وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا شفیع جان نے صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان اور انصاف ڈاکٹرز فورم کے نمائندوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان ایک ہزار سے زائد دنوں سے مختلف مقدمات میں قید ہیں جبکہ گزشتہ سات ماہ سے انہیں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان ملک کے مقبول ترین سیاسی لیڈر ہیں اور ان کے ساتھ روا رکھا جانے والا موجودہ طرز عمل مزید قابل برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی آنکھ کے مسئلے پر اہل خانہ اور ذاتی معالجین کو اعتماد میں لیے بغیر رات کے وقت انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا، جو جیل مینوئل کی بھی خلاف ورزی ہے،شفیع جان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے عمران خان کی صحت اور ملاقاتوں کے معاملے پر تمام آئینی اور قانونی راستے اختیار کیے گئے ہیں،انہوں نے کہا کہ وفاقی وزراء نےعمران خان کی ہسپتال منتقلی پر مسلسل غلط بیانیاں کیں، شفیع جان نے بشریٰ بی بی کی صحت سے متعلق معاملات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اہل خانہ اور ذاتی معالجین کو اطلاع دئیے بغیر انکی انکھ کا آپریشن کیا گیا ،صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ جیل مینوئل کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کو کلاس بی کی سہولیات فراہم ہونی چاہئیں تاہم بدقسمتی سے انکو وہ سہولیات بھی نہیں ملیں، عمران خان کو ذاتی ڈاکٹروں، قانونی ٹیم اور اہل خانہ تک رسائی فراہم کی جائے اور انہیں آئین و قانون کے مطابق بنیادی انسانی بنیادی حقوق دیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی فیملی کے مطالبات کے ساتھ کھڑی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ انہیں طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور ذاتی معالجین کی طبی نگرانی کے تحت علاج یقینی بنایا جائے۔شفیع جان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف انتقامی سیاست پر یقین نہیں رکھتی بعد ازاں
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے وفاقی حکومت کی معاشی پالیسیوں، مہنگائی، توانائی اور خیبرپختونخوا کو گندم کی ترسیل پر بات کرتے ہوئے وفاق میں جب بھی مسلم ن کی حکومت آتی ہے تو خیبرپختونخوا کیساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے وزیراعلی سہیل آفریدی نے مسلسل صوبے کے مالی و انتظامی حقوق کے لیے آواز بلند کی ہے،انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت صوبائی مفادات، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور عوامی مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
