خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات و تعلقاتِ عامہ شفیع جان، سابق وفاقی وزیر داخلہ و رکن قومی اسمبلی شہریار خان آفریدی اور اراکین صوبائی اسمبلی داؤد شاہ آفریدی اور اورنگزیب اورکزئی نے کہا ہے کہ اتحاد بین المسلمین وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اور ملک دشمن عناصر فرقہ واریت کو ہوا دے کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں، تاہم، علماء اور عوام کے باہمی تعاون سے ایسی ہر سازش کو ناکام بنا دیا جائے گا۔ یہ بات انہوں نے کمشنر ہاؤس کوہاٹ میں محرم الحرام کے پرامن انعقاد کے حوالے سے منعقدہ ڈویژنل جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کہی جس میں کوہاٹ، اورکزئی، ہنگو اور کرم کے اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز، ڈی پی اوز، علماء کرام، قبائلی عمائدین اور مختلف مکاتب فکر کے نمائندوں نے شرکت کی۔ جرگے سے کمشنر کوہاٹ ڈویژن سید معتصم باللہ شاہ، ریجنل پولیس آفیسر عرفان طارق، جسٹس (ر) ابن علی، اہل سنت اور اہل تشیع کے علماء و مشران نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے محرم الحرام کو صبر، برداشت، ایثار اور استقامت کا مہینہ قرار دیتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ امن و امان کے قیام اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کیلئے تمام طبقات کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی۔ شرکاء نے حکومت اور سیکیورٹی اداروں کو محرم الحرام کے دوران مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ بین المسالک ہم آہنگی اور باہمی احترام کے ذریعے ہی امن کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ وزیر اطلاعات شفیع جان نے کہا کہ صوبائی حکومت امن و امان کے قیام کو اولین ترجیح دے رہی ہے اور اس مقصد کیلئے رواں مالی سال میں 131 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ محرم الحرام کے دوران صوبے بھر میں 43 ہزار پولیس اہلکار سیکیورٹی فرائض انجام دیں گے تاکہ مجالس اور جلوسوں کے شرکا کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ صوبے میں قائم 614 امام بارگاہوں میں سے 127 کو حساس قرار دیا گیا ہے جبکہ 907 جلوسوں میں سے 286 جلوس حساس کیٹیگری میں شامل ہیں جن کیلئے اضافی سیکیورٹی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ان اقدامات میں نگرانی کے جدید نظام، اضافی نفری کی تعیناتی اور ضلعی انتظامیہ و پولیس کے درمیان مربوط رابطہ شامل ہے۔ شہریار آفریدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کے عوام بالخصوص کوہاٹ ڈویژن کے لوگ امن، رواداری اور بھائی چارے کے فروغ میں ہمیشہ مثالی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران اتحاد و یگانگت کا مظاہرہ کرکے دشمن کے ناپاک عزائم کو شکست دی جا سکتی ہے۔ جرگے کے اختتام پر مقررین نے امید ظاہر کی کہ تمام اسٹیک ہولڈرز، علماء کرام، مشران اور عوام کے تعاون سے محرم الحرام پرامن ماحول میں گزرے گا اور فریقین ماضی کی طرح طے شدہ ضابطہ اخلاق اور معاہدوں کی مکمل پاسداری کریں گے۔
