Home Blog Page 200

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیرِ صدارت گورننس سے متعلق ہفتہ وار جائزہ اجلاس

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیرِ صدارت گورننس سے متعلق ہفتہ وار جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں محکموں کے سیکرٹریز، متعلقہ حکام نے شرکت کی جبکہ ڈپٹی کمشنرز نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔ اجلاس میں صوبائی محکموں کی کارکردگی اور جاری ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے بھر میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف جاری مہم کے دوران اب تک 1270 کنال سے زائد سرکاری اراضی واگزار کرائی جاچکی ہے جبکہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مزید 76 کنال اراضی کو تجاوزات سے پاک کیا گیا۔ سوات کے علاقے کالام میں آبی گذرگاہوں پر قائم غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی گئی ہے اور واگزار کرائی گئی جگہوں کو محفوظ بنانے کے لیے برجیاں نصب کر دی گئی ہیں تاکہ دوبارہ تجاوزات نہ ہو سکیں۔حکومت خیبرپختونخوا نے واضح کیا کہ تجاوزات کی روک تھام اور این او سیز و بلڈنگ پلانز کی منظوری میں غفلت برتنے والے متعلقہ افسران و اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ پی ڈی اے کے حیات آباد ماڈل سیکٹر پر ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہے جبکہ 16 نومبر سے پشاور رنگ روڈ اور جی ٹی روڈ کی اپ لفٹ پر کام کا آغاز کیا جائے گا۔سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کے قیام کے فریم ورک پر کام تیز کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح سیاحت کے فروغ کے لیے کالام میں بوئیوں اسکائی ریزارٹ سے متعلق تجاویز پر پیش رفت جاری ہے جبکہ درابن اکنامک زون میں سرمایہ کاروں کی شمولیت کے لیے اسٹیک ہولڈرز روڈ شو منعقد کیا جا رہا ہے۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ صوبے میں ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے الیکٹرک رکشوں اور الیکٹرک بسوں کے حوالے سے جامع لائحہ عمل تشکیل دیا جا رہا ہے۔ محکمہ مواصلات و تعمیرات نے کم لاگت اور کم وقت میں مکمل ہونے والی لائٹ گیج اسٹرکچر ٹیکنالوجی پر بھی تفصیلی بریفنگ دی۔مزید بتایا گیا کہ داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر عمل درآمد تیز کرنے اور ترقیاتی کام کی موثر مانیٹرنگ کے لیے ایکشن پلان وضع کر دیا گیا ہے۔چیف سیکرٹری نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ ترقیاتی اقدامات کی رفتار مزید تیز کی جائے اور عوامی فلاح سے متعلق منصوبوں کی شفاف و بروقت تکمیل یقینی بنائی جائے۔

واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز کمپنی پشاور جائزہ اجلاس، روزانہ کی بنیاد پر صفائی نظام کو مانیٹر کر رہا ہوں، کارکردگی مزید بڑھائیں۔ مینا خان آفریدی

خیبرپختونخوا کے وزیر بلدیات مینا خان آفریدی کی زیر صدارت واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز کمپنی پشاور (WSSP) کا ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں کمپنی کی کارکردگی، مالی امور اور سروس ڈلیوری کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں سیکرٹری بلدیات اسلم ثاقب رضا، چیف ایگزیکٹیو آفیسر ڈبلیو ایس ایس پی یاسر سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران متعلقہ حکام نے وزیر بلدیات کو ادارے کی مجموعی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی۔بریفنگ کے مطابق 544 ٹیوب ویلز کے ذریعے ڈبلیو ایس ایس پی اپنے زیر انتظام علاقوں میں پینے کا صاف پانی فراہم کر رہی ہے، جبکہ 1400 کلومیٹر پر محیط پانی کی سپلائی لائنز ادارے کے زیر انتظام ہیں۔مزید بتایا گیا کہ ڈبلیو ایس ایس پی روزانہ کی بنیاد پر 1570 پوائنٹس سے تقریباً 500 ٹن کوڑا کرکٹ اٹھاتی ہے، جبکہ پشاور کے 42 یونین کونسلز میں 1860 کلومیٹر نالیوں کی صفائی کا کام بھی ادارہ انجام دے رہا ہے۔حکام نے آگاہ کیا کہ ٹیوب ویلز کے بجلی بل کی مد میں ماہانہ 13 کروڑ روپے ادا کیے جا رہے ہیں، اور کوڑا فروخت کرنے کے عمل کی منظوری کی سمری محکمہ پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ کے پاس زیر غور ہے۔مزید بتایا گیا کہ خدمات کے نئے ٹیرف پر عمل درآمد سے کمپنی کی آمدنی 19 ملین سے بڑھ کر 28 ملین روپے ماہانہ تک پہنچ گئی ہے، جبکہ پشاور کی دو ملین آبادی کے لیے کمپنی کے پاس 484 فلیٹ گاڑیاں دستیاب ہیں۔ ڈبلیو ایس ایس پی نے شہر کے مختلف علاقوں میں 20 نئے ماڈل اسٹریٹس بھی بنائے ہیں۔وزیر بلدیات مینا خان آفریدی نے اجلاس کے دوران ہدایت کی کہ 69 مزید ٹیوب ویلز کو فوری طور پر ڈبلیو ایس ایس پی کے حوالے کرنے کا عمل تیز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی کی ریونیو میں اضافے کے لیے ایک ماہ کے اندر مؤثر اقدامات کیے جائیں۔مینا خان آفریدی نے ہدایت کی کہ کل سے پشاور کی تمام بڑی شاہراہوں کو ہر صورت صاف ستھرا رکھا جائے اور شہریوں کو صاف ماحول فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات میں تیزی لائی جائے۔انہوں نے کہا کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر صفائی ستھرائی کے عمل کو عام آدمی کی نگاہ سے مانیٹر کروں گا تاکہ عوامی سطح پر بہتری کے اثرات واضح طور پر نظر آئیں۔

صوبائی وزیر بلدیات مینا خان آفریدی اور معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کی مجوزہ ستائیسویں آئینی ترمیم کے حوالے سے پریس کانفرنس

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ شفیع جان نے صوبائی وزیرِ بلدیات مینا خان آفریدی کے ہمراہ پشاور پریس کلب میں مجوزہ ستائیسویں آئینی ترمیم کے حوالے سے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اس مجوزہ ترمیم کی سخت مذمت کی ہے۔شفیع جان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف اور صوبائی حکومت اس ترمیم کے خلاف قانونی فورمز سمیت تمام آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ جمہوریت میں پارلیمنٹ سول بالادستی کی علامت ہوتی ہے، تاہم وفاقی حکومت مجوزہ ستائیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے جمہوریت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سول بالادستی کے لیے بھرپور کردار ادا کرے گی۔ جمہوریت کی نام نہاد علمبردار جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اس مجوزہ ترمیم میں پیش پیش ہے۔شفیع جان نے مزید کہا کہ 1973 کا آئین تمام جماعتوں کے اتفاق رائے سے تشکیل دیا گیا تھا، لیکن اب انتہائی جلد بازی میں آئین میں ترامیم کی جا رہی ہیں، انھوں نے کہا کہ بانی و چئیر مین عمران خان کی رہائی کے بعد ملک کا سیاسی منظر نامہ بدل جائے گا، دو تہائی اکثریت کے ساتھ وفاق میں حکومت قائم کرینگے اور ان ترامیم کا خاتمہ کرینگے،ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک صوبے کے منتخب وزیراعلیٰ پر مقدمہ درج کیا گیا، خیبرپختونخوا میں بانی وچیئرمین عمران خان کی عوامی حکومت قائم ہے، جہاں وزیراعلیٰ بغیر پروٹوکول کے عوام کے درمیان ہوتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں معاون خصوصی نے بتایا کہ صوبے میں امن کے قیام کے لیے تاریخ کا سب سے بڑا امن جرگہ منعقد کیا جا رہا ہے جس میں تمام سیاسی جماعتوں کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔اس موقع پر صوبائی وزیر بلدیات مینا خان آفریدی نے کہا کہ مجوزہ ستائیسویں آئینی ترمیم دراصل سول بالادستی اور پارلیمنٹ کو مفلوج کرنے کی ایک سازش ہے،جعلی وفاقی حکومت کو اس نوعیت کی آئینی ترامیم کا کوئی اختیار نہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت وفاق میں ہماری منتخب حکومت گرائی گئی جس کے بعد جعلی وفاقی فارم 47 حکومت نے 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے خارجہ، داخلہ پالیسی اور معیشت کو تباہ کردیا۔مینا خان آفریدی نے کہا کہ حکومتی وزراء کو مجوزہ آئینی ترمیم کے نکات کا علم تک نہیں، اور اس میں صدر پاکستان کو تاحیات استثنیٰ دینے کی تجویز جمہوری اقدار کے سراسر منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے کسی جمہوری ملک میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ گزشتہ پچاس سالوں سے ملک پر مسلط سیاسی جماعتوں نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے، عوام سے روزگار چھین لیا گیا اور عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا گیا۔

داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے سیٹلمنٹ آپریشن میں تیزی لاتے ہوئے ایک ماہ میں عمل مکمل کیا جائے — کمشنر ہزارہ فیاض علی شاہ

کمشنر ہزارہ ڈویژن فیاض علی شاہ کی زیرِ صدارت داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے لیے حاصل شدہ اراضی میں جاری سیٹلمنٹ آپریشن کی پیش رفت کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل)/سیٹلمنٹ آفیسر اپر کوہستان نے منصوبے پر اب تک کی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی، جبکہ ڈپٹی کمشنر اپر کوہستان اور دیگر متعلقہ افسران بھی اجلاس میں شریک تھے۔کمشنر ہزارہ نے ہدایت دی کہ سیٹلمنٹ کا عمل ہر صورت ایک ماہ کے اندر مکمل کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے مؤثر ٹیمیں تشکیل دی جائیں، ذمہ داریوں کی واضح تقسیم کی جائے، اور اگر اضافی عملے یا پٹواریوں کی ضرورت ہو تو فوری طور پر رپورٹ ارسال کی جائے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیوٹی سے غیر حاضر اہلکاروں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ مزید کہا کہ اگر واپڈا سے کسی قسم کی معاونت درکار ہو تو بروقت رابطہ کیا جائے، اور اگر تعاون میں کوئی رکاوٹ درپیش ہو تو معاملہ فوراً ان کے نوٹس میں لایا جائے تاکہ بر وقت حل ممکن بنایا جا سکے۔کمشنر ہزارہ نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے سیٹلمنٹ آپریشن ایک ماہ کے اندر مکمل کیا جائے، اور ہفتہ وار پیش رفت رپورٹ کمشنر آفس کو ارسال کی جائے۔انہوں نے واضح کیا کہ داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ ایک قومی اہمیت کا حامل منصوبہ ہے، لہٰذا اس میں کسی قسم کی کوتاہی یا تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

صوبائی وزیر تعلیم ارشَد ایوب خان نے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم میں نئے تعینات ہونے والے 156 اے ایس ڈی ای اوز (Assistant Sub-Divisional Education Officers) کو فریش اپوائنٹمنٹ/ایڈجسٹمنٹ آرڈرز تقسیم کئے

صوبائی وزیر تعلیم ارشَد ایوب خان نے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم میں نئے تعینات ہونے والے 156 اے ایس ڈی ای اوز کو فریش اپوائنٹمنٹ/ایڈجسٹمنٹ آرڈرز تقسیم کئے۔ اس موقع پر سیکرٹری ایجوکیشن محمد خالد خان اور ڈائریکٹر ایجوکیشن نغمانہ سردار بھی موجود تھے۔محکمہ تعلیم کے کمیٹی روم میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر تعلیم ارشد ایوب خان نے کہا کہ محکمہ تعلیم کی کارکردگی مزید بہتر بنانے،سکولوں کی سطح پر انتظامی امور میں شفافیت لانے اور ریفارمز کو عملی سطح پر مؤثر بنانے کے لئے یہ تعیناتیاں انتہائی اہمیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام تقرریاں میرٹ اور شفاف طریقہ کار کے تحت عمل میں لائی گئی ہیں۔ جس کیلئے صوبائی پبلک سروس کمیشن کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ انتظامی کیڈر کے یہ نو تعینات افسران محکمہ تعلیم میں جاری ریفارمز ایجنڈا پر من و عن عمل کریں گے اور ان کے آنے سے سسٹم میں مزید بہتری آئے گی اور انتظامی کیڈر آفسران کی کمی پوری ہو جائے گی۔ وزیر تعلیم نے ایجوکیشن حکام کو ہدایات جاری کیں کہ نئے تعینات ہونے والے اے ایس ڈی ای اوز کے لئے آئندہ ہفتے سے 6 ہفتوں پر مشتمل خصوصی تربیتی پروگرام شروع کیا جائے، جس میں تعلیمی نظم و نسق، سکول مانیٹرنگ، ریفارمز ایجنڈے کے نفاذ، اور سروس ڈیلیوری ماڈلز پر جامع تربیت دی جائے۔انہوں نے نو تعینات انتظامی کیڈر آفسران کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ تعلیم میں میرٹ پر آپ لوگوں کے انتخاب کے بعد آپ لوگوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ تعلیم ایک مقدس پیشہ ہے اور آپ لوگوں نے ہی تعلیمی نظام میں مزید بہتری لانے کیلئے اقدامات کرنے ہوں گے۔ آخر میں وزیر تعلیم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایات کی روشنی میں تعلیمی شعبے میں بہتری اور اصلاحات کے سفر کو مزید مؤثر اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گی۔

محکمہ جنگلی حیات خیبر پختونخوا نے سیزن 2026-2025 کیلئے پارٹریج شوٹنگ پالیسی کا اعلان کر دیا

خیبر پختونخوا وائلڈلائف ڈیپارٹمنٹ نے سیزن 2026-2025 کیلئے پارٹریج شوٹنگ پالیسی کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں چیف کنزرویٹر وائلڈلائف خیبر پختونخوا کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق سی سی، بلیک، گریے اور چکور پارٹریج کی شوٹنگ صرف اتوار کے روز 16 نومبر 2025 سے 11 جنوری 2026 تک صرف اُن پبلک، کمیونٹی اور نجی گیم ریزروز میں کی جا سکے گی جنہیں اس سیزن کے لئے“اوپن”یعنی کھلاقرار دیا گیا ہے۔ جبکہ اُن گیم ریزروز میں جنہیں“کلوزڈ” بندقرار دیا گیا ہے، شکار بالکل ممنوع ہو گا۔اس سلسلے میں خصوصی پرمٹس متعلقہ قوانین کے تحت جاری کئے جائیں گے اور کسی بھی پرمٹ ہولڈر کو مقرر کردہ بیگ لمٹ سے تجاوز کی ہرگز اجازت نہیں ہو گی۔ خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ کہ چیف کنزرویٹر نے کہا کہ جنگلی حیات کے تحفظ اور گیم انواع کے سائنسی و منظم طریقے سے انتظام کو اولین ترجیح حاصل ہے، لہٰذا تمام شکاری حضرات سے استدعا ہے کہ وہ اعلامیہ میں درج شرائط و ضوابط اور دیگر متعلقہ قوانین و قواعد کی مکمل پابندی کرتے ہوئے ذمہ دارانہ شکار کو یقینی بنائیں۔مزید معلومات اور پرمٹ کے حصول کیلئے شکار کی خواہش مند حضرات دفتر اوقات کار کے دوران متعلقہ کنزرویٹر وائلڈلائف دفاتر سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

صوبائی وزیر صحت کی زیر صدارت مہم کو کامیاب بنانے سے متعلق جائزہ اجلاس کا انعقاد

خسرہ و روبیلا ٹاسک فورس کاجائزہ اجلاس وزیر صحت خلیق الرحمن کی زیرِ صدارت پشاور میں منعقد ہوا، جس میں 17 سے 29 نومبر 2025 کے دوران جاری رہنے والی خسرہ و روبیلا ویکسینیشن مہم کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ اس مہم کا مقصد خیبر پختونخوا کے 37 اضلاع میں 6 ماہ سے 5 سال تک کے بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگانا ہے۔اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری (پلاننگ)، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندے، اور دیگر متعلقہ حکام شریک ہوئے، جبکہ کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، اور ضلعی پولیس افسران نے آن لائن شرکت کی۔اجلاس میں مہم کی مجموعی تیاریوں، خاص کر انتظامی و رابطہ کاری کے امور، ویکسین کی ترسیل، عملے کی تربیت، اور مائیکرو پلاننگ پر غور کیا گیااور اب تک متعلقہ محکموں کی جانب سے پیش کردہ تیاریوں اور پیشرفت پروزیر صحت نے اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیر صحت نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ویکسینیشن مہم کی اہمیت کو اجاگر کیا اور کہا کہ رواں سال خیبر پختونخوا میں خسرہ سے 25 اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ان اضلاع میں جہاں اموات زیادہ رپورٹ ہوئی ہیں، وہاں مہم کے معیار اور مائیکرو پلاننگ پر خصوصی توجہ دی جائے۔یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ مہم سے قبل عوامی آگاہی مہمات کو مؤثر بنایا جائے تاکہ عوام میں خسرہ و روبیلا ویکسینیشن کی اہمیت کے بارے میں شعور پیدا ہو اور زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔ ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت دی گئی کہ وہ اپنے اضلاع میں تیاریوں کا اندرونی جائزہ لیں۔ مہم کے حوالے سے عوامی آگاہی کو فروغ دینے کے لیے مختلف سٹیک ہولڈرز، سول سوسائٹی تنظیمیں، تعلیمی حکام، ماہرِ اطفال کی انجمنیں، صحافی، اور سوشل میڈیا ہولڈر کے ساتھ تعارفی و آگاہی اجلاسوں کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے۔وزیر صحت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بچوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے پرعزم ہے، اور تمام محکموں پر زور دیا کہ وہ خسرہ و روبیلا ویکسینیشن مہم کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے اپنے اپنے طورپر بھرپور کوشش کریں۔

وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ صحافی برادری نے گزشتہ چالیس سالوں میں امن و امان کے چیلنجز کے باوجود جرات، ہمت اور قربانی کی ایسی مثالیں قائم کی ہیں

وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ صحافی برادری نے گزشتہ چالیس سالوں میں امن و امان کے چیلنجز کے باوجود جرات، ہمت اور قربانی کی ایسی مثالیں قائم کی ہیں جو قابل ستائش ہیں۔ صوبے کے مشکل حالات میں صحافیوں نے عوامی مسائل کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا اور خیبرپختونخوا کا مثبت چہرہ دنیا کے سامنے پیش کیا، جو لائق تحسین ہے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے پشاور پریس کلب میں صحافیوں کی کرکٹ لیگ کے دسویں ایڈیشن کے افتتاح کے موقع پر کیا، اس موقع پر صوبائی وزیر بلدیات مینا خان آفریدی، پریس کلب کے صدر ایم ریاض، رحمان میڈیکل انسٹیٹیوٹ کے منیجر مارکیٹنگ اینڈ آپریشنز، سپورٹس کمیٹی کے چیئرمین سمیت کثیر تعداد میں صحافی بھی موجود تھے۔ کرکٹ لیگ رحمان میڈیکل انسٹیٹیوٹ (RMI) اسپانسر کر رہا ہے۔افتتاح کے موقع پر اپنے خطاب میں شفیع جان نے کہا کہ موجودہ دور میں ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز نے معلومات کے بہاؤ کو تیز تر کر دیا ہے ایسے وقت میں صحافیوں کی ذمہ داریاں بھی کئی گنا بڑھ گئی ہیں۔ آج کے دور میں صحافت ایک مسلسل دباؤ والا پیشہ بن چکا ہے، جہاں 24 گھنٹے خبری مسابقت کا سامنا رہتا ہے۔ تاہم، خیبرپختونخوا کے صحافی اس دباؤ کے باوجود نہ صرف اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں بلکہ عوامی خدمت کے میدان میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومتِ خیبرپختونخوا صحافیوں کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہے اور وزیرِاعلیٰ کی خصوصی ہدایت پر صحافیوں کے لیے ایک جامع سوشل سپورٹ پیکج تیار کیا جا رہا ہے، جس کا اعلان بہت جلد کیا جائے گا۔معاون خصوصی نے کہا کہ یہ کرکٹ لیگ صحافی برادری کے لیے ایک صحت مند اور مثبت سرگرمی ہے جو ان کے ذہنی و جسمانی سکون کے لیے نہایت مفید ثابت ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ صحافت ایک ہیکٹک پیشہ ہے، اس لیے ایسی سرگرمیاں تازگی، باہمی ہم آہنگی اور یکجہتی کے فروغ کا ذریعہ بنتی ہیں۔انہوں نے یقین دلایا کہ وہ خود، وزیرِ بلدیات مینا خان آفریدی اور دیگر کابینہ اراکین لیگ کے میچز میں شریک ہوں گے تاکہ صحافیوں کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔آخر میں شفیع جان نے تمام صحافیوں، تنظیمی نمائندوں اور لیگ کے منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت صحافی برادری کے ساتھ ہر قدم پر کھڑی ہے اور ان کے فلاحی مفادات کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات جاری رہیں گے۔

خیبرپختونخوا کے وزیر آبپاشی ر یاض خان نے کڑاکڑ ٹنل بونیر کا تفصیلی دورہ کیا

خیبرپختونخوا کے وزیر آبپاشی ر یاض خان نے کڑاکڑ ٹنل بونیر کا تفصیلی دورہ کیا اور منصوبے سے متعلق اب تک کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کے بھائی احمد خان، محکمہ پی کے ایچ اے، محکمہ آبپاشی اور متعلقہ اداروں کے افسران بھی موجود تھے۔ دورے کے دوران صوبائی وزیر کو متعلقہ افسران نے کڑاکڑ ٹنل بونیر سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی اور اب تک کی پیش رفت سے انہیں آگاہ کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر ریاض خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کڑاکڑ ٹنل کی تکمیل سے سوات اور بونیر کے درمیان سفر میں نمایاں آسانی پیدا ہوگی جس سے نہ صرف مقامی عوام کو آمدورفت میں سہولت ملے گی بلکہ سیاحت اور تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبائی حکومت صوبے میں مواصلات، سیاحت اور ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے تاکہ عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف اور سہولت فراہم کی جا سکے۔ ریاض خان نے کہا کہ یہ منصوبہ قائد عمران خان کے وژن کے عین مطابق ہے جنہوں نے ہمیشہ صوبے کے پسماندہ علاقوں کی ترقی اور سیاحت کے فروغ کو ترجیح دی ہے۔صوبائی وزیر ریاض خان نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ اس اہم منصوبے پر جلد از جلد کام مکمل کیا جائے تاکہ عوام اس منصوبے کے ثمرات سے پوری طرح مستفید ہو سکیں۔اس موقع پر صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان نے محکمہ آبپاشی کے متعلقہ افسران کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ دریائے سوات سے کڑاکڑ ٹنل کے راستے بونیر تک پائپ لائن کے ذریعے پانی کی فراہمی کے منصوبے کی فیزیبلٹی رپورٹ تین دن کے اندر مکمل کی جائے تاکہ اس اہم منصوبے پر جلد از جلد عملی کام کا آغاز کیا جا سکے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ یہ منصوبہ علاقے کی زرعی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل سے بونیر کے عوام کو پانی کی فراہمی میں نمایاں بہتری آئے گی اور زرعی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ آبپاشی چیف انجینئر کی نگرانی میں سروے ٹیم پوری لگن، دیانتداری اور شفافیت کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔

یومِ اقبال قومی شعور اور فکری بیداری کا روشن باب

تحریر: ڈاکٹر انجینئر محمد اطہر سوری

9 نومبر 2025 کو پاکستان کے عظیم مفکر اور شاعر ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کی سالگرہ کے موقع پر پختونخوا ریڈیو کوہاٹ FM 92.4 MHz نے ایک تاریخی اور فکری لحاظ سے وزنی براہِ راست پروگرام نشر کیا جس نے نہ صرف کوہاٹ بلکہ اس کے گرد و نواح میں بھی ایک نئی قومی اور فکری لہر دوڑائی۔ اس پروگرام نے سامعین کو علامہ اقبال کے اصل پیغام سے دوبارہ جوڑا اور ریڈیو کے کردار کو ایک فکری رہنما کے طور پر اجاگر کیا۔

پختونخوا ریڈیو کوہاٹ کے اس پروگرام کی سب سے نمایاں اور قابلِ فخر بات یہ تھی کہ یومِ اقبال کی عام تعطیل کے باوجود پختونخوا ریڈیو کوہاٹ کا پورا عملہ اور سٹاف حب الوطنی اور پیشہ ورانہ لگن کے جذبے سے دفتر میں موجود رہا۔ یہ عملی مثال ہے کہ جب قومی نظریات اور اقدار کے فروغ کی بات آئے تو حقیقی محنت اور قربانی کی ضرورت ہوتی ہے اور پختونخوا ریڈیو کوہاٹ کے عملے نے اسے عملی شکل میں ثابت کیا۔

پروگرام کا آغاز علامہ اقبال کے مشہور اور انقلابی اشعار کے ترنم سے ہوا جن کے بول سامعین کے دل و دماغ میں اتریں

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

یہ اشعار علامہ اقبال کے فلسفہ خودی کی اصل روح کو اجاگر کرتے ہیں اور سامعین کو اپنے اندر خوداعتمادی، حوصلہ اور قومی فخر پیدا کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ اس ترنم نے پروگرام کے آغاز ہی میں ایک بلند فکری معیار قائم کر دیا جس نے پورے نشریاتی سلسلے کو متاثر کیا۔

اس پروگرام میں ریڈیو کے دو اہم ستون اسٹیشن مینیجر ڈاکٹر انجینئر محمد اطہر سوری اور انجینئر صادق نے نہایت نمایاں کردار ادا کیا۔ دونوں نے اپنی گہری فکری بصیرت اور فنی مہارت کا ثبوت دیتے ہوئے علامہ اقبال کی زندگی، ان کی لازوال شاعری اور فلسفہ خودی پر جامع اور بامعنی روشنی ڈالی۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسلمانوں کی کھوئی ہوئی عظمت کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے خود احتسابی اور عملِ پیہم ناگزیر ہیں۔

یہ خصوصی براہِ راست نشریات نہ صرف ریڈیو کے روایتی سامعین بلکہ عوام کی بڑی تعداد کے لیے بھی ایک نیا تجربہ تھا۔ پروگرام کے دوران ٹیلی فون کالز، پیغامات اور سامعین کی بھرپور شرکت نے اس بات کا عملی ثبوت دیا کہ علامہ اقبال کا کلام آج بھی ہمارے اجتماعی شعور کا ایک اہم جزو ہے اور اس سے نوجوان نسل کی فکری تربیت میں مدد ملتی ہے۔

یومِ اقبال کے موقع پر اس پروگرام کی فکری اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اس میں صرف شاعری یا ترنم پر زور نہیں دیا گیا بلکہ علامہ اقبال کے فلسفہ خودی، ان کے نظریاتِ پاکستان اور مسلمانوں کے لیے عملی رہنمائی پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ اس فکری جہت نے پروگرام کو نہایت وزنی اور معتبر بنا دیا اور سامعین میں فکری بحث و مباحثے کی راہ ہموار کی۔

پروگرام کے دوران ملک کی موجودہ صورتحال اور نوجوانوں کے چیلنجز کو بھی اجاگر کیا گیا۔ اسٹیشن مینیجر نے کہا کہ آج کے دور میں نوجوانوں کے لیے علامہ اقبال کے پیغام کی اہمیت پہلے سے زیادہ ہے۔ خودی کا فلسفہ، قومی اتحاد اور مقصدِ زندگی کی وضاحت آج کے نوجوانوں کو راہِ راست دکھانے کے لیے لازمی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوان معاشرتی، اقتصادی اور علمی ترقی میں حصہ لے کر نہ صرف اپنے ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں بلکہ اپنی ذاتی زندگی میں بھی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔

نشریاتی پروگرام میں شریک دیگر ماہرین اور ریڈیو کے عملے نے بھی علامہ اقبال کے نظریات اور خیالات کو عملی مثالوں سے جوڑ کر پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کیسے معاشرتی بیداری، قومی یکجہتی اور خود اعتمادی کے اصول نوجوانوں کو نہ صرف انفرادی بلکہ اجتماعی سطح پر بھی مضبوط کر سکتے ہیں۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ نوجوان اگر اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں اور محنت و لگن سے کام کریں تو وہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ اپنے معاشرے کے لیے بھی روشن مستقبل تخلیق کر سکتے ہیں۔

پروگرام میں علامہ اقبال کے اشعار اور ان کے فلسفہ خودی کے اثرات کو معاشرتی مسائل، تعلیم اور نوجوانوں کی تربیت سے جوڑ کر پیش کیا گیا تاکہ سامعین یہ سمجھ سکیں کہ اقبال کا پیغام صرف شاعری یا فلسفہ تک محدود نہیں بلکہ عملی زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ریڈیو کے یہ فکری اقدامات اس بات کا مظہر ہیں کہ عوام کو قومی اور فکری تربیت دینے کے لیے جدید نشریاتی وسائل کو کس طرح موثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

یہ براہِ راست نشریات صرف معلومات تک محدود نہیں رہیں بلکہ سامعین کے درمیان بات چیت، سوالات اور جوابات کے ذریعے ایک فعال اور بامعنی فورم کی شکل اختیار کر گیا۔ ٹیلی فون کالز، ایس ایم ایس اور سوشل میڈیا کے ذریعے سامعین نے بھرپور شرکت کی جس نے پروگرام کو ایک عوامی سطح پر حقیقی فکری تبادلہ خیال میں بدل دیا۔ اس فورم نے یہ واضح کیا کہ ریڈیو آج بھی عوام کی سوچ اور شعور کو متاثر کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔

پروگرام کا اختتام وطن سے محبت، قومی اتحاد اور اتفاق کی دعاؤں کے ساتھ ہوا۔ علامہ اقبال کے درجات کی بلندی اور ان کی روح کے ایصالِ ثواب کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔ اختتام پر پیش کیا گیا یہ شعر امید افزا اور دل کو چھو لینے والا تھا

نہیں ہے نا اُمید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

یہ شعر نہ صرف علامہ اقبال کے فکر و فلسفہ کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ آج کے معاشرتی حالات میں بھی ایک پیغام دیتا ہے کہ مثبت سوچ، جذبہ اور عمل کے ذریعے ہر بحران اور چیلنج کو ممکنات میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

یومِ اقبال کا یہ شاندار پروگرام پختونخوا ریڈیو کوہاٹ کی نشریاتی تاریخ کا ایک درخشاں باب بن گیا ہے۔ اس پروگرام نے نہ صرف قومی وقار کو اجاگر کیا بلکہ فکری پختگی، معاشرتی شعور اور نوجوانوں کی تربیت کے لیے ایک مثالی کردار ادا کیا۔ پروگرام کے ذریعے یہ واضح ہوا کہ ریڈیو صرف خبروں یا تفریح تک محدود نہیں بلکہ ایک ایسا فکری اور تعلیمی فورم بھی ہے جو عوام کو شعور، آگاہی اور عمل کے لیے متحرک کر سکتا ہے۔

آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ اس پروگرام نے یہ بھی ثابت کیا کہ قومی اور فکری بیداری کے لیے جدت اور روایت کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔ پختونخوا ریڈیو کوہاٹ نے نہ صرف علامہ اقبال کے پیغام کو زندہ رکھا بلکہ اس کے اثرات کو عوام تک پہنچانے میں اپنی مکمل کامیابی بھی حاصل کی۔ ایسے پروگرام نوجوانوں کو قومی شعور، خودی کے فلسفہ اور حب الوطنی کے اصولوں سے روشناس کرانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں اور یہ یقین دلانے میں مدد دیتے ہیں کہ پاکستان کی ترقی اور فکری نشوونما کا دارومدار نوجوانوں کی تربیت اور قومی اقدار کی مضبوطی پر ہے۔