Home Blog Page 168

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان کی زیر صدارت محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے میگا پراجیکٹس کے حوالے سے اہم کار کردگی اجلاس جمعرات کے روز پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان کی زیر صدارت محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے میگا پراجیکٹس کے حوالے سے اہم کار کردگی اجلاس جمعرات کے روز پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا اجلاس میں سیکرٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، مختلف میگا پراجیکٹس کے پراجیکٹ ڈائریکٹرز اور محکمہ کے دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں صوبائی وزیر کو صوبے کے مختلف اضلاع میں جاری اہم ترقیاتی منصوبوں پر اب تک ہونے والی پیش رفت سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔اجلاس کو بتایا گیا کہ تحصیل مٹہ تا کوزہ بانڈئی اور تحصیل خوازہ خیلہ تا چارباغ، ضلع سوات میں گریویٹی بیسڈ واٹر سپلائی سکیم کی تعمیر اور موجودہ انفراسٹرکچر کی بحالی کے منصوبے پر کام جاری ہے، تاہم فنڈز کی بروقت فراہمی کی صورت میں پراجیکٹ کی رفتار میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے اسی طرح اجلاس میں حویلیاں، ایبٹ آباد میں کورین ادارہ کوائیکا (KOICA) کے مالی تعاون سے گریویٹی بیسڈ محفوظ پینے کے پانی کی فراہمی کے نظام سے متعلق پراجیکٹ پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی اور منصوبے کی مجموعی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا رورل انوسٹمنٹ اینڈ انسٹی ٹیوشنل سپورٹ پراجیکٹ ضم شدہ قبائلی اضلاع میں واٹر سپلائی اور سینیٹیشن کے مختلف منصوبوں پر مشتمل ہے، جس کا نظرثانی شدہ پی سی ون منظوری کے لیے متعلقہ فورمز پر جمع کر دیا گیا ہے اسی طرح گریویٹی بیسڈ واٹر سپلائی سکیم مانسہرہ کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ منصوبے پر پیش رفت کو مزید تیز کرنے کے لیے مالی وسائل کے حصول پر کام جاری ہے۔اس موقع پر صوبائی وزیر فضل شکور خان نے ہدایت کی کہ مانسہرہ واٹر سپلائی سکیم پر کام کی رفتار تیز کرنے کے لیے سعودی فنڈ برائے ترقی سے قرض کے حصول کے لیے دوبارہ گفت و شنید کی جائے صوبائی وزیر نے ضم قبائلی اضلاع کے واٹر سپلائی اور سینیٹیشن سکیموں کے حوالے متعلقہ افسران کو ہدایت جاری کی کہ سکیموں کی پی سی ون کی تیاری کو ترجیحات دی جائیں انہوں نے مزید ہدایت جاری کی کہ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی تمام ترقیاتی سکیموں کی ماہانہ بنیادوں پر پراگریس ریویو اجلاس باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں تاکہ منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جا سکے صوبائی وزیر نےکا کہنا تھا کہ موجودہ صوبائی حکومت خیبر پختونخوا میں صاف پینے کے پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے نظام کی بہتری کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے تاکہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

معاون خصوصی شفیع جان کی اڈیالہ جیل کے باہر کیمیکل ملا واٹر کینن کے استعمال کی سخت الفاظ میں مذمت

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے اڈیالہ جیل کے باہر بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی بہنوں اور پارٹی کارکنان پر کیمیکل ملا واٹر کینن کے استعمال کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے جبر کی بدترین مثال قرار دیا ہے۔یہاں سے جاری اپنے بیان میں شفیع جان کا کہنا تھا کہ نہتی خواتین اور پرامن سیاسی کارکنان پر کیمیکل ملا واٹر کینن کا استعمال انتہائی تشویشناک، بربریت اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خواتین اور پرامن احتجاج کرنے والے کارکنوں کے خلاف طاقت کا استعمال شرمناک فعل ہے اور یہ آئینی حقوق کی صریح خلاف ورزی کے مترادف ہے۔معاون خصوصی شفیع جان نے بانی چیئرمین عمران خان کی قید تنہائی پر عالمی ردعمل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ برائے تشدد ایلس جل ایڈورڈ نے حکومت پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ بانی چیئرمین عمران خان کی غیر انسانی اور غیر مہذبانہ حراست کے خاتمے کے لئے فوری اور موثر اقدامات اٹھائے۔ ایلس جل ایڈورڈ کے مطابق یہ حالات تشدد، غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک کے زمرے میں آسکتے ہیں۔ ایلس جل ایڈورڈ نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان کی حراست کے حالات کو مکمل طور پر بین الاقوامی اصولوں اور معیارات کے مطابق بنایا جائے۔ انکو ایک ہی کمرے میں 23 گھنٹے قید رکھا گیا ہے اور بیرونی دنیا سے انکا رابطہ انتہائی محدود ہے۔ ایلس جل ایڈورڈز کے مطابق طویل یا غیر معینہ مدت کی قید تنہائی بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کے تحت ممنوع ہے۔ اقوام متحدہ کے نمائندہ نے مطالبہ کیا ہے کہ بانی چیئرمین عمران خان کی قید تنہائی فوری طور پر ختم ہونی چاہیے۔ آزادی سے محروم ہر شخص کے ساتھ انسانیت پر مبنی با وقار سلوک ہونا چاہیے۔ قید کے حالات قیدی کی عمر اور صحت کے مطابق ہونے چاہیے۔معاون خصوصی شفیع جان نے مزید کہا کہ اسطرح ہائیکورٹ کے واضح احکامات کے باوجود بانی چیئرمین عمران خان کی بہنوں کو ان سے ملاقات کی اجازت نہ دینا سمجھ سے بالاتر اور کھلی توہین عدالت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بانی چیئرمین عمران خان کی بہنیں غیر سیاسی خواتین ہیں اور اپنے بھائی سے ملاقات ان کا قانونی اور آئینی حق ہے جسے کسی صورت سلب نہیں کیا جا سکتا۔شفیع جان نے مزید کہا کہ منگل کے روز فیملی اور وکلاء جبکہ جمعرات کو دوستوں کی ملاقات کا دن مختص ہے۔ اس کے باوجود ملاقاتوں میں رکاوٹ ڈالنا قانون شکنی اور عدالتی احکامات کی نافرمانی ہے۔ آئین و قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے اور بانی چیئرمین عمران خان کے اہل خانہ کو ان کے قانونی حقوق و عدالتی احکامات کے مطابق ملاقات کی اجازت دی جائے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر قانون کی زیر صدارت قانونی امور پر مشاورت کے حوالے سے اجلاس کا انعقاد

خیبر پختونخوا کے وزیر قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور، آفتاب عالم ایڈووکیٹ کی زیر صدارت بدھ کے روز پشاور میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہواجس میں وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب ,ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا شاہ فیصل اتمان خیل ، سیکرٹری محکمہ قانون اختر سعید ترک ، سیکرٹری محکمہ اسٹیبلشمنٹ سید ذوالفقار علی شاہ سمیت قانون ، داخلہ ، خزانہ سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے حکام نے شرکت کی ۔اجلاس میں خیبر پختونخوا کے اہم قانونی اور انتظامی ایجنڈوں پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ لیجسلیٹو کمیٹی کے ایجنڈے میں خیبر پختونخوا پراسیکیوشن سروس ایکٹ ر غور خوض کیا گیا۔ دوسرے ایجنڈے میں خیبر پختونخوا سروس ٹربیونل ایکٹ، 1974 میں ترمیم کے امور پر مشاورت کی گئی، خیبر پختونخوا سروس ٹریبونل ایکٹ 1974 میں مجوزہ ترامیم کا مقصد سروس ٹریبونلز کے فیصلوں میں شفافیت، تیز رفتاری اور عدالتی انصاف کو بہتر بنانا ہے، جس کے تحت ٹریبونلز کے دائرہ کار، ممبران کی تقرری کے معیار اور اپیل کے عمل کو واضح کرتے ہوئے سروسز میں ناانصافیوں کے تدارک کے لیے مضبوط اور مؤثر قانونی فریم ورک فراہم کیا جائے گا۔کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں “خواتین کو کام کی جگہ پر ہراسانی سے تحفظ ایکٹ، 2010” میں ضروری ترامیم پر تبادلہ خیال ہوا۔ علاوہ ازایں خیبر پختونخوا پروٹیکشن آف ہراسمنٹ آف وومن ایٹ ورک پلیس (ترمیمی) ایکٹ 2010 میں مجوزہ ترامیم کے حوالے سے غور خوض کیا گیا جس کا مقصد خواتین کے خلاف ہراسگی کے خلاف تحفظ کو مزید مضبوط، واضح اور مؤثر بنانا ہے، تاکہ ان کے کام کی جگہوں پر محفوظ، باعزت اور مساوی ماحول کو فروغ دیا جا سکے۔وزیر قانون نے ہدایت کی کہ زیر بحث تمام امور کو شفافیت اور تیزی سے حتمی شکل دی جائے تاکہ صوبے میں بہتر گورننس اور قانونی نظام کو فروغ دیا جا سکے۔

محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی کوہاٹ میں ٹیکس نادہندگان کے خلاف کارروائیاں

محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن خیبرپختونخوا نے کوہاٹ میں ٹیکس نادہندگان کے خلاف گھیرا تنگ کر کے مؤثر کاروائیاں شروع کر دی ہیں۔ گزشتہ روز ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر، رحمان الدین کی خصوصی ہدایات پرپراپرٹی ٹیکس کی عدم ادائیگی کرنے والے افراد کے خلاف مؤثر کارروائی عمل میں لائی گئی۔ اس ضمن میں شہر کے مختلف اہم علاقوں میں چھاپے مارے گئے اور قانون کی پاسداری نہ کرنے والے متعدد تجارتی و رہائشی یونٹس کو سربمہر کر دیا گیا۔کارروائی کے دوران مین بازار، مرغ منڈی، میاں خیل اور محلہ سنگھیڑ میں واقع مختلف یونٹس کو نشانہ بنایا گیا تاکہ ٹیکس کی وصولی کے عمل کو یقینی بنایا جا سکے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کیلئے واضح پیغام بھیجا جا سکے۔محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی قانونی کارروائی، جرمانے یا زحمت سے بچنے کیلئے اپنے بقایا پراپرٹی ٹیکس کی بروقت ادائیگی یقینی بنائیں۔ محکمہ شہریوں سے اپیل کرتا ہے کہ ٹیکس کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو نظرانداز نہ کریں تاکہ آئندہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔

تھانہ ایکسائز مردان ریجن کی غیر قانونی اور مضرِ صحت ادویات کے خلاف بڑی کارروائی، بھاری تعداد میں غیر قانونی اورمضر صحت گولیاں برآمد

تھانہ ایکسائز مردان ریجن کی غیر قانونی اور مضرِ صحت ادویات کے خلاف بڑی کارروائی، بھاری تعداد میں غیر قانونی اورمضر صحت گولیاں برآمد، صوبائی حکومت کی زیروٹالرنس پالیسی اور وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان کی ہدایات پر منشیات کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر جاری کامیاب کاروائیوں کیساتھ ساتھ محکمہ ایکسائز کے افسران و اہلکار الیگل اسپکٹرم میں دوسرے اداروں کے ساتھ باہمی تعاون کے ساتھ ہمہ وقت عوامی خدمت میں کوشاں ہیں۔ اس ضمن میں عماد خان ایس ایچ او تھانہ ایکسائز مردان ریجن نے بمعہ دیگر نفری غیر قانونی اور مضرِ صحت ادویات سمگلنگ کی کوشش ناکام بنادی، اس حوالے سے رشکئی انٹرچینج کے قریب دوران کاروائی آلٹو موٹر کار سے دوران تلاشی بھاری تعداد میں مختلف اقسام کی مضرصحت غیر قانونی اور ممنوعہ گولیاں برآمد کی گئیں، ایک ملزم کو موقع پر گرفتار کر کے مذید تفتیش اور قانونی کاروائی کے لئے برآمد گولیاں اور ملزم ڈرگ ریگولیٹری اتھاڑٹی کے حوالے کر کے مقدمہ درج کر دیا گیا، برآمد شدہ ادویات نہ تو ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی سے منظور شدہ تھیں اور نہ ہی ان کے اجزاء، تیاری، میعاد اور مضر اثرات کے حوالے سے کوئی مستند ریکارڈ موجود تھا۔محکمہ ایکسائز کے مطابق برآمد ممنوعہ گولیوں کے بیشتر ممکنہ نقصانات موجود ہیں۔

سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی سے لائیو سٹاک ڈیپارٹمنٹ کے سیکرٹری، سیکرٹری توانائی، چیف ایگزیکٹو آفیسر پیڈواور سیکرٹری ماحولیات نے سپیکر چیمبر میں ملاقات

سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی سے لائیو سٹاک ڈیپارٹمنٹ کے سیکرٹری، سیکرٹری توانائی، چیف ایگزیکٹو آفیسر پیڈواور سیکرٹری ماحولیات نے سپیکر چیمبر میں ملاقات کی۔ملاقات میں صوبائی سطح پر مختلف محکموں کی کارکردگی، پالیسی سازی اور عوامی مفاد میں مزید بہتری لانے کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی نے اس امر پر زور دیا کہ تمام صوبائی محکمے اپنی پالیسیوں اور اقدامات کو عوامی ضروریات اور مفادات سے ہم آہنگ کریں، جبکہ ان پالیسیوں پر بھی نظرِ ثانی کا فیصلہ کیا گیا جو عوامی مفاد کے مطابق نہیں ہیں۔ سپیکر بابر سلیم سواتی نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی اولین ترجیح عوامی مفاد کا تحفظ ہے، اور ہر اس اقدام کی مکمل حمایت کی جائے گی جو عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ہو۔ انہوں نے کہا کہ محنتی، دیانتدار اور اہل افسران کی حوصلہ افزائی کی جائے گی جبکہ بدعنوانی اور بد نیتی کے حامل عناصر کے خلاف سخت رویہ اختیار کیا جائے گا۔ملاقات کے دوران سپیکر نے صوبائی سطح کے علاوہ اپنے حلقے مانسہرہ میں بھی ان محکموں کے کردار اور کارکردگی پر گفتگو کی اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مقامی آبادی کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام براہِ راست مستفید ہو سکیں۔اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے صوبائی نائب صدر کمال سلیم سواتی بھی موجود تھے، جنہوں نے مانسہرہ کے درپیش مسائل پر متعلقہ حکام کوآ گاہ کیااور عوامی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے کھیل و امور نوجوان تاج محمد خان ترند نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نوجوانوں کو روزگار کے مواقع دینے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر ٹھوس اقدامات اٹھارہی ہے

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے کھیل و امور نوجوان تاج محمد خان ترند نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نوجوانوں کو روزگار کے مواقع دینے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر ٹھوس اقدامات اٹھارہی ہے۔بانی چیرمین عمران خان کے وژن اور وزیر اعلیٰ سہیل خان آفریدی کی قیادت میں صوبائی حکومت نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کیلئے سنجیدہ ہے۔مجوزہ خیبر پختونخوا یوتھ پالیسی 2026-36 کے نفاذ کیلئے نوجوانوں سے انکی رائے لینے کیلئے مختلف یونیورسٹیز اور دیگر مقامات پر تفصیلی نشست ہوں گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز سیکرٹری سپورٹس کے دفتر میں منعقدہ مجوزہ یوتھ پالیسی خیبر پختونخوا کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر سیکرٹری کھیل و امور نوجوانان محمد آصف،ڈائریکٹر یوتھ افئیرز ڈاکٹر نعمان مجاہد،مسز ماہ جبین قاضی، صوبائی کوآرڈینیٹر,اطہر اقبال پروگرام اینالسٹ اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔حکام نے مشیر کھیل کو خیبر پختونخوا یوتھ پالیسی کے نفاذ،چیلنجز،اٹھائے گئے اقدامات اور دیگر مقاصد بارے تفصیلی بریفنگ دی۔انہوں نے تاج محمد خان ترند کو صوبہ میں یوتھ ڈویلپمنٹ کمیشن کے قیام،ڈائریکٹر یٹ آف یوتھ افئیز کو فعال کرنے،ڈیجیٹل لٹریسی اور ضم اضلاع میں جوان مرکز،انٹر نیٹ سہولیات،صحت مند معاشرہ کے قیام،اضلاع میں یوتھ کونسل کے قیام،کاروبار کے نئے مواقع اور دیگر یوتھ رضا کار فورس کے قیام بارے تفصیلی طور آگاہ کیا۔مشیر کھیل تاج محمد خان ترند نے حکام سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کیلئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور سماجی تنظیموں کیساتھ ہر ممکن تعاون کریگی۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کیلئے جاری سالانہ ترقیاتی کاموں کی رفتار کو تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ تاج محمد خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا یوتھ پالیسی کے نفاذ کیلئے نوجوانوں کیساتھ مختلف فورم پر بیٹھیں گے اور مجوزہ پالیسی کے حوالے سے انکی رائے پالیسی کا حصہ بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ یوتھ ہمارے ملک اور صوبہ کا اہم اثاثہ ہیں اور پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اوورسیز پاکستانیوں کواپنا اہم اثاثہ سمجھتی ہے۔خیبر پختونخوا کے یوتھ کو روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات اٹھارہے ہیں۔

کے پی-ریٹپ کے زیرِ اہتمام روزگار اور ملازمت کے فروغ سے متعلق صنعتی سیمینار

خیبر پختونخوا رورل اکنامک ٹرانسفارمیشن پراجیکٹ (کے پی-ریٹپ) کے زیرِ اہتمام روزگار اور ملازمت کے فروغ کے موضوع پر ایک صنعتی سیمینار منعقد کیا گیا، جس کا مقصد حکومتِ خیبر پختونخوا اور نجی شعبے، بالخصوص صنعتی اداروں اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری یونٹس، کے مابین باہمی تعاون کو فروغ دینا اور صوبے میں ہنرمند نوجوانوں کے لیے پائیدار روزگار کے مواقع میں اضافہ کرنا تھا۔
کے پی-ریٹپ حکومتِ خیبر پختونخوا کا ایک اہم فلیگ شپ منصوبہ ہے، جسے انٹرنیشنل فنڈ فار ایگریکلچرل ڈیولپمنٹ (آئی ایف اے ڈی) کے اشتراک سے نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد دیہی غربت میں کمی، خوراک اور غذائی تحفظ کو بہتر بنانا، اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ زرعی طریقوں کے فروغ کے ساتھ ساتھ آف فارم اور نان فارم روزگار کے متنوع مواقع پیدا کر کے دیہی آبادی کی آمدن اور معاشی استحکام میں اضافہ کرنا ہے، جس میں نوجوانوں اور خواتین کو خصوصی ترجیح حاصل ہے۔سیمینار کے شرکاء کو جاب پلیسمنٹ اقدام کے خدوخال سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا، جس کے تحت ہنرمند اور تصدیق شدہ نوجوانوں کو بارہ ماہ تک کی معاوضہ شدہ انٹرن شپ فراہم کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو عملی تجربہ فراہم کرنا، دفتری ماحول سے ہم آہنگی پیدا کرنا اور سرکاری و نجی شعبے کے اشتراک سے مہارتوں کے فرق کو مؤثر انداز میں کم کرنا ہے۔اس پروگرام کے تحت ہر انٹرنی کو کے پی-ریٹپ کی جانب سے ماہانہ پندرہ ہزار روپے بطور وظیفہ ادا کیے جائیں گے، جبکہ میزبان صنعتی ادارے ماہانہ پانچ ہزار روپے کے مساوی معاونت فراہم کریں گے، جس میں پیشہ ورانہ رہنمائی اور منظم عملی تربیت شامل ہوگی۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پراجیکٹ ڈائریکٹر کے پی-ریٹپ امجد معراج نے منصوبے کے اغراض و مقاصد اور ترجیحات پر روشنی ڈالی اور صنعتی اداروں اور ایس ایم ایز پر زور دیا کہ وہ ہنرمند نوجوانوں کو ایک مؤثر، باصلاحیت اور پیداواری افرادی قوت میں تبدیل کرنے کے لیے کے پی-ریٹپ کے ساتھ فعال شراکت داری قائم کریں، تاکہ شمولیت، پائیداری اور دیرپا سماجی و معاشی اثرات کو یقینی بنایا جا سکے۔کے پی-ٹیوٹا کے منیجنگ ڈائریکٹر ملک منصور نے صنعتی اداروں کے لیے درخواست اور شمولیت کے طریقہ کار سے آگاہ کیا، جس میں کے پی-ٹیوٹا کے ڈیجیٹل پورٹل کے ذریعے ایکسپریشن آف انٹرسٹ جمع کرانے کا عمل شامل ہے۔ انہوں نے صنعتی اداروں کی ذمہ داریوں، انتخاب کے معیار، قانونی و انتظامی تقاضوں اور انٹرن شپ پروگرام کے مؤثر اور شفاف نفاذ کے لیے مربوط نظام کی اہمیت پر زور دیا۔ویمن چیمبر آف کامرس کی صدر قرۃ العین اور ڈائریکٹوریٹ آف انڈسٹریز خیبر پختونخوا کے نمائندگان نے بھی حکومتِ خیبر پختونخوا کے متعلقہ قوانین اور پالیسیوں کے مطابق انٹرن شپ فریم ورک، طریقہ کار اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے کردار اور ذمہ داریوں سے شرکاء کو آگاہ کیا۔سیمینار کے اختتام پر سرکاری اور نجی شعبے کے نمائندگان نے باہمی تعاون کے ذریعے باوقار روزگار کے فروغ، مہارتوں کے مؤثر استعمال اور خیبر پختونخوا میں جامع اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے زراعت کا اجلاس چیئرمین قائمہ کمیٹی و رکن صوبائی اسمبلی عبدالسلام آفریدی کی صدارت صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ کے کانفرنس روم میں منعقد ہوا

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے زراعت کا اجلاس چیئرمین قائمہ کمیٹی و رکن صوبائی اسمبلی عبدالسلام آفریدی کی صدارت صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ کے کانفرنس روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں اراکین صوبائی اسمبلی میاں شرافت علی، محمد نثار، اکرام اللہ، فضل الٰہی، شیر علی آفریدی، مخدوم زادہ آفتاب حیدر سمیت محکمہ زراعت اور محکمہ بلدیات کے سیکرٹریز اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں گزشتہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ ضلع پشاور اور مردان میں زرعی زمین پر قائم غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے خلاف بھرپور کارروائی کی گئی ہے۔ بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ پشاور میں 27 ہاؤسنگ سوسائٹیز قانون کے مطابق منظور شدہ ہیں جبکہ 116 ہاؤسنگ سوسائٹیز غیر قانونی قرار دی گئی ہیں، جب کہ 14 ہاؤسنگ سوسائٹیز کے کیسز زیر التوا ہیں.اسی طرح ضلع مردان میں 25 ہاؤسنگ سوسائٹیز کو قانونی جبکہ 62 کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے، جب کہ پانچ ہاؤسنگ سوسائٹیز کے کیسز زیر التوا ہیں۔ جبکہ کوہاٹ اور چارسدہ میں قائم ہاؤسنگ سوسائٹیز کا بھی جائزہ لیا گیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی کہ غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جائے۔اس موقع پر چیئرمین قائمہ کمیٹی عبدالسلام آفریدی نے کہا کہ زرعی زمین پر غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے قیام کو ہر صورت روکنا ہوگا تاکہ قابلِ کاشت اراضی کو محفوظ بنا کر صوبے کی غذائی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ 2017 میں قابلِ کاشت زرعی زمین کا کل رقبہ 21 لاکھ ہیکٹرز تھا، جبکہ 2025 تک اس رقبے میں چار لاکھ ہیکٹرز کی کمی واقع ہو چکی ہے۔ غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز صوبے کو شدید مالی اور زرعی نقصان پہنچا رہی ہیں۔ اگر بروقت ان کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو اس کے خطرناک نتائج سامنے آئیں گے۔ اجلاس میں قائمہ کمیٹی نے ایک سب کمیٹی کے قیام کا بھی فیصلہ کیا، جس کے چیئرمین رکن صوبائی اسمبلی محمد نثار ہوں گے، جبکہ دیگر ممبران میں فضل الٰہی، میاں شرافت علی، شیر علی آفریدی, مخدوم آفتاب اور محکمہ زراعت کے الطاف شاہ،ڈاکٹر نوید شامل ہوں گے۔ سب کمیٹی گزشتہ پانچ سالوں کے دوران زرعی مشینری کی خریداری اور تقسیم کا تفصیلی جائزہ لے کر اپنی رپورٹ قائمہ کمیٹی کو پیش کرے گی۔

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کا ڈان اخبار پشاور کے دفتر کا دورہ

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے گزشتہ روز ڈان اخبار پشاور بیورو آفس کا دورہ کیا اور وفاقی حکومت کی جانب سے ڈان اخبار پر اشتہارات بندش کی بھرپور الفاظ میں مزمت کرتے ہوئے کہا کہ ڈان اخبار پورے ملک کا بڑا اور معتبر روزنامہ ہے جس پر سرکاری اشتہارات کی پابندی میڈیا پر قدغن لگانے کے مترادف ہے۔دورے کے دوران روزنامہ ڈان کے ایڈیٹر نارتھ اسماعیل خان سمیت دیگر سٹاف نے مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کا پرتپاک استقبال کیا اور پھولوں کا گلدستہ پیش کیا۔مزمل اسلم نے ڈان اخبار کے ساتھ اظہار یک جہتی کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی میڈیا ادارے پر اس قسم کا دباؤ فارم 47 والے حکومت سے ہی متوقع ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے ڈان اخبار کے پشاور دفتر دورے کے موقع پر کہا کہ روزنامہ ڈان قیام پاکستان سے لیکر اب تک غیر جانبدارانہ واچ ڈاگ کا کردار ادا کر رہا ہے اور ایسی پابندیاں صرف جانبدار میڈیا پلیٹ فارم مہیا کرنے کیلئے لگائی جا رہی ہیں۔