Home Blog Page 19

صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان کا کڑاکڑ ٹنل بونیر کا دورہ، ترقیاتی کام کا جائزہ

خیبر پختونخوا کے وزیر آبپاشی ریاض خان نے کڑاکڑ ٹنل بونیر کا تفصیلی دورہ کیا اور منصوبے پر جاری ترقیاتی کام، تعمیراتی سرگرمیوں اور پیش رفت کا موقع پر جائزہ لیا۔
دورے کے موقع پر صوبائی وزیر کے ہمراہ پی ٹی آئی کے ضلعی صدر کامران خان، سابق ناظم تحصیل گدیزی سالارزئی شیر عالم خان، مقامی مشران اور متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔
صوبائی وزیر کو کڑاکڑ ٹنل منصوبے پر جاری کام، اب تک کی پیش رفت اور مختلف حصوں میں جاری تعمیراتی سرگرمیوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
صوبائی وزیر نے منصوبے کے مختلف حصوں کا معائنہ کرتے ہوئے تعمیراتی کام کے معیار اور رفتار کا جائزہ بھی لیا۔اس موقع پر صوبائی وزیر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کے تعمیراتی کام میں معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے اور منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ کڑاکڑ ٹنل ایک اہم عوامی منصوبہ ہے، جس کی تکمیل سے بونیر اور سوات کے درمیان سفر مزید آسان، محفوظ اور مختصر ہوگا، جبکہ مسافروں کا قیمتی وقت بھی بچے گا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت عوامی اہمیت کے حامل ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو ترجیح دے رہی ہے اور اس مقصد کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں.
صوبائی وزیر نے متعلقہ حکام کو منصوبے میں حائل رکاوٹوں کو فوری دور کرنے اور ترقیاتی کام مقررہ اہداف کے مطابق آگے بڑھانے کی ہدایت کی۔
اس موقع پر مقامی مشران نے بھی علاقے کے مختلف مسائل سے صوبائی وزیر کو آگاہ کیا۔ ریاض خان نے انہیں یقین دلایا کہ عوامی مسائل کے حل اور علاقے کی ترقی و خوشحالی کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔

جدید آبپاشی نظام سے پانی کے ضیاع میں کمی اور زرعی پیداوار میں اضافے میں مدد ملے گی، مشیر زراعت میاں محمد عمر

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے مشیر برائے زراعت میاں محمد عمر کی زیر صدارت آن فارم واٹر مینجمنٹ کے تحت جاری ایریگیٹڈ ایگریکلچر امپروومنٹ پراجیکٹ کی مختلف سرگرمیوں، اقدامات اور پیش رفت کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں منصوبے کے تحت جاری ترقیاتی سرگرمیوں، مقررہ اہداف، جدید آبپاشی ٹیکنالوجیز کے فروغ اور اب تک حاصل ہونے والی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری زراعت ڈاکٹر محمد بختیار خان، ڈائریکٹر جنرل زراعت ریسرچ ڈاکٹر عبدالرؤف، ڈائریکٹر جنرل آن فارم واٹر مینجمنٹ حیات خان، پراجیکٹ ڈائریکٹر ایریگیٹڈ ایگریکلچر امپروومنٹ پراجیکٹ محمد آصف جبکہ آن فارم واٹر مینجمنٹ کے ضلعی افسران نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ منصوبے کے تحت زرعی شعبے میں پانی کے مؤثر اور کفایت شعاری پر مبنی استعمال کو یقینی بنانے کے لیے ہائی ایفیشنسی اریگیشن سسٹم کی تنصیب پر کام تیزی سے جاری ہے۔ اس نظام کے تحت اب تک 359 ایکڑ رقبے پر کام مکمل کیا جاچکا ہے جبکہ 430 ایکڑ رقبے پر کام جاری ہے۔ اجلاس میں محکمہ زراعت ریسرچ کی اراضی پر بھی ہائی ایفیشنسی اریگیشن سسٹم نصب کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا تاکہ جدید آبپاشی ٹیکنالوجی کو تحقیقی و زرعی سرگرمیوں سے منسلک کرتے ہوئے اس کے عملی فوائد کو مزید اجاگر کیا جاسکے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ زرعی پانی کے بہتر استعمال، زمین کی ہمواری اور آبپاشی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے لیزر لینڈ لیولنگ یونٹس کی فراہمی کا عمل بھی جاری ہے۔ اب تک 178 لیزر لینڈ لیولنگ یونٹس فراہم کیے جاچکے ہیں جبکہ 50 مزید یونٹس کی فراہمی/تنصیب پر کام جاری ہے۔اس موقع پر مشیر زراعت میاں محمد عمر نے کہا کہ پانی زرعی شعبے کے لیے بنیادی اور قیمتی وسیلہ ہے، اس لیے دستیاب آبی وسائل کے مؤثر اور دانشمندانہ استعمال کو یقینی بنانا صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ہائی ایفیشنسی اریگیشن سسٹم خصوصاً پانی کی قلت والے علاقوں میں زرعی پیداوار کے فروغ میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے کم پانی میں زیادہ رقبے کو مؤثر انداز میں سیراب کرنے اور فصلوں کی پانی کی ضروریات کو بہتر طریقے سے پورا کرنے میں مدد ملے گی۔میاں محمد عمر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کے تحت جاری تمام سرگرمیوں کو مقررہ اہداف کے مطابق آگے بڑھایا جائے اور سال کے اختتام تک دیے گئے اہداف کے حصول کے لیے عملی اقدامات مزید تیز کیے جائیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ جاری کاموں کے معیار اور رفتار کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے اور جدید آبپاشی نظام کے فوائد زیادہ سے زیادہ زرعی رقبے اور کسانوں تک پہنچانے کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کی جائے۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ منصوبے کے تحت جدید آبپاشی ٹیکنالوجیز کے فروغ کے ساتھ ساتھ واٹر کورسز کی بحالی، پانی ذخیرہ کرنے کے نظام، لیزر لینڈ لیولنگ اور دیگر اقدامات پر بھی توجہ دی جارہی ہے۔ ان اقدامات کا بنیادی مقصد زرعی رقبے تک آبپاشی کے پانی کی مؤثر ترسیل، پانی کے ضیاع میں کمی، دستیاب آبی وسائل کے زیادہ سے زیادہ استعمال اور کسانوں کو جدید زرعی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔

حیدر آباد اور کراچی میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنا افسوسناک ہے،شفیع جان

خیبر پختونخو کے وزیر اطلاعات و سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی ا شفیع جان نے سندھ میں وزیراعلی سہیل آفریدی کی قیادت میں اسٹریٹ موومنٹ سے متعلق کہا ہے کہ گھوٹکی سے عمرکوٹ، ٹنڈو اللہ یار اور حیدر آباد تک اسٹریٹ موومنٹ میں عوامی سمندر نے سندھ کی سیاسی فضا بدل کر رکھ دی ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں جاری اسٹریٹ موومنٹ کے شاندار مناظر ملک میں ایک نئے سیاسی دور کی نوید ہیں، جسے اب روکا نہیں جا سکتا۔سندھ کے عوام تبدیلی کا فیصلہ کر چکے ہیں

شفیع جان نے کہا کہ اسٹریٹ موومنٹ کے دوران عوام میں بانی چیئرمین عمران خان کے لیے بے پناہ محبت اور جوش و جذبہ دیدنی ہے۔ سندھ کے عوام نے واضح کر دیا ہے کہ وہ حقیقی عوامی مینڈیٹ کی بحالی اور جمہوری حق کے حصول اور عمران خان کی رہا ئی تحریک کے لئے مکمل طور پر تیار ہے،

وزیر اطلاعات نے سندھ میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے قافلے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے اور خندقیں کھودنے سے متعلق کہا کہ حیدرآباد اور کراچی جاتے ہوئے وزیراعلی سہیل آفریدی کے قافلے کو روکنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کرنا اور خندقیں کھودنا افسوسناک ہے۔
انہوں نے سندھ حکومت سے سوال کیا کہ سڑکوں پر رکاوٹیں کون کھڑی کر رہا ہے؟ کل بلاول زرداری نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو خوش آمدید کہا، جبکہ آج ان کی سیاسی سرگرمیوں میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف ایسی فسطائیت اور اوچھے ہتھکنڈوں سے خوفزدہ نہیں ہوگی،

شفیع جان نے کہا کہ پرامن سیاسی سرگرمیوں کا انعقاد پاکستان تحریک انصاف کا آئینی، قانونی اور جمہوری حق ہے۔ پرامن سیاسی سرگرمیوں سے خوفزدہ ہونا جمہوریت نہیں۔

وزیر اطلاعات نیمزید کہا کہ کراچی کے عوام نے پاکستان تحریک انصاف کو بھاری اکثریت سے مینڈیٹ دیا، لیکن بدقسمتی سے وفاق اور پنجاب کی طرح کراچی میں بھی پی ٹی آئی کا عوامی مینڈیٹ چھینا گیا، عوامی مینڈیٹ کے بجائے فارم 47 کے ذریعے اقتدار میں آنے والے وزراء قومی سانحات پر بھی بے حس ہیں۔

شفیع جان نے کہا کہ کراچی پاکستان کی معیشت کا بنیادی اور سب سے اہم مرکز ہے، جبکہ کراچی کی ترقی براہ راست پاکستان کی مجموعی معاشی ترقی سے جڑی ہوئی ہے۔ کراچی کے مسائل کا حل صرف دعوؤں سے نہیں بلکہ حقیقی عوامی مینڈیٹ کی بحالی اور بہتر طرز حکمرانی سے ممکن ہے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ کراچی سمیت وفاق اور پنجاب میں مینڈیٹ چور حکمرانوں سے نجات جلد حاصل کریں گے۔ عوامی مینڈیٹ کی بحالی اور حقیقی جمہوریت کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ میں لاکھوں لوگ شریک ہوں گے۔ عمران خان کی رہائی اور عوامی مینڈیٹ کی واپسی کے لیے جدوجہد جاری رہے گی اور عوام کے جمہوری حقوق کے حصول تک یہ تحریک جاری رہے گی

Testing safety

The tragic deaths of 14 newborn babies in a fire at Islamabad’s PIMS Hospital have once again exposed the vulnerabilities of Pakistan’s public healthcare system, raising serious questions about fire safety, emergency preparedness and the ability of public hospitals to respond to disasters.

Hospitals are meant to save lives and provide treatment to the sick. The PIMS tragedy has highlighted how quickly a healthcare facility can become a site of devastation when safety systems fail and emergency responses prove inadequate. The incident has prompted the Khyber Pakhtunkhwa government to reassess safety arrangements in public hospitals across the province.

On August 27, Chief Minister Muhammad Sohail Afridi directed the Health Department to conduct a review of safety arrangements in all hospitals across the province. He ordered officials to reassess existing systems and SOPs to deal with fires, accidents and other emergencies. He also called for regular training and practical emergency drills for hospital staff. The chief minister directed the Health Department to complete fire safety inspections of all government hospitals and submit a report to the CM Secretariat.

Following his directives, the Health Department convened a meeting attended by representatives of Civil Defence, Rescue 1122, the Provincial Disaster Management Authority, the Relief Department, medical superintendents and district health officers.

The meeting reviewed fire safety arrangements, emergency preparedness, response mechanisms and existing fire safety protocols across the province. It was stressed that effective fire safety systems were essential not only for patients but also for attendants, doctors, nurses and other hospital employees.

Health Secretary Fayyaz Ali Shah ordered the formation of fire safety committees at the divisional and district levels to inspect hospitals and healthcare centres in the respective areas and submit reports on their preparedness within a week.

The News on Sunday sought answers from the administrations of three of Peshawar’s largest public-sector hospitals—Lady Reading Hospital, Khyber Teaching Hospital and Hayatabad Medical Complex—that operate under the Medical Teaching Institution system regarding their safety preparedness.

Lady Reading Hospital

Located on the edge of Peshawar’s old city, Lady Reading Hospital is the province’s largest and one of its oldest teaching hospitals. Thousands of patients, attendants and employees pass through its buildings every day, making fire safety a particularly demanding challenge.

According to an LRH official, a Fire Safety Committee has been functioning at the hospital for nearly a decade. The hospital has witnessed six fire incidents in recent years in sensitive areas, including paediatrics, cardiology and gynaecology departments.

The administration says none of these incidents resulted in loss of life or major financial damages because the hospital’s Fire Safety Quick Response Force intervened promptly.

Hospital officials say, the QRF has received specialised training from Rescue 1122 and is activated immediately when a fire alarm is triggered or smoke is detected. Designated emergency exits and smoke detectors have been installed at various locations.

The officials say the existence of a trained quick-response team has helped prevent fires from escalating into major emergencies.

Muhammad Tariq Khan Barki, the LRH director, says comprehensive fire safety arrangements have been put in place to protect patients, attendants and employees.

“At least 550 fire extinguishers have been installed. Fire hydrants and other essential firefighting facilities are also available.”

Testing safety

“Trained staff are available to deal with emergency situations,” Barki says, adding that employees receive periodic training in fire safety and emergency response. He says fire safety equipment is regularly inspected and maintained to ensure that it remains operational.

Khyber Teaching Hospital

The Khyber Teaching Hospital has adopted a more structured approach to emergency preparedness. According to Sajjad Khan, media and protocol manager, the hospital is an ISO 9001:2015-certified facility where safety of patients, attendants and employees is treated as a priority. The hospital has established procedures for dealing with different types of emergencies.

“The KTH has 38 fire safety units, 56 emergency exits and more than 350 fire extinguishers, besides additional extinguishers kept as backup,” Khan says. An emergency response team is deployed during every shift, he says. Its members are trained in fire safety, firefighting and emergency response.

The hospital also has a formal MoU with Rescue 1122 Khyber Pakhtunkhwa. Under the arrangement, Rescue 1122 experts periodically conduct practical training for hospital staff.

According to Khan, the hospital’s support staff has received fire safety training. Training for doctors and nurses is ongoing. Emergency exits, fire extinguishers and a dedicated water pipeline system for firefighting are available in wards and departments.

The hospital also has a mechanism for regular inspection and maintenance of firefighting equipment. The hospital, Khan says, ensures that its safety infrastructure remains functional.

Hayatabad Medical Complex

At the HMC, the PIMS tragedy has prompted the administration to undertake a fresh review of its fire safety arrangements.

According to Waseem Khattak, the HMC communications officer, a meeting was held to review fire safety and other protective measures at the medical complex and its affiliated institutions.

The meeting, chaired by Dr Gulzar Ahmad Khan, the hospital director, conducted a detailed assessment of the existing fire safety arrangements and agreed on a series of immediate measures to strengthen the system.

These include the inspection of fire extinguishers, fire alarm systems and other safety equipment installed across the hospital as well as the installation of additional extinguishers, modern alarm systems and emergency exit gates where required.

Electrical wiring, particularly in sensitive and high-risk areas, is being inspected to identify potential hazards and reduce the risk of fires.

The administration has directed that emergency exits remain clearly marked, accessible and free of obstructions at all times and that hospital staff undergo fire safety training and participate in emergency drills to improve their ability to respond to a crisis.

A special committee has also been constituted for HMC and its affiliated institutions to assess existing safety arrangements and identify gaps. The committee has been given 10 days to finalise its recommendations and prepare an action plan so that corrective measures can be initiated.

Dr Gulzar Ahmad Khan, the HMC hospital director, says the safety of patients, attendants and employees is their utmost priority. He says additional safety measures will be introduced wherever necessary.

Fire safety cannot be treated as an administrative formality. In hospitals, where patients may be critically ill, immobile or dependent on medical equipment, the ability to detect a fire or other emergency, raise an alarm and timely evacuate patients can mean the difference between life and death.

The real test for Peshawar’s public hospitals is not simply whether they have fire extinguishers, emergency exits or safety committees. It is whether these systems work when a crisis strikes and whether every member of staff knows exactly what to do when lives are at risk.

6 ستمبر ہماری قومی تاریخ کا اہم دن، شہدا اور غازیوں کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی: وزیر اطلاعات شفیع جان

خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات و سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی شفیع جان نے6 ستمبر، یوم دفاع کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ 6 ستمبر ہماری قومی تاریخ کا وہ اہم دن ہے جو قوم کے اتحاد، عزم، حوصلے اور جرات کی یاد دلاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ 1965ء کی جنگ میں پاکستانی قوم نے مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر مادر وطن کا دفاع کیا۔ ہمارے شہدا اور غازیوں نے وطن عزیز کی خاطر عظیم قربانیاں دیں، جنہیں قوم کبھی فراموش نہیں کرے گی۔شفیع جان نے کہا کہ وطن پر جان قربان کرنے والے شہدا کو پوری قوم سلام اور خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔ شہدا کی عظیم قربانیاں آنے والی نسلوں کے لیے ہمیشہ مشعل راہ رہیں گی۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان سے محبت کا جذبہ ہر شہری کے دل میں ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ دفاع وطن کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز اور عوام کی قربانیاں بھی ناقابل فراموش ہیں۔ پوری قوم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج کے دن ہمیں اس عزم کی تجدید کرنی چاہیے کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے پاکستان کے امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی کے لیے بھرپور کردار ادا کرتے رہیں گے۔شفیع جان نے کہا کہ شہدا کے اہل خانہ کا احترام اور ان کی فلاح و بہبود حکومت سمیت پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے

شجر کاری مہم کے تحت خیبرپختونخوا میں 06 ستمبر 2026یوم دفاع کے موقع پر 10 لاکھ پودوں کی شجرکاری کی گئی

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے مشیر برائے جنگلات و ماحولیات پیر مصور خان نے کہا ہے کہ 06 ستمبر یوم دفاع کے موقع پر شجر کاری مہم کے تحت خیبرپختونخوا میں 10 لاکھ پودے لگانے کا ہدف کامیابی سے حاصل کر لیا گیا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع مالاکنڈ تحصیل درگئی کے علاقے پلاندرہ ورتیر دوبندی میں شجر کاری مہم میں خصوصی شرکت کرتے ہیوئے کیا ہے۔ اس موقع پر مشیر جنگلات نے زیتون کا پودا لگا کر شجر کاری مہم کا باقاعدہ افتتاح کردیا ہے۔ اس موقع پر پیر مصور خان نے کہا ہے کہ
بانی چیئرمین عمران خان کے سرسبز خیبرپختونخوا کے وژن کے مطابق صوبائی حکومت آج 6 ستمبر، یوم دفاع پاکستان کے موقع پر صوبے بھر میں 10 لاکھ پودے لگا رہی ہے, جبکہ رواں سال 23 مارچ، یوم پاکستان کے موقع پر 14 لاکھ، جبکہ 14 اگست، یوم آزادی کے موقع پر بھی 17 لاکھ پودے لگائے گئے تھے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پشاور میں 20 میاواکی جنگلات پر بھی عملی کام تیزی سے جاری ہے،۔ مشیر برائے جنگلات و ماحولیات پیر مصور خان نے ملاکنڈ تحصیل درگئی میں کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں جنگلات کے فروغ، شجرکاری اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے عوامی شراکت داری سے تاریخی اقدامات جاری ہیں۔ ان اقدامات کے تسلسل میں انہوں نے آج 06 ستمبر کو ضلع ملاکنڈ تحصیل درگئی پلاندرہ ورتیر دوبندی میں شجر کاری مہم میں خصوصی حصہ لیا ہے جبکہ عوام سے اپیل کی ہے کہ خیبرپختونخوا کو سر سبز و شاداب بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں کیونکہ ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تغیرات سے نمٹنے کے لئے شجر کاری مہم انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اسکے ذریعے ہم اپنی آنے والی نسلوں کو قدرتی آفات سے بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اور ان کو ایک صاف اور شفاف ماحول فراہم کر سکیں گے،۔ انہوں نے کہا ہے کہ آج 06 ستمبر کو شجر کاری مہم کے تحت صرف ضلع مالاکنڈ تحصیل درگئی میں 22255 پودوں کی شجر کاری کی گئی ہے جس میں مشیر جنگلات و ماحولیات نے شجر کاری مہم میں بذات خود بھرپور حصہ لیا، اور کمیونٹی میں پودے بھی تقسیم کئے گئے۔ اس موقع پر مشیر جنگلات نے کمیونٹی سے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کے یہ اقدامات ماحولیاتی بہتری، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے اور آنے والی نسلوں کے محفوظ و پائیدار مستقبل کی ضمانت ہیں۔ صوبائی حکومت صوبے کو سر سبز و شاداب بنانے کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔

خیبرپختونخوا وویمن کمیشن اور یو این ایف پی اے کے وفد کے درمیان صنفی اعداد و شمار کے بارے میں تربیتی پروگرام سے متعلق مشاورت

خیبرپختونخوا کمیشن ان دے سٹیٹس آف وویمن نے اقوامِ متحدہ پاپولیشن فنڈ (یو این ایف پی) کے وفد کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد کیا، جس میں صوبے کے مختلف سرکاری محکموں میں تعینات جینڈر فوکل پرسنز کی تربیت و دیگر امور بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔کمیشن کی چیئرپرسن ڈاکٹر سمیرا شمس کی زیرِ صدارت ہونے والے اس اجلاس میں خاص طور پر اس بات پر غور کیا گیا کہ جینڈر فوکل پرسنز کو صنفی اشاریوں اور اعداد و شمار کی صنفی درجہ بندی کے حوالے سے کس طرح تربیت دی جائے۔وفد سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر سمیرا شمس نے کہا کہ اس اقدام کے ذریعے سرکاری افسران کو صنفی بنیادوں پر مرتب شدہ اعداد و شمار کی تقسیم کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے گا، تاکہ محکموں میں ایسے اعداد و شمار جمع کرنے اور رپورٹ کرنے کا نظام مزید مضبوط بنایا جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ کمیشن خیبرپختونخوا کے لیے سالانہ صنفی مساوات رپورٹ (جینڈر پیریٹی رپورٹ) کی تیاری اور اجرا کا عمل بھی خود آگے بڑھائے گا، جس میں صوبے میں خواتین اور صنفی مساوات سے متعلق اقدامات کا ٹھوس شواہد کی بنیاد پر جائزہ پیش کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق یہ رپورٹ اور اقدام صوبے میں شواہد پر مبنی پالیسی سازی کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر پاکستان کی رپورٹنگ کو بھی بہتر بنائے گا، جو خواتین کے حقوق اور صنفی مساوات سے متعلق بین الاقوامی معاہدوں اور فریم ورکس کے تحت پاکستان کی ذمہ داریوں کے عین مطابق ہے۔یو این ایف پی اے کے وفد نے کمیشن کی جانب سے صنفی حساسیت پر مبنی اقدامات اور اعداد و شمار پر مبنی پالیسی سازی کو فروغ دینے کی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا، اور دونوں فریقین نے استعداد کاری بڑھانے کے پروگرام اور صنفی مساوات رپورٹ پر مل کر کام جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

Balakot Hydropower Project proved to be a game changer in stabilizing the economy: Nazir Abbasi

Working is underway at a rapid pace on 300 MW Balakot Hydropower Project, the province’s largest hydropower project in Mansehra district of Khyber Pakhtunkhwa, which will prove to be a game-changer in stabilizing the province’s economy and creating new employment opportunities.
Moreover, Balakot Hydropower Project is a flagship project of the provincial government and will be completed with financial support from the Asian Development Bank (ADB) and the Asian Infrastructure Investment Bank (AIIB). The completion of the project will generate an annual income of Rs 15 billion for the province.
These views were expressed by Provincial Minister Energy and Power Nazir Ahmad Abbasi while addressing a certificates distribution ceremony held at PEDO House, Peshawar, at concluding of a training program for PEDO staff under the Community Support and Development Program of Balakot Power Project titled “Strengthening Institutional Capacity of PEDO in Development”. The ceremony was also attended by Chief Executive Officer PEDO Engineer Anwarul Haq, Senior Director Admin and Finance Zia ur Rehman, and other senior officers and staff.
At this juncture, while giving a briefing on the progress of the Balakot Hydropower Project under the supervision of PEDO, it was informed that the project will be completed in the next 6 years by a team of Chinese construction company Gazoba China and Turkish consultant company Dolsar, which will usher in a new era of development in the province.

Meanwhile, on this occasion, the Minister Energy & Power Nazir Ahmad Abbasi has termed the project’s Community Support and Development Program as essential component of the project and praising the CEO PEDO and his team, he said that training of the field staff, especially the field team working on the project, is very important.
Minister Abbasi has expressed his determination that the project would be completed within the stipulated time keeping in mind the quality principles. At the end of the ceremony, the Provincial Minister Energy distributed certificates and mementos to the trained field staff of PEDO. He stressed that such training activities should be continued in other projects as well so that the capacity of the field staff can be increased.

قومی دنوں کو شجرکاری کے ذریعے منانا بانی پی ٹی آئی عمران خان کے گرین پاکستان وژن کا عملی ثبوت ہے

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے گزشتہ روز تمام پاکستانیوں کو یوم دفاع کی دلی مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ قومی دنوں کو شجرکاری کے ذریعے منانا عمران خان کے گرین پاکستان وژن کا عملی ثبوت ہے۔

مزمل اسلم نے کہا کہ 23 مارچ 2026 کو خیبرپختونخوا میں ایک دن میں 10 لاکھ سے زائد پودے لگائے گئے، جبکہ 14 اگست کو 14 لاکھ پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، جسے صوبے نے 18 لاکھ پودے لگا کر عبور کیا۔انہوں نے کہا کہ 6 ستمبر کو خیبرپختونخوا میں 10 لاکھ پودے لگانے کا ہدف مقرر ہے، جبکہ 23 مارچ 2027 کے لیے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے 23 لاکھ پودے لگانے کا ہدف دیا ہے۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان سے محبت کا اس سے خوبصورت اظہار نہیں ہوسکتا کہ قومی دن پر درخت لگائے جائیں۔ بلین ٹری سونامی کا سنگ بنیاد عمران خان نے 2014 میں رکھا، جس کے تحت خیبرپختونخوا میں 1.2 ارب درختوں کی سیڈنگ کی گئی۔

مزمل اسلم کے مطابق آٹھ سالوں میں خیبرپختونخوا کا ٹری کور 6.3 فیصد بڑھ کر 26.6 فیصد ہوگیا، جبکہ بلین ٹری سونامی نے آٹھ سال میں 9 لاکھ 50 ہزار روزگار کے مواقع پیدا کیے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے وزیراعظم بن کر بلین ٹری پروگرام کو پورے پاکستان تک وسعت دی، جبکہ 10 بلین ٹری پلس پروگرام وفاقی عدم تعاون کے باوجود خیبرپختونخوا میں 76 فیصد ہدف حاصل کرچکا ہے۔

مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا نے 10 بلین ٹری پلس کی کارکردگی کا اسپارکو سے باقاعدہ سروے بھی کرایا، جبکہ سندھ اور پنجاب میں اس نوعیت کا سروے آج تک نہیں ہوا، فرق واضح ہے۔ ان کے مطابق بلین ٹری پلس سے خیبرپختونخوا کے ٹری کور میں مزید 1.25 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ بلین ٹری پلس کے تحت 5 لاکھ 93 ہزار ہیکٹر رقبے پر درختوں میں اضافہ ہوا اور 10 بلین ٹری پلس کے تحت 3 لاکھ 26 ہزار ہیکٹر رقبے پر شجرکاری کی گئی۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کے کل جنگلات کا تقریباً 45 فیصد حصہ خیبرپختونخوا میں ہے، تاہم پاکستان کا مجموعی جنگلاتی رقبہ 5 فیصد سے بھی کم ہونا انتہائی تشویشناک ہے۔ جنگلات میں کمی پانی، بارشوں اور زراعت کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔

مزمل اسلم نے کہا کہ 10 بلین ٹری پلس کو عمران خان کا منصوبہ سمجھ کر نظرانداز کرنا ملک سے زیادتی ہے۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی طویل حکمرانی میں جنگلات، آبی وسائل اور زراعت پر خاطرخواہ توجہ نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی شجرکاری مہم پاکستان کے بہتر اور سرسبز مستقبل کی ضمانت ہے۔ بلین ٹری منصوبوں کا کریڈیٹ سیکرٹری جنگلات جنید خان، چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ اور وزیر جنگلات پیر مصور کو جاتا ہے۔

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا کہ بلین ٹری سونامی آج دنیا میں پاکستان کی ماحول دوست پالیسی کی پہچان بن چکا ہے

دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی بیان بازی کی نذر نہیں کیا جانا چاہیے، طارق سعید مروت

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے داخلہ و قبائلی امور طارق سعید مروت نے دہشت گردی کے معاملے پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی جیسے حساس اور قومی نوعیت کے مسئلے کو سیاسی بیان بازی اور صوبائی اختلافات کا ذریعہ بنانا کسی طور مناسب نہیں۔
طارق سعید مروت نے کہا کہ خیبرپختونخوا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں محض ایک صوبے نہیں بلکہ پاکستان کے دفاع اور امن کی جنگ میں فرنٹ لائن پر کھڑا صوبہ ہے۔ یہاں کی پولیس، سیکیورٹی فورسز، قبائلی مشران اور عام شہریوں نے امن کے لیے ایسی قربانیاں دی ہیں جن کی مثال ملک کی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کا سب سے زیادہ سامنا کیا، اپنے پیاروں کو کھویا، اپنے گھروں اور کاروبار کا نقصان برداشت کیا، مگر اس کے باوجود پاکستان کے امن اور سلامتی کے لیے ان کے حوصلے کبھی متزلزل نہیں ہوئے۔ ایسے صوبے کے عوام اور اداروں کی نیت یا کردار پر سوال اٹھانے کے بجائے ان کی قربانیوں کو تسلیم کرنا چاہیے۔طارق سعید مروت نے واضح کیا کہ دہشت گردی کا تعلق کسی صوبے، جماعت یا علاقے سے نہیں بلکہ پورے ملک کی سلامتی سے ہے۔ اس لیے اس چیلنج کا مقابلہ الزام تراشی سے نہیں بلکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مؤثر تعاون، انٹیلی جنس شیئرنگ، مربوط حکمت عملی اور قومی اتفاقِ رائے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کسی بھی صوبے کے خلاف محاذ آرائی نہیں چاہتا اور نہ ہی دہشت گردی کے معاملے کو صوبائی تعصب کی نظر سے دیکھتا ہے۔ تاہم، خیبرپختونخوا کے عوام کی قربانیوں کو نظر انداز کرکے ان ہی کو مسئلے کا حصہ قرار دینا زمینی حقائق سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔معاون خصوصی نے کہا کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن قومی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ ایسے معاملات ہیں جن پر سیاسی قیادت کو زیادہ ذمہ داری، سنجیدگی اور بالغ نظری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ وقتی طور پر سیاسی فائدہ دے سکتی ہے، مگر اس کے نتیجے میں عوام کے درمیان غلط فہمیاں اور صوبوں کے درمیان بداعتمادی پیدا ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو صوبہ دہشت گردی کے خلاف سب سے زیادہ نقصان اٹھا چکا ہو، اسے دہشت گردی کے مسئلے کی وجہ قرار دینا نہ صرف حقائق کے منافی ہے بلکہ ان خاندانوں کے زخموں کو بھی نظر انداز کرنے کے مترادف ہے جنہوں نے ملک کے امن کے لیے اپنے پیارے قربان کیے۔طارق سعید مروت نے مطالبہ کیا کہ تمام سیاسی قیادت دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیے کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کرے اور ایک دوسرے پر الزام تراشی کی بجائے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے مشترکہ حکمت عملی وضع کرے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا امن کا سب سے بڑا خواہش مند ہے، کیونکہ اس صوبے کے عوام نے بدامنی کے سب سے زیادہ تلخ اثرات برداشت کیے ہیں۔ صوبے کی حکومت، پولیس اور عوام امن کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے رہیں گے۔طارق سعید مروت نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر ریاست، اداروں، وفاق اور تمام صوبائی حکومتیں دہشت گردی کے خلاف ایک مضبوط اور متفقہ محاذ تشکیل دیں۔ پاکستان کی سلامتی اور عوام کا امن کسی بھی سیاسی جماعت یا صوبے کے سیاسی مفاد سے کہیں زیادہ اہم ہے۔