صوبہ بھر کے سکولوں میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے 10 ہزار نئے کمروں کی تعمیر کا منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے۔وزیر تعلیم

وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبر پختونخوا ارشد ایوب خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت معیاری تعلیم کے فروغ اور سرکاری سکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کے تعاون سے صوبہ بھر کے سکولوں میں 10 ہزار نئے کمروں کی تعمیر کا منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے، جس سے سکولوں کی گنجائش میں نمایاں اضافہ ہوگا اور طلبہ کو بہتر تعلیمی سہولیات میسر آئیں گی۔ انہوں نے یہ بات گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول کھنڈہ، ضلع صوابی میں محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبر پختونخوا کے زیر اہتمام منعقدہ کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر سابق مشیر صنعت عبدالکریم خان، سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم خالد خان اور محکمہ تعلیم کے دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ سکولوں میں گنجائش کے مسئلے کے حل کے لیے سیکنڈ شفٹ سکول پروگرام کے تحت صبح اور دوپہر کی شفٹوں میں تدریسی سرگرمیوں سے مسائل میں کافی کمی ہوگی، جبکہ کرائے کی عمارتوں اور کمیونٹی سکولنگ جیسے منصوبوں پر بھی کام کیا جا رہا ہے تاکہ بڑھتی ہوئی آبادی کے مطابق معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔کھلی کچہری کے دوران ارشد ایوب خان نے اساتذہ اور دیگر شرکاء کے مسائل تفصیل سے سنے اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ عوامی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر فوری حل کیا جائے۔انہوں نے درسی کتب کی فراہمی کے حوالے سے یقین دہانی کرائی کہ گرمیوں کی تعطیلات کے بعد تمام طلبہ کو نصابی کتب فراہم کر دی جائیں گی۔ وزیر تعلیم نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے لڑکیوں کے سکولوں کے لیے 13 کروڑ روپے جبکہ لڑکوں کے سکولوں کے لیے 18 کروڑ روپے مالیت کے فرنیچر کے آرڈرز جاری کر دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری قواعد و ضوابط اور ای پروکیورمنٹ سسٹم کے تحت مرحلہ وار فرنیچر کی فراہمی کا عمل جاری ہے۔ وزیر تعلیم ارشد ایوب خان نے کہا کہ اساتذہ کی بھرتیوں، تبادلوں اور تعیناتیوں میں سیاسی مداخلت کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ 2013ء کے بعد تمام بھرتیاں میرٹ کی بنیاد پر کی گئیں جبکہ ای ٹرانسفر پالیسی کے ذریعے تبادلوں کا نظام بھی شفاف اور میرٹ پر مبنی بنایا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ مرحلے میں ہیڈ ماسٹرز، ہیڈ ٹیچرز اور پرنسپلز کو بھی ای ٹرانسفر سسٹم میں شامل کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ نئے سکولوں کے قیام کے لیے عطیہ شدہ زمین کی شرط پر بھی نظرثانی کی جا رہی ہے تاکہ حکومت ضرورت کے مطابق مناسب مقامات پر زمین خرید کر نئے تعلیمی ادارے قائم کر سکے۔

مزید پڑھیں