خیبرپختونخوا کے وزیر برائے ایکسائز، ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخر جہان نے اتوار کے روز اپنے حلقہ PK-26 بونیرمیں پبلک ڈے کے موقع پر مصروف دن گزارا، جہاں انہوں نے عوام، عمائدین علاقہ، کارکنان اور مختلف وفود سے ملاقاتیں کیں۔ وفود نے صوبائی وزیر کو اپنے علاقوں کو درپیش عوامی، ترقیاتی اور فلاحی مسائل سے آگاہ کیا اور مختلف معروضات پیش کیں۔
صوبائی وزیر نے شہریوں کے مسائل تفصیل سے سنے اور ان کے فوری حل کو یقینی بنانے کیلئے موقع پر ہی متعلقہ محکموں اور افسران کو واضح اور بروقت ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ عوامی شکایات کے ازالے میں کسی قسم کی تاخیر نہیں ہونی چاہیے اور تمام مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں۔
اس موقع پر سید فخر جہان نے کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان کے عوامی خدمت و فلاح کے وژن کے مطابق صوبائی حکومت عام آدمی کو ریلیف دینے، نچلی سطح پر سہولتیں پہنچانے اور عوامی مسائل کے فوری حل کیلئے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں عوامی خدمت، شفاف طرز حکمرانی اور عوام مسائل کے خاتمے کیلئے ٹھوس کوششیں کی جارہی ہیں جس کا مقصد صوبے میں عوام کو ہر ممکن سہولت ان کی دہلیز پر فراہم کرنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پبلک ڈے کا مقصد عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانا اور حکومتی کارکردگی پر عوامی اعتماد کو مزید مستحکم کرنا ہے۔صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ وہ اپنے حلقے کے عوام کے ساتھ ہر وقت کھڑے ہیں اور ان کے مسائل کے حل، ترقیاتی کاموں کی رفتار تیز کرنے اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عمران خان کے وژن اور صوبائی حکومت کی عوام دوست پالیسیوں کے تحت خدمت کا یہ سفر مزید تیزی سے جاری رکھا جائے گا۔علاقے کے عوام، عمائدین اور کارکنان نے صوبائی وزیر کی جانب سے فوری احکامات، عوامی رسائی اور مسائل کے حل میں ذاتی دلچسپی کوسراہا۔
صوبائی وزیر سید فخر جہان کا PK-26 بونیر میں پبلک ڈے،، عوامی مسائل کے فوری حل کیلئے موقع پر ہدایات
معاونِ خصوصی شفیع جان اور ایم این اے شہریار آفریدی کے فنڈز سے تین تالاب میں چیک ڈیم منصوبہ پر کام کا باقاعدہ آغاز
ضلع کوہاٹ کی یونین کونسل شاہ پور کے علاقہ تین تالاب میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان اورسابق وفاقی وزیر داخلہ و رکن قومی اسمبلی شہریارخان آفریدی کے فنڈز سے چیک ڈیم کی تعمیر کا شہریار آفریدی کے فوکل پرسن قاسم زبیر کی موجودگی میں باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے جس کا مقصد علاقے میں پانی کی قلت پر قابو پانا اور عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔اس موقع پر معاون خصوصی شفیع جان کا کہناتھاکہ یہ اہم منصوبہ مقامی آبادی کا دیرینہ مطالبہ تھاجو عملی شکل اختیار کر گیاہے۔ ان کے مطابق چیک ڈیم بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے میں مدد دے گا جس سے خشک موسم میں پانی کی دستیابی ممکن ہوگی۔ شفیع جان نے مزید کہاکہ منصوبے سے نہ صرف زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ زیر زمین پانی کی سطح بھی بہتر ہوگی جبکہ سیلابی ریلوں کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ مقامی رہائشیوں نے منصوبے کے آغاز کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے علاقے میں پانی کی کمی کے مسائل میں نمایاں کمی آئے گی اور معیشت کو سہارا ملے گا۔
The transparent annual matriculation examinations being conducted under the Board of Intermediate and Secondary Education Peshawar are being unsuccessfully targeted by conspiratorial elements attempting to sabotage the process
In a clarification statement issued by the board administration, it was stated that certain elements are deliberately, and as part of a well-planned conspiracy, trying to mislead students and parents regarding the ongoing examinations.
Baseless allegations such as the alleged buying and selling of examination papers, along with rumors being spread on social media, are in fact an attempt to undermine the administration’s hard work, dedication, and transparent system.
The statement further added that solved papers from previous examinations are generally available and are often used by students for guidance. However, some elements are falsely linking these materials to the current examinations and spreading misinformation.
Parents and students are urged not to pay any attention to such baseless social media posts. The board administration has taken effective measures against mafias and all such elements involved in illegal activities.
Spreading unverified news without evidence is an unsuccessful attempt to negatively impact students’ mental peace, academic performance, and future.
The board administration requests the public, especially students and parents, to rely only on authentic sources and to refrain from sharing unverified information.
The Board of Intermediate and Secondary Education Peshawar assures that examinations will always be conducted in a transparent, fair, and merit-based manner. Providing a safe, peaceful, and positive educational environment for students remains our top priority.
کیپرا کی جانب سے کنزیومر ریوارڈز اسکیم کے تحت پہلی قرعہ اندازی کا انعقاد
خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی (کیپرا) نے جمعہ کے روز کنزیومر ریوارڈز اسکیم کے تحت پہلی قرعہ اندازی کا انعقاد کیا۔قرعہ اندازی کے نتیجے میں مجموعی طور پر 50 خوش نصیب افراد کا انتخاب کیا گیا، جن میں سے ہر ایک کو 10 ہزار روپے انعام دیا جائے گا۔تفصیلات کے مطابق کنزیومر ریوارڈز اسکیم کا آغاز کیپرا نے رواں سال فروری میں خیبر پختونخوا کے چار اضلاع میں ہوٹلز اور ریسٹورانٹس کے شعبے میں کیا۔ اسکیم کے اجراء سے قبل کیپرا کی ٹیموں نے منتخب ہوٹلز اور ریسٹورنٹس میں اسٹینڈیز نصب کیں تاکہ صارفین کو آگاہی فراہم کی جا سکے کہ وہ خدمات حاصل کرنے کے بعد موصول ہونے والی انوائسز جمع کروا کر اسکیم میں حصہ لے سکتے ہیں۔15 فروری سے 15 مارچ 2026 تک موصول ہونے والی مجموعی طور پر 176 انوائسز کو قرعہ اندازی میں شامل کیا گیا۔ قرعہ اندازی ڈائریکٹر جنرل کیپرا محترمہ ارم ناز نے دیگر سینئر افسران کی موجودگی میں ڈیجیٹل اور شفاف انداز میں کی۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل کیپرا محترمہ ارم ناز نے قرعہ اندازی میں کامیاب ہونے والے افراد کو مبارکباد دی اور کہا کہ یہ اسکیم مزید تین ماہ تک جاری رہے گی، جس کے دوران مزید تین قرعہ اندازیاں کی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسیکم کی کامیابی پر اس کے اگلے مرحلے کا اغاز کیا جائے گا جس میں خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع کو شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس اسکیم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور انعام جیتنے کا موقع حاصل کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے کیپرا کے افسران، عملہ اور ان کے اہل خانہ کو اسکیم میں شرکت کی اجازت نہیں ہے۔آخر میں ڈائریکٹر جنرل نے شرکاء کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اپنی انوائسز جمع کروا کر اس اقدام کو کامیاب بنایا۔ انہوں نے کہا کہ پشاور، مردان، ایبٹ آباد اور ہری پور میں منتخب ہوٹلز اور ریسٹورنٹس کی خدمات حاصل کرنے والے صارفیناسٹینڈیز پر موجود کیو آر کوڈ اسکین کرکے اپنی انوائسز کی تصاویر شیئر کر کے اس اسکیم میں حصہ لے سکتے ہیں۔
صوبائی کابینہ کا 50واں اجلاس وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زر صدارت جمعہ کے روز بذریعہ ویڈیو لنک منقد ہوا۔
صوبائی کابینہ کا 50واں اجلاس وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زر صدارت جمعہ کے روز بذریعہ ویڈیو لنک منقد ہوا۔ صوبائی اراکین کابینہ کے علاوہ چیف سیکریٹری، ایڈشنل چیف سیکریٹری اور متعلقہ سیکریٹریوں نے اجلاس میں شرکت کی۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے ایک بار پھر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر کے عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تقریباً 45 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے جا چکی ہے جو کہ 10 کروڑ سے زائد افراد بنتی ہے، اور مہنگائی کا سب سے زیادہ اثر اسی طبقے پر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مہنگائی کا بوجھ صرف غریب طبقے تک محدود نہیں بلکہ مڈل کلاس اور اپر مڈل کلاس بھی اس دباؤ کو برداشت نہیں کر پا رہی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ وقتی اور نمائشی اقدامات کے بجائے مستقل اور دیرپا پالیسی سازی کی ضرورت ہے کیونکہ قومیں اسی وقت ترقی کرتی ہیں جب قیادت واضح اور مؤثر پالیسیوں کے ساتھ آگے بڑھتی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ عمران خان کے دور حکومت میں عالمی سطح پر کورونا وبا اور مہنگائی کے باوجود پاکستان کی معیشت 6.1 فیصد شرح سے ترقی کر رہی تھی۔ اس وقت عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں زیادہ ہونے کے باوجود عوام کو ریلیف فراہم کیا گیا اور پیٹرول کی قیمت کو 150 روپے تک محدود رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں پیٹرول کی قیمت 450 روپے سے تجاوز کر چکی ہے جو حکومتی پالیسیوں کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلط شدہ حکمرانوں کے پاس نہ کوئی واضح پالیسی ہے اور نہ ہی اصلاحات کا کوئی ایجنڈا، جبکہ عوامی مسائل کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت عوام کے ووٹ سے اقتدار میں آئی ہے اور عوام کی خدمت ہماری اولین ذمہ داری ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت نے موٹر سائیکل سواروں اور کسانوں کے لیے ریلیف پالیسی متعارف کروائی ہے جسے قومی سطح پر بھی سراہا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی سطح کے بحران کے باوجود خیبر پختونخوا حکومت پاکستان کے مفاد میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق کی جانب سے صوبائی وسائل میں کٹوتی کی کوشش کی گئی تاہم صوبائی حکومت نے مؤثر انداز میں اپنا مقدمہ پیش کرتے ہوئے ان کٹوتیوں کو کم سے کم سطح تک محدود کر دیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبہ حالیہ سیلابوں اور کلاؤڈ برسٹ سے ہونے والے نقصانات کا بوجھ خود برداشت کر رہا ہے جبکہ این ایف سی کے تحت صوبے کا حصہ مکمل طور پر ادا نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع کو انتظامی طور پر صوبے میں ضم کیا گیا ہے مگر مالی انضمام تاحال مکمل نہیں ہوا اور ان علاقوں کے اخراجات صوبائی حکومت اپنی جیب سے ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ناکام قومی پالیسیوں کے باعث دہشتگردی نے دوبارہ سر اٹھایا، عوام کو گھروں سے جبری انخلا پر مجبور کیا گیا اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بھی صوبہ اپنے وسائل استعمال کر رہا ہے جبکہ وفاق سے امداد نہیں مل رہی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ملک میں بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے، بڑھتی درآمدات اور کم ہوتی برآمدات کے باعث ڈالر کے اخراج میں اضافہ ہو رہا ہے جس سے روپے کی قدر میں کمی اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے بجلی مہنگی ہوگی جس کے نتیجے میں مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دباؤ میں مزید اضافہ ہوگا۔ انہوں نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر واضح اور جامع معاشی پالیسی سامنے لائے اور فائر فائٹنگ کے بجائے طویل المدتی حکمت عملی اختیار کرے۔ وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت صوبائی سطح پر ایک جامع کرائسس مینجمنٹ پالیسی ترتیب دے رہی ہے تاکہ قدرتی آفات اور قومی بحرانوں کے دوران عوام کو فوری اور مؤثر ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ موٹر سائیکل سواروں اور کسانوں کے بعد دیگر متاثرہ طبقات کے لیے بھی ریلیف پیکیج پر کام جاری ہے جس کا جلد اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت مہنگائی کے اس دور میں عوام کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرے گی اور انہیں مہنگائی کے بوجھ تلے دبنے نہیں دے گی۔
اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے وزیر اعلی کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے بتایا کہ کابینہ نے ضم شدہ اضلاع کے لئے یونیورسٹی آف ایپلائیڈ اینڈ ماڈرن سائنسز کے قیام کی منظوری دیدی جبکہ اس اسٹیٹ آف دی آرٹ یونیورسٹی کے قیام کے لئے جزئیات کو حتمی شکل دینے کے لئے صوبائی وزیر بلدیات کی سربراہی میں کمیٹی کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں صوبائی حکومت کی کفایت شعاری پالیسی کے تحت زرعی یونیورسٹی میں معاون عملے کے 55 خالی آسامیوں کو ختم کرنے کی منظوری دیدی، اس فیصلے سے صوبائی حکومت کو ماہانہ 90 لاکھ روپے کی بچت ہوگی۔ شفیع جان نے بتایا کہ صوبائی کابینہ نے اعلی تعلیم کے شعبے میں ایک اہم اقدام کے طور پر پوسٹنگ ٹرانسفرز گائیڈ لائنز کی اصولی منظوری دیدی، ان گائیڈ لائنز پر عملدرآمد سے دور افتادہ علاقوں کے کالجوں میں تدریسی اور انتظامی عملے کی کمی کو پوری کرنے میں مدد ملے گی۔ اسی طرح کابینہ نے بعض ضروری اخراجات کی مد میں محکمہ اوقاف کے لئے 229 ملین روپے گرانٹ ان ایڈ کی مشروط منظوری دیدی، کابینہ نے موجودہ بحرانی صورتحال کے پیش نظر گریڈ 20 اور اسے اوپر کے سرکاری افسران کی دو دن کی بنیادی تنخواہوں میں رضاکارانہ کٹوتی کی تجویز سے اصولی اتفاق کرتے ہوئے محکمہ خزانہ کو ان افسران کی رضامندی حاصل کرنے کے لئے طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا کی گزشتہ اور موجودہ حکومت نے کفایت شعاری پالیسی کے تحت اب تک سرکاری گاڑیوں کے پی او ایل پر مجموعی طور پر 60 فیصد کٹوتی کی ہے۔ معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ صوبائی کابینہ نے خیبر پختونخوا میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوشنز ایپلیٹ ٹریبیونل رولز 2020 میں ضروری ترامیم کی منظوری جبکہ سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہاسپٹل کو ایم ٹی آئی کا درجہ دینے کی منظوری دیدی۔ مزید برآں کابینہ نے تھیلیسمیا کے مرض میں مبتلا نادار بچوں کے علاج کے سلسلے میں فاطمید فاونڈیشن کے لئے ایک کروڑ روپے گرانٹ ان ایڈ، صوبے کے مختلف ہسپتالوں میں 598 پیڈ انٹرنی نرسوں کے آسامیوں کی تخلیق اور تیمرگرہ میڈیکل کالج کو فعال بنانے اور وہاں پر جلد کلاسوں کے اجراء کو یقینی بنانے کے لئے 993 ملین روپے گرانٹ ان ایڈ کی منظوری دیدی۔ انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے خیبر پختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن کے سات نئے نن آفیشل ممبرز کی تعیناتی کی بھی منظوری دیدی۔
شفیع جان نے بتایا کہ کابینہ نے پاروا ڈی آئی خان میں تحصیل اسپورٹس کمپلیکس کے قیام کے سلسلے میں زمین کی خریداری کے لئے نن اے ڈی پی اسکیم، پاک افعان سیریز 2025 اور ایشیا کپ 24-2023 میں شرکت کرنے والے خیبر پختونخوا کے ویل چئیر کرکٹ کھلاڑیوں کے لئے مالی معاونت جبکہ حال ہی میں پشاور میں منعقدہ ہونے والے نیشنل باڈی بلڈنگ چیمپئن شپ کی سپانسرشپ کے لئے خصوصی گرانٹ ان ایڈ کی منظوری دیدی۔
انہوں نے اگاہ کیا کہ اجلاس میں خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ پشاور کے دو نئے ممبران کی تعیناتی جبکہ رواں مالی سال کے دوراں مفتی محمود کالج ڈی آئی خان کے لئے 80 ملین روپے گرانٹ ان ایڈ کی منظوری دیدی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں بطور پائلیٹ پراجیکٹ بعض سرکاری سکولوں میں میٹرک ٹیک اور انٹر ٹیک پروگرامز متعارف کرانے کی منظوری دیدی گئی، اس دو سالہ منصوبے پر 450 ملین روپے لاگت آئے گی، منصوبے کے تحت صوبے کے 70 سرکاری اسکولوں کو سینٹر آف ایکسیلنس کا درجہ دیا جائے گا جبکہ مجوزہ منصوبے کے تحت جدید عصری تقاضوں سے ہم تکنیکی مہارت حاصل کرنے کے لئے 1650 طلباء کو سکالر شپس فراہم کئے جائیں گے۔ کابینہ نے صوبائی چیف سیکرٹری آفس کے سروس ڈیلیوری یونٹس میں مارکیٹ بیسڈ سیلری پالیسی کے تحت سات عملے کی تعیناتی کی منظوری دیدی۔ اجلاس میں الیکٹریسٹی رولز 1937 کے تحت مختلف فیسوں کی ادائیگیوں کے لئے ڈیجیٹل پلیٹ فارم استعمال کرنے، مدائن ہائیڈرو پاور اسٹیشن کے منصوبے کو ورلڈ بینک کے پروگرام سے نکالنے اور اس منصوبے پر عملدرآمد کے لئے دیگر قابل عمل آپشنز کی طرف جانے کی منظوری دیدی گئی۔ اجلاس میں خیبر پختونخوا ایکسائز ڈیوٹی آن منرلز لیبر ویلفیئر ایکٹ 2021 میں بعض ضروری ترامیم کی منظوری دیدی گئی۔ شفیع جان نے بتایا کہ کابینہ نے معربی سرحدوں پر جاری تناو کے نتیجے میں ضلع لوئر چترال کے سرحدی علاقہ ارندو کے اندرونی طور پر نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کے لئے قائم کیمپ میں سہولیات کی فراہمی کے سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کو مزید 20 ملین روپے کی فراہمی اور دیگر ریلیف اقدامات کی منظوری دیدی۔
اجلاس میں رواں مون سون سیزن میں کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لئے پیشگی اقدامات کے طور پر کشتیوں اور دیگر ضروری سامان اور آلات کی خریداری کے لئے محکمہ ریلیف کو 785 ملین روپے جاری کرنے، آنے والے مالی سال کے بجٹ کی تیاری کے لئے بجٹ اسٹریٹجی پیپر 27-2026 کی بھی منظوری دیدی گئی جبکہ پیچیدہ بیماریوں میں مبتلا 27 مستحق مریضوں کے علاج معالجے کے لئے مالی معاونت کی منظوری دیدی گئی۔
KP Food Authority Launches Major Crackdown Against Fake Beverages Mafia in Mardan, Haripur and Hangu
The Khyber Pakhtunkhwa Food Safety and Halal Food Authority has intensified its province-wide crackdown against fake and substandard food, carrying out major operations in Mardan, Haripur and Hangu. Large quantities of counterfeit, mislabeled and substandard beverages were seized and confiscated, while strict legal action was taken against multiple units involved in the illegal activity.
According to the Food Authority spokesperson, the Mardan Food Safety Team, acting on a tip-off, raided a beverage production unit located on Mohib Road. The raid exposed the manufacturing of counterfeit and mislabeled branded carbonated drinks. During the operation, more than 2,000 empty bottles, packaging material and harmful chemicals were recovered, which were being used in the preparation of fake beverages. The unit was sealed on the spot, and a heavy fine was imposed on the owner, while further legal proceedings have been initiated.
The spokesperson further stated that in Haripur, the Food Safety Team conducted a detailed inspection of a juice factory located in Hattar Industrial Estate. During the inspection, 350 liters of mislabeled juice were recovered and confiscated, and a fine was imposed on the factory owner. In addition, several food outlets were inspected, improvement notices were issued, and expired licenses were renewed on the spot through the Authority’s e-licensing system.
In Hangu, the Food Safety Team set up a checkpoint on Hangu Road and carried out strict checking of food-carrying vehicles. During the operation, 1,400 liters of substandard beverages were recovered from a vehicle, which were immediately confiscated, and a heavy fine was imposed on those responsible.
Director General KP Food Safety and Halal Food Authority, Kashif Iqbal Jilani, appreciated the performance of the food safety teams and reiterated that there is no room in the province for those involved in the business of fake and substandard food. He emphasized that no leniency will be shown to those endangering public health, and indiscriminate actions against such elements will continue.
Provincial Minister for Health, Khaleeq ur Rehman, while addressing a press briefing stated that the Government of Khyber Pakhtunkhwa has placed the health sector among its top priorities and has undertaken significant reforms and investments over the past years
Provincial Minister for Health, Khaleeq ur Rehman, while addressing a press briefing stated that the Government of Khyber Pakhtunkhwa has placed the health sector among its top priorities and has undertaken significant reforms and investments over the past years. He said that the health budget has increased from Rs. 30.3 billion in 2013 to approximately Rs. 275 billion, while Rs. 274 billion has been allocated for the current fiscal year, reflecting the government’s strong commitment.
The Provincial Minister highlighted that over 22,000 new positions have been created in the health sector, and the number of Medical Officers has increased from 2,520 to 6,531. He further stated that key institutions such as the MTI Act framework, Health Care Commission, and Health Foundation have been established, along with the introduction of an effective monitoring system through the Independent Monitoring Unit, which has significantly improved service delivery.
He termed the Sehat Card Plus as the flagship program of the government, stating that 100% of the province’s population is now covered under the initiative. From January to November 2025, more than 1.085 million patients were treated at a cost of Rs. 31.6 billion, with 64% of patients receiving treatment in public sector hospitals. He added that expensive and complex procedures, including liver, kidney treatments, and cochlear implants, are also being provided under the program.
The Minister stated that Khyber Pakhtunkhwa has achieved significant improvement in the Universal Health Coverage Index, which has reached 53.5, with an additional 4.9% increase recorded in 2024—the highest in the country.
He further said that efforts are underway to strengthen primary healthcare services, including the conversion of 200 BHUs and 50 RHCs into BEmONC centers to ensure the provision of maternal and emergency services at the local level. Additionally, rehabilitation of 89 flood-affected health facilities is in progress, while vaccination coverage has reached 80%. Drug testing laboratories have been established in Swat and D.I. Khan, and a medicine ordering portal has also been introduced.
The Provincial Minister added that work is ongoing across the province on hospital upgradation, completion of new projects, and provision of modern medical facilities. Trauma centers, pediatric hospitals, MRI, CT scan, and Cath Lab facilities are being provided, while neurosurgery and mental health services are also being expanded.
He stated that to strengthen human resources, 432 doctors and specialists have been recruited so far, while further recruitment is underway, including Medical Officers, dental surgeons, and nurses.
The Minister said that to promote good governance, work is ongoing on 48 priority initiatives, under which 141 sub-initiatives have already been completed. Necessary legal amendments and policy reforms are also being introduced to make the system more efficient.
He emphasized that digitalization is being advanced to enhance transparency and performance, with over 91,000 employees’ records digitized. Modern systems such as e-filing, biometric attendance, geo-tagging, and online supply chain management have been implemented, while the establishment of HISDU is promoting data-driven decision-making.
He further stated that to improve service delivery, 91 health facilities have been identified, out of which 19 hospitals have been outsourced in the initial phase to ensure better healthcare services in remote areas.
In conclusion, Provincial Minister for Health Khaleeq ur Rehman reaffirmed the government’s commitment to further strengthening Universal Health Coverage, enhancing primary healthcare systems, and ensuring timely provision of quality healthcare services at the doorstep of every citizen. He stated that the government remains dedicated to establishing a transparent, efficient, and sustainable health system.
پیٹرولیم مصنوعات میں ہوش ربا اضافہ عوام کا معاشی قتل ہے، شفیع جان حکومت عالمی حالات کا بہانہ بنا کر عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال رہی ہے، معاون خصوصی برائے اطلاعات
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ ہوشربا اضافے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے عوام پر کھلم کھلا پیٹرول بم گرا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمت 458 روپے اور ہائی سپیڈ ڈیزل 520 روپے مقرر کرنا ظلم کی انتہا ہے اور یہ فیصلہ عوام دشمن پالیسیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ صرف مہنگائی نہیں بلکہ عوام کا معاشی قتل ہے۔ حکومت عالمی حالات کا بہانہ بنا کر دراصل عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال رہی ہے۔ پیٹرولیم قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے حکومت نے عوام کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا ہے جبکہ حکمران خود عیاشیاں کریں اور عوام قربانیاں دیں، یہ ہرگز قبول نہیں۔
شفیع جان نے مزید کہا کہ موجودہ مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ عوام پر قیامت برپا کر دی گئی ہے۔ ناکام معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے اور ایسے ظالمانہ فیصلے سڑکوں پر طوفان لا سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ معیشت کو تباہی کے دہانے پر لے گیا ہے اور جعلی وفاقی حکومت نے عوام کو دیوار سے لگا دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 184 روپے 14 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے جبکہ عمران خان کی حکومت میں ڈیزل کی کل قیمت 150 روپے فی لیٹر تھی۔ موجودہ وفاقی حکومت نے ظالمانہ فیصلوں سے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ واپس لے اور عوام کو ریلیف فراہم کرے، بصورت دیگر عوامی ردعمل کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔
معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کا بنوں میں خودکش دھماکے کی مذمت
وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے بنوں کے علاقے ڈومیل میں تھانے کے قریب سول آبادی میں ہونے والے خودکش دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔یہاں سے جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بزدلانہ حملے میں 3 خواتین سمیت 5 افراد کی قیمتی جانوں کا ضیاع انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ معصوم شہریوں، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانا بزدلانہ فعل ہے،اسلام سمیت کوئی بھی مذہب اس طرح کے گھناؤنے واقعات کی کی اجازت نہیں دیتا ،انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے ایسے بزدلانہ واقعات نہ تو حکومت کے عزم کو کمزور کر سکتے ہیں اور نہ ہی عوام کے حوصلے پست کر سکتے ہیں،پوری قوم دہشتگردی کے ناسور کے خاتمے کے لیے متحد ہے ۔معاون خصوصی شفیع جان نے دھماکے میں شہید ہونے والے افراد کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے شہداء کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں حکومت متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور انہیں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا
صوبائی حکومت صحت کے شعبے میں اصلاحات اور عوام کو صحت سہولیات فراہم کرنے کے لئے عملی اقدامات اٹھارہی ہے، شفیع جان
وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان کے ہمراہ صحت کے شعبے میں ہونے والی اہم اصلاحات ، اقداما ت اور کارکردگی کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت صحت کے شعبے میں اصلاحات اور عوام کو صحت سہولیات فراہم کرنے کے لئے عملی اقدامات اٹھارہی ہے، تعلیم کے ساتھ ساتھ صحت کا شعبہ بھی پاکستان تحریک انصاف کی منشور کا بنیادی حصہ اور صوبائی حکومت کی ا ولین ترجیحات میں شامل ہے ، انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے شعبہ صحت کے بجٹ میں 2013 سے خاطر خواہ اضافہ کیا ہے ، صحت کا بجٹ 2013 میں 30.3 ارب روپے سے بڑھ کر تقریباً 275 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے جبکہ خیبرپختونخوا حکومت نے رواں مالی سال کے لیے صحت کے شعبے کے لئے 274 ارب روپے مختص کیے ہیں،انھوں نے صحت کارڈ پروگرام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کے فلیگ شپ منصوبے صحت سہولت پروگرام اب صوبے کی پوری آبادی کا احاطہ کر چکا ہے،جنوری سے نومبر 2025 تک 10 لاکھ 85 ہزار سے زائد مریضوں کا مفت علاج کیا گیا جس پر مجموعی طور پر 31.6 ارب روپے خرچ ہوئے ،64 فیصد مریضوں کا علاج سرکاری جبکہ31 فیصد کا نجی ہسپتالوں میں کیا گیاہسپتالوں میں علاج کا مذکورہ ڈیٹا سرکاری ہسپتالوں پر عوام کے اعتماد کا واضح ثبوت ہے، شفیع جان نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کو مہنگے اور پیچیدہ علاج کی سہولیات بھی فراہم کر رہی ہیں،اب تک 35 جگر کے مریضوں کے جگر کی پیوند کاری کی گئی ہے جس پر19 کروڑ روپے خرچ ہوئے،117 مریضوں کے گردوں کی پیوند کاری پر 19.4 کروڑ روپے،جبکہ 175 مریضوں کے کو کلئیر امپلانٹس بھی کئے گئے جس پر 44 کروڑ روپے خرچ ہوئے ، شفیع جان نے مزید بتایا کہ خیبرپختونخوا حکومت ملک بھر میں یونیورسل ہیلتھ کوریج انڈیکس میں سب سے آگے ہیں، صوبائی حکومت نے اس سلسلے میں اسلام آباد کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے، نیشنل ہیلتھ سروسز اسلام آباد کی جانب سے مرتب یونیورسل ہیلتھ کوریج انڈیکس کے مطابق خیبرپختونخوا میں اس ضمن میں نمایاں بہتری حاصل ہوئی، یونیورسل ہیلتھ کوریج انڈیکس بڑھ کر 53.5 ہو چکا ہے، جبکہ 2024 میں 4.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، شفیع جان نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کو زچگی اور ہنگامی طبی سہولیات مقامی سطح پر فراہم کرنے کے لیے 200 بی ایچ یوز اور 50 آر ایچ سیز کو بی ای ایم او این سی مراکز میں تبدیل کر رہے ہیں، اسی طرح 89 سیلاب سے متاثرہ صحت مراکز کی بحالی پر بھی کام جاری ہے، ہیلتھ اسٹاف کے حوالے سے بات کرتے ہوئے معاون خصوصی نے کہا کہ ہیلتھ اسٹاف کی کمی پوری کرنے کے لئے اب تک 432 ڈاکٹروں اور اسپیشلسٹس کو بھرتی کیا گیا ہےجبکہ اس سلسلے میں 1,425 میڈیکل آفیسرز، 250 ڈینٹل سرجنزاور 764 نرسز کی بھرتیوں کا عمل جاری ہے، مجموعی طور پر صحت کے شعبے میں 22 ہزار سے زائد نئی آسامیاں پیدا کی گئی ہیں، جبکہ میڈیکل آفیسرز کی تعداد 2,520 سے بڑھ کر 6,531 ہو گئی ہے، شفیع جان نے کہا کہ گڈ گورننس کے لیے ہم نے 48 اہم اقدامات پر مشتمل روڈ میپ تیار کیا ہے، جن میں سے 141 ذیلی اقدامات مکمل کیے جا چکے ہیں، محکمہ صحت نے 91 ہزار سے زائد ملازمین کا ڈیجیٹل ریکارڈ تیار کیا ، ای فائلنگ، بائیومیٹرک حاضری اور میڈیسن آرڈرنگ پورٹل جیسے جدید نظام متعارف کرائے گئے ہیں، انھوں نے صوبائی حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ صحت کے نظام کو مزید بہتر، شفاف اور عوام دوست بنائیں گے تاکہ ہر شہری کو معیاری اور بروقت علاج میسر ہو
