Home Blog Page 156

سیاحت اور ثقافت کے شعبے میں انقلابی ترقیاتی منصوبے شروع کئے جا رہے ہیں: مشیرسیاحت و ثقافت زاہد چن زیب

سیاحت اور ثقافت کے شعبے میں انقلابی ترقیاتی منصوبے شروع کئے جا رہے ہیں: مشیرسیاحت و ثقافت زاہد چن زیب
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے سیاحت و ثقافت، زاہد چن زیب کی قیادت میں سیاحت اور ثقافت کے شعبے میں نمایاں ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں ان منصوبوں کے لیے کثیر فنڈز مختص کیے گئے ہیں، جس پرزاہد چن زیب نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے سیاحت اور ثقافت کے فروغ کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے 120 ملین روپے کی لاگت سے کمیونٹی سرگرمیاں شروع کی جائیں گی، جبکہ صوبے کے قیمتی ثقافتی ورثے کے تحفظ اور اسے عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے نشتر ہال کے بنیادی ڈھانچے پر 75 ملین روپے خرچ کیے جائیں گے۔ سیاحوں کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کے لیے متعدد منصوبے شروع کیے گئے ہیں جن میں ڈیم سائٹس پر تفریحی سہولیات کی فراہمی کے لیے 250 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں سے تین ڈیمز پر جلد ہی کام کا آغاز ہو جائے گا۔ سیاحوں کی سہولت کے لیے 9 مقامات پر خدمات کی فراہمی کے لیے 450 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ صوبے کی خوبصورتی کو اجاگر کرنے کے لیے 6 آبشاروں کے قریب بیٹھنے کی جگہوں، واش رومز اور ٹک شاپس کی تعمیر کے لیے 300 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ مختلف اضلاع میں پکنک سپاٹ منصوبوں کے لیے 288 ملین روپے رکھے گئے ہیں، جبکہ مشاورت، فزیبلٹی اور ماسٹر پلاننگ کے لیے 400 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔کاغان، ناران، کالام اور ٹھنڈیانی جیسے معروف سیاحتی مقامات پر واش رومز اور پبلک سینیٹیشن انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے 100 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ ایکو ٹورازم کو فروغ دینے اور سیاحتی مقامات پر کوڑا کرکٹ کے انتظام کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) کے تحت 500 ملین روپے کا منصوبہ شروع کیا جائے گا۔ ٹھنڈیانی میں سیاحتی ترقی کے حوالے سے نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، جہاں 30 مئی 2025 کو اظہار دلچسپی (EOI) کا آغاز ہوا تھا اور اب RFP جاری کیے جا چکے ہیں۔ امید ہے کہ ستمبر تک ایک سرمایہ کار وہاں ایک ITG (Integrated Tourism Zone) تیار کرے گا۔ گنول میں بھی کام جاری ہے۔ PPP کے تحت ہنڈ صوابی میں ایک پارک، گبین جبہ ناران میں کیمپنگ ولیج، اور خیشگی میں واٹر پارک کی تعمیر تجویز کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، کاغان میں ایڈونچر پارک، چارسدہ میں سردریاب کے قریب ایک ریزورٹ، اور پشاور میں مامو خٹکے کے مقام پر ایک تھیم پارک بنانے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔حکومت ضم شدہ اضلاع کی ترقی کے لیے بھی پرعزم ہے۔ ان اضلاع میں آثار قدیمہ کے مقامات کے تحفظ کے لیے 150 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ سیاحت کے شعبے میں نئے ریزورٹس کے لیے بھی فنڈز رکھے گئے ہیں، اور ضم اضلاع میں ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے 100 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ان اضلاع میں جلد ہی کیمپنگ پوڈز بھی نصب کیے جائیں گے۔ ضم شدہ اضلاع کے لوگوں کو سیاحت کے شعبے میں شامل کرنے کے لیے فیسٹیولز کا انعقاد کیا جائے گا، جس کے لیے 426 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ مزید برآں، UNDP کے ذریعے ضم اضلاع میں کیمپنگ پوڈز نصب کیے جائیں گے، جس کے لیے 1.5 بلین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ان تمام منصوبوں کا مقصد خیبر پختونخوا میں سیاحت اور ثقافت کو فروغ دینا، مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور صوبے کو ایک پرکشش اور مستحکم سیاحتی مقام بنانا ہے۔

خیبر پختونخوا کا بجٹ 2025-26 عوام دوست اور سرپلس ہے: سید قاسم علی شاہ

خیبر پختونخوا کا بجٹ 2025-26 عوام دوست اور سرپلس ہے: سید قاسم علی شاہ
خیبر پختونخوا کے وزیر سماجی بہبود، عشر و زکوٰۃ اور خصوصی تعلیم، سید قاسم علی شاہ نے صوبائی بجٹ 2025-26 کو عوام دوست اور سرپلس قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس بجٹ میں عام آدمی کو سہولیات کی فراہمی کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک متوازن اور ترقیاتی بجٹ ہے جس میں تمام شعبہ جات کی بہتری کے لیے جامع اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جاری ہونے والے ایک بیان میں کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ زکوٰۃ، عشر، سماجی بہبود اور خصوصی تعلیم کے لیے مختص بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ گذشتہ سال اس مد میں 8 ارب روپے رکھے گئے تھے جبکہ رواں سال اس میں 135 فیصد اضافہ کرتے ہوئے 19.11 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔خصوصی بچوں کے لیے بھی حکومت نے بڑے منصوبے ترتیب دیے ہیں۔ ایک اہم منصوبے کے تحت 1.2 ارب روپے کی لاگت سے ڈویژن سطح پر آٹزم سے متاثرہ بچوں کے لیے مراکز قائم کیے جائیں گے۔ اسی طرح بے سہارا اور نادار بچوں کی نگہداشت و تربیت کے لیے ادارہ ”زمونگ کور” کے پانچ نئے کیمپس قائم کیے جا رہے ہیں، جن کے لیے 600 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔علاوہ ازیں شمالی وزیرستان اور باجوڑ کے علاقوں میں مستحق اور بے سہارا افراد کو عارضی رہائش کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے پناہ گاہوں کے قیام کا منصوبہ بھی بجٹ میں شامل کیا گیا ہے۔صوبائی وزیرنے کہا کہ یہ تمام اقدامات صوبے کے عوام کی فلاح و بہبود اور محروم طبقات کی بحالی کے لیے حکومت کے عزم کا مظہر ہیں۔

بیرسٹر ڈاکٹر سیف کا وفاقی وزیر عطا تارڑ کے بیان پر ردعمل

بیرسٹر ڈاکٹر سیف کا وفاقی وزیر عطا تارڑ کے بیان پر ردعمل

پشاور: وفاقی وزیر عطا تارڑ تعصب کی عینک اتار کر پنجاب اور خیبر پختونخوا میں تعلیم اور صحت کے شعبوں کا  موازنے کے بعد اُنہیں شرمندگی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا،  تعلیم اور صحت خیبر پختونخوا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں، عمران خان کے وژن کے مطابق وزیراعلی علی امین گنڈاپور صحت اور تعلیم پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں،  صحت کارڈ پلس کے تحت صوبے کے 44 لاکھ شہریوں کو مفت طبی سہولیات فراہم کی گئی ہیں،  گردے، جگر، بون میرو اور کوکلئیر ٹرانسپلانٹ جیسے مہنگے اور جان لیوا علاج بھی صحت کارڈ میں شامل کیے گئے ہیں،  صحت کا بجٹ گزشتہ سال کے مقابلے میں 19 فیصد بڑھاکر 232 سے 276 ارب روپے کر دیا گیا ہے،  اسی طرح تعلیم کا بجٹ 11 فیصد بڑھاکر 327 سے 363 ارب روپے کر دیا گیا ہے، گزشتہ سال 16 ہزار اساتذہ بھرتی کیے گئے ہیں، اس سال اسکول سے باہر بچوں کی انرولمنٹ کے لیے 5 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے،  صوبے کی جامعات کا بجٹ بھی 3 ارب روپے سے بڑھا کر 10 ارب روپے کر دیا گیا ہے, بیرسٹر ڈاکٹرسیف

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا ایبٹ آباد میں دی میلینئم یونیورسل کالج کا افتتاح کیا۔

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ اعلیٰ معیاری تعلیم ہمیں ترقیافتہ اقوام کی صف میں کھڑا کرے گی، صوبہ میں معیاری تعلیم کی فراہمی میں نجی شعبہ اچھا حصہ ڈال رہا ہے اور صوبے کی نوجوان نسل کو معیاری تعلیم اور بہتر مستقبل دے رہے ہیں.  ان خیالات کا اظہار گورنر نے جمعرات کے روز دورہ ایبٹ آباد کے دوران دی میلینئم یونیورسل کالج ایبٹ آباد کیمپس کے افتتاحی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا. گورنر نے اس موقع پر دی میلینئم یونیورسل کالج ایبٹ آباد کا باقاعدہ افتتاح کیا. تقریب میں ایمبیسیڈر مسعود خان، ڈاکٹر طاہر عرفان وائس چانسلر ایبٹ آباد یونیورسٹی، بانی چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر فیصل مشتاق ، سابق صوبائی وزیر شجاع خانزادہ، ہیڈ اف پروگرام ثمن شمیم ، ڈین آمنہ سالک، طلبہ، والدین، وکلاء تنظیموں کے نمائندے اور سول سوسائٹی کے اراکین موجود تھے۔ تقریب میں سابق سفیر مسعود خان اور بانی چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر فیصل مشتاق نے گورنر فیصل کریم کنڈی کو میلینئم یونیورسل کالج کی ملک بھر میں تعلیمی خدمات سے متعلق آگاہ کیا. ایمبیسڈر مسعود خان اور ڈاکٹر فیصل مشتاق نے اپنے خطاب کرتے ہوئے گورنر کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایبٹ آباد کیمپس کے بعد رواں سال ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی روٹس سکول قائم کرینگے، پشاور میں ایک لاکھ مربع فٹ پر محیط نیا کیمپس قائم کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے تعلیم کے فروغ میں گورنر کے کردار کو سراہا اور کہا کہ آپ ایک مثالی گورنر ہیں ،نہ صرف وویمن امپاورمنٹ ، یوتھ انگیجمنٹ بلکہ صوبہ کا سافٹ امیج بلند کرنے میں بھی گورنر کا کردار مثالی رہا ہے.
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ آج علم اور ترقی کے نئے راستے کا آغاز ہوا ہے، دی میلینئم یونیورسل کالج ایبٹ آباد کے عوام کے لیے تحفہ ہے۔موجودہ دور میں بین الاقوامی تعلیم کی اہمیت پہلے سے بڑھ چکی ہے۔ گورنر نے کہا کہ اب طلبہ پاکستان میں رہ کر عالمی اداروں سے تعلیم حاصل کر سکتے ہیں، یہ ادارہ طلبہ کے لئے دنیا کے دورازے کھول دے گا، گورنر نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنی اقدار سے جڑے رہیں اور علم کی شمع روشن رکھیں۔نوجوان نسل ملک کے نظام کی باگ ڈور سنبھالنے کا سوچے، گورنر نے کہا کہ ایبٹ آباد شہر کاکول اکیڈمی اور تعلیمی اداروں کے لیے مشہور ہے۔ریڈ کریسنٹ کے تعاون سے ایبٹ آباد میں بھی فری ایمبولینس سروس شروع کریں گے، انہوں نے کہا کہ سوات میں بچے اور بچیوں کو ہاسپٹلیلٹی کی فری ٹریننگ دے رہے ہیں۔ پشاور میں فری ایمبولینس سروس شروع کی ہے۔گورنر خیبرپختونخوا نے نجی کالج میں طلبہ کے ساتھ ملاقات کی اور سنوکر بھی کھیلی۔

سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی کی زیر صدارت مجوزہ بجٹ 2025 پر مشاورتی اجلاس

خیبر پختونخوا اسمبلی سیکریٹریٹ میں آج مجوزہ بجٹ 2025 کے حوالے سے ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے کی۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے خزانہ مزمل اسلم، سکریٹری خزانہ، اراکینِ صوبائی اسمبلی اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کا بنیادی مقصد تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی قیمتی آراء اور تجاویز کو بجٹ سازی کے عمل میں شامل کرنا تھا تاکہ آئندہ مالی سال کا بجٹ عوام دوست، شفاف اور ترقیاتی ترجیحات پر مبنی ہو۔سپیکر بابر سلیم سواتی نے اس موقع پر زور دیا کہ بجٹ میں مالی نظم و ضبط، عوامی فلاح و بہبود اور واضح ترقیاتی اہداف کی عکاسی ہونی چاہیے۔ انہوں نے بجٹ سازی کے عمل میں اراکین اسمبلی کی شمولیت کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی مشاورت جمہوری اقدار کو فروغ دیتی ہے۔معاونِ خصوصی برائے خزانہ مزمل اسلم نے بجٹ کی تیاری میں شفافیت اور مشاورت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت ایک حقیقت پسند، عوامی ضروریات سے ہم آہنگ اور قابلِ عمل بجٹ پیش کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر فضل حکیم خان کی قیادت میں پُرامن احتجاج، عمران خان کی فوری رہائی کا مطالبہ

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان نے پارٹی قیادت اور دیگر پارلیمنٹیرینز کے ہمراہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر قائد عمران خان کی رہائی کے حق میں منعقدہ پُرامن احتجاج میں شرکت کی۔ احتجاج کے دوران شرکاء نے عمران خان، بشریٰ بی بی اور تمام بے گناہ گرفتار کارکنان کی فوری رہائی کے حق میں پُرعزم اور جوشیلے نعرے لگائے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر فضل حکیم خان نے کہا کہ ہم بحیثیت عوامی نمائندگان، سیاسی کارکنان اور جمہوریت پسند شہری پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان کی غیر قانونی اور غیر آئینی حراست کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ عمران خان نہ صرف کروڑوں پاکستانیوں کی امید کا مرکز ہیں بلکہ وہ اس ملک کی جمہوریت، آئین اور عوامی خودمختاری کی علامت بن چکے ہیں۔ ان کی گرفتاری سیاسی انتقام، بنیادی انسانی حقوق کی پامالی، اور انصاف کے اصولوں سے کھلی روگردانی ہے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ عمران خان کو فی الفور رہا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اس وقت پاکستان کے ہر طبقے کے دل کی آواز ہیں ان پر جھوٹے اور من گھڑت مقدمات کا مقصد صرف یہ ہے کہ انہیں عوام سے دور رکھا جائے اور پاکستان تحریک انصاف کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو روکا جائے۔ مگر ظلم کا ہر ہتھکنڈا ناکام ہوگا کیونکہ قوم جاگ چکی ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم عدلیہ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ انصاف پر مبنی فیصلے کرے اگر عمران خان کو مزید دبایا گیا تو ملک میں آئینی اور جمہوری بحران مزید شدت اختیار کرے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے اور عوامی رائے کا احترام کرنے والے ہر ادارے کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ انصاف، آئین اور عوام کی حکمرانی کے لیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔ صوبائی وزیر فضل حکیم خان نے حالیہ وفاقی بجٹ کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا، اسے عوام دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ وفاقی حکومت نے غریب عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈال کر ان کی زندگی مزید مشکل بنا دی ہے انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے اس طوفان میں عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے اور وفاقی حکومت کی پالیسیاں عوامی مفاد کے خلاف ہیں فضل حکیم خان نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان اور عوام عمران خان کی رہائی اور ملک میں حقیقی جمہوریت کے قیام کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار ہیں انہوں نے کہا کہ ہم عمران خان کے سپاہی ہیں اور ان کی ہر کال پر لبیک کہتے ہوئے ہر قربانی کے لیے تیار ہیں۔ احتجاج میں شریک دیگر رہنماؤں نے بھی عمران خان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ہم پُرامن احتجاج کے ذریعے اپنے قائد کی رہائی کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔

سنٹرل جیل اور اسماعیل خانی میں ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح، بنیادی سہولیات کی فراہمی کا اعلان

خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پختون یار خان نے ضلع بنوں کے دورے کے دوران سنٹرل جیل اور علاقے اسماعیل خانی میں ترقیاتی منصوبے کا افتتاح کیا اس موقع پر انہوں نے قیدیوں کیلئے بنیادی سہولیات کی فراہمی اور عوامی خدمت کے عزم کا اظہار کیا پختون یار خان نے سنٹرل جیل بنوں کا تفصیلی معائنہ کیا جہاں سپرنٹنڈنٹ جیل سمیع اللہ شنواری نے انہیں جیل کے انتظامی معاملات، سیکیورٹی، قیدیوں کی تعداد اور دستیاب سہولیات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی صوبائی وزیر نے مختلف بیرکوں کا جائزہ لیا اور صفائی، طبی سہولیات اور سیکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جیل میں قید افراد بھی ریاست کے شہری ہیں اور انہیں تمام بنیادی انسانی حقوق فراہم کئے جائیں گے انہوں نے اعلان کیا کہ جیل میں فری میڈیکل کیمپ، مفت ادویات، صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے جلد شروع کئے جائیں گے اس موقع پر انہوں نے گرفتار پارٹی کارکنوں سے بھی ملاقات کی ان کے مسائل سنے اور انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی انہوں نے جیل سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت کی کہ تمام سہولیات کی کمی سے متعلق باقاعدہ تجویز تیار کر کے فوری اقدامات کیلئے ہیڈ کوارٹر بھیجی جائے بعد ازاں صوبائی وزیر نے بنوں کے علاقے اسماعیل خانی میں تعمیر ہونے والے ترقیاتی منصوبے کا افتتاح کیا افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت عوامی مسائل کے حل اور علاقائی ترقی کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ضلع بنوں میں ترقیاتی منصوبے مربوط حکمت عملی کے تحت جاری ہیں تاکہ عوام کی خوشحالی یقینی بنائی جا سکے پختون یار خان نے یقین دلایا کہ کوئی بھی علاقہ ترقیاتی کاموں سے محروم نہیں رہے گا اور عوام کو سہولیات ان کی دہلیز تک پہنچائی جائیں گی۔ مقامی عمائدین اور عوام نے منصوبے کی تکمیل پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی وزیر کا شکریہ ادا کیا صوبائی وزیر کے اس دورے کو عوامی و اصلاحاتی اقدامات کی جانب ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

چیف سیکرٹری کی زیر صدارت توانائی اور سوشل ویلفیئر محکموں کے گڈ گورننس روڈ میپ پر جائزہ اجلاس

چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا، جس میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، انرجی اینڈ پاور، سوشل ویلفیئر اور ہائیر ایجوکیشن محکموں کے گڈ گورننس روڈ میپ پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں متعلقہ سیکرٹریز اور اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (پی ایچ ای) محکمے کے اہم گڈ گورننس اقدامات میں پانی کی فراہمی اور صفائی کے نظام کو ڈیجیٹائز کرنا، گرین انرجی اور ماحولیاتی لحاظ سے مؤثر انفراسٹرکچر کی طرف منتقلی شامل ہیں، جن میں واٹر سپلائی سکیموں کی سولرائزیشن، ایبٹ آباد، مانسہرہ اور اورکزئی میں پائلٹ بنیادوں پر بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے منصوبے، اور کوہاٹ، ہنگو اور ہری پور میں گراؤنڈ واٹر ری چارج کے منصوبے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ محکمے نے بیہیویئرل چینج کمیونیکیشن سٹریٹجی تیار کی ہے اور خیبر پختونخوا کے لیے پینے کے صاف پانی اور صفائی کی پالیسیوں پر کام جاری ہے۔ اب تک 11 فکسڈ اور 19 موبائل لیبارٹریز کے ذریعے 4,247 پانی کے معیار کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔محکمہ انرجی اینڈ پاور نے ہائیڈل منصوبوں پر عملدرآمد تیز کرنے کے لئے ایک جامع روڈ میپ پیش کیا، جس میں 300 میگا واٹ بالاکوٹ، 69 میگا واٹ لاوی اور 84 میگا واٹ مٹلتان جیسے منصوبوں کیلئے ایکشن پلان ترتیب دیا گیا ہے۔پختونخوا انرجی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (پیڈو) میں اصلاحات جاری ہیں تاکہ منصوبوں کی بروقت تکمیل اور سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔ محکمہ 300 سے زائد مکمل شدہ مائیکرو ہائیڈل منصوبوں کی مرمت و پائیداری کو یقینی بنانے، ایک لاکھ 30 ہزار مستحق گھروں کے لئے سبسڈائزڈ فنانسنگ پر سولر ہوم سسٹمز کی فراہمی، 40 ہزار سرکاری اداروں میں سولر سسٹمز کی تنصیب اور گرڈ انٹیگریشن کے نظام کو مضبوط بنانے پر کام کر رہا ہے۔محکمہ سوشل ویلفیئر نے غریب اور پسماندہ طبقات کے لئے مختلف فلاحی اقدامات پیش کئے جن میں احساس روزگار پروگرام کے تحت بلاسود قرضے، روشن مستقبل کارڈ کے ذریعے 9,000 یتیم بچوں کو ماہانہ وظیفہ، مختلف اضلاع میں 10 زمونگ کور اداروں کا قیام، پشاور میں بزرگ شہریوں کے لئے اولڈ ایج ہوم کا قیام، 10 دارالامان کی بہتری اور پانچ نئے دارالامان کی تعمیر شامل ہیں۔ محکمہ نے صنفی تشدد کے متاثرین کے لیے ”بولو ہیلپ لائن” کو مؤثر بنانے کے اقدامات گڈ گورننس روڈ میپ کا حصہ ہیں۔ مزید برآں، 15,000 بیواؤں کو سہارا کارڈ کے تحت ماہانہ وظائف، جبکہ جامعہ پشاور میں بصارت سے محروم افراد کے لیے بریل اکیڈمی کے قیام پر بھی کام جاری ہے۔محکمہ اعلیٰ تعلیم نے کالجوں کو اپ گریڈ کرنے، مارکیٹ سے ہم آہنگ تعلیمی پروگرام متعارف کرانے، اساتذہ کے لیے سٹیم سرٹیفیکیشن پروگرام، طلبہ کے لئے انٹرن شپ مواقع، داخلوں کے نظام کو ڈیجیٹائز کرنے، 50 فیصد جامعات میں کیریئر ڈیولپمنٹ سینٹرز قائم کرنے، بعض کالجوں کی آؤٹ سورسنگ اور یونیورسٹیوں میں تحقیقی و ترقیاتی نظام کو مضبوط بنانے پر مشتمل ایک جامع حکمت عملی پیش کی۔چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گڈ گورننس روڈ میپ کا مقصد عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے تمام محکموں پر زور دیا کہ وہ اس روڈ میپ پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنائیں تاکہ صوبے کے عوام اس کے ثمرات حاصل کر سکیں۔

خیبر پختونخوا کے زرعی شعبے میں انقلابی اقدامات، کسانوں کے مسائل کے فوری حل کی ہدایت

خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت میجر (ر) سجاد بارکوال نے محکمہ زراعت ڈیرہ اسماعیل خان کیدفتر دورے کے موقع پر تمام افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسانوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں اور ان کے ساتھ مکمل تعاون یقینی بنائیں۔صوبائی وزیر زراعت نے محکمہ زراعت توسیع ڈیرہ اسماعیل خان میں اجلاس کی صدارت کی، جہاں انہیں محکمے کے افسران کی جانب سے تفصیلی بریفنگ دی گئی اجلاس میں تحصیل مئیر عمر امین, ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک اپر اور لوئر وزیرستان کے زرعی محکمہ افسران بھی موجود تھے اس موقع پر انہوں نے کہا کہ محکمہ زراعت کا اصل مقصد کسانوں کی ہر ممکن مدد، زرعی پیداوار میں اضافہ اور فوڈ سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔وزیر زراعت نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈا پور کی قیادت میں زرعی شعبے میں انقلابی اقدامات کی منصوبہ بندی کی گئی ہے اور بجٹ میں زرعی شعبے کیلیے خطیر رقم مختص کی گئی ہے اس حوالے سے محکمہ زراعت کے افسران کے ساتھ مشاورت مکمل کی جا چکی ہے تاکہ ان اقدامات پر موثر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے زرعی افسران پر زور دیا کہ وہ زمینی پیداوار بڑھانے کے لیے تمام تر توانائیاں بروئے کار لائیں تاکہ صوبے میں زرعی خودکفالت کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔ وزیر زراعت نے کہا کہ صوبائی حکومت زمینداروں کے مسائل کو حل کرنیکے لیے ہر سطح پر اقدامات کر رہی ہے انہوں نے ضلعی افسران کو مذید ہدایت جاری کی کہ کوآرڈینشن کمیٹی کے اجلاس ماہانہ کی بنیاد پر ضرور منعقد کئے جائیں تاکہ زمینداروں کے مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ فصلی پیداوار میں خاطرخواہ اضافہ بھی ممکن ہوسکے انہوں نے تمام ضلعی افسران کو حاضری یقینی بنانے کی سختی سے ہدایت کی اور کہاکہ اس ضمن میں کسی کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائیگی اور غفلت برتنے والوں کے خلاف کارروئی عمل میں لائی جائیگی انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومٹ بنجر زمینوں کو قابل کاشت بنانے کیلیے اہم منصوبہ شروع کررہی ہے جبکہ انہوں نے منافع بخش فصلوں ترویج اور باغبانی کے شعبے پر زور دیا۔ صوبائی وزیر نیڈیرہ اسماعیل خان میں زرعی کمپلیکس بنانے کیلیے 3ہزار ایکڑ زمین خریدنے کی بھی ہدایت کی۔

سوات میں ترقیاتی انقلاب کا آغاز، اربوں کے منصوبے جاری: ایم پی اے اختر خان

چیئرمین ڈیڈک سوات ایم پی اے اخترخان ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ سوات میں حقیقی ترقیاتی انقلاب برپاکرنے کے لئے جامع منصوبہ بندی ترتیب دی گئی ہے، سوات میں ترقی اورخوشحالی کے سفرکاآغاز ہوچکاہے، ترقیاتی منصوبوں پر اربوں روپے خرچ کئے جائینگے سوات کے لئے منظور کردہ ترقیاتی فنڈز ختم کرنے اورفنڈز کی واپسی کے حوالے سے اطلاعات غلط اور بے بنیا دہے وزیراعلیٰ امین گنڈاپور علاقائی ترقی اورخوشحالی پرخصوصی توجہ دے رہے ہیں ان خیالات کااظہار انہوں نے اپنے دفترسیدوشریف میں سینئرصحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے کیاانہوں نے کہا کہ سوات کی تعمیروترقی کے لئے اربوں روپے منظورہوچکے ہیں اوران منصوبوں کی تعمیرمیں میٹریل کاخاص خیال رکھاجارہاہے اورعوام کاپیسہ عوام پر ہی خرچ کیاجارہاہے لوگوں کی مسائل اورمشکلات کومدنظررکھتے ہوئے سوات میں مسائل کے حل کے لئے مرتب حکمت عملی ترتیب دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے تمام صوبائی حلقوں کے لئے اربوں روپے منظورکی ہے جو متعلقہ ایم پی اے اپنے حلقہ میں ان منصوبوں پرخرچ کریں گے جس سے عوام کو فائدہ ہو، انہوں نے کہا کہ سوات کی ترقی اورخوشحالی پرتوجہ مرکوز کی گئی ہے اورمیرے حلقہ میں سڑکوں اورتعلیم کے حوالے سے مسائل ہیں جس کو توجہ کامرکز بناتے ہوئے سڑکوں اور سکولوں کی تعمیر کیلئے کوششیں جاری ہے، علاقے میں سیاحت کے بہترین مقامات موجود ہے، ان سیاحتی مقامات کو متعارف کرانے کے لئے میرے حلقہ میں سڑکوں کی تعمیراولین ترجیح ہے تاکہ سیاح ان علاقوں تک پہنچ سکے انہوں نے کہا کہ علاقے کے تعمیروترقی اورلوگوں کی خوشحالی کیلئے خطیرفنڈ خرچ کی جارہی ہے۔