خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے معاون خصوصی برائے محکمہ خوراک ڈاکٹر محمد اسرار کے ہمراہ گندم کی پیداوار، ترسیل، ذخائر اور حکومتی اقدامات کے حوالے سے اطلاع سیل سول سیکرٹریٹ پشاور میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کی گندم کی سالانہ ضرورت 54 لاکھ 36 ہزار 537 میٹرک ٹن ہے۔ سال 2026 میں گندم کی مقامی پیداوار 16 لاکھ 32 ہزار میٹرک ٹن رہی، صوبے کو سالانہ 38 لاکھ 4 ہزار 537 میٹرک ٹن گندم کی کمی کا سامنا رہتا ہے۔ یہ کمی دیگر صوبوں خصوصاً صوبہ پنجاب کے کسانوں سے خریدی جاتی ہے۔اس وقت سرکاری فوڈ گرین گوداموں میں 1 لاکھ 53 ہزار 933 میٹرک ٹن گندم موجود ہے،نجی شعبے میں گندم اور آٹے کا تخمینہ شدہ ذخیرہ 1 لاکھ 14 ہزار 806 میٹرک ٹن ہے۔ صوبائی وزیر شفیع جان نے مزید کہا کہ صوبائی کابینہ نے پاسکو سے 1 لاکھ 75 ہزار میٹرک ٹن گندم خریدنے کی منظوری دی ہے جس میں 25 ہزار میٹرک ٹن گندم وصول کی جا چکی ہے۔ باقی 1 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن کے لیے ایم او یو پر دستخط اور پیشگی ادائیگی مکمل ہو چکی ہے۔ صوبائی کابینہ نے مقامی کاشتکاروں سے 2 لاکھ 25 ہزار میٹرک ٹن گندم خریدنے کی منظوری دی ہے، جس کے لئے قیمت فی 40 کلوگرام تین ہزار پانچ سو روپے کی قیمت مقرر کی گئی ہے۔ فی الحال صوبے کے کسی بھی حصے میں گندم یا آٹے کی قلت نہیں اور مارکیٹ کی صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایات پر آٹے کی دستیابی سے متعلق نگرانی کی جارہی ہے۔ قیمتوں میں غیر ضروری اضافے کی روک تھام کے لیے روزانہ کی بنیاد پر اقدامات جا ری ہیں اوروزیراعلی گندم کی صورتحال کاباقاعدگی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ نے قومی اقتصادی کونسل میں خیبرپختونخوا کا مقدمہ بہترین انداز میں پیش کیا اور این ایف سی، این ایچ پی اور گندم و آٹے کی ترسیل کے حوالے سے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔ بدقسمتی سے پنجاب حکومت بین الصوبائی تجارت سے متعلق آئین پاکستان کے آرٹیکل 151 کی روح کے منافی گندم اور آٹے کی نقل و حمل پر غیر ضروری پابندیاں عائد کر رہی ہے۔ ان اقدامات سے خیبر پختونخوا میں سپلائی متاثر ہونے، قیمتوں میں اضافے اور مارکیٹ پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو رہا ہے۔ مسلم لیگ ن کے دور اقتدار میں ہمیشہ خیبرپختونخوا سے امتیازی سلوک ہوتا ہے۔ مسلم لیگ ن نے ہمیشہ عوامی مینڈیٹ اور عوامی حقوق پر ڈاکہ ڈالا ہے۔ یہ فارم 47 کے ذریعے اقتدار میں آئی ہے اس لئے اسے عوامی مشکلات کا احساس نہیں ہے۔ شفیع جان نے مزید کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا نے گندم اور آٹے کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے آئینی اور پارلیمانی فورم سے رجوع کیا ہے۔اس سلسلے میں خیبر پختونخوا حکومت نے وفاقی حکومت و پنجاب کو 15 مراسلے ارسال کیے،وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے گورنر اور اپوزیشن جماعتوں کو بھی اکٹھا کیا۔ صوبائی حکومت مارکیٹ کی مسلسل نگرانی،سٹریٹیجک ذخائر کے تحفظ اور تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی رابطے کے ذریعے صوبہ بھر میں گندم اور آٹے کی مسلسل دستیابی یقینی بناتی رہے گی۔ شفیع جان نے مطالبہ کیا کہ وفاقی اور پنجاب حکومتیں فوری طور پر بلا رکاوٹ گندم اور آٹے کی ترسیل یقینی بنائیں،غیر ضروری پابندیاں فوری ختم کی جائیں۔
