وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے پولیس کو مستحکم کرنے کیلئے بکتر بند گاڑیوں،اسلحہ اور دیگر جدید آلات کی خریداری کیلئے تین ارب روپے کے فنڈز جاری کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو اس سلسلے میں ضروری اقدامات کی ہدایت کی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو شہداءکوٹہ کے تحت تمام پولیس شہداءکے بچوں کو پولیس فورس میں بھرتی کرنے کیلئے ون ٹائم خصوصی کوٹہ مقرر کرنے کی بھی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ اس سلسلے میں کابینہ کی منظوری کیلئے کیس تیار کیا جائے ۔ ون ٹائم کوٹہ مقرر کرنے سے شہداءکوٹہ کے تحت بھرتی کے منتظر تمام شہداءکے بچے بیک وقت بھرتی ہو سکیں گے ۔ واضح رہے کہ شہداءکوٹہ کم ہونے کی وجہ سے پولیس شہداءکے بچے کئی سالوں سے بھرتی کے منتظر ہیں۔ یہ ہدایت اُنہوںنے گزشتہ روز امن و امان سے متعلق ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کی ۔ چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری، انسپکٹر جنرل آف پولیس اختر حیات خان گنڈا پور ،ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمد عابد مجید، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان،متعلقہ انتظامی سیکرٹریز اور پولیس کے دیگر حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کومتعلقہ حکام کی جانب سے صوبے میں امن وامان کی مجموعی صورتحال، چیلنجز ،آئندہ کے لائحہ عمل اور دیگر معاملات پر بریفینگ دی گئی ۔اجلاس میں اہم شخصیات اور تنصیبات کی سکیورٹی کیلئے پولیس کے اندر سکیورٹی ڈویژن قائم کرنے سے متعلق اُمور پر بھی غور و خوض کیا گیا ۔وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو صوبے کے تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں سیف سٹی پراجیکٹ شروع کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ امن و امان کی بہتری صوبائی حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہے، اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا جبکہ پولیس فورس کو موجودہ صورتحال سے بہتر انداز میں نمٹنے کے قابل بنانے کیلئے ہر لحاظ سے مضبوط اور مستحکم کیا جائے گا اور اس مقصد کیلئے پولیس کو درکارمالی وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کئے جائیں گے۔
وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف سے ملاقات
وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے بدھ کے روز وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف سے ان کے دفتر میں ملاقات کی اور وفاقی حکومت سے جڑے صوبے کے مختلف اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے وفاقی حکومت کے ذمے خیبر پختونخواہ کے بقایا جات، مختلف فیڈرل ٹرانسفرز کے تحت صوبے کے شئیرز، امن وامان سے متعلق معاملات، انتظامی امور، صوبے میں سحری و افطار کے اوقات میں بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ سمیت دیگر اہم معاملات وزیراعظم کے ساتھ اٹھایا۔
ملاقات کے بعد وفاقی وزیر احسن اقبال کے ہمراہ میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلی علی امین گنڈا پور نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ بحیثیت وزیر اعلی خیبر پختونخوا ان کی پہلی ملاقات تھی جس میں صوبے کے امن و امان اور صوبے کے واجبات کے علاوہ متعدد اہم معاملات پر بات چیت ہوئی، ملاقات بہت ہی مثبت رہی، ملاقات میں جو امور زیر بحٹ آئے ان کے حوالے سے وزیر اعظم نے مکمل سپورٹ جبکہ صوبے کے بقایاجات کی ادائیگی کی یقین دہانی کرائی۔ علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ ملک کی موجودہ معاشی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے وہ وفاق سے کوئی ایسا مطالبہ نہیں کریں گے جس پر عمل کرنا وفاقی حکومت کے لئے ممکن نہ ہو لیکن صوبے کے حقوق اور عوام کے مسائل کے حل کی بات ضرور کریں گے کیونکہ صوبے کے عوام نے ہمیں مینڈیٹ دیا ہے اور عوام ہم سے توقعات رکھتی ہے اس لئے ہم نے صوبے کی ترقی اور عوامی مسائل کے حل کے لئے کام کرنا ہے اور ڈیلیور کرنا ہے، وزیر اعلی کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے صوبے کے ساتھ ساتھ ملک کے مسائل کے حل کے لئے بھی کام کرنا ہے، یہ ملک ہمارا ہے اور اس ملک کے لئے ہمارے صوبے کا جو بھی کردار ہوگا وہ ضرور ادا کیا جائے گا۔ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ملک کو تیل، گیس اور بجلی کی فراہمی میں ہمارا صوبہ اپنا حصہ ڈال رہا ہے اور ہمیں خوشی ہے کہ ملک کی بہتری کے لئے ہمارے صوبے کے وسائل استعمال ہو رہے ہیں اور آئیندہ بھی ہوتے رہیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلی نے کہا کہ چئیرمین عمران خان سے پارٹی رہنماؤں کی ملاقاتوں کا معاملہ بھی وزیر اعظم کے ساتھ اٹھایا گیا، عمران خان سے پارٹی رہنماؤں کی ملاقاتیں اس لئے ضروری ہیں کیونکہ سنیٹ انتخابات اور دیگر سیاسی معاملات پر ان سے مشاورت کرنی ہے اور اگر سیاسی معاملات پر مشاورت سے ملک کے سیاسی مسائل حل کی طرف جائیں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ صوبے کے سکیورٹی کے جو مسائل ہیں وہ اکیلے صوبے کے نہیں بلکہ پورے ملک کے مسائل ہیں اس لئے ان مسائل کو حل کرنے کے لئے مل کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر وزیر اعلی نے صوبے کی دوسری نگران حکومت کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس حکومت نے بہت سارے اچھے کاموں کی شروعات کی ہیں جو آگے چل کر ہمارے لئے فائدہ مند ثابت ہونگے۔
وزیر برائے ایکسائز، ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول میاں خلیق الرحمان کی عوام کی خدمت کے لئے پرعزم
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ایکسائز، ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول میاں خلیق الرحمان نے اپنے آفس کا چارج سنبھالتے ہی پہلے دن عوامی مسائل سنے۔ صوبائی وزیر برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن خلیق الرحمان نے کہا کہ ہم عوام کی خدمت کے لیے آئے ہیں اور جتنا ہم سے ہو سکے گا عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں گے۔وزیراعلی خیبر پختونخوا سردار علی امین گنڈا پور اس حوالے سے بہت واضح ہیں کہ عوام کو ان کا حق ملنا چاہیے، عوام کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی برداشت نہیں کی جائے گی اور سرکاری دفاترمیں زیرو ٹالرنس فار کرپشن پالیسی پر عمل پیرا ہونگے۔انہوں نے کہا کہ ہم انہی عوام کے ووٹ سے منتخب ہو کر آئے ہیں اور یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان عوام کے لیے کام کریں۔ ایکسائز ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول میں پہلے بھی ہم نے بہت سے بہترین اور فلیگشپ منصوبے متعارف کرائے اب مستقبل میں مزید بھی لے کر آئیں گے، ایسے منصوبوں پہ کام کریں گے جو عوام کے لئے آسانیاں پیدا کریں اور دفتروں کو ڈیجیٹلائزیشن کی طرف بھی لے کر جائیں گے تاکہ بد عنوانی کا تدارک ہو۔
وزیر صحت کا خیبرپختونخوا میں صحت کارڈ پلس کے تحت مفت علاج کی سہولتوں کی بحالی کا اعلان
وزیر صحت سید قاسم علی شاہ نے منگل کو صوبہ بھر کے ہسپتالوں میں پختونخوا کے عوام کیلئے صحت کارڈ پلس کے تحت مُفت علاج کی سہولیات کی بحالی سے متعلق پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2015 میں صحت کارڈ کا آغاز صوبے کے چار اضلاع سے کیا گیا تھا۔ 2020 میں پورے صوبے تک توسیع پر صحت کارڈ کاسالانہ خرچہ 18 ارب روپے تھا۔ اس موقع پر ان کیساتھ چیف ایگزیکٹیو صحت سہولت پروگرام ڈاکٹر ریاض تنولی اور ڈائریکٹر پروگرام ڈاکٹر اعجاز بھی ان کے ہمراہ تھے۔ وزیر صحت سید قاسم علی شاہ نے میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ الحمداللہ خیبرپختونخوا میں صحت کارڈ کی خدمات بحال ہوچکی ہیں۔ پختونخوا کے عوام کیلئے مُختلف النوع سپیشلیٹیز کے 118 سرکاری و نجی ہسپتالوں میں 1800 مختلف بیماریوں کا مُفت علاج شروع ہوچکا ہے۔ انکے مطابق منگل دن بارہ بجے تک سات سو مریضوں کے داخلے پر ایک کروڑ روپے خرچ ہوچکے ہیں، یہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ویژن تھا جو کہ آج دوبارہ بحال ہوگیا، اس وقت اوسطا تین ارب روپے ماہانہ صحت کارڈ کے اخراجات ہیں۔ بحالی کے بعد ہسپتالوں میں صحت کارڈ کے تمام کاؤنٹرز کھول دیے گئے ہیں اور حکومت کی جانب سے اس حوالے سے انشورنس کمپنی کو 5 ارب روپے جاری کردیے گئے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ نگران حکومت نے صحت کارڈ بند کرکے غریب عوام کا نقصان کیا۔نگران حکومت کے دورانیہ میں توسیع نے اسے مزید نقصان پہنچایا۔صحت کارڈ ایک جُزوقتی نہیں بلکہ دیر پا پروجیکٹ ہے۔وزیراعلی علی امین گنڈاپور کی رہنمائی میں صوبہ خیبرپختونخوا ترقی کے نئے ادوار دیکھے گا۔محکمہ صحت نے ’صحت سہولت پروگرام‘ کے پینل پر موجود اسپتالوں کی باضابطہ فہرست جاری کردی ہے، جس کے مطابق مریضوں کو 118 اسپتالوں میں مفت علاج کی سہولت حاصل ہوگی۔ایک سوال کے جواب میں وزیر صحت نے بتایا کہ صحت کارڈ میں اووربلنگ و دیگر بے قاعدگیوں کو روکھنے کیلئے صحت کارڈ کے تحت چند آپریشنز سرکاری ہسپتالوں تک محدود کردئے گئے ہیں۔ اسی طرح صحت کارڈ پر کام کرنے والے ہسپتالوں کی تعداد 180 سے کم کرکے 118 کردی گئی ہے۔ سسٹم پر 18 ارب روپے کے بقایاجات چھوڑ کر اسے دوبارہ شروع کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ صوبائی اسمبلی نے ابھی ایک مہینے کے بجٹ کی منظوری دی ہے۔ چیلنجز آتے رہیں گے لیکن عوام کی خاطر ان چیلجنز سے نمٹنا ہے
مشیر اطلاعات کا ولی باغ چارسدہ دورہ: علی امین گنڈاپور کی طرف سے اظہار تعزیت
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر محمد علی سیف نے منگل کے روز ولی باغ چارسدہ کا دورہ کیا،جہاں انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی کے سر براہ اسفندیارولی خان کی اہلیہ اور ایمل ولی خان کی والدہ محترمہ کی وفات پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی طرف سے غمزدہ خاندان کے ساتھ اظہار تعزیت کیا۔مشیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف کچھ دیر وہاں رہے اور انہوں نے مرحومہ کی روح کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی۔اس موقع پر مشیر اطلاعات بیرسٹرمحمد علی سیف نے مرحومہ کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہا کرتے ہوئے رب العالمین کے حضور مرحومہ کے درجات کی بلندی اور سوگواران کے لئے صبر جمیل کی دعا کی۔
زراعت کا شعبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس کی ترقی کے لیے افسران اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لائیں۔ وزیر زراعت
خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت محمد سجاد نے کہا ہے کہ شعبہ زراعت ملکی معیشت میں ریڑھ کی حیثیت رکھتا ہے اور موجودہ صوبائی حکومت اس شعبہ کو بانی پی ٹی ائی عمران خان اور وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا علی امین گنڈاپورکے وژن کے مطابق ترجیحی بنیادوں پر ترقی دینے کی خواہاں ہے۔ اس لیے زراعت سے وابستہ افسران کو سنجیدگی اور ایمانداری کے ساتھ اپنی خدمات سرانجام دینی ہوگی، انہوں نے ہدایت کی کہ ایسے زرعی منصوبے تیار کیے جائیں جن کے اثرات دورس ہونے کے ساتھ ساتھ زمینداروں کی امنگوں کے مطابق ہو، اور ان سے کسانوں کو فوائد مل سکیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ زراعت کے منصوبوں سے متعلق پہلے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا اجلاس میں سیکرٹری زراعت جاوید مروت سی پی او زراعت، تمام شعبوں کے ڈی جیز اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر کو جاری ترقیاتی منصوبوں خاص کر اے ڈی پی-24 2023۔ اے ائی پی,بیرونی امداد سے شروع کرد ہ سکیمو ں، وزیراعظم ایمرجنسی زرعی پروگرام، ورلڈ بینک پروگرام،خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی پروگرام،گومل زام ڈیم پراجیکٹ، ماڈل فارم سروسز،سیڈز فارم،سائل کنزرویشن، ان فارم واٹر مینجمنٹ، کراپس رپورٹنگ سروس، زرعی توسیع و تحقیق اور انجینئرنگ کے مختلف منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ صوبائی وزیر نے بریفنگ میں گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے افسران کو ہدایت کی کہ متعلقہ افسران اضلاع کے دور کریں اور زمینداروں کے مسائل کے حل کے لیے اقدامات اٹھائیں اور ضم اضلاع میں زراعت کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ نئی اے ڈی پی میں ایسے منصوبے شامل کیے جائیں جن کی بدولت زمینداروں کو فائدے مل سکیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ میں کمپلینٹ سیل کا قیام عمل میں لایا جائے گا اور مانیٹرنگ کے نظام کو فعال کرتے ہوئے سزا و جزا کا عمل شروع کیا جائے گا انہوں نے افسران کو تاکید کی کہ وہ باہمی روابط کے ذریعے ایک ٹیم کے شکل میں کام کریں تاکہ اہداف کا حصول آسان ہو انہوں نے ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔
خیبر پختونخواہ کے سکولوں کا معیار تعلیم بہتر کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے ، وزیر تعلیم
صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی کا ڈائریکٹریٹ آف ایجوکیشن کا دورہ۔ صوبائی وزیر تعلیم کو ڈائریکٹریس ایجوکیشن سمینہ الطاف اور ان کی ٹیم نے ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کے کمیٹی روم میں تفصیلی بریفنگ دی ۔ بریفنگ کے دوران ڈائریکٹوریٹ کے تمام سینیئر افسران موجود تھے۔ وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی کا کہنا تھا کہ ہمیں بچوں کو سکولوں میں بہتر ماحول فراہم کرنا ہے۔ ہمارا سب سے زیادہ فوکس بچوں کی معیاری تعلیم پر ہوگا۔ ہم تمام کاموں کے حوالے سے ترجیحی فہرست مرتب کریں گے اور جو مسائل ناگزیر ہوں گے ان پر سب سے پہلے کام کیا جائے گا۔ نہ میں خود غلط کام کرتا ہوں اور نہ ہی کسی اور کو اپنے نام پر غلط کام کرنے کی اجازت دوں گا۔ کسی بھی شخص کو اپنے جائز کام کے لیے محکمہ تعلیم میں سفارش کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ وزیر تعلیم کا مزید کہنا تھا کہ ہم سب لوگ مل کر ایک ٹیم کی طرح کام کریں گے اور ہماری ٹیم کا اولین مقصد ہمارے سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کی زندگیوں میں بہتری لانا ہے۔
شعبہ آبپاشی کی کارکردگی میں مزید بہتری لانے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ وزیر آبپاشی خیبر پختونخوا
خیبر پختونخوا کے وزیر آبپاشی عاقب اللہ خان نے کہا ہے کہ شعبہ آ پاشی کی کارکردگی میں مزید بہتری لانے کے لیے اسے جدید خطوط پرا ستوار کرنے کی خاطر بھر پور اقدامات اٹھائے جائیں گے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ آبپاشی کی ترقیاتی سکیم نارتھ ریجن سے متعلق بریفنگ کے دوران کیا اس موقع پر سیکرٹری آبپاشی محمد طاہر اور کزئی سپیشل سیکرٹری آبپاشی وقار شاہ، چیف انجینیئر آبپاشی انجینیئر غلام اسحاق خان اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے، اجلاس میں چیف انجینیئر آبپاشی نے محکمہ کی کارکردگی اور جاری ترقیاتی سکیموں پر کام کی پیشرفت، اہداف اور کامیابیوں کے بارے میں اٹھائے گئے اقدامات پر تفصیلی روشنی ڈالی، صوبائی وزیر نے بریفنگ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ آبپاشی کی ملکیتی اراضی کی مکمل تفصیل مہیا کی جائے اور جہاں پر بھی محکمہ کی اراضی پر قابضین ہوں تو ان سے فوری طور یہ اراضی واگزار کروائی جائے، انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ صوبے میں سول کینال سے متعلق مکمل طریقہ کار تیار کریں جبکہ محکمہ ٓبپاشی کے استعمال کے پانی کے ضیاء کو روکنے کے لیے بھی موثر بندوبست کریں تاکہ زراعت کے لیے وافر مقدار میں پانی مہیا ہو، انہوں نے کہا کہ محکمہ زرعی زمینوں پر پھیلنے والی غیر قانونی آبادی کے کنٹرول کے لیے بھی اقدامات اٹھائیں، انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ آبیانہ ٹیکس کی وصولی کے ٹارگٹ کو 100 فیصد مکمل کرے تاکہ صوبے کی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ ہو،صوبائی وزیر نے یقین دلایا کہ محکمہ کے مسائل کا فوری طور پر حل نکالا جائے گا اور اس میں عملہ کی کمی کو پورا کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں گے، بعد ازاں وزیرآبپاشی نے محکمہ کے مختلف شعبوں کا تفصیلی دورہ کیا اور محکمہ کی گاڑیوں، مشینری اور دیگر آلات کے حوالے سے معلومات حاصل کیں
مساجد اور عبادت گاہوں کی سولرائزیشن کے منصوبے میں دینی مدارس کو بھی شامل کیا جائے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے ایک اہم قدم کے طور پر صوبے میں مساجد اور عبادت گاہوں کی سولرائزیشن کے منصوبے میںدینی مدارس کو بھی شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور متعلقہ حکام کو بندوبستی اور ضم اضلاع کے 1000 سے 1500دینی مدارس کو سولرائزیشن کے منصوبے میں شامل کرنے کےلئے ضروری اقدامات کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ سولرائزیشن میں تمام اضلاع کے رجسٹرڈمدارس شامل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مدارس میں زیر تعلیم ہزاروں طلباءرہائش پذیر ہوتے ہیں جن کی سہولت کےلئے مدارس کو شمسی توانائی پر منتقل کرنا ضروری ہے۔وہ پیر کے روز محکمہ توانائی و برقیات کے ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان ، سیکرٹری توانائی و برقیات نثار احمد کے علاوہ دیگر متعلقہ حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ وزیراعلیٰ کو محکمہ توانائی کے حکام کی جانب سے محکمہ کے ترقیاتی منصوبوں ، انتظامی و مالی معاملات اور دیگر امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے پختونخوا انرجی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر اور ایگزیکٹیو کمیٹی کے ممبران کی تعیناتی جلد سے جلد عمل میں لانے کی بھی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے پن بجلی کے جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کوانتہائی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان منصوبوں کی مقررہ مدت کے اندر اندر تکمیل کو یقینی بنایا جائے ۔ جاری منصوبوں میں غیرضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، منصوبے مقررہ مدت میں مکمل نہ کرنے والے ٹھیکداروں پر جرمانے عائد کئے جائیں ۔ انہوں نے کہا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کےلئے ترجیحات کا تعین کیا جائے اور صوبے کےلئے آمدن کا ذریعہ بننے والے منصوبوں کی فنڈنگ کو پہلی ترجیح دی جائے۔
دریں اثنا وزیراعلیٰ نے محکمہ بلدیات کے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے مالی طور پر کمزور تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشنز(ٹی ایم ایز) کے ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنز کی ادائیگیوں کےلئے خصوصی فنڈز جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور متعلقہ حکام کواس مقصد کےلئے ڈیڑھ ارب روپے ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ مذکورہ ملازمین کو دو ماہ کی تنخواہیں اور پنشنز ادا کی جائیں تاکہ ان ملازمین کو رمضان کے دوران اور عید پر کوئی مالی مشکلات کا سامنا نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ مالی طور پر کمزور ٹی ایم ایز کو گزشہ کئی ماہ سے ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنز کی ادائیگیوں کا مسئلہ درپیش ہے جس کی وجہ سے ملازمین کو مالی مسائل کا سامنا ہے۔ وزیراعلیٰ کو اجلاس کے دوران محکمہ بلدیات کے جملہ انتظامی و مالی امور ، ترقیاتی منصوبوںبشمول خیبرپختونخوا سیٹیز امپرومنٹ پروجیکٹ(KPCIP) کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ صوبائی وزیر بلدیات ارشد ایوب کے علاوہ وزیراعلیٰ کے سیکرٹری بلدیات داو¿د خان اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔
امراض قلب میں مبتلا نادار اور غریب بچوں کا علاج اب مفت ہوگا،ترجمان پی آئی سی
پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی اور قطر چیرٹی پاکستان ادارے کی مشترکہ کاوش سے بے سہارا اور نادار بچوں کے لیے زندگی اور امید کرن پیدا ہوگئی۔ترجمان رفعت انجم کے مطابق پی آئی سی کے چیف ایگزیکٹیو اور میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر شاہکار احمد شاہ اور قطر چیریٹی کے نمائندے سجاد خان نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر لیے۔معاہدے کے تحت امراض قلب میں مبتلا 150 سے زائد بچوں کے علاج کے لیے قطر چیریٹی پاکستان مالی معاونت فراہم کرے گا۔ مالی معاونت کا منصوبہ ابتدائی طور پر 4 ماہ کے لیے ہوگا جس کی بعد میں توسیع کی جائے گی۔ قطر چیرٹی کی جانب سے دی جانے والی مالی معاونت کے حوالے سے پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے پیڈ کارڈیالوجی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر اعجاز حسین کا کہنا تھا کہ یہ امداد نادار اور غریب بچوں کے لیے امید کی کرن ثابت ہوگی۔مالی معاونت سے دل میں سوراخ اور اوپن ہارٹ سرجری والے بچوں کا مفت علاج کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ قطر چیرٹی پاکستان اور قطر کے عوام کے شکر گزار ہیں جو ان نادار بچوں کا سہارا بنے۔
پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے سی ای او اور میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر شاہکار احمد شاہ کا کہنا تھا کہ پی آئی سی بہترین علاج معالجے کی سہولیات اور خدمات کے باعث نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر مقبولیت اور پذیرائی حاصل کر رہا ہے جس کے باعث انٹرنیشنل اداروں کا اعتماد بڑھا ہے جو ہسپتال کے تمام عملے کے لیے فخر کی بات ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پی آئی سی میں امراض قلب کے ہر مریض اور خصوصا بچوں کو ہر ممکن اور اعلٰی معیار کے علاج معالجے کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔
یاد رہے کہ پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں امراض قلب میں مبتلا بچوں کے لیے کارڈیالوجی اور کارڈیک سرجری کے اسٹیٹ آف دی آرٹ شعبے اور بہترین انٹرنیشنل کوالیفائیڈ ڈاکٹروں کی ٹیم موجود ہے۔