Home Blog Page 194

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کی زیر صدارت میٹرک امتحانات میں شفافیت و نظم و ضبط کے حوالے سے گرینڈ کوآرڈینیشن اجلاس کا انعقاد

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت، پشاور تعلیمی بورڈ میں گرینڈ کوآرڈینیشن اجلاس منعقد ہوا جس میں حالیہ میٹرک امتحانات کے دوران شفافیت یقینی بنانے، طلبہ کو سہولیات کی فراہمی اور نقل کی روک تھام کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں کمشنر پشاور ڈویژن و چیئرمین پشاور تعلیمی بورڈ ریاض خان محسود، سیکرٹری تعلیمی بورڈ مہدی جان، ایڈیشنل سیکرٹری تعلیم محمد شعیب، کنٹرولر امتحانات اور پشاور، چارسدہ، چترال اپر و لوئر، خیبر اور مہمند اضلاع کے امتحانی مراکز کے عملے نے شرکت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکرٹری نے کہا کہ حکومت خیبرپختونخوا کے ٹھوس اقدامات کے باعث نقل مافیا کو شدید دھچکا پہنچا ہے اور وہ وقت دور نہیں جب صوبے سے اس ناسور کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امتحانات میں شفافیت صرف اس وقت ممکن ہے جب امتحانی عملہ اپنی ذمہ داری کو خلوص نیت اور دیانت داری سے ادا کرے۔

چیف سیکرٹری نے مزید کہا کہ اساتذہ کرام، قوم کے معمار ہیں اور تعلیم کی بنیاد انہی کے ہاتھوں رکھی جاتی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تعلیمی نظام میں شفافیت، میرٹ اور بہتری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور نقل کے خاتمے کے لیے ای-مارکنگ جیسے جدید نظام کا جلد آغاز کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں اس وقت 90 لاکھ بچے سکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جبکہ 49 لاکھ بچے ابھی بھی سکولوں سے باہر ہیں،جب کہ سکول سے باہر بچوں کے داخلے کو یقینی بنانے کے لئے مربوط حکمت عملی پر کام جاری ہے۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ تعلیم کسی صورت کاروبار نہیں بننا چاہیے اور تعلیمی نظام کو مستحکم کرنے کے لئے اساتذہ کے کردار کو دوبارہ مؤثر بنایا جائے گا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر پشاور ڈویژن و چیئرمین پشاور تعلیمی بورڈ ریاض خان محسود نے کہا کہ بورڈ نے امتحانات میں شفافیت اور نقل کے خاتمے کے لیے انقلابی اقدامات کیے ہیں جن کے باعث نقل مافیا کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسے عناصر کے خلاف کاروائیاں جاری رہیں گی اور انہیں منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
اجلاس کے اختتام پر حالیہ میٹرک امتحانات میں شفافیت اور نظم و ضبط کے قیام میں نمایاں کردار ادا کرنے والے امتحانی مراکز کے عملے میں انعامات بھی تقسیم کئے گئے۔

وفاقی وزیر خزانہ کے اعترافی بیان نے جعلی حکومت کے دعووں کا پول کھول دیا، بیرسٹر ڈاکٹر سیف

مشیر اطلاعات خیبر پختونخوابیرسٹر ڈاکٹر سیف نے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے حالیہ اعترافی بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر خزانہ کا مہنگائی پر قابو نہ پانے اور ایف بی آر میں کرپشن کا اعتراف اس جعلی حکومت کے جھوٹے دعووں کی نفی ہے۔

انہوں نے کہا کہ محمد اورنگزیب ایک ذمہ دار شخصیت ہیں جنہوں نے حکومت کی اصل حقیقت عوام کے سامنے رکھ دی ہے۔ وزیر خزانہ اور وزیراعظم شہباز شریف ایک پیج پر نہیں دکھائی دے رہے، جو حکومتی انتشار اور ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔

بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ وزیر خزانہ کے بیان کے بعد کم از کم شہباز شریف کی آواز کو موبائل رنگ ٹون سے ہٹا دینا چاہیے، کیونکہ عوام اب وہ رنگ ٹون سن کر ایک دوسرے کو فون کرنا بھی چھوڑ چکے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مارکیٹ میں سودا خریدتے وقت جب یہ رنگ ٹون بجتی ہے توعوام اس کو سن کر اگ بگولہ ہوجاتے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت نے عوام کو صرف مایوسی دی ہے۔

بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مطالبہ کیا کہ جعلی دعووں کی بجائے عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جائے۔ مشیر اطلاعات نے کہا کہ عوام کو جھوٹے دعوووں اور وعدوں پر مزید ٹرخانا بند کیا جائے

صوبائی وزیر زراعت کی ہدایت پر شعبہ زراعت کی بہتری کیلئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کاضلع کرک سے آغاز

خیبرپختونخوا کے وزیر زراعت میجر (ر) محمد سجاد بارکوال کی خصوصی ہدایات پر ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر زراعت کرک ڈاکٹر جان محمد کی زیر نگرانی ڈویژنل مانیٹرنگ آفیسر شمس اقبال کے ہمراہ ڈرون سپریئر (Drone Sprayer) ٹیسٹ فلائٹ کا کامیاب تجربہ کیا گیا۔ اس موقع پرانہوں نے ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر ایگریکلچر آفس کرک میں ڈرون سپریئر کی آزمائشی پرواز کا مشاہدہ کرتے ہوئے اسے کامیاب قرار دیا۔ ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر زراعت نے اس جدید ڈرون سپیریئر کی افادیت اور اہمیت بتاتے ہوئے کہا کہ یہ کم سے کم وقت میں بڑے رقبے پر سپرے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس سے پانی کے ساتھ ساتھ وقت کی بھی بچت ہوتی ہے اور زرعی ادویات کے درست استعمال سے کم سے کم مقدار میں مطلوبہ نتائج حاصل ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ محکمہ زراعت، ضلع کرک کے توسیعی شعبہ میں ایک نئی جدت ہے۔ یاد رہے کہ وزیر زراعت سجاد بارکوال نے ضلع کرک میں زرعی شعبے کی ترقی اور بہتری کیلئے ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر زراعت کرک ڈاکٹر جان محمد کا خصوصی طور پر انتخاب کیا ہے تاکہ یہاں زراعت میں جدید طریقے استعمال کرکے صوبے میں بالعموم اور ضلع کرک میں بالخصوص مختلف فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کیا جاسکے۔

ڈیرہ جات 2025 کے تحت مختلف ایونٹس سمیت آرٹ اورکلچر کی سرگرمیوں کا سلسلہ ڈیرہ اسماعیل خان میں

ڈیرہ جات 2025 کے تحت مختلف ایونٹس سمیت آرٹ اورکلچر کی سرگرمیوں کا سلسلہ ڈیرہ اسماعیل خان میں جمعرات کے روز بھی جاری رہا۔ اسی تسلسل میں دو روز تک جاری رہنے والی فنی نمائش کی اختتامی تقریب ڈسٹرکٹ آڈیٹوریم ہال میں منعقد کی گئی جس کے دوران مختلف سینئر و جونیئر آرٹسٹوں میں میڈلز اور سرٹیفکیٹس تقسیم کر کے ان کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ تقریب میں محکمہ سپورٹس کے ڈائریکٹر آپریشنز نعمت اللہ مروت، ڈپٹی ڈائریکٹر جمشید بلوچ، ریجنل سپورٹس آفیسر رضی اللہ بیٹنی، سینئر آرٹسٹ عجب گل، فاروق سیال، جمشید میتھیو،محمد شریف، دانش خان، قاری عبدلکریم سمیت دیگر سینئر و جونئیر آرٹسٹس، آرگنائزرز، منیجمنٹ ٹیم کے علاوہ کافی تعداد میں آرٹ میں دلچسپی رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ نمائش میں تقریباً 75سینئر و جونیئر آرٹسٹس کی جانب سے پنٹنگز نمایاں کی گئیں تھیں۔ اس موقع پر ریجنل سپورٹس آفیسر رضی اللہ بھٹنی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آرٹ کو فروغ دینا صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور ڈیرہ جات کے تحت ایسی سرگرمیوں کا شمار ایک احسن اقدام ہے جس سے نہ صرف آرٹسٹس کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے بلکہ دیگر لوگوں میں بھی ایسی سرگرمیوں سے متعلق دلچسپی پیدا ہوتی ہے۔اسی حوالے سے سیئنئر آرٹسٹ عجب گل کا کہنا تھا کہ جہاں پر جونیئر آرٹسٹس میں مرد حضرات دلچسپی لے رہے ہیں وہیں خواتین بھی اس شعبے میں کافی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں جو کہ قابل تحسین ہے۔واضح رہے کہ ڈیرہ جات کے تحت کل ڈسٹرکٹ آڈیٹوریم ہال میں ایک روزہ مشاعرہ کا بھی انعقاد کیا جائے گا۔

چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم تاج محمد خان ترند نے کہا

چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم تاج محمد خان ترند نے کہا ہے کہ میٹرک امتحانات میں تمام کنٹرولر امتحانات امتحان کی شفافیت کو یقینی بناتے ہوئے نقل کی روک تھام مردان بورڈ میں پرچہ آوٹ ہونیوالے ملوث افسران و اہلکار کو قرار واقعی سزا دینے اور انکوائری رپورٹ جلد جمع کرنے کی ہدایت کردی ہے،ضلع بٹگرام میں زلزلہ سے متاثرہ سکولوں اور صوبہ میں سیلاب اور دیگر قدرتی آفات و دہشت گردی سے متاثرہ سکولوں کی جلد تعمیر کیلئے فی الفور اقدامات اٹھانے کی ہدایت کردی ہے،صحت کارڈ کی طرح صوبائی حکومت تعلیمی کارڈ کا اجراء بھی عنقریب کرنے جارہی ہے تاکہ غریب بچوں کے تعلیمی اخراجات حکومت برداشت کرے،دور دراز علاقوں میں ایٹا کے ذریعے اساتذہ کی بھرتی میں پاسنگ مارکس کا پچاس فیصد سے زیادہ رکھنے سے سیٹیں خالی رہ جاتی ہیں اسلئے محکمہ تعلیم اس حوالے سے از سر نو پالیسی مرتب کرے اور کوئی بھی سیٹ خالی نہ رہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو سٹینڈنگ کمیٹی برائے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے حوالے سے منعقدہ ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر رکن اسمبلی افتخار مشوانی،رکن اسمبلی عدنان خان،رکن اسمبلی ثوبیہ شاہد،رکن اسمبلی عبدالسلام آفریدی،رکن اسمبلی طارق سعید،رکن اسمبلی عاصمہ عالم،رکن اسمبلی ریاض خان،رکن اسمبلی انور خان،سپیشل سیکرٹری تعلیم خدا بخش،ایڈیشنل سیکرٹری تعلیم مقبول حسین،ڈائریکٹر یس ایجوکیشن ڈاکٹر ناہید انجم،ڈپٹی سیکرٹری اسمبلی نعیم درانی،ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر مردان (فیمیل)ثمینہ غنی،کنٹرولر امتحانات مردان بورڈ محمد فیاض اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں حکام نے چیئرمین کو مردان تعلیمی بورڈ میں پرچہ آوٹ ہونے والے معاملہ کے بارے میں تفصیلی گفتکو کی۔کنٹرولر امتحانات مردان بورڈ محمد فیاض نے ملوث اہلکاروں کیخلاف اٹھائے گئے اقدامات بارے چیئرمین کو آگاہ کیا۔کمیٹی ارکان نے ٹرانسفر پالیسی کے تحت تبادلوں پر بھی اپنی رائے سے آگاہ کیا،سکولوں میں کلاس فور ملازمین کی بھرتی کیلئے محکمہ خزانہ سے این او سی لینے،اساتذہ بھرتی کے عمل کو جلد مکمل کرنے،پی ٹی سی فنڈز کے استعمال میں شفافیت لانے،ایجوکیشن فاونڈیشن میں اساتذہ کی تنخواہ کی ریلیز،وغیرہ پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔چیرمین کمیٹی تاج محمد خان ترند نے اس موقع پر کہا کہ سکولوں کی اپ گریڈیشن،تعمیر متعلقہ منتخب اراکین اسمبلی کی مشاورت سے کیا جائے اور اس سلسلے میں تمام ڈی ای اوز کو مراسلہ ارسال کیا جا ئیگا۔انہوں نے ضلع بٹگرام میں زلزلہ سے متاثرہ سکولوں کی جلد تعمیر اور اس حوالے سے فنڈز کے اجراء کی ہدایت کی۔انہوں نے کہا کہ سکولوں کی تعمیر کو ترجیحاتی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ نئے اساتذہ بھرتی میں کوئی بھی سیٹ خالی نہ رہے اور تمام خالی سیٹوں کو پر کرنے کی ہدایت کی۔انکا کہنا تھا کہ سکولوں میں صفائی ستھرائی اور سیکیورٹی کے حوالے سے چوکیدار اور دیگر درجہ چہارم ملازمین کی تقرری کیلئے محکمہ خزانہ جلد این او سی جاری کرے۔انہوں نے پی ٹی سی فنڈز میں خرد برد روکنے کیلئے ایک سب کمیٹی قائم کرنے کی بھی ہدایت کی۔

معلومات کی فراہمی میں اداروں کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی: چیف انفارمیشن کمشنر خیبر پختونخوا

شہریوں کی شکایت پر خیبر پختونخوا انفارمیشن کمیشن نے اداروں کے پبلک انفارمیشن آفیسرز کو سماعت کیلئے طلب کیا تھا۔ ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر کرک، ڈی ایس پی کرک، اور لکی مروت کے ضلعی آفیسر برائے سوائل کنزرویشن، کمیشن کے سامنے پیش ہوئے

خیبر پختونخوا انفارمیشن کمیشن میں شہریوں کی شکایات پر مختلف اداروں کے پبلک انفارمیشن آفیسرز کو سماعت کیلئے طلب کیا گیا تھا۔ ڈی سی آفس کرک کے خلاف شہریوں کے تین مختلف شکایات (جس میں صائمہ اختر نامی شہری نے لینڈ ریکارڈ، اظہر ممتاز نے پروموشن اور بھرتی کے بارے ڈی پی سی میٹنگ کے مینٹس کی کاپی، جبکہ محمداللہ نامی شہری نے حلقہ پی کے- 98 میں گھریلو اور زرعی سولر سسٹم اور اس سے مستفید ہونے والوں کی تفصیلات مانگی تھیں میں ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر کرک، کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔ کمیشن نے ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر کرک کو احکامات جاری کئے کہ ڈی پی سی میٹنگ کے مینٹس کی کاپی 4 دنون کے اندر کمیشن میں بھیجنے اور سولر سسٹم سے متعلق معلومات 7 دنوں کے اندر شہری کو فراہم کرے بصورت دیگر مذکورہ آفیسر کے خلاف آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت تادیبی کاروائی شروع کی جائے گی۔ اس کے علاوہ کرک سے تعلق رکھنے والے ایک شہری کے کیس (جس میں انہوں ڈی پی او کرک سے ایک کیس کی انکوائری رپورٹ اور دیگر معلومات مانگی تھیں میں ڈی ایس پی کرک نے انکوائری رپورٹ کی کاپی کمیشن میں معائنے کے لئے جمع کرائی جبکہ بقیہ معلومات کیلئے کمیشن سے 7 دن تک کا وقت مانگ لیا۔ چیف انفارمیشن کمشنر خیبر پختونخوا فرح حامد خان نے کہا کہ معلومات تک رسائی ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ جو بھی ادارہ شہریوں کو بروقت معلومات فراہم نہیں کرے گا اس کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔

مینجمنٹ کیڈر کے ڈاکٹروں کے لیے 04 ماہ کی لازمی پروموشنل ٹریننگ کی تکمیل (بی پی ایس-18 سے بی پی ایس-19)

پراونشل ہیلتھ سروسز اکیڈمی (PHSA) کے زیر اہتمام مینجمنٹ کیڈر کے ڈاکٹروں کے لیے 04 ماہ کی لازمی پروموشنل ٹریننگ کامیابی سے مکمل ہو گئی ہے۔ اس اہم تربیت کا مقصد BPS-18 سے BPS-19 میں جانے والے ڈاکٹروں کی انتظامی اور قائدانہ صلاحیتوں کو بڑھانا ہے۔پورے چار ماہ کے پروگرام کے دوران، شرکاء نے انتظامی اصولوں، صحت کی دیکھ بھال کی حکمرانی، قیادت کی ترقی، اسٹریٹجک منصوبہ بندی، اور مالیاتی انتظامیہ پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ایک منظم سیشنز کی ایک سیریز میں حصہ لیا۔ یہ تربیت ڈاکٹروں کو صحت کی دیکھ بھال کے نظام میں اعلیٰ ذمہ داریاں نبھانے کے لیے درکار مہارتوں اور اعتماد کے ساتھ بااختیار بنانے کے لیے بنائی گئی تھی۔پوری تربیت ایک پیشہ ورانہ اور اچھی طرح سے منظم ماحول میں منعقد کی گئی تھی، جس سے سب کے لیے ایک نتیجہ خیز اور خوشگوار سیکھنے کے تجربے کو یقینی بنایا گیا تھا۔ پروگرام کو مربوط کرنے اور سہولت فراہم کرنے میں PHSA ٹیم کی کاوشوں کو سراہا گیا۔ٹریننگ کے اختتام پر، تمام شرکاء نے اعزازی ڈائریکٹر جنرل، ڈاکٹر عبدالوحید اور ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن ڈاکٹر رابعہ وحید کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا، جنہوں نے پروگرام کے آغاز اور نگرانی میں شاندار قیادت کی۔ انہوں نے پوری ٹریننگ کے دوران فراہم کیے گئے خوشگوار اور معاون ماحول کے لیے خصوصی تعریف کی جس نے اس کی کامیابی میں بہت اہم کردار ادا کیا۔

حکومت نے آئی ایم ایف سے تین سال میں چار معاہدے کیے، جو ان کے دعووں کی نفی ہے۔ شیخ وقاص اکرم

پاکستان کی عالمی تنہائی” کا دعویٰ جھوٹ پر مبنی تھا عمران خان کے دور میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے بغیر رسمی درخواست کے 2 ارب ڈالرز اور 1.2 ارب ڈالر کا تیل پاکستان کو فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ مرکزی سیکرٹری اطلاعات پی ٹی آئی شیخ وقاص اکرم

حکومت نے آئی ایم ایف سے تین سال میں چار معاہدے کیے، جو ان کے دعووں کی نفی ہے۔ شیخ وقاص اکرم

عمران خان حکومت کے آخری سال میں پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ 6.5 فیصد رہی جو مسلسل دوسرے سال 6 فیصد سے زائد تھی – ایسا 2005 کے بعد پہلی بار ہوا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

ملک کی شرح نمو 1.5 فیصد پر آ گئی ہے جو کرونا وائرس کے علاوہ گزشتہ 10 سال کی کم ترین سطح ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم اور پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی ڈی ایم حکومت کی تین سالہ کارکردگی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ جب پی ڈی ایم حکومت کا ”یومِ برسی” منایا جا رہا ہے، تو یہ ضروری ہے کہ ان کی کارکردگی اور دعوؤں کا حقیقت سے موازنہ کیا جائے۔ شیخ وقاص نے عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے وقت لگائے گئے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ”پاکستان کی عالمی تنہائی” کا دعویٰ جھوٹ پر مبنی تھا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ عمران خان کے دور میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے بغیر رسمی درخواست کے 2 ارب ڈالرز اور 1.2 ارب ڈالر کا تیل پاکستان کو فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ اسی دور میں چین، سعودی عرب، اور اسلامی ممالک کے ساتھ مضبوط سفارتی تعلقات قائم رہے۔ شیخ وقاص اکرم نے پی ڈی ایم حکومت بادے میں کہنا تھا کہ انہوں نے آئی ایم ایف سے تین سال میں چار معاہدے کیے، جو ان کے دعووں کی نفی ہے کہ پی ٹی آئی نے ”بارودی سرنگیں ” بچھائیں۔ شیخ وقاص نے سوال اٹھایا کہ سعودی عرب سے تعلقات بہتر بنانے کے دعوے کے باوجود، موجودہ حکومت کون سے معاشی منصوبے یا سرمایہ کاری لائی ہے شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ موجودہ وزیراعظم کی تقرری پر بھی تنقید کی، کہ ایک شخص جو منی لانڈرنگ اور کرپشن کیسز میں ضمانت پر ہو، اسے وزیرِ اعظم بنانا قومی اداروں کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور کسان اسکی جان ہے اور موجودہ وفاقی اور پنجاب حکومت کسان دشمن ہے جس کا مطلب ہے کہ پاکستان کے دشمن ہیں۔مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کی حکومت نے ملک کو ڈیفالٹ سے نکالا اور معاشی بحالی کی بنیاد رکھی۔ ان کے آخری سال میں پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ 6.5 فیصد رہی، جو مسلسل دوسرے سال 6 فیصد سے زائد تھی – ایسا 2005 کے بعد پہلی بار ہوا۔ مزمل اسلم نے کہا کہ اس وقت پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 24 ارب ڈالر تھے اور کریڈٹ ریٹنگ آج کی نسبت بہتر تھی۔ عمران خان کے بعد معاشی زوال شروع ہوا، اور صرف ایک مہینے میں 8 ارب ڈالر ملک سے نکل گئے۔ آج ملک کی شرح نمو 1.5 فیصد پر آ گئی ہے جو گزشتہ 10 سال کی کم ترین سطح ہے کرونا وائرس سال کے علاوہ)۔ مزمل اسلم نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت معیشت کی بحالی کے دعوے کر رہی ہے جبکہ عالمی ادارے خود اس کی تردید کر رہے ہیں۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کے مطابق اس سال جی ڈی پی گروتھ صرف 2.5 فیصد اور اگلے سال 3 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ آئی ایم ایف کے بغیر حکومت ایک قدم نہیں اٹھا سکتی۔ پے در پے پروگرام لیے جا رہے ہیں، اور حکومت کے دعوے تضادات کا شکار ہیں۔ صنعتی اور زرعی شعبہ بھی زوال کا شکار ہے، اور ملک ایک تاریخی معاشی سست روی کے دور سے گزر رہا ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا ہے جب ہم نے حکومت سنبھالا تب صوبہ خیبرپختونخوا شدید مالی دباؤ کا شکار تھا لیکن بہتر مالی حکمت عملی کے تحت خیبرپختونخوا حکومت نے 250 ارب روپے کا فنانشل ایمپکٹ پیدا کیا۔ مزمل اسلم نے کہا کہ صوبے نے 49 فیصد ٹیکس و نان ٹیکس آمدن میں اضافہ کیا اور ترقیاتی بجٹ کو پہلی بار 26 فیصد تک بڑھایا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا کہ اب تک 80 فیصد ترقیاتی فنڈز جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ وفاق نے ابھی صرف 20 فیصد فنڈز جاری کیے ہیں۔ صحت کارڈ کی واجبات 19 ارب سے کم ہو کر 12 ارب روپے رہ گئی ہیں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ مئی کے آخر تک تمام اے ڈی پی پلس فنڈز 27 ارب روپے بھی جاری کر دیے جائیں گے۔

معاون خصوصی برائے جنگلات پیر مصور خان کی مشیر خزانہ مزمل اسلم سے ملاقات

مالاکنڈ تھری بجلی گھر سستی بجلی کی پیداوارکے ساتھ صوبے کی معیشت کے لئے نہایت اہمیت کا حامل ہے، پیر مصور خان

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے جنگلات،ماحولیات، جنگلی حیات و موسمیاتی تبدیلی پیر مصور خان نے گزشتہ روز صوبائی مشیر خزانہ مزمل اسلم سے انکے دفتر سول سیکرٹریٹ میں ملاقات کی اس موقع پر معاون خصوصی پیر مصور خان نے مشیر خزانہ سے ٹوبیکو سیس اور ملاکنڈ تھری پن بجلی گھر سے حاصل ہونے والی آمدن سے ضلع ملاکنڈ کے عوام کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لئے فنڈزمختص کرنے کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی۔انھوں نے مقامی کمیونٹی کو ترقیات فنڈز کی فراہمی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مذکورہ اقدام سیمالاکنڈ کے عوام کو فائدہ پہنچے گا، پیر مصور خان نے کہا کہ مالاکنڈ تھری بجلی گھر صوبائی حکومت کی ایک اہم کامیابی ہے جو سستی بجلی کی پیداوارکے ساتھ ساتھ صوبے کی معیشت کے لئے نہایت اہمیت کا بھی حامل ہے، ملاقات میں مشیر خزانہ مزمل اسلم نے معاون خصوصی کو ملاکنڈ تھری بجلی گھر سے ملاکنڈ کے عوام کی ترقی کے لئے فنڈز کی جلد فراہمی کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح صوبے کے عوام کو انکے گھر کی دہلیز پر سہولیات کی فراہمی ہے جسکے لئے تمام تر دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا۔

ڈپٹی سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی ثریا بی بی کی زیر صدارت امن و امان کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ ک

ڈپٹی سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی ثریا بی بی کی زیر صدارت امن و امان کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ کے افسران کا ایک امن جرگہ بونی چترال میں منعقد ہوا جس میں ڈپٹی کمشنر اپر چترال،ڈی پی او اپر چترال، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر،تحصیل چیرمین مستوج سردار حکیم،تحصیل چیرمین تورکھو موڑکھو میر جمشید اور ٹی ایم او موڑکھو کے علاؤہ علاقائی مشران نے بھی شرکت کی۔اس موقع پر ڈی پی او اپر چترال نے علاقے کی سیکیورٹی کے حوالے سے شرکا کو تفصیلی بریفننگ دی، انہوں نے علاقے کے عوام سے درخواست کی کہ اپر چترال کے مثالی امن کو قائم رکھنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔جرگے میں اپر چترال میں رہائش پزیر افعان مہاجرین کی وطن واپسی کے فیصلے سے متعلق ڈپٹی کمشنر اپر چترال کا کہنا تھا کہ ریاستی احکامات کی روشنی میں افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز اور غیر قانونی مقیم افراد کو پہلے مرحلے میں باعزت طریقے سے واپس بھیجنے کے لیے انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی سپیکر ثریا بی بی نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ افعان شہریوں کو باعزت طریقے سے وطن واپس بھیجا جائے۔ اس موقع پرتاجر یونین کے نمائندوں نے بونی بازار میں سیکیورٹی کیمروں کی تنصیب اور بونی چوک سے لیکر بونی میڈکل سنٹر تک مین روڈ کی فوری مرمت کے مسائل پیش کئے۔