گومل یونیورسٹی سے ملحقہ نجی کالجوں میں بے ضابطگیاں، محکمہ ہائر ایجوکیشن کا ایچ ای سی سے جامع تحقیقات کا مطالبہ

خیبر پختونخوا میں گومل یونیورسٹی، ڈیرہ اسماعیل خان سے ملحقہ نجی کالجوں کے ریکارڈ میں سنگین بے ضابطگیوں اور تضادات کا انکشاف ہوا ہے۔ ہائر ایجوکیشن ریگولیٹری اتھارٹی (HERA) کی جانب سے دستیاب ریکارڈ کے جائزے اور بعض ملحقہ کالجوں کی فزیکل انسپکشن کے دوران داخلوں، رجسٹریشن، انرولمنٹ، حاضری، امتحانات اور دیگر تعلیمی ریکارڈ میں متعدد خامیوں اور تضادات کی نشاندہی کی گئی۔ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخوا نے HERA کی رپورٹ کی روشنی میں معاملہ چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) اسلام آباد کے سامنے اٹھاتے ہوئے گومل یونیورسٹی اور اس سے ملحقہ نجی کالجوں کی جامع اور مکمل تصدیق کی درخواست کی ہے۔محکمہ کی جانب سے ایچ ای سی سے کہا گیا ہے کہ گومل یونیورسٹی اور اس کے نجی شعبے سے ملحقہ کالجوں کی وابستگی، علاقائی دائرہ اختیار، داخلوں، حاضری، امتحانات اور ڈگریوں کے ریکارڈ کی مکمل جانچ کی جائے۔اس کے علاوہ ایسے نجی کالجوں یا پروگراموں میں مزید داخلوں پر عبوری پابندی عائد کرنے کی درخواست بھی کی گئی ہے جو HERA کے ساتھ متعلقہ شعبے میں باقاعدہ رجسٹرڈ نہ ہوں، تاکہ ان کی حیثیت کی مکمل تصدیق تک مزید طلبہ کے داخلوں کا عمل روکا جا سکے۔محکمہ نے ایسے جاری کردہ ڈگریوں کی بھی تصدیق کی سفارش کی ہے جن کے متعلق طلبہ کا بنیادی ریکارڈ نامکمل، مشکوک یا دستیاب نہ ہو۔ مزید برآں، ایسے گریجویٹس سے مناسب صلاحیت/تصدیقی ٹیسٹ لینے پر بھی غور کرنے کی درخواست کی گئی ہے جہاں دستیاب تعلیمی ریکارڈ مقررہ تعلیمی تقاضوں کی تکمیل ثابت نہ کرتا ہو۔حکام کے مطابق نجی کالجوں کے طلبہ، امتحانات، حاضری اور دیگر متعلقہ ریکارڈ کو گومل یونیورسٹی کے ریکارڈ سے باقاعدہ طور پر ملایا جائے گا اور تضادات ثابت ہونے کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔محکمہ ہائر ایجوکیشن نے معاملے کو فوری بنیادوں پر نمٹانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی اسناد کی ساکھ، طلبہ کے مستقبل اور اعلیٰ تعلیم کے نظام کی شفافیت کے تحفظ کے لیے جامع کارروائی ضروری ہے۔

مزید پڑھیں