خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے خیبرپختونخوا اسمبلی میں حزب اختلاف کے سینئر اراکین اسمبلی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی اسمبلی میں اراکین اسمبلی کی مراعات سے متعلق جو قانون منظور ہوا ہے، اس حوالے سے بے جا کنفیوژن پیدا کی گئی ہے۔ سوشل میڈیا اور بعض ذرائع ابلاغ میں ایسی باتیں سامنے آ رہی ہیں جن کا اس ایکٹ میں نام و نشان بھی نہیں۔شفیع جان نے کہا کہ اراکین صوبائی اسمبلی کے لیے بلیو پاسپورٹ کی سہولت 1988 کے قانون میں پہلے سے موجود تھی۔ صوبائی کابینہ نے کسی ایسی نئی شق کی منظوری نہیں دی جو 1988 کے ایکٹ میں شامل نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ نے جو مسودہ منظور کرکے اسمبلی کو بھیجا تھا، اس میں اراکین اسمبلی کے لیے لائف ٹائم پاسپورٹ یا اہل خانہ کے لیے پاسپورٹ کی کوئی شق شامل نہیں تھی، تاہم اسمبلی میں پیش ہونے کے بعد اپوزیشن نے اس میں ترامیم کیں، وزیر اطلاعات نے کہا کہ آج وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے واضح ہدایات دی ہیں کہ ایکٹ کی جن شقوں پر اعتراضات سامنے آ رہے ہیں، ان پر تمام پارلیمانی رہنماؤں کو بٹھا کر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت آزادی صحافت پر مکمل یقین رکھتی ہے اور ہمیشہ مثبت تنقید کا خیرمقدم کیا ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی ہدایات پر صحافی برادری کے ساتھ بیٹھ کر جرمانوں اور دیگر نکات پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔شفیع جان نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت عوام کی نمائندہ حکومت ہے، انہوں نے کہا کہ اگر موازنہ کیا جائے تو خیبرپختونخوا اسمبلی کے اراکین کی مراعات دیگر صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی کے اراکین کے مقابلے میں اب بھی کہیں کم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب سے صوبے میں ہماری حکومت آئی ہے، اراکین اسمبلی کی مراعات میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ مزید برآں، صوبائی اسمبلی کے اراکین کے لیے جو نئی مراعات منظور کی گئی ہیں، وہ بھی پنجاب، سندھ اور بلوچستان اسمبلیوں کے مقابلے میں کم ہیں۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹیرینز اور ججز کے لیے ٹول ٹیکس سے استثنا گزشتہ بیس برس سے موجود ہے۔ بجٹ کے معاملے پر بھی صوبائی حکومت پر بلاجواز تنقید کی گئی، حالانکہ ہم نے عمران خان کے وژن کے
مطابق ایک بہترین بجٹ پیش کیا ہے۔ شاید ہم پر اس لیے تنقید ہو رہی ہے کہ ہم عوام کی حقیقی نمائندہ حکومت ہیں۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ اراکین اسمبلی کو درپیش سکیورٹی خدشات کے پیش نظر انہیں کیٹیگری ”بی” سکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اراکین سمیت ملک بھر میں مجموعی طور پر 57 ہزار بلیو پاسپورٹ جاری کیے جا چکے ہیں، اس لیے اس معاملے پر بھی بات ہونی چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت جاری شدہ بلیو پاسپورٹس کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائے۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی اسمبلی کے اراکین کو پہلے ہی چار اسلحہ لائسنس رکھنے کی اجازت تھی، تاہم صوبے کی مخصوص سکیورٹی صورتحال اور اراکینِ اسمبلی کو درپیش خطرات کے پیشِ نظر مزید چار اسلحہ لائسنسوں کی منظوری دی گئی ہے
