Home Blog Page 150

خاندانی منصوبہ بندی کے ا صولوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ معاون خصوصی برائے بہبود آبادی ملک لیاقت خان

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے بہبود آبادی، ملک لیاقت خان نے خاندانی منصوبہ بندی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اپنی ایک پیغام میں عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ خاندانی منصوبہ بندی پر عملدرآمد کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں، بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفہ رکھیں اور صوبہ بھر میں قائم بہبود آبادی مراکز سے بھرپور استفادہ حاصل کریں۔ملک لیاقت خان نے کہا کہ خاندانی منصوبہ بندی نہ صرف ایک صحت مند معاشرے کے قیام کے لیے ضروری ہے بلکہ اس سے ماں اور بچے کی صحت کو بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا عوام کی سہولت کے لیے بہبود آبادی کے مراکز میں مفت اور معیاری سہولیات فراہم کر رہی ہے، اور شہریوں کو چاہیے کہ وہ ان سہولیات سے فائدہ اٹھا کر اپنی زندگیوں کو بہتر بنائیں۔معاون خصوصی نے مزید کہا کہ ایک مستحکم اور خوشحال معاشرہ اس وقت ہی ممکن ہے جب ہر خاندان اپنے وسائل کے مطابق بچوں کی پرورش کرے۔ انہوں نے علما، اساتذہ، اور سول سوسائٹی سے بھی اپیل کی کہ وہ عوامی آگاہی میں حکومت کا ساتھ دیں تاکہ خاندانی منصوبہ بندی کے پیغام کو گھر گھر تک پہنچایا جا سکے۔

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیو اسٹاک، فشریز و کوآپریٹیو، فضل حکیم خان کی زیر صدارت محکمہ

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیو اسٹاک، فشریز و کوآپریٹیو، فضل حکیم خان کی زیر صدارت محکمہ فشریز سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ایڈیشنل سیکرٹری نیاز محمد خان، ڈائریکٹر جنرل فشریز محمد ارشد عزیز، ڈائریکٹر زبیر علی سمیت دیگر متعلقہ افسران شریک ہوئے۔ اجلاس میں صوبائی وزیر کو فشریز کے موجودہ امور، بریڈنگ سیزن، فشنگ پر پابندی اور محکمہ کی مجموعی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی اور کہا گیا کہ 70لاکھ روپے سے زائد کی چھوٹی مچھلیوں کو 40 ڈیموں کے ساتھ دریاوں میں چھوڑ دیا گیا ہے تاکہ ان کی افزائش نسل ہو سکے۔ صوبائی وزیر فضل حکیم خان نے بریڈنگ سیزن کے دوران فشنگ پر مکمل پابندی کا عندیہ دیتے ہوئے ہدایت کی کہ اس دوران کسی بھی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے۔ ڈائریکٹر جنرل فشریز کے مطابق گرم پانی والے علاقوں میں جون تا اگست، جبکہ ٹراؤٹ فش کے لئے ستمبر تا مارچ بریڈنگ سیزن تصور کیا جاتا ہے۔ ان مہینوں میں جال کے ذریعے فشنگ پر مکمل پابندی عائد ہے جبکہ ہک کے استعمال کی قانون کے مطابق محدود اجازت ہوتی ہے۔ ٹراؤٹ فشنگ کے لیے 500 روپے میں پرمٹ جاری کئے جاتے ہیں جس کے ذریعے پانچ مچھلیاں پکڑی جا سکتی ہیں، اس سے زائد پر دوبارہ پرمٹ درکار ہوتا ہے صوبائی وزیر نے تمام اہلکاروں کو فیلڈ میں متحرک رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ غیر حاضر یا کام میں غفلت برتنے والے اہلکاروں کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے ڈی جی فشریز کو 15 جولائی تک خلاف ورزیوں اور اس پر دی جانے والی سزاؤں کی مکمل رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ صوبائی وزیر نے فشریز اہلکاروں کے لیے یونیفارم کی سمری تیار کرنے، دریاؤں میں مائننگ کے لیے فشریز ڈیپارٹمنٹ سے این او سی لازمی قرار دینے، اور پلوشن کے انسداد کے لیے ٹی ایم ایز کو واضح ہدایات جاری کرنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دریاؤں میں گندگی پھینکنے اور ہائیڈرو پاور پراجیکٹس سے ماحولیاتی نظام اور آبی حیات شدید متاثر ہوتی ہے۔ صوبائی وزیر فضل حکیم خان نے فشریز سے متعلقہ قانون سازی پر بھی توجہ دیتے ہوئے ہدایت کی کہ ایک نیا ایکٹ تیار کر کے کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ موجودہ قوانین، جن میں 1977 کا ایکٹ شامل ہے، کو موجودہ حالات کے مطابق جدید بنایا جا سکے۔

مینا خان آفریدی نے ایک اور وعدہ نبھایا، طلبہ کے لیے اعلیٰ کوالٹی انٹرنشپ کا راستہ ہموار کر لیا

خیبرپختونخوا میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ایک تاریخی پیشرفت کے تحت محکمہ اعلیٰ تعلیم نے سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز، کوڈ فار پاکستان اور انڈسٹریز ایسوسی ایشن پشاور کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کر دئیے۔ اس موقع پر ایک باوقار مگر سادہ تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں وزیر برائے اعلیٰ تعلیم، آرکائیوز و لائبریریز، مینا خان آفریدی، سیکرٹری اعلی تعلیم اور متعلقہ تنظیموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔صوبائی وزیر مینا خان نے تقریب سے اپنی خطاب میں کہا کہ آج ہم نے انڈسٹری اور اکیڈیمیا کے درمیان خلیج پر کرنے کی جانب پہلا مؤثر اور ٹھوس قدم اٹھایا ہے، جس سے خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کو عملی دنیا کے تقاضوں کے مطابق تیار کیا جا سکے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت خیبرپختونخوا میں 30 مختلف بی ایس پروگرامز میں 1,20,000 طلبہ انرولڈ ہیں، جنہیں نہ صرف معیاری تعلیم دی جا رہی ہے بلکہ انہیں عملی مہارتوں سے بھی آراستہ کیا جا رہا ہے۔مینا خان آفریدی نے واضح کیا کہ نئی ہائیر ایجوکیشن پالیسی کے مطابق ہر طالبعلم کے لیے لازمی ہے کہ وہ انٹرن شپ کے تین کریڈٹ آورز مکمل کرے، تاکہ وہ گریجویشن کے بعد محض ایک سند یافتہ فرد نہ ہو بلکہ ایک ہنرمند اور قابلِ روزگار شہری بن کر مارکیٹ میں جائے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہم خیبرپختونخوا میں فرسٹ ایئر اور سیکنڈ ایئر کی طالبات کو مکمل مفت تعلیم فراہم کر رہے ہیں تاکہ معاشرتی ترقی میں خواتین کا کردار بھی مؤثر انداز میں بڑھایا جا سکے۔وزیر موصوف نے اپنے خطاب میں نوجوانوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں ضروری ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو صرف ڈگری نہیں بلکہ ہنر کا زیور بھی پہنائیں تاکہ وہ عالمی مارکیٹ میں مسابقت کر سکیں۔مینا خان آفریدی نے کہا کہ مذکورہ مفاہمتی یادداشت، اس وژن کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت حکومت خیبرپختونخوا ایک باصلاحیت، ہنر مند اور باشعور افرادی قوت تیار کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اس اشتراک سے نہ صرف تعلیم اور صنعت کے درمیان تعلق مضبوط ہوگا بلکہ طلبہ کو ملازمتوں اور کاروباری مواقع تک براہِ راست رسائی حاصل ہوگی۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے اینٹی کرپشن مصدّق عباسی نے کہا ہے کہ سابق صوبائی وزیر

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے اینٹی کرپشن مصدّق عباسی نے کہا ہے کہ سابق صوبائی وزیر تیمور سلیم جھگڑا نے عدالت کے ذریعے اینٹی کرپشن خیبرپختونخوا سے اپنے خلاف مقدمہ یا شکایت کی تفصیلات طلب کیں۔ اینٹی کرپشن خیبرپختونخوا نے عدالت میں شہریوں کی جانب سے جمع کرائی گئی دو شکایات کی تفصیلات پیش کر دی ہیں۔ مصدّق عباسی نے زور دیا کہ قانون کے مطابق اینٹی کرپشن خیبرپختونخوا کسی بھی شہری کی شکایت قبول کرنے سے انکار نہیں کر سکتا، ورنہ اسے عدالتی نتائج کا سامنا ہو سکتا ہے۔ مشیر وزیراعلیٰ نے بتایا کہ محکمہ انسدادِ بدعنوانی نے اب تک ان شکایات پر کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان شکایات کی باقاعدہ تصدیق کی جائے گی اور میرٹ کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا شکایت کو مزید آگے بڑھانا ہے یا مسترد کرنا ہے۔ انہوں نے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ اس سے قبل اینٹی کرپشن خیبرپختونخوا نے سابقہ صوبائی وزیر تیمور سلیم جھگڑا کے خلاف میرٹ پر تین مقدمات ختم کیے تھے۔ عباسی نے کہا کہ تیمور سلیم جھگڑا کی خیبر پختونخوا میں اپنی حکومت ہے وہ آزادی سے کوئی بھی سوال پوچھ سکتے ہیں نہ کہ اسے سوشل میڈیا پر جاری کریں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ تیمور سلیم جھگڑا کو چاہیے کہ معاملات کو پارٹی کے اندر مختلف فورم پر زیر بحث لائیں نا کہ سوشل میڈیا پر –

سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کا عالمی یومِ پارلیمانی نظام کے موقع پر پیغام

سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے عالمی یومِ پارلیمانی نظام کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پارلیمان کسی بھی جمہوری ریاست کا بنیادی ستون ہے، جو عوامی اُمنگوں کی ترجمانی، قانون سازی، احتساب اور شفاف طرزِ حکمرانی کا ضامن ہوتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی نے ہمیشہ اس عزم کے ساتھ کام کیا ہے کہ پارلیمانی نظام کو صرف ایوانوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ عام شہری، خصوصاً نوجوان نسل، کو اس نظام سے جوڑا جائے۔ اسی مقصد کے لیے اسمبلی میں باقاعدہ طور پر طلبہ کے مطالعاتی دورے کروائے جاتے ہیں، جن میں انہیں پارلیمانی کارروائی کا براہِ راست مشاہدہ، معلوماتی لیکچرز اور ارکان اسمبلی سے گفتگو کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں، تاکہ نوجوانوں میں آئینی شعور اور جمہوری سوچ پروان چڑھے۔اسپیکر نے کہا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی نے پارلیمانی شفافیت کو فروغ دینے کے لیے کئی اقدامات اٹھائے ہیں۔ قائمہ کمیٹیوں کی کارروائیاں کے اہم نکات، سفارشات اور کارروائی کو ویڈیو پیکجز اور پریس ریلیز کے ذریعے عوام تک پہنچایا جاتا ہے، تاکہ شہری باخبر رہیں کہ ان کے مسائل پر ایوان سے باہر بھی سنجیدہ گفتگو جاری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ابھی حال ہی میں ہم نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی کارروائیوں کو براہِ راست نشر کیا، جو کہ صوبے میں مالی احتساب کے عمل کو عوام کے سامنے لانے کی ایک اہم کاوش ہے۔ اسی طرح اسمبلی سیشنز کی کارروائی بھی براہِ راست نشر کی جاتی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ عوام قانون سازی کے عمل سے براہِ راست جڑ سکیں۔یہ تمام اقدامات اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقیاتی ہدف (SDG 16.7) کے مطابق ہیں، جس میں شفاف، شراکتی اور نمائندہ طرزِ حکمرانی کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے۔بابر سلیم سواتی نے اپنی پیغام کے اختتام میں کہا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی جمہوریت کے فروغ، عوامی شمولیت اور پارلیمانی شفافیت کے لیے اپنی تمام تر کوششیں جاری رکھے گی، تاکہ پارلیمان صرف قانون سازی کا ادارہ نہ رہے، بلکہ ایک زندہ، فعال اور عوامی ادارہ بن کر سامنے آئے۔

قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس ایم ٹی آئی نوشہرہ کی انتظامیہ کو المروان ویلفیئر فاؤنڈیشن

اضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس ایم ٹی آئی نوشہرہ کی انتظامیہ کو المروان ویلفیئر فاؤنڈیشن کی جانب سے 10 ویل چیئرز بطور عطیہ کی گئیں۔المروان ویلفیئر فاؤنڈیشن کے وفد کی سربرائی میں ہسپتال ڈائریکٹر ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر کامران حکیم خان کو ہسپتال کے لیے ویل چیئرز عطیہ کی گئیں۔ہسپتال ڈائریکٹر ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر کامران حکیم خان نے المروان ویلفیئر فاؤنڈیشن کے ایثار کو شاندار الفاظ میں سراہا۔اس موقع پر قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس ایم ٹی آئی نوشہرہ کے میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر سردار سہیل افسر اور ایڈمنسٹریشن عملہ بھی موجود تھا۔

محکمہ ہاؤسنگ کے حکام ضروری اقدامات میں تیزی لاتے ہوئے جاری منصوبوں کو بروقت مکمل کریں۔کام کے معیارکا جائزہ لینے کے لئے دورے کریں گے۔ڈاکٹر امجد علی

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے محکمہ ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی نے کہا ہے کہ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کی مد میں 88 ہزار سرکاری ملازمین سے درخواستوں کی موصولی خوش آیند ہے،جانج پڑتال کے بعد معیاری درخواست گزاروں کو مختلف ہاوسنگ سکیموں میں پلاٹس دئیے جائینگے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز محکمہ ہاوسنگ کی زیر نگرانی جاری منصوبوں کی موجودہ صورتحال اور درکار اقدامات سے متعلق سول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقدہ اجلاس کی صدرات کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل پی ایچ اے،ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل پی ایچ اے اور ڈائریکٹر ایڈمن کے بشمول دیگر متعلقہ افسران بھی شریک تھے۔ اجلاس میں سی پیک سٹی نوشہرہ, رحمان بابا کمپلیکس, احساس اپنا گھر منصوبہ, ورسک ٹو ہاوسنگ سکیم, جلوزئی, جرما ہاسنگ سکیم کوہاٹ, سول کوارٹر پشاور, پشاور ویلی اور میگا سٹی نوشہرہ جبکہ باجوڑ میں شراکت داری فارمولا کے تحت 3 ہزار کنال پر مشتمل ہاوسنگ سکیم سے متعلق بھی غور و خوض کیا گیا۔ ڈاکٹر امجد علی نے محکمہ ہاؤسنگ کے حکام کو درکار اقدامات میں تیزی لانے کے لئے ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے کہا کہ جاری منصوبوں پر کام کا خود جائزہ لینے کیلے وہاں کے دورے کرے گے۔ ڈاکٹر امجد علی کا کہنا تھا کہ معیار و مقدار پر سمجھوتا نہیں کیا جائیگا جبکہ غفلت برتنے والوں کے خلاف کاروائی کریں گے۔

مخالفین تحریک انصاف کو توڑ نہیں سکتے، ظاہر شاہ طورو

عمران خان کے بغیر کوئی مائی کا لعل خیبرپختونخوا حکومت کو گرا نہیں سکتا،صوبائی وزیر خوراک

وزیر خوراک خیبرپختونخوا ظاہر شاہ طورو نے مخصوص نشستوں کے حالیہ فیصلے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے ثمرات اب فارم 47 والوں کی جھولی میں گرنے لگے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مخصوص نشستوں کے ذریعے مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کو نوازنا عوامی مینڈیٹ یعنی فارم 45 کے اصل نمائندوں پر کھلا ڈاکہ ہے۔ظاہر شاہ طورو نے کہا کہ پسِ پردہ خاموش کھلاڑی ایک مرتبہ پھر فارم 47 کی بنائی گئی حکومت کو مضبوط بنانے اور مخصوص نشستوں کے ذریعے قومی اسمبلی میں اپنی مرضی کے اراکین لا کر 27ویں آئینی ترمیم کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ یہ عمل جمہوریت کو روزانہ کی بنیاد پر تختہ دار پر لٹکانے کے مترادف ہے، اور ایسے فیصلے تاریخ کے سیاہ اوراق میں درج کیے جائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے خلاف سازشوں کا ایک نیا باب کھول دیا گیا ہے، مگر ہم ان سازشوں کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ چاہے مخالفین کتنی ہی کوششیں کر لیں، وہ تحریک انصاف کو توڑ نہیں سکتے۔ظاہر شاہ طورو نے خبردار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کے پیٹرن ان چیف عمران خان جب چاہیں گے، خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت نہیں رہے گی۔ انہوں نے دوٹوک کہا کہ عمران خان کے بغیر کوئی مائی کا لعل خیبرپختونخوا حکومت کو گرا نہیں سکتا

خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال نے خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر

خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال نے خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی طرف سے کی جانے والی پریس کانفرنس پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر ایسی جنگ لڑنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کو وہ اپنی زندگی میں نہیں جیت سکتے۔ اگر اپوزیشن لیڈر اپنے بھائی کی کارکردگی پر غور کریں تو پتہ چلے گا کہ اصل ایف آئی آر ان کے خلاف ہونی چاہیے۔سوات وقعہ پر وفاقی حکومت کے کردار کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وفاق کا کام صرف اطلاع دینا نہیں بلکہ ایسے حالات میں ضروری اقدامات اٹھانا وفاق اور ریاست کی بھی ذمہ داری بنتی ہے۔ انہوں نے اپوزیشن لیڈر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ذہن میں اسلام آباد صرف عیش و عشرت کے لیے جایا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے اپنے بھائی اور قائدین کی حرکتیں دیکھ کر ہی دوسروں کے بارے میں رائے قائم کی ہوئی ہے۔ سیلاب کے دوران ہیلی کاپٹر کی فراہمی معاملے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ترجمان صوبائی حکومت پہلے ہی اس کی وضاحت دے چکی لیکن اگر اپوزیشن لیڈرنے پشاور سے ہیلی کاپٹر کی ٹائمنگ نوٹ کی ہے تو اسلام آباد کی ٹائمنگ بھی بتا دیتے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ ہمارے قائد ناکردہ گناہوں کی وجہ سے جیل میں ہیں، جبکہ آپ کے قائد عیاشی والی جیل سے پلیٹلیٹس گرا کر پچاس روپے کے سٹامپ پیپر پر لندن بھاگ گئے تھے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کو وزیراعلیٰ بننے کا سوچنا بھی نہیں چاہیے کیونکہ تحریک انصاف کے پارلیمنٹیرین چٹان کی طرح وزیراعلیٰ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ صوبائی حکومت کے لئے اپوزیشن لیڈر کی جانب سے نا مناسب الفاظ استعمال کرنے پر سجاد بارکوال کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے ان کی اپنی تربیت کی صحیح عکاسی ہوئی ہے اور صوبے کے عوامی مینڈیٹ کی انہوں نے توہین کی ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ عوام نے اسی بنا پر اپوزیشن لیڈر کی سیاسی ناپختگی کو جانچ کر پارلیمان سے باہر پھینکا ہے۔ البتہ انہوں نے فارم 47 کا سہارا ضرور لیا ہے۔ عوام نے قائد عمران خان پر تیسری مرتبہ اعتماد ہی اس لیے کیا ہے کہ وہ قوم کی صحیح معنوں میں قیادت کر رہے ہیں۔

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت گورننس امور پر جائزہ اجلاس

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت گورننس امور پر جائزہ اجلاس

چیف سیکر ٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت گورننس امور پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں سیلابی صورتحال سمیت کسی بھی ایمرجنسی پیش آنیکی صورت میں ریسپانس ٹائم تیز تر بنانے کے حوالے سے اہم فیصلے کئے گئے۔ اس موقع پرچیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ بارشوں اور سیلاب کی جگہوں پر رسپانس ٹائم تیز تر بنانے کے لئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ حکومت خیبرپختونخوا ڈرونز جیسے جدید آلات لینے پر کام کررہی ہے جن سے لائف جیکٹس اور دیگر ضروری اشیاء ایمرجنسی میں پھنسے افرادکو پہنچائی جاسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی تجاوزات کے خلاف آپریشن اورپانی کے بہاؤ کے راستے سے تجاوزات ہٹانے کے لیے کاروائیاں جاری رکھی جائیں گی اورغیر قانونی تعمیرات کی دوبارہ تعمیر روکنے کے لئے دریاؤں کے اطراف ڈی مارکیشن بھی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو اہلکاروں کی آپریشنل صلاحیت بہتر بنانے کے لیے ماک ڈرلز جاری رکھی جائیں گی، ایسے علاقے جہاں سیلاب کا خطرہ ہے وہاں حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جارہے ہیں۔ ارلی وارننگ سسٹم پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ لوکل کمیونٹی کو ایمرجنسی ریسپانس کے لئے تیار کرنے اور اسے ٹریننگ سے آراستہ کرنے پر بھی کام کیا جارہا ہے تاکہ ایمرجنسی میں جلد ریسپانس دیا جاسکے۔ ریسپانس کے لئے متعلقہ محکموں کاموقع پر موجود ہونا ضروری ہے اس لئے تمام متعلقہ محکمے ہاٹ سپاٹس پر موجودگی یقینی بنائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریسکیو 1122 میں میرٹ پر بھرتیاں یقینی بنائی جائیں گی۔ اس حوالے سے کوئی بھی کوتاہی نہیں برتی جائے گی جبکہ ندی نالوں کی صفائی کا کام بھی جاری رکھا جائے گا۔ چیف سیکرٹری نے مزید کہا کہ تمام کمشنرز باقاعدگی سے فلڈ ریسپانس پلان کا جائزہ لیں گے۔ دریاؤں کے اطراف دفعہ 144 کا اطلاق یقینی بنایا جائے گا۔ عوامی آگاہی مہم کے تحت عوام کو دریاؤں کے قریب جانے سے روکنے کے لئے بھی کام جاری ہے۔ سیاحتی مقامات پر تمام ہوٹلوں کو پابند کیا جارہا ہے کہ وہ اپنے پاس کشتیاں، رسیاں، لائف جیکٹس جیسے آلات کی دستیابی یقینی بنائیں تاکہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں تیز ریسپانس دیا جاسکے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ محکمہ سیاحت خیبرپختونخوا سیاحوں کو ٹریول ایڈوائزری باقاعدگی سے جاری کرے۔دریاؤں کے اطراف لینڈ یوز اینڈ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے بغیر کسی بھی تعمیرات کیلئے این او سی جاری نہ کی جائے۔ لینڈ یوز اینڈ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد این او سی دے گی۔ ریور بیڈز پر تمام این او سیز کا ازسر نو جائزہ لیا جارہا ہے اور غلط این او سی دینے والوں کیخلاف کاروائی کی جائے گی۔ اجلاس میں ایم ڈی آئی ٹی بورڈ کی جانب سے ‘ریلیف pulse’ کے نام سے موبائل ایپ وارننگ سسٹم کے نظام کو ڈیجیٹائز کرنے پر بھی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ایریگیشن کے 147 گیجز کو ڈیش بورڈ پر لایا جارہا ہے، ہائی رسک جگہوں کے ہوٹلوں کی میپنگ کرنے سمیت سوشل میڈیا کو الرٹ میسجز کے لیے فعال طور پر استعمال کیا جائے گا جبکہ سیلاب کی مانیٹرنگ کیلئے ڈیش بورڈ بھی بنایا جارہا ہے اورایس ایم ایس کے ذریعے عوام کو ان علاقوں میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے آگاہ رکھا جائے گا۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریلیف کا دفتر کسی بھی ایمرجنسی صورتحال میں فرسٹ ریسپانس کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ اجلاس کو پرائس کنٹرول اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی اوراشیائے خوردونوش کی قیمتوں کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا۔اجلاس کوبتایا گیا کہ حکومت خیبرپختونخوا نے سیاحتی علاقوں میں ماحولیاتی تحفظ اور صفائی کی غرض سے مہم کا آغاز کیا تھا جس کے تحت سیاحتی مقامات پر 27 مئی سے اب تک 393 ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس میں سے 224 نے اپنے سیوریج اور نکاسی آب کا نظام درست کیا ہے جبکہ دیگر پر کاروائی جاری ہے۔ اجلاس کو سالانہ ترقیاتی پروگرام، پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی، لینڈ یوز اینڈ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور پروکیورمنٹ اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔۔