر انور الحق سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ضم اضلاع میں 13 سولر منی گرڈز کی تنصیب اور 300 مساجد و عبادت گاہوں کی شمسی توانائی پر منتقلی کا پائلٹ منصوبہ اے ڈی پی کے تحت پیڈو کے ذریعے جاری ہے۔ منصوبے کی ابتدائی منظور شدہ لاگت 896.041ملین روپے تھی جو دوسرے نظرثانی شدہ پی سی ون جس کی منظوری 22 نومبر 2023 کو دی گئی، میں 673.253ملین روپے کر دی گئی ہے، جس میں سے منی گرڈز کے لیے مختص لاگت490.20 ملین روپے ہے۔ منصوبے کی تکمیل کی مدت ڈیفیکٹ لائبلٹی پیریڈ سمیت 30 جون 2027 تک مقرر ہے۔ ہر سولر منی گرڈ کو 175 کلو واٹ سولر پی وی، 150 کلو واٹ انورٹر، 200 کلو واٹ آور لیتھیم بیٹری اسٹوریج اور 11 کے وی ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر کے ساتھ ڈیزائن کیا گیا ہے۔مزید بتایا گیا کہ منصوبے کی مجموعی طبعی پیش رفت 98 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ پیکجز 01، 02 اور 04 کے تحت سات سائٹس کی پیش رفت کے مطابق میاں منڈی بازار مہمند، زیورہ بازار ایف آر پشاور، شیراز گڑھی بازار اورکزئی اور جنڈولہ بازار ایف آر ٹانک سمیت چار سائٹس پر 100 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، جبکہ باڑہ بازار خیبر اور ڈوگر بازار کرم پر 98 فیصد اور خار بازار باجوڑ پر 90 فیصد کام مکمل ہے۔ جنڈولہ بازار کی ایک سائٹ ضلعی انتظامیہ کے حوالے کی جا چکی ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ باقی ماندہ کام ہینڈنگ ٹیکنگ، کمیشننگ اور لائنوں کی تنصیب سے متعلق ہے۔ میاں منڈی بازار، زیورہ بازار اور شیراز گڑھی بازار کی سائٹس کمیشن ہو چکی ہیں اور گرڈ آپریٹرز کی عدم نامزدگی کے باعث ان کی حوالگی ضلعی انتظامیہ کے پاس زیر التوائ ہے۔ باڑہ بازار میں انرجی میٹرز کی تنصیب جاری ہے، ڈوگر بازار میں بیٹری بینک اور انورٹرز کے درمیان کمیونیکیشن کے مسئلے کو مینوفیکچررز کے ساتھ مل کر حل کیا جا رہا ہے، جبکہ خار بازار میں بائی پاس روڈ کی تعمیر کے بعد نکاسی آب کے مسائل کے باعث ٹرانسمیشن و ڈسٹری بیوشن لائنوں کی تنصیب التوائ کا شکار ہے اور سولر پینلز کو اکھاڑ کر دوبارہ نصب کرنے کی ضرورت ہے۔ عثمان سیف اللہ خان نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ہینڈنگ ٹیکنگ کے عمل کو تیزی سے مکمل کیا جائے، تمام تکنیکی رکاوٹوں کو بلا تاخیر دور کیا جائے، تمام سائٹس کی جلد کمیشننگ کو یقینی بنایا جائے اور باقی ماندہ کاموں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے تاکہ ضم شدہ اضلاع کے تجارتی مراکز کو بلا تعطل اور سستی بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

مزید پڑھیں