خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ معدنیات کا اجلاس منگل کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین اور رکن صوبائی اسمبلی اکرام اللہ غازی نے کی۔ اجلاس میں کمیٹی کے اراکین و ممبران صوبائی اسمبلی محمد یامین خان، محمد زبیر خان، محمد انور خان، احمد کریم کنڈی، محترمہ فائزہ ملک اور صوبیہ شاہد نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ سیکرٹری معدنیات، ڈائریکٹر جنرل معدنیات معہ متعلقہ عملہ، محکمہ قانون، ایڈشنل ایڈووکیٹ جنرل اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے افسران بھی اجلاس میں موجود تھے۔اجلاس میں مختلف پارلیمانی سوالات اور سابقہ اجلاس کے احکامات پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ رکن صوبائی اسمبلی احمد کریم کنڈی کی جانب سے گزشتہ اجلاس میں پیش کیے گئے سوال پر محکمہ معدنیات نے کمیٹی کو متعلقہ امور سے آگاہ کیا۔جس پر چیئرمین قائمہ کمیٹی نے اسمبلی حکام اور محکمہ معدنیات کو ہدایت کی کہ اگلے ہفتے ایک اجلاس بلوایا جائے جس میں متعلقہ افسران کو مدعو کیا جائے تاکہ تمام بند لیزوں پر دوبارہ سے کام کا آغاز کروایا جاسکے اور مستقبل میں تنازعات سے بھی بچا جاسکے اور عوام کے ساتھ ساتھ صوبے کو اس کے ترقیاتی اور محصولاتی ثمرات مل سکیں۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی اکرام اللہ غازی نے محکمہ معدنیات کو ہدایات کی کہ محکمے سے منسلک تمام لیگل ایڈوائزر کا مکمل ڈیٹا بمع ان کی تنخواہوں اور دیگر مراعات کے جلد از جلد کمیٹی کو فراہم کیاجائے۔ اسی طرح محکمے کے تمام زیر التوا کیسز کا بروقت خاتمہ یقینی بنایا جائے تاکہ لوگوں کو اس کے مثبت نتائج مل سکیں۔ اکرام اللہ غازی نے مزید ہدایت کی کہ محکمے میں دو سالہ پوسٹنگ ٹرانسفر پالیسی پر بھی سختی سے عملدرآمد کروایا جائے اور ان تمام افسران کا تبادلہ کروایا جائے جنہوں نے ایک ہی سٹیشن پر دو یا دو سال سے زیادہ کا عرصہ گزار رکھا ہو اور اس تمام عمل میں مکمل میرٹ اور شفافیت سے کام لیا جائے۔اجلاس کے اختتام پر چیئرمین قائمہ کمیٹی نے حکم دیا کہ آئندہ اجلاس میں جیالوجی اور معدنیات کے شعبے سے وابستہ ماہرین کو بھی بلوایا جائے تاکہ ان سے مفید مشورات مل سکے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منرل ٹیسٹنگ اتھارٹی کے قیام کو بھی جلد از جلد عملی جامہ پہنایا جائے تاکہ معدنیات کے شعبے میں صوبے کو تر قی سے ہمکنار کیا جاسکے اور معدنیات کی مد میں حاصل ہونے والے محصولات کو مزید بہتر اور مستحکم بنایا جاسکے۔
باڑاگلی سمر کیمپ، نتھیا گلی میں 4 روزہ یوتھ کنونشن کامیابی سے اختتام پذیر
خیبرپختونخوا میں نوجوانوں کی فکری رہنمائی، سماجی ہم آہنگی اور انسدادِ انتہا پسندی کے فروغ کے لیے ڈائریکٹوریٹ آف یوتھ افیئرز خیبرپختونخوا نے 4 روزہ یوتھ کنونشن کا انعقاد کیا۔وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان تاج محمد خان ترند کی ہدایت پر باڑاگلی سمر کیمپ، نتھیا گلی ایبٹ آباد میں 4 روزہ یوتھ کنونشن برائے انسدادِ پرتشدد انتہا پسندی کا کامیاب انعقاد کیا، جو 10 سے 13 اپریل 2026 تک جاری رہا۔یہ کنونشن شعبہ تاریخ، یونیورسٹی آف پشاور، NIPS اور KP CVE کے اشتراک سے منعقد ہوا، جس میں 120 نوجوانوں نے حصہ لیا۔ڈائریکٹوریٹ آف یوتھ افیئرز نے پروگرام کی منصوبہ بندی، انتظامات اور نوجوانوں کی مؤثر شمولیت میں کلیدی کردار ادا کیا۔مقررین اور شرکاء نے اس اقدام کو نوجوانوں کی تربیت اور امن کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا۔
انٹر کلب ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ کا آغاز کھیلوں کی سہولیات مزید اپڈیٹ کی جائیں گی، تاج محمد خان ترند
پشاور میں انٹر کلب ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ کا باقاعدہ آغاز ہو گیا۔ چیمپئن شپ میں پشاور ریجن کے 8 کلبوں کے 40 سے زائد کھلاڑی 6 مختلف کیٹیگریز میں حصہ لے رہے ہیں۔افتتاحی تقریب پشاور سپورٹس کمپلیکس کے جمنازیم ہال میں منعقد ہوئی جس کے مہمانِ خصوصی مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان تاج محمد ترند تھے۔ انہوں نے فیتہ کاٹ کر چیمپئن شپ کا افتتاح کیا۔تقریب میں ڈائریکٹر جنرل سپورٹس خیبرپختونخوا تاشفین حیدر، اے ڈی سی ریلیف مہران، خیبرپختونخوا اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر ہارون ظفر، سیکرٹری ذوالفقار علی بٹ، پاکستان باڈی بلڈنگ فیڈریشن کے صدر طارق پرویز، الیاس آفریدی، امجد خان، اسسٹنٹ ڈائریکٹر فنانس شاہ فیصل، چیف کوچ شفقت اللہ، ریجنل سپورٹس آفیسر کاشف فرحان، صوبائی ویٹ لفٹنگ ایسوسی ایشن کے صدر شیراز محمد اور ایڈمنسٹریٹر پشاور سپورٹس کمپلیکس یوسف آفریدی سمیت دیگر شخصیات نے شرکت کی۔تین روزہ چیمپئن شپ میں 55، 65، 73، 81، 89 اور 89+ کلوگرام کیٹیگریز میں مقابلے ہوں گے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی تاج محمد ترند نے کہا کہ ریجنل سطح پر کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد خوش آئند ہے، ایسے ایونٹس سے نوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کے مواقع ملتے ہیں اور نیا ٹیلنٹ سامنے آتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومتِ خیبرپختونخوا کے ویژن کے مطابق کھیلوں کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پشاور سپورٹس کمپلیکس میں کھیلوں کی تمام سہولیات کو مزید جدید بنایا جائے گا تاکہ نوجوانوں کو بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔افتتاحی تقریب میں کھلاڑیوں نے شاندار ڈیمانسٹریشن پیش کی جسے حاضرین نے خوب سراہا، جبکہ مہمانوں کو روایتی پگڑیاں بھی پہنائی گئیں۔
احساس انٹرن شپ پروگرام پر پیش رفت، طلبہ کے لیے ماہانہ وظیفے کی تجویز
محکمہ اعلی تعلیم سیکرٹریٹ میں احساس انٹرن شپ پروگرام کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں مجوزہ پروگرام پر صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔بریفنگ کے مطابق خیبرپختونخوا کے ڈومیسائل رکھنے والے بی ایس فارغ التحصیل طلبہ کو اس پروگرام کے تحت انٹرن شپ کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ انٹرن شپ کا دورانیہ کم از کم دو ماہ جبکہ زیادہ سے زیادہ چھ ماہ ہوگا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ منتخب انٹرنز کو 25 ہزار روپے ماہانہ معاوضہ دیا جائے گا، جبکہ پروگرام کے لیے کم از کم 3.0 جی پی اے رکھنے والے طلبہ کو اہل قرار دیا جائے گا۔مزید بتایا گیا کہ انٹرن شپ پروگرام کے مؤثر نفاذ کے لیے جامعات اور ڈگری کالجز کی سطح پر کوآرڈینیشن آفسز قائم کیے جائیں گے تاکہ طلبہ کو بہتر رہنمائی اور سہولت فراہم کی جا سکے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر مینا خان آفریدی نے کہا کہ احساس انٹرن شپ پروگرام کا مقصد طلبہ کو عملی میدان کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا اور انہیں مارکیٹ کے لیے تیار کرنا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا بہت جلد اس پروگرام کا باضابطہ افتتاح کریں گے، جس سے صوبے کے نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے۔
Arrest of Peaceful PTI Workers Outside Adiala Jail Reflects Authoritarian Governance in Punjab: Shafi Jan
Special Assistant to the Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa on Information and Public Relations, Shafi Jan, has stated that the arrest of peaceful workers of Pakistan Tehreek-e-Insaf outside Adiala Jail is highly condemnable and regrettable. He said that this action by the Punjab government is a clear example of authoritarian governance in the province.
He said that, in accordance with court orders, the sisters of PTI’s founding chairman Imran Khan and the party’s lawyers had gone to meet him. However, the Punjab government not only denied them permission to meet—openly violating the Constitution, law, court orders, and jail rules—but also arrested peaceful workers.
Shafi Jan stated that meetings of the founding chairman with his family, political leadership, and party lawyers are a fundamental right under the Constitution and law, which cannot be taken away under any circumstances.However, the Punjab government is continuously creating obstacles to these meetings.
He added that the undeclared ban on meetings with Imran Khan is a blatant violation of fundamental human rights. He said that keeping the founding chairman in solitary confinement is the worst example of political victimization, and that the authoritarian style of governance of both the federal and Punjab governments has been exposed before the nation.
He further stated that the federal government has become blinded by political revenge and is pushing the country toward crises. The Special Assistant added that the federal government is entirely focused on curbing the political activities of PTI, arresting peaceful workers, filing fabricated cases and pursuing political vendettas, while the public continues to suffer due to poor economic and anti-people policies.
Reaffirming his commitment, he said that PTI will continue its legal and peaceful political struggle for the supremacy of the Constitution and law, as well as for the release of Imran Khan, emphasizing that PTI is a peaceful and democratic political party that firmly believes in the rule of law.
چیئرپرسن خیبر پختونخوا کمیشن برائے وقارِ نسواں ڈاکٹر سمیرا شمس کی ہدایات پر صنفی بنیاد پر تشدد سے متاثرہ افراد کے لیے صوبائی ہیلپ لائن نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔
چیئرپرسن خیبر پختونخوا کمیشن برائے وقارِ نسواں ڈاکٹر سمیرا شمس کی ہدایات پر صنفی بنیاد پر تشدد سے متاثرہ افراد کے لیے صوبائی ہیلپ لائن نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے .اس سلسلے میں ذیلی کمیٹی کا پہلا اجلاس 14 اپریل 2026 کو کمیشن کے دفتر میں منعقد ہوا، جس کی صدارت ڈاکٹر سمیرا شمس نے کی۔ اجلاس میں متعلقہ اراکین کے ساتھ “بلو ہیلپ لائن” کے منیجر نے بھی شرکت کی۔اجلاس کے دوران “بلو ہیلپ لائن” کی کارکردگی اور چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ڈاکٹر سمیرا شمس نے ہدایت کی کہ خواتین کو فوری اور مؤثر مدد فراہم کرنے کے لیے ہیلپ لائن کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سائبر کرائم جیسے بڑھتے ہوئے مسائل کے حل کے لیے متعلقہ اداروں سے بہتر رابطہ ناگزیر ہے۔ڈاکٹر سمیرا شمس نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت خواتین کے تحفظ، انصاف تک رسائی اور ان کے حقوق کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایک مربوط “ون اسٹاپ ہیلپ لائن” کا قیام ایک اہم قدم ہوگا جس سے تمام خدمات ایک پلیٹ فارم پر دستیاب ہوں گی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بلو ہیلپ لائن کو ادارہ جاتی اور مالی طور پر مزید مضبوط بنانے کے لیے متعلقہ محکموں سے رابطہ کیا جائے گا، ہیلپ لائن عملے کی صنفی حساسیت کی تربیت کو یقینی بنایا جائے گا، عوامی آگاہی مہم کو مزید تیز کیا جائے گا، شکایات کے لیے ایک مربوط ڈیجیٹل نظام قائم کیا جائے گا، جبکہ اس حوالے سے مزید پیش رفت کے لیے اعلیٰ حکام سے اجلاس بھی کیے جائیں گے۔ڈاکٹر سمیرا شمس نے خصوصی طور پر ہدایت کی کہ خواتین کے تحفظ سے متعلق آگاہی مہمات کو بی آر ٹی کے ساتھ بھی شروع کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ عوام تک پیغام پہنچ سکے۔انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات خواتین کے تحفظ اور بروقت انصاف کی فراہمی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
صوبے میں صحت کی سہولیات کی بہتری کیلئے اہم اقدامات، 2500 طبی عملے کی بھرتی کا عمل جاری
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت صحت کے شعبے میں گڈ گورننس روڈمیپ پر عملدرآمد کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صحت کی سہولیات کی بہتری کیلئے جاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں بتایا گیا کہ محکمہ صحت وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی ہدایت پر گڈ گورننس روڈمیپ کے تحت صوبے میں صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے کیلئے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے۔ اس سلسلے میں میڈیکل آفیسرز، نرسز اور ڈینٹل سرجنز کی کمی کو پورا کرنے کیلئے تقریباً 2500 طبی عملے کی کنٹریکٹ بنیادوں پر بھرتی کا عمل جاری ہے۔بریفنگ کے دوران آگاہ کیا گیا کہ بھرتی کیے جانے والے عملے میں 1425 ڈاکٹرز، 250 ڈینٹل سرجنز اور 764 نرسز شامل ہیں۔ میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے ڈویژنل سطح پر ایک سے زائد انٹرویو پینلز تشکیل دیے گئے ہیں تاکہ کم وقت میں ڈویژنل سطح پر ہی بھرتیوں کا عمل مکمل کیا جا سکے۔اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ امیدواروں کی سہولت کیلئے ورچوئل انٹرویوز کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی جبکہ درخواستوں کی سکروٹنی کا عمل جاری ہے، جس کے بعد باقاعدہ انٹرویوز کا انعقاد کیا جائے گا۔
چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ نے ہدایت کی کہ دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں طبی عملے کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری طبی سہولیات میسر آسکیں۔ انہوں نے کنٹریکٹ پر بھرتیوں کا عمل رواں ماہ مکمل کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا نے کہ کہ صحت کے شعبے میں بہتری حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور گڈ گورننس روڈمیپ کے تحت عوام کو بہتر اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی سب سے اہم ہدف ہے۔
خیبر میڈیکل کالج پشاور میں دوسری سالانہ طبی کانفرنس کا انعقاد — وزیر صحت خلیق الرحمن کی بطور مہمانِ خصوصی شرکت
وزیر صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمن نے خیبر میڈیکل کالج پشاور میں منعقدہ دوسری سالانہ طبی کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ کانفرنس “سرحدوں سے آگے ہر ایک کے لیے صحت” کے عنوان کے تحت عالمی سطح پر مقیم سابق طلبہ تنظیم کے اشتراک سے منعقد کی جا رہی ہے۔
کانفرنس کے انعقاد سے قبل گزشتہ دو ہفتوں کے دوران خیبر میڈیکل کالج اور خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں ابتدائی تربیتی نشستوں کا کامیابی سے انعقاد کیا گیا، جبکہ مرکزی کانفرنس 14 سے 16 اپریل تک جاری رہے گی۔ یہ کانفرنس طبی تعلیم، تحقیق اور مریضوں کی دیکھ بھال کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کر رہی ہے۔تقریب میں چیئرمین بورڈ آف گورنرز ڈاکٹر واجد علی، ممبر بورڈ ڈاکٹر روبینہ گیلانی، ڈین خیبر میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر محمود اورنگزیب، کانفرنس آرگنائزر پروفیسر ڈاکٹر امبر اشرف اور عالمی سابق طلبہ تنظیم کی نمائندہ ڈاکٹر درخانہ سمیت دیگر معزز مہمانان نے شرکت کی۔صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمن نے اپنے خطاب میں کہا کہ صحت کے شعبے کو درپیش چیلنجز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے،خصوصاً آبادی میں تیزی سے اضافے کے باعث دستیاب وسائل پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صحت کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے، تاہم اس ضمن میں مزید بہتری اور اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ علاج کے ساتھ ساتھ احتیاطی تدابیر اور عوامی آگاہی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے،کیونکہ احتیاط علاج سے بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام میں صحت سے متعلق شعور اجاگر کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے تاکہ بیماریوں کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔وزیر صحت نے طبی ماہرین، اساتذہ اور منتظمین کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی کانفرنسز جدید طبی رجحانات، تحقیق اور پیشہ ورانہ مہارتوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔تقریب کے اختتام پر صوبائی وزیر صحت نے منتظمین کو ان کی شاندار خدمات کے اعتراف میں یادگاری شیلڈز پیش کیں۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ایکسائز، ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول کے ممبران اور اراکین اسمبلی نے منگل کے روز پشاور میں محکمہ ایکسائز کے پراونشل ویئر ہاوس کا دورہ کیا
خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ایکسائز، ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول کے ممبران اور اراکین اسمبلی نے منگل کے روز پشاور میں محکمہ ایکسائز کے پراونشل ویئر ہاوس کا دورہ کیا جہاں پر انھوں نے وئیر ہاوس کے حوالے سے تفصیلات، گاڑیوں کی ضبطی کے طریقہ کار اور ویئر ہاوس میں لگنے والی آگ کی وجہ سے رونما ہونے والے نقصان کے حوالے سے بریفنگ لی۔ کمیٹی کے ارکان میں ممبران اسمبلی عبدلمنعم خان، ملک طارق اعوان، محترمہ افشاں حسین اور محترمہ شازیہ تہماش شامل تھے جنکی قیادت ایم پی اے افشاں حسین کررہی تھیں جبکہ ڈایریکٹر جنرل ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول عبدلحلیم خان نے انھیں ادارے کے حوالے سے بریفنگ دی۔ اس موقع پر محکمہ ایکسائز، صوبائی اسمبلی و دیگر متعلقہ محکموں کے افسران بھی موجود تھے۔ ممبران اسمبلی کو وئیر ہاوس کے عملے،دستیاب سہولیات و چیلنجز، گاڑیوں کی ضبطگی کے طریقہ کار اور اعداد و شمار اور گزشتہ وقت میں ویئر ہاوس میں لگنے والی اگ سے ہونے والی نقصان کے حوالے سے تفصیلات فرام کی گئیں۔ ممبران نے دورے کے دوران ویئر ہاوس میں موجود ضبط شدہ گاڑیوں کا بھی جائزہ لیا جبکہ اس کی عمارت کا بھی معائنہ کیا۔ اس موقع پر ممبران اسمبلی اور کمیٹی کے اراکین نے تمام حقائق کا جائزہ لیتے ہوئے اتفاق کیا کہ وئیر ہاوس کے عملے کے مالی معاملات کے صحیح انتظام و انصرام کےلئے اسے اپنا ڈی ڈی او کوڈ وبجٹ اور وئر ہاوس انچارج کی اسامی فراہم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس ادارے کے معاملات کو بلا کسی روکاوٹ احسن انداز میں چلایا جا سکے۔ انھوں نے کہا کہ قلیل مدتی انتظامات میں ویئر ہاوس کیساتھ بجلی لائن سے ممکنہ اگ لگنے کے امکانات سے بچنے کیلئے تاروں کو محفوظ بنانے کی ضرورت ہے تاکہ موجودہ حالت میں خدانخواستہ کبھی بھی دوبارہ اس طرح کا ناخوشگوار حادثہ رونما نہ ہوسکے۔ کمیٹی ممبران نے کہا کہ وئر ہاوس کو مستقبل میں ہر پہلو سے محفوظ بنانے کیلئے ریگی للمہ میں پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی ملکیتی اراضی یاکسی دوسرے متبادل قریب اور موزوں سرکاری زمین پر قیام عمل میں لایا جائے۔ انھوں نے کہا کہ کمیٹی ممبران اس ضمن میں اپنی سفارشات چیرمین کمیٹی کو پیش کریں گے جسے مزیر ممکنہ عملدرآمد کیلے متعلقہ فورم کو ارسال کیا جائے گا۔
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان نے منگل کے روز محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے بنوں، ایبٹ آباد، سوات، پشاور اور شمالی وزیرستان ڈویژن کے نئے بھرتی ہونے والے آپریشنل سٹاف میں تقرر نامے تقسیم کیے
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان نے منگل کے روز محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے بنوں، ایبٹ آباد، سوات، پشاور اور شمالی وزیرستان ڈویژن کے نئے بھرتی ہونے والے آپریشنل سٹاف میں تقرر نامے تقسیم کیے۔ جن اسامیوں پر بھرتی کی گئی ان میں آسامیوں میں ٹیوب ویل آپریٹر، وال مین اور آپریٹر کم چوکیدار شامل تھیں۔تقریب صوبائی وزیر کے دفتر پشاور میں منعقد ہوئی جس میں رکن خیبر پختونخوا اسمبلی زاہداللہ خان، متعلقہ ایکسینز (XENs) اور محکمہ کے دیگر متعلقہ افسران نے بھی شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر فضل شکور خان نے نئے تعینات ہونے والے ملازمین کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ صوبے کے عوام کو صاف اور محفوظ پینے کے پانی کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔صوبائی حکومت عوامی فلاح و بہبود کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور اس ضمن میں محکمہ کی استعداد کار میں اضافہ ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت شفافیت اور میرٹ کو ہر صورت یقینی بنا رہی ہے اور تمام تقرریاں قواعد و ضوابط کے مطابق کی جاتی ہے ۔صوبائی وزیر نے نئے بھرتی ہونے والے اہلکاروں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری دیانتداری، محنت اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ادا کریں اور عوام کو بہترین سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پانی کی فراہمی کے منصوبوں کی مؤثر فعالیت کو برقرار رکھنا محکمہ کی اولین ذمہ داری ہےانہوں نے متعلقہ افسران کو بھی ہدایت کی کہ وہ فیلڈ میں جاری منصوبوں کی مسلسل نگرانی کریں اور کسی بھی قسم کی خرابی یا عوامی شکایات کے ازالے کے لیے فوری اقدامات اٹھائیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئے نئے بھرتی ہونے والے ملازمین محکمہ کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے اور عوامی خدمت کے جذبے کے تحت اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھائیں گے۔
