وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا شفیع جان نے بانی چیئرمین عمران خان کی رات کے وقت پمز ہسپتال منتقلی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے ایک بار پھر عمران خان کو ان کی فیملی اور ذاتی معالجین کو اطلاع دیے بغیر رات کی تاریکی میں خفیہ طور پر ہسپتال منتقل کیا جو انتہائی افسوس ناک ہے،انہوں نے کہا کہ شام کے بعد کسی بھی قیدی کو جیل سے باہر منتقل کرنا جیل مینوئل کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ شفیع جان نے سوال اٹھایا کہ آخر حکومت عمران خان کی صحت سے متعلق معلومات شفاف انداز میں عوام اور اہل خانہ کے سامنے کیوں نہیں لا رہی؟انہوں نے کہا کہ وفاقی اور پنجاب حکومتوں نے ظلم و جبر کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے عمران خان کی ملاقاتوں پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں اور گزشتہ سات ماہ سے انہیں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔شفیع جان نے کہا کہ عمران خان سے فیملی کی ملاقات ان کا بنیادی آئینی اور قانونی حق ہے اور اب اس حق سے مزید انکار قابل قبول نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں نواز شریف کو طبی بنیادوں پر ریلیف دیا گیا جبکہ مریم صفدر کو نواز شریف کی تیمارداری کے لیے ضمانت دی گئی تھی، لیکن وفاق اور پنجاب میں برسر اقتدار فارم 47 کے حکمران معمولی بیماری کی صورت میں بھی بیرون ملک علاج کرواتے ہیں جبکہ عمران خان کو پارٹی اور اہل خانہ کے مطالبے کے باوجود آنکھ کے مکمل علاج کے لیے الشفائ آئی ہسپتال منتقل نہیں کیا جا رہا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کو ایسے ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے جہاں ریٹینا کا اسپیشلسٹ موجود نہیں۔شفیع جان نے کہا کہ عمران خان کے ساتھ امتیازی سلوک آئین، قانون اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔صوبائی وزیر اطلاعات نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو اہل خانہ کے مطالبے کے مطابق فوری طور پر الشفائ آئی ہسپتال منتقل کیا جائے اور ان کی صحت اور علاج سے متعلق تمام حقائق فوری طور پر عوام کے سامنے لائے جائیں۔
