ضلع خیبر میں خصوصی افراد اور محروم طبقات کے مسائل کے حل کے لیے کھلی کچہری کا انعقاد

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے زکوٰۃ، عشر، سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و ویمن ایمپاورمنٹ ملک لیاقت علی خان نے جمعرات کے روز ضلع خیبر کے دورہ کے دوران جمرود جرگہ ہال میں خصوصی افراد، یتیم بچوں، بیواؤں اور دیگر محروم و مستحق طبقات کے مسائل سننے کے لیے کھلی کچہری کا انعقاد کیا۔ اس موقع پر انہوں نے عوام کے مسائل براہِ راست سنے اور ان کے حل کے لیے متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات جاری کیں۔کھلی کچہری میں سوشل ویلفیئر آفیسر ڈسٹرکٹ خیبر عبدالہادی، ڈسٹرکٹ زکوٰۃ چیئرمین شبیر اور وزیراعلیٰ کے فوکل پرسن شمشیر سمیت متعلقہ افسران اور حکام نے شرکت کی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان کے فلاحی ریاست کے وژن اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی خصوصی ہدایات کے مطابق محروم اور کمزور طبقات کی فلاح و بہبود اور خصوصی افراد کو سہولیات کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرا یہاں آنے کا مقصد فوٹو سیشن نہیں بلکہ عوام کے مسائل سننا اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کرنا ہے۔مشیر وزیراعلیٰ نے کہا کہ محکمہ سماجی بہبود کی ذمہ داری سنبھالتے ہی ضلعی افسران کو ہدایت کی گئی کہ وہ دفاتر تک محدود رہنے کی بجائے گھر گھر جا کر مستحق افراد کی رجسٹریشن اور ڈیٹا کی تصدیق کریں، تاکہ کوئی حقدار حکومتی سہولت سے محروم نہ رہے۔ وزیراعلیٰ کی خصوصی ہدایت کے مطابق خصوصی افراد کی ضروریات اور مشکلات کی مکمل نشاندہی کرکے ڈیٹا کی بنیاد پر مؤثر منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ضلع خیبر میں 272 خصوصی افراد کو 30،30 ہزار روپے فراہم کیے گئے ہیں، جبکہ امید کارڈ کے تحت مستحق خصوصی افراد کو ماہانہ 5 ہزار روپے مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ اسی طرح 247 یتیم بچوں کو 5،5 ہزار روپے اور 414 بیواؤں کو ماہانہ 5،5 ہزار روپے کی مالی معاونت دی جا رہی ہے، جبکہ مستحق طلبہ و طالبات کو زکوٰۃ اسکالرشپس بھی فراہم کیے گئے ہیں۔ملک لیاقت علی خان نے اعلان کیا کہ ضلع خیبر میں اسپیشل ایجوکیشن و سوشل ویلفیئر کمپلیکس کے قیام کے لیے اقدامات کیے جائیں گے، جبکہ ضلع باجوڑ میں بھی خصوصی افراد اور محروم طبقات کے لیے ضروری سہولیات کی فراہمی پر کام کیا جائے گا۔ ان کمپلیکسز میں خصوصی تعلیم، ٹریننگ سینٹرز، دارالامان اور سماجی بہبود سے متعلق دیگر سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ADP 2027-28 میں ان سہولیات کی توسیع کے لیے بھی بھرپور کوشش کی جائے گی۔ جن اضلاع میں اسپیشل ویلفیئر کمپلیکس، دارالامان، خصوصی تعلیم کے مراکز، زمونگ کور یا دیگر سماجی بہبود کے ادارے موجود نہیں، وہاں ضرورت کے مطابق نئے ادارے قائم کیے جائیں گے، جبکہ موجودہ اداروں میں عمارت، عملے، تربیتی پروگرامز اور دیگر سہولیات کی کمی بھی دور کی جائے گی۔مشیر وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت کی کوشش صرف مالی امداد تک محدود نہیں بلکہ مستحق افراد کو ہنر سکھا کر خودکفیل بنانا اصل مقصد ہے۔ خصوصی افراد، خواتین، مرد، یتیم اور بیواؤں کو قالین بافی، سلائی کڑھائی، دستکاری، آئی ٹی اور دیگر ہنر کی تربیت دی جائے گی تاکہ وہ گھروں میں بیٹھ کر باعزت روزگار کما سکیں اور اپنے خاندانوں کا سہارا بنیں۔انہوں نے ضلع خیبر میں خصوصی افراد کو درپیش ٹرانسپورٹ کے مسئلے کے حل کے لیے بھی عملی اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آمدورفت کی بہتر سہولت فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ خصوصی افراد تعلیم، علاج، تربیت اور دیگر بنیادی خدمات تک باآسانی رسائی حاصل کرسکیں۔ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ خصوصی افراد معاشرے پر بوجھ نہیں بلکہ معاشرے کا باصلاحیت حصہ ہیں۔ اگر انہیں تعلیم، ہنر، تربیت اور مناسب مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ نہ صرف اپنے خاندانوں کا سہارا بن سکتے ہیں بلکہ ملکی معیشت میں بھی مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔انہوں نے خصوصی افراد سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا: “میں آپ کا وکیل ہوں، میں آپ کے لیے یہاں موجود ہوں۔ یہ دفتر آپ لوگوں کی خدمت کے لیے ہے۔” انہوں نے یقین دلایا کہ خصوصی افراد، یتیموں، بیواؤں اور دیگر محروم طبقات کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔مشیر وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومتی کوششوں کا مقصد ایسا نظام قائم کرنا ہے جہاں لوگوں کو مستقل طور پر زکوٰۃ یا امداد کا محتاج نہ رہنا پڑے بلکہ وہ ہنر اور روزگار کے ذریعے اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں اور باعزت زندگی گزاریں۔ محکمہ سماجی بہبود کو عوام کی دہلیز تک لے جانا حکومت کی ترجیح ہے۔جمرود میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کے حوالے سے مشیر وزیراعلیٰ ملک لیاقت علی خان کو بریفنگ
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے زکوٰۃ، عشر، سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و ویمن ایمپاورمنٹ ملک لیاقت علی خان نے جمرود کے دورے کے موقع پر چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ لی۔متعلقہ حکام نے مشیر وزیراعلیٰ کو یونٹ کی کارکردگی، بچوں کے تحفظ، نگہداشت، درپیش مسائل اور فراہم کی جانے والی سہولیات کے حوالے سے آگاہ کیا۔ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ چائلڈ پروٹیکشن یونٹ بچوں کو تشدد، استحصال، غفلت اور دیگر خطرات سے تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ضرورت مند بچوں کی بروقت نشاندہی، رہنمائی اور بحالی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بچوں کے محفوظ مستقبل کے لیے اس نظام کو مزید مؤثر اور فعال بنانا ضروری ہے۔مشیر وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ بچوں سے متعلق مسائل اور شکایات پر بروقت کارروائی، مؤثر نگرانی اور ضروری معاونت کو یقینی بنایا جائے، جبکہ یتیم، بے سہارا اور مشکلات سے دوچار بچوں کو دستیاب سماجی بہبود کی سہولیات سے بھی منسلک کیا جائے۔بعدازاں مشیر وزیراعلیٰ نے ضلع خیبر میں قائم چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کا دورہ بھی کیا جہاں متعلقہ حکام کی جانب سے یونٹ کی کارکردگی، بچوں کے تحفظ، نگہداشت اور فراہم کی جانے والی سہولیات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اس موقع پر مشیر وزیراعلیٰ نیچائلڈ پروٹیکشن یونٹ کے مختلف امور کا جائزہ لیا اور بچوں کو درپیش مسائل، تحفظ کے اقدامات اور یونٹ کی ضروریات کے بارے میں آگاہی حاصل کی۔ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ بچوں کو ہر قسم کے تشدد، استحصال، غفلت اور دیگر خطرات سے محفوظ رکھنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے، جبکہ ضرورت مند اور بے سہارا بچوں کی بروقت نشاندہی، تحفظ اور بحالی کے لیے چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کا کردار انتہائی اہم ہے۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ بچوں کے تحفظ سے متعلق اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے اور ضرورت مند بچوں کو تعلیم، نگہداشت، بحالی اور دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

مزید پڑھیں