Home Blog Page 16

صوبائی وزیر ریاض خان کی زیر صدارت ضلع بونیر سیلاب متاثرین کے معاوضوں سے متعلق اہم اجلاس

خیبر پختونخوا کے وزیر آبپاشی ریاض خان کی زیرِ صدارت ضلع بونیر میں سیلاب متاثرین کو صوبائی حکومت کی جانب سے فراہم کیے جانے والے معاوضوں اور مالی معاونت سے رہ جانے والے اور تاخیر کا شکار کیسز کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ضلع بونیر میں سیلاب سے متاثرہ افراد کو معاوضوں کی ادائیگی کی مجموعی صورتحال، مکمل اور زیرِ التوا کیسز، معاوضوں سے رہ جانے والے متاثرین، تصدیقی عمل اور مختلف وجوہات کی بنا پر تاخیر کا شکار کیسز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل پرووینشل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی خیبر پختونخ ا عارف اللہ سمیت ضلع بونیر کے انتظامی افسران نے شرکت کی اجلاس میں متعلقہ حکام نے صوبائی وزیر کو سیلاب متاثرین کے معاوضوں سے متعلق کیسز کی موجودہ صورتحال، اب تک کی پیش رفت، زیرِ التوا کیسز کی وجوہات، تصدیقی مراحل اور کیسز کو جلد نمٹانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔صوبائی وزیر ریاض خان نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ معاوضوں سے رہ جانے والے حقیقی متاثرین کے کیسز کی فوری نشاندہی کرکے انہیں ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے اور صوبائی حکومت کی جانب سے مقررہ معاوضوں کی ادائیگی ہر مستحق متاثرہ شخص تک پہنچانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کا مقصد سیلاب سے متاثرہ عوام کو بروقت ریلیف فراہم کرنااور امداد کرنا ہے۔ اس سلسلے میں شفافیت، میرٹ اور قواعد و ضوابط پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ جن متاثرین کے کیسز ضروری دستاویزات، تصدیق یا دیگر مراحل کی وجہ سے زیرِ التوا ہیں، ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے اور متاثرین کے درپیش رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔

بی آر ٹی پشاور اور کنٹونمنٹ بورڈ کے مالی واجبات کے معاملے پر اجلاس

خیبرپختونخوا کے وزیرِ قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم کی زیرِ صدارت پشاور میں بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) پشاور اور کنٹونمنٹ بورڈ پشاور کے درمیان مالی واجبات کے معاملے پر اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں معاملے کے قانونی، مالی اور انتظامی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں مشیرِ خزانہ مزمل اسلم، معاونِ خصوصی برائے ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ سمیع اللہ خان، سیکرٹری محکمہ قانون، سیکرٹری محکمہ ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ، چیف ایگزیکٹو آفیسر بی آر ٹی، پی ڈی اے کے حکام اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں بی آر ٹی منصوبے کے سلسلے میں کنٹونمنٹ بورڈ پشاور کے ساتھ مالی واجبات، سابقہ معاہدوں، ادائیگیوں اور دونوں اداروں کے درمیان ہونے والی خط و کتابت کا جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ حکام کی جانب سے معاملے کے پس منظر، مالی ذمہ داریوں اور اب تک ہونے والی پیش رفت سے اجلاس کو آگاہ کیا گیا۔اس موقع پر مشیرِ خزانہ مزمل اسلم نے واضح کیا کہ محکمہ خزانہ کی پیشگی رضامندی (کنکرنس) کے بغیر کوئی بھی سرکاری ادارہ ایسا معاہدہ نہیں کرسکتا جس سے صوبائی حکومت پر مالی ذمہ داری عائد ہو۔ محکمہ خزانہ کی منظوری کے بغیر کیے گئے کسی معاہدے کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں کو مالی معاملات میں مقررہ قواعد و ضوابط کی سختی سے پابندی کرنی چاہیے اور کسی بھی مالی ذمہ داری کو قبول کرنے سے قبل محکمہ خزانہ کی منظوری حاصل کرنا ضروری ہے۔وزیرِ قانون آفتاب عالم نے کہا کہ بی آر ٹی ایک اہم عوامی منصوبہ ہے، اس سے متعلق مالی اور قانونی معاملات کو باہمی مشاورت اور قانون کے مطابق حل کیا جائے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ ادارے سابقہ معاہدوں، فیصلوں اور خط و کتابت کا مکمل ریکارڈ پیش کریں تاکہ معاملے کی قانونی اور مالی حیثیت واضح ہوسکے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کسی بھی ادارے کے جائز واجبات سے انکار نہیں کرتی، تاہم ادائیگی یا مالی ذمہ داری کا تعین قانون، معاہدے کی شرائط، دستیاب ریکارڈ اور محکمہ خزانہ کے قواعد کے مطابق ہی کیا جائے گا۔اجلاس میں پی ڈی اے اور بی آر ٹی حکام کو ہدایت کی گئی کہ کنٹونمنٹ بورڈ پشاور کے ساتھ ہونے والی تمام سابقہ خط و کتابت اور متعلقہ دستاویزات کا جائزہ لے کر محکمہ قانون اور محکمہ خزانہ کو فراہم کی جائیں، تاکہ معاملے کے حل کے لیے قانونی طور پر قابلِ عمل طریقہ کار وضع کیا جاسکے۔اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ تمام متعلقہ ادارے باہمی رابطے اور مشاورت کے ذریعے معاملے کو آگے بڑھائیں گے اور کسی بھی مالی ادائیگی یا ذمہ داری کا فیصلہ مکمل قانونی و مالی جانچ پڑتال کے بعد کیا جائے گا۔

عدالتی احکامات، قوانین اور محکمہ قانون کی ویٹنگ کے مطابق اراضی واجبات کی ادائیگی یقینی بنائی جائے، آفتاب عالم

خیبرپختونخوا کے وزیرِ قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم کی زیرِصدارت محکمہ قانون کے کمیٹی روم میں کابینہ کی مختلف کمیٹیوں کے اہم اجلاس منعقد ہوئے، جن میں صوبے کے مختلف ترقیاتی و تعلیمی منصوبوں کے لیے حاصل کی گئی اراضی کے معاوضوں، عدالتی احکامات پر عملدرآمد، قانونی واجبات اور دیگر مالی و انتظامی معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان، وزیرِ ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب، وزیرِ آب نوشی فضل شکور خان، مشیرِ خزانہ مزمل اسلم، رکن صوبائی اسمبلی ظاہر شاہ طورو، سیکرٹری محکمہ قانون، سیکرٹری محکمہ ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ، سی ای او بی آر ٹی، ڈائریکٹر پی کے ایچ اے، ڈپٹی ڈائریکٹر پی کے ایچ اے، سولیسیٹر محکمہ قانون، وزیر قانون کے مشیر، پی ڈی اے کے حکام اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران مردان رنگ روڈ، بالخصوص شمال مشرقی اور مغربی بائی پاس کے لیے حاصل کی گئی اراضی کے حوالے سے عدالتوں کی جانب سے طے شدہ معاوضوں اور واجبات کی ادائیگی کے معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر محکمہ قانون کی جانب سے معاملے کی ویٹنگ اور ایفیڈیوٹ کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی اور واجبات کے تعین کے لیے اختیار کیے گئے فارمولے پر غور کیا گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ سیکشن 18 کے تحت مجموعی رقم 11.718 ارب روپے جبکہ سیکشن 151 کے تحت رقم 2.195 ارب روپے ہے، جس کے بعد قابلِ غور بنیادی رقم 9.523 ارب روپے بنتی ہے۔ 16 سال کی مدت کے لیے 2 فیصد رینٹ کے حساب سے رقم 3.047 ارب روپے بنتی ہے، جس سے مجموعی رقم 12.570 ارب روپے ہوجاتی ہے، جبکہ 3 فیصد رینٹ کے حساب سے رقم 4.571 ارب روپے اور مجموعی رقم 14.094 ارب روپے بنتی ہے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ محکمہ قانون کی جانب سے ویٹ کیے گئے اسی فارمولے کو پی کے ایچ اے سے متعلق اراضی کے واجبات کے معاملے میں بھی مدنظر رکھا جائے گا، تاکہ یکساں، شفاف اور قانون کے مطابق طریقہ کار کے تحت مالی معاملات کو حتمی شکل دی جاسکے۔صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے ہدایت کی کہ اراضی کے معاوضوں اور دیگر واجبات کے تعین و ادائیگی میں متعلقہ قوانین، عدالتی احکامات اور محکمہ قانون کی ویٹنگ کو مکمل طور پر ملحوظِ خاطر رکھا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی فیصلے میں نہ عدالتی احکامات سے انحراف کیا جائے گا اور نہ ہی کسی حقدار فرد کی حق تلفی ہونے دی جائے گی۔اجلاس میں مختلف تعلیمی اداروں کی اراضی کے بقایاجات اور ڈگری شدہ واجبات کا بھی جائزہ لیا گیا، جن میں عبد الولی خان یونیورسٹی مردان، زرعی یونیورسٹی پشاور، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، باچا خان میڈیکل کالج مردان اور امیر محمد خان کیمپس مردان کے لیے حاصل کی گئی اراضی شامل ہے۔ متعلقہ اداروں کے واجبات کی ادائیگی کے لیے قانونی و مالی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے تجاویز پر غور کیا گیا۔آفتاب عالم نے کہا کہ صوبائی حکومت ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں حائل قانونی اور مالی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، تاہم اس عمل میں قانون اور عدالتی احکامات کی بالادستی ہر صورت برقرار رکھی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی ضرورت اپنی جگہ، لیکن کسی شہری کے جائز قانونی حق کی قیمت پر کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام معاملات میں قانونی تقاضے مکمل کرتے ہوئے حقداروں کو ان کا جائز حق دیا جائے، سرکاری وسائل کا بھی تحفظ یقینی بنایا جائے اور ایسے قابلِ عمل حل تلاش کیے جائیں جو قانون، عدالتی احکامات اور عوامی مفاد—تینوں کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں۔

ورکرز ویلفیئر بورڈ ہر سال پانچ مزدوروں کے بچوں کو غیر ملکی سکالرشپ فراہم کرتا ہے، طلبہ کو دنیا کی ٹاپ 100 یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے

صوبائی وزیر برائے محنت فیصل خان ترکئی نے کہا ہے کہ حکومت خیبر پختونخوا مزدوروں اور ان کے بچوں کی فلاح و بہبود، معیاری تعلیم اور روشن مستقبل کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے۔ ورکرز ویلفیئر بورڈ کے تحت مزدوروں کے بچوں کو غیر ملکی جامعات میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع کی فراہمی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ ہر سال پانچ مستحق مزدوروں کے بچوں کو فارن اسکالرشپ فراہم کرتا ہے، جس کے ذریعے انہیں دنیا کی ٹاپ 100 یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔ یہ اسکالرشپ نہ صرف طلبہ کی تعلیمی صلاحیتوں کو نکھارنے کا ذریعہ ہے بلکہ مزدور خاندانوں کے بچوں کو عالمی سطح پر اپنی صلاحیتیں منوانے کا بہترین موقع بھی فراہم کرتی ہے۔صوبائی وزیر نے انگلینڈ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے ورکرز ویلفیئر بورڈ اسکالرشپ پر منتخب ہونے والے 5 طلبہ اور ان کے والدین سے ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی نہ صرف طلبہ بلکہ ان کے والدین اور پورے مزدور طبقے کے لیے باعثِ فخر ہے۔ انہوں نے طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وہ بیرون ملک تعلیم کے دوران محنت، نظم و ضبط اور اپنی بہترین کارکردگی کے ذریعے ملک اور صوبے کا نام روشن کریں۔فیصل خان ترکئی نے کہا کہ حکومت کی پالیسی کا مقصد مزدوروں کے بچوں کو صرف مالی معاونت فراہم کرنا نہیں بلکہ انہیں ایسے تعلیمی مواقع فراہم کرنا ہے جن کے ذریعے وہ مستقبل میں ملک کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی مزدور کے بچے کا دنیا کی معروف یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنا اس امر کا ثبوت ہے کہ صلاحیت اور ٹیلنٹ کسی مخصوص طبقے تک محدود نہیں۔انہوں نے کہا کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ مزدوروں کے بچوں کے لیے تعلیمی وظائف، اسکولوں، کالجز اور دیگر فلاحی منصوبوں کے ذریعے ان کے مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ غیر ملکی اسکالرشپ پروگرام اس وژن کا اہم حصہ ہے، جس کے تحت باصلاحیت اور مستحق طلبہ کو بین الاقوامی معیار کی تعلیم تک رسائی فراہم کی جاتی ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ انگلینڈ سمیت دنیا کے بہترین تعلیمی اداروں میں خیبر پختونخوا کے مزدوروں کے بچوں کی موجودگی پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہے۔ انہوں نے والدین کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کی کامیابی میں والدین کی قربانیاں، محنت اور حوصلہ افزائی بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔اس موقع پر اسکالرشپ حاصل کرنے والے طلبہ اور ان کے والدین نے صوبائی وزیر برائے محنت فیصل خان ترکئی کا شکریہ ادا کیا اور ورکرز ویلفیئر بورڈ کی جانب سے فراہم کیے جانے والے تعلیمی مواقع کو سراہا۔ طلبہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ بیرون ملک تعلیم کے دوران بھرپور محنت کریں گے اور اپنی کامیابیوں کے ذریعے ملک و قوم کا نام روشن کریں گے۔بعد ازاں صوبائی وزیر برائے محنت فیصل خان ترکئی کے ہمراہ انگلینڈ جانے والے اسکالرشپ ہولڈرز اور ان کے والدین کی گروپ فوٹو بھی بنائی گئی۔حکومت خیبر پختونخوا نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مزدوروں اور ان کے خاندانوں کی فلاح و بہبود، خصوصاً ان کے بچوں کو معیاری اور عالمی سطح کی تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے لیے اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

اون سورس ریونیو میں شاندار کارکردگی/ وزیر اطلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان کا بیان

اون سورس ریونیو میں بہترین کارکردگی پر محکمہ خزانہ، محکمہ اطلاعات اور دیگر محکموں کی کارکردگی قابل ستائش ہے، شفیع جان

خیبرپختونخوا کا اون سورس ریونیو سالانہ 150.84 ارب روپے تک پہنچنا اہم پیش رفت ہے، شفیع جان

بانی چیئرمین عمران خان کے ویژن کے مطابق صوبائی حکومت اپنے وسائل سے آمدن میں اضافے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے، شفیع جان

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں خیبرپختونخوا کو مالی طور پر خودمختار بنانے کے لیے پُرعزم ہیں، شفیع جان

اخراجات میں کمی اور اون سورس ریونیو میں اضافہ ہماری مالی انتظام کے بنیادی اصول ہیں، شفیع جان

بہتر مالی انتظام کے ساتھ ساتھ شفافیت اور وسائل کے مؤثر استعمال کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے، شفیع جان

اون سروس ریونیو میں محکمہ اطلاعات کی کارکردگی بہترین رہی،شفیع جان

محکمہ اطلاعات کی بہترین کارکردگی پر سیکرٹری اطلاعات مطیع اللہ خان اور ان کی ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، شفیع جان

مالی نظم و ضبط، شفافیت اور وسائل کا بہترین استعمال صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، شفیع جان

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے موجودہ مالی سال کو امن، ترقی اور خوشحالی کا سال قرار دیا ہے، شفیع جان

اون سورس ریونیو میں اضافہ صوبے کی مالی خودمختاری کی جانب اہم قدم ہے، شفیع جان

سیکرٹری اطلاعات و تعلقات عامہ حکومت خیبرپختونخوا مطیع اللہ خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کے ایف ایم ریڈیو نیٹ ورک کو مزید موثر، مالی طور پر خودکفیل اور تکنیکی اعتبار سے جدید بنانے کی ضرورت ہے

سیکرٹری اطلاعات و تعلقات عامہ حکومت خیبرپختونخوا مطیع اللہ خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کے ایف ایم ریڈیو نیٹ ورک کو مزید موثر، مالی طور پر خودکفیل اور تکنیکی اعتبار سے جدید بنانے کی ضرورت ہے تاکہ اطلاعاتی و نشریاتی شعبہ میں بدلتی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کیا جا سکے۔وہ پشاور میں “خیبرپختونخوا حکومت کے موجودہ ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز کے پائیدار آپریشنز کے مطالعے” کے موضوع پر منعقدہ توثیقی ورکشاپ (ویلیڈیشن ورکشاپ) سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے۔سیکرٹری اطلاعات نے ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریڈیو آج بھی عوامی رابطے کاخصوصاً صوبے کے دور دراز اور جغرافیائی لحاظ سے دشوار گزار علاقوں کے لیے سب سے قابلِ رسائی اور موثر ذریعہ ہے،۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز عوام کو باخبر رکھنے، ان کی تعلیم و آگاہی اور انہیں سرکاری اداروں اور حکومتی اقدامات سے مربوط کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس اہم ذریعہ ابلاغ کو پائیدار، موثر اور عوامی ضروریات کے ہم اہنگ بنانا ہو گا۔ مطیع اللہ خان نے آگاہ کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت کے مختلف اضلاع جن میں ضم اضلاع بھی شامل ہیں میں مجموعی طور پر دس ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز فعال ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت اپنے ریڈیو نیٹ ورک کو مزید وسعت دے رہی ہے، جس کے تحت اپر چترال کے علاقے بونی میں نیا ایف ایم ریڈیو اسٹیشن قائم کیا جا رہا ہے، جبکہ میرانشاہ اور خیبر میں ریڈیو اسٹیشنز کو بھی مستحکم کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد صرف موجودہ اسٹیشنز کو برقرار رکھنا نہیں بلکہ انہیں جدید خطوط پر استوار کرنا اور ان کی رسائی، پروگرامنگ اور تکنیکی صلاحیت کو بہتر بنانا ہے تاکہ وہ خیبرپختونخوا بھر کی آبادی کی موثر انداز میں خدمات فراہم کر سکیں۔ورکشاپ میں مطالعاتی رپورٹ کے نتائج کا جائزہ لیا گیا، شرکاء نے اپنے عملی تجربات شیئر کیے، آپریشنل اور مالی چیلنجز کی نشاندہی کی اور حکومتی ایف ایم ریڈیو نیٹ ورک کے مستقبل کے لیے پائیدار ماڈلز پر غور و خوض کیا۔سیکرٹری اطلاعات نے آئی کنسلٹ اور دی کمیونیکیٹرز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کی جانب سے مطالعہ مکمل کرنے اور اس کی توثیق کے لیے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو یکجا کرنے کی کاوشوں کو سراہا۔شرکاء نے ایف ایم ریڈیو آپریشنز کے مختلف پہلوؤں بشمول مالی پائیداری، انسانی وسائل، تکنیکی جدت، پروگراموں کی تیاری، سامعین تک نشریات کی رسائی اور ادارہ جاتی مضبوطی پر تبادلہ خیال کیا۔سیکرٹری اطلاعات نے اس یقین کا اظہار کیا کہ اسٹیک ہولڈرز کی مجموعی سفارشات خیبرپختونخوا حکومت کے ایف ایم ریڈیو نیٹ ورک کو صوبے کے عوام کے لیے ایک زیادہ موثر، پائیدار اور جدید ذریعہ ابلاغِ عامہ بنانے میں معاون ثابت ہوں گی۔

چکن گونیا کی صورتحال قابو میں ہے، تمام متعلقہ ٹیمیں فیلڈ میں موجود ہیں: صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان

صوبائی وزیر صحت خیبرپختونخوا خلیق الرحمان نے فلپائن کے سرکاری دورے سے وطن واپسی پر فوری طور پر اپنے حلقہ پی کے 87 نوشہرہ کے علاقے کاکا صاحب کا دورہ کیا۔صوبائی وزیر صحت نے چکن گونیا سے متاثرہ علاقے زیارت کاکا صاحب میں ہسپتال کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وبائی صورتحال، متاثرہ مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، ادویات کی دستیابی اور بیماری کی روک تھام کے لیے جاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔اس موقع پر میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان نے کہا کہ زیارت کاکا صاحب میں چکن گونیا کی صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے اور محکمہ صحت کی تمام متعلقہ ٹیمیں فیلڈ میں موجود ہیں۔ صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حالیہ مون سون سیزن کے دوران ہونے والی شدید بارشوں کے باعث بعض علاقوں میں پانی کھڑا ہونے سے ایسا ماحول پیدا ہوتا ہے جو مچھروں کے لاروا کی افزائش اور مچھروں کی تعداد میں اضافے کے لیے سازگار ہوتا ہے۔ عوام کو چاہیے کہ مچھروں سے بچاؤ کے لیے تمام ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔صوبائی وزیر صحت نے عوام سے اپیل کی کہ مچھر دانی کا استعمال کریں، گھروں اور اردگرد کے علاقوں میں پانی کھڑا نہ ہونے دیں اور صفائی کا خصوصی خیال رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ بیماری کی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طور پر قریبی ہسپتال یا صحت مرکز سے رجوع کیا جائے۔خلیق الرحمان نے واضح کیا کہ *متاثرہ علاقے میں تمام ضروری ادویات وافر مقدار میں دستیاب ہیں اور مریضوں کو علاج کی فراہمی میں کسی قسم کی کمی نہیں آنے دی جائے گی۔* انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ صورتحال محکمہ صحت کے مکمل کنٹرول میں ہے، اس لیے عوام کو گھبرانے یا خوف و ہراس کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں۔صوبائی وزیر صحت نے بتایا کہ *اب تک چکن گونیا کے باعث کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی، تاہم بڑی تعداد میں شہری اس بیماری سے متاثر ہوئے ہیں۔* حکومت متاثرہ افراد کو بروقت طبی سہولیات کی فراہمی اور بیماری کے مزید پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ فلپائن کے سرکاری دورے پر تھے، تاہم بیرون ملک ہونے کے باوجود صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے تھے۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے متعلقہ حکام کو پہلے ہی ہدایات جاری کر رکھی تھیں کہ متاثرہ علاقے میں سخت نگرانی رکھی جائے، بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور عوام کو ضروری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔صوبائی وزیر صحت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ متاثرہ علاقوں میں سرویلنس، مچھر کنٹرول، صفائی ستھرائی اور عوامی آگاہی کی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنایا جائے اور کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری وسائل بروئے کارلائے جائیں۔خلیق الرحمان نے کہا کہ حکومت خیبرپختونخوا عوام کی صحت کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے۔ چکن گونیا سمیت مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کی روک تھام کے لیے محکمہ صحت کی ٹیمیں دن رات فیلڈ میں موجود ہیں۔
انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ احتیاطی تدابیر پر عمل کریں، مچھروں سے بچاؤ کے اقدامات اختیار کریں اور کسی بھی افواہ یا غیر ضروری خوف کا شکار نہ ہوں۔ حکومت اور محکمہ صحت صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں اور عوام کو ہر ممکن طبی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔

Denial of Meeting with Imran Khan’s Sisters Is Blatant Contempt of Judiciary: Shafi Jan

Khyber Pakhtunkhwa Minister for Information and Science & Information Technology Shafi Jan has strongly condemned the denial of permission to Imran Khan’s sisters to meet the PTI founding chairman, as well as the arrest of peaceful Pakistan Tehreek-e-Insaf workers outside Adiala Jail.

Shafi Jan said that imposing illegal restrictions on family meetings and arresting peaceful political workers was not only a blatant violation of judicial orders but also a clear manifestation of the Punjab government’s fascist mindset.

He said that despite clear directives from the Supreme Court, Imran Khan’s sisters were still being denied access to meet him, which constituted an outright defiance of the judiciary. He added that the Islamabad High Court had also ordered the restoration of Imran Khan’s fundamental rights and basic facilities, including his right to meet family members. Unfortunately, he said, the federal and Punjab governments were acting as though they were above the Constitution and the law, repeatedly undermining and ridiculing judicial orders.

The provincial minister said the incompetent regime imposed on the federal and Punjab governments through Form-47 had crossed every limit of political victimisation. “Depriving Imran Khan of his constitutional, legal and fundamental human rights is deeply alarming and completely unacceptable,” he said.

Shafi Jan said that keeping Imran Khan in isolation amounted to a grave violation of human rights and a blatant breach of constitutional and legal norms. He further expressed serious concern over what he described as continued negligence regarding Imran Khan’s health and medical needs.

He said Chief Minister Sohail Afridi, Imran Khan’s sisters and the Pakistan Tehreek-e-Insaf had pursued every constitutional and legal avenue to secure a meeting with Imran Khan. Despite these efforts, the federal and Punjab governments continued to deny permission for the meeting, he added.

Shafi Jan demanded that, in accordance with the Supreme Court’s directives, Imran Khan be immediately shifted to Al-Shifa Hospital for medical treatment.

Drawing a comparison with the treatment afforded to former Prime Minister Nawaz Sharif, Shafi Jan said that Nawaz Sharif had been provided access to his personal physicians and had regularly been allowed to meet party leaders and family members. “In stark contrast, Imran Khan is being denied proper medical treatment, meetings with his family and other basic facilities. This discriminatory treatment is fundamentally incompatible with the principles of justice and equality before the law,” he said.

The provincial minister demanded strict and complete implementation of all judicial orders and legal requirements, and called for Imran Khan and Bushra Bibi to be provided all constitutional rights, basic facilities and lawful entitlements without further delay.

Shafi Jan said the “Form-47 regime” had forgotten that its days in power were numbered. He reaffirmed that the Pakistan Tehreek-e-Insaf would continue its peaceful, constitutional and legal struggle for the supremacy of the Constitution, the rule of law and the restoration of democracy.

He said that The September 27 long march will be the final nail in the political coffin of the incompetent Form-47 regime.

مشیرِ وزیراعلیٰ ملک لیاقت علی خان کی زیرِ صدارت سماجی بہبود کے ADP منصوبوں کا جائزہ

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و ویمن ایمپاورمنٹ ملک لیاقت علی خان کی زیرِ صدارت محکمہ سماجی بہبود کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) 2026-27 کے منصوبوں کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں سیکرٹری سماجی بہبود شریف حسین، ڈائریکٹر سماجی بہبود ارشد ایوب، ضم شدہ اضلاع، ایڈیشنل سیکرٹری زکوٰۃ حبیب اللہ، ایس پی او مس سعدیہ، ڈپٹی سیکرٹری زکوٰۃ مبشر خان، پلاننگ آفیسر خیبرپختونخوا ضیاء اللہ خان، ڈپٹی ڈائریکٹر ضم شدہ اضلاع عبیدالرحمٰن، اسسٹنٹ ڈائریکٹر ضم شدہ اضلاع ابرار احمد اور پارلیمانی سیکرٹری اعظم خان بھی موجود تھے۔اجلاس میں محکمہ سماجی بہبود کے تحت جاری اور نئے ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر سماجی بہبود، خصوصی تعلیم، بچوں کے تحفظ، خواتین کی فلاح و بہبود، منشیات کے عادی افراد کی بحالی، پناہ گاہوں اور خصوصی افراد کے لیے سہولیات کی بہتری سے متعلق منصوبوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں زمونگ کور کے نئے کیمپسز کے قیام، موجودہ سہولیات کی بہتری اور ادارے کو مزید مؤثر بنانے، خصوصی بچوں کے لیے خصوصی تعلیمی اداروں اور آٹزم سینٹرز کے قیام و اپ گریڈیشن، بصارت و سماعت سے محروم بچوں کے لیے تعلیمی سہولیات کی فراہمی اور خصوصی تعلیم کے اداروں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے سے متعلق منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔اسی طرح دارالامان، پناہ گاہوں، چائلڈ پروٹیکشن یونٹس، منشیات کے عادی افراد کے علاج و بحالی مراکز، بائیونک ڈیوائسز کی فراہمی، بزرگ شہریوں کے لیے ہاسپِس کیئر، خواتین کے لیے بزنس فسیلیٹیشن سینٹرز اور دیگر سماجی بہبود کے منصوبوں پر ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔مشیرِ وزیراعلیٰ ملک لیاقت علی خان نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ADP کے تحت جاری منصوبوں پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے، جبکہ نئے منصوبوں کے PC-1 سمیت تمام ضروری امور بھی مقررہ مدت میں مکمل کیے جائیں تاکہ عوام کو ان منصوبوں کے ثمرات جلد از جلد حاصل ہو سکیں۔انہوں نے خصوصی افراد، خصوصی بچوں، خواتین، یتیم بچوں، بے سہارا افراد اور معاشرے کے دیگر مستحق طبقات کے لیے جاری ترقیاتی منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ محکمہ سماجی بہبود کے ترقیاتی منصوبوں کا مقصد محض انفراسٹرکچر کی تعمیر نہیں، بلکہ مستحق افراد کو بہتر سہولیات، معیاری تعلیم، مؤثر بحالی، تحفظ اور باعزت خودکفالت کے مواقع فراہم کرنا ہے۔مشیرِ وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت سماجی بہبود کے شعبے میں ایسے منصوبوں کو فروغ دے رہی ہے جو کمزور اور محروم طبقات کو مؤثر سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں معاشی و سماجی طور پر بااختیار بنانے میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔

مشیرِ وزیراعلیٰ ملک لیاقت علی خان کا ماڈل انسٹی ٹیوٹ فارسٹیٹ چلڈرن زَمونگ کور پشاور کا دورہ، بچوں سے ملاقات، سہولیات اور مسائل کا جائزہ

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے سماجی بہبود و خصوصی تعلیم ملک لیاقت علی خان نے ماڈل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹیٹ چلڈرن زَمونگ کور پشاور کا دورہ کیا، جہاں انہیں ادارے کی کارکردگی، بچوں کی تعلیم و تربیت، رہائشی سہولیات اور دیگر امور کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔دورے کے آغاز میں مشیرِ وزیراعلیٰ کو ادارے کے مختلف شعبہ جات اور بچوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کے حوالے سے تفصیلی پریزنٹیشن دی گئی۔ اس موقع پر زَمونگ کور کے ڈائریکٹر عبداللہ اور ڈپٹی ڈائریکٹر نورزالی سمیت متعلقہ حکام موجود تھے۔ حکام نے ادارے کی مجموعی کارکردگی اور بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے جاری سرگرمیوں سے مشیرِ وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا۔بریفنگ کے دوران ادارے کو درپیش مختلف انتظامی اور دیگر مسائل بھی مشیرِ وزیراعلیٰ کے علم میں لائے گئے۔ ملک لیاقت علی خان نے مسائل کو غور سے سنا اور متعلقہ حکام کو ان کے حل کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے کی یقین دہانی کرائی۔بعد ازاں مشیرِ وزیراعلیٰ نے زَمونگ کور کے مختلف شعبہ جات کا تفصیلی دورہ کیا اور بچوں کے لیے فراہم کی جانے والی رہائش، خوراک، تعلیم، صحت، فنی تربیت اور دیگر سہولیات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے میس، کچن، ہاسٹل، تعلیمی و فنی تربیتی مراکز اور دیگر حصوں کا معائنہ کیا۔ملک لیاقت علی خان نے زَمونگ کور میں زیرِ نگہداشت بچوں کے ساتھ وقت گزارا اور ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا بھی کھایا۔ اس موقع پر انہوں نے بچوں سے گھل مل کر ان سے گفتگو کی، ان کی تعلیم، دلچسپیوں اور روزمرہ معمولات کے بارے میں دریافت کیا اور ان کے مسائل بھی سنے۔مشیرِ وزیراعلیٰ نے بچوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ زَمونگ کور میں زیرِ نگہداشت بچے ہمارے معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہیں، انہیں بہترین تعلیم، تربیت، تحفظ اور محبت فراہم کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ حکومت ایسے بچوں کے بہتر مستقبل اور انہیں معاشرے کا باوقار اور خودمختار شہری بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔انہوں نے ادارے کی انتظامیہ پر زور دیا کہ بچوں کی نگہداشت اور سہولیات کے معیار کو مزید بہتر بنایا جائے اور انہیں تعلیم کے ساتھ ساتھ فنی مہارتوں اور مثبت سرگرمیوں کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کیے جائیں، تاکہ وہ مستقبل میں اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔