Home Blog Page 211

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیرصدارت اجلاس،گورننس امور، تجاوزات کے خاتمے کے لئے جاری اقدامات کا جائزہ

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیرصدارت گورننس امور پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں تجاوزات کے خاتمے، اشیائے خورونوش کی قیمتوں، صوبائی دارالحکومت کی اپ لفٹ، الیکٹرک وہیکلز اصلاحات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں انتظامی سیکرٹریز اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے جبکہ ڈپٹی کمشنرز نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔اجلاس کو تجاوزات ہٹانے کے حوالے سے اعدادوشمار پر بریفنگ دی گئی۔ ڈائریکٹر پی ایم آر یو کی جانب سے اجلاس کو بتایا گیا کہ چیف سیکرٹری کی ہدایت پر تجاوزات آپریشن کی ٹریکنگ کے لئے ڈیجیٹل ڈیش بورڈ بنایا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنرز نے اپنے اضلاع میں تجاوزات کیخلاف کاروائیوں کے بارے میں بتایا کہ پشاور میں 64 کنال اراضی واگزار کروائی گئی ہے۔ مردان میں 32 کنال، بنوں میں 120 کنال، ایبٹ آباد میں 40 کنال، ہری پور میں 39 کنال، چارسدہ میں 437 کنال اورٹانک میں 47 کنال اراضی واگزار کروائی گئی ہے۔ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کا کہنا تھا کہ تجاوزات کیخلاف بلا تفریق کاروائیاں جاری رکھی جائیں۔ ڈی جی پی ڈی اے نے بتایا کہ پشاور نیو جنرل بس سٹینڈ پر رات کی شفٹ میں بھی کام شروع کردیا گیا ہے۔ 31 اکتوبر تک منصوبے کے گرے اسٹرکچر پر کام مکمل کرلیا جائے گا۔ اس منصوبے سے پشاور شہر میں ٹریفک کے مسائل کے حل میں مدد ملے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کارپوریٹ سوشل رسپانسبلٹی کے تحت نجی شعبے سے ایم او یوز کئے جارہے ہیں جس کے تحت صوبائی دارالحکومت کی بیوٹیفکیشن میں مدد ملے گی۔ جی ٹی روڈ اور رنگ روڈ کے روڈ فرنیچر، بیوٹیفکیشن، ہارٹیکلچر منصوبے کے تحت صوبائی دارالحکومت کی اپلفٹ پر کام شروع کیا جارہا ہے۔ اجلاس میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ٹھنڈیانی سیاحتی منصوبہ، گھنول انٹیگریٹڈ ٹورازم زون، درابن اکنامک زون پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ سیکرٹری خوراک نے اجلاس کو اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر بریفنگ دی۔اجلاس میں حکومت خیبرپختونخوا کا الیکٹرک وہیکل اصلاحات متعارف کرانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا جس کے تحت پہلے مرحلے میں الیکٹرک رکشہ اور الیکٹرک ٹیکسی پر کام کیا جائے گا۔ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ حکومت اس حوالے سے فریم ورک پر کام کرے گی۔ الیکٹرک وہیکلز کی حوصلہ افزائی سے ماحولیاتی تحفظ یقینی بنایا جاسکے گا اور اس سے مقامی روزگار کو فروغ ملے گا۔

پولیو فری پاکستان — ایک عزم، ایک خواب جو کوہاٹ ڈویژن میں حقیقت بن رہا ہے

زندگی کی اصل مسکراہٹ بچوں کے چہروں سے جھلکتی ہے۔ ان کی ہنسی، ان کی شرارتیں اور ان کے دوڑتے قدم ہی زندگی میں خوشی کی روح پھونک دیتے ہیں۔ مگر جب انہی ننھے قدموں کو پولیو جیسی موذی بیماری مفلوج کر دیتی ہے تو یہ کسی سانحے سے کم نہیں لگتا۔ یہی احساس ایک قوم کی بیداری کا سبب بنااور اسی عزم نے جنم دیا اس جدوجہد کو جسے ہم کہتے ہیں: ”پولیو فری پاکستان”۔ چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا سید شہاب علی شاہ نے صوبے بھر کے انتظامی افسران کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ پولیو کے خلاف جنگ محض ایک مہم نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے جس میں مؤثر نگرانی، عوامی آگاہی اور ہر سطح پر عوام کی شمولیت لازمی ہے۔ ان ہدایات کی عملی تصویر کوہاٹ ڈویژن میں دیکھی جا سکتی ہے جہاں کمشنر سید معتصم باللہ شاہ نے انسداد پولیو مہم کو ایک تحریک کی شکل دے دی ہے۔ ہر مہم کے دوران وہ علی الصبح مختلف اضلاع کے دورے کرتے ہیں، ڈپٹی کمشنرز اور فیلڈ ٹیموں کے ساتھ فیلڈ میں موجود ہوتے ہیں، پولیو ورکرز کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں، والدین سے براہِ راست گفتگو کرتے ہیں اور ہر قدم پر رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ یہی جذبہ ہے جس نے کوہاٹ، ہنگو، کرک، کرم اور اورکزئی کو صوبے کے اُن نمایاں اضلاع میں شامل کر دیا ہے جہاں کبھی پولیو ویکسین کی مخالفت ہوا کرتی تھی، اب تعاون کی مثالیں قائم ہو رہی ہیں۔ جہاں کبھی والدین اپنے بچوں کو ویکسین پلانے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے تھے، وہاں اب علما ء کرام اور آئمہ مساجد نے اپنی ذمہ داری کا حق ادا کیا ہے اور گاؤں گاؤں بھروسے کا ماحول پیدا کیا۔ عوام کو یہ احساس ہوا کہ یہ صرف حکومت کی مہم نہیں بلکہ ان کے اپنے بچوں کے مستقبل اور سلامتی کا مشن ہے۔انسداد پولیو مہم کو مزید مؤثر بنانے کیلئے گذشتہ روز ایمرجنسی آپریشن سینٹر (EOC) خیبر پختونخوا کے زیرِ اہتمام کوہاٹ پریس کلب میں ایک اہم میڈیا اورینٹیشن سیمینار کے علاوہ مختلف یونین کونسلز میں انفلوئنسر انگیجمنٹ اور اورینٹیشن سیشنز کا بھی انعقاد کیا گیا۔اس موقع پر EOC کے ایڈووکیسی و کمیونیکیشن آفیسر میاں شہاب نے کہا کہ”پولیو کے خلاف جنگ صرف محکمہ صحت کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ایک قومی فریضہ ہے اور میڈیا اس جدوجہد کا سب سے اہم پارٹنر اور مضبوط ہتھیار ہے”۔ ای پی آئی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر محبت بنگش نے کہاکہ ”والدین کا اعتماد کامیابی کی بنیاد ہے۔ جب میڈیا حقیقت سامنے لاتی ہے تو معاشرے متحد رہتے ہیں اور والدین درست فیصلے کرتے ہیں۔پھر کوئی وائرس پھیل نہیں سکتا”۔ مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں سال 2025 کے دوران کوہاٹ ڈویژن کے تمام ماحولیاتی نمونے پولیو وائرس سے منفی آئے ہیں، یعنی کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ یہ کامیابی کسی ایک ادارے کی نہیں بلکہ اجتماعی شعور، تعاون اور عزم کی علامت ہے۔ جہاں کبھی مزاحمت تھی، اب وہاں والدین خود آگے بڑھ کر اپنے بچوں کو ویکسین پلوا رہے ہیں۔ پولیو سے انکار کرنے والوں کی شرح میں تیزی سے کمی آ رہی ہے، جو ایک حوصلہ افزا ء اشارہ ہے کہ پولیو کے خلاف یہ جنگ اپنی آخری کامیابی کے قریب پہنچ چکی ہے۔ پولیو فری پاکستان کا خواب محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک عہد ہے: کہ کوئی بچہ ویکسین سے محروم نہیں رہے گا،کوئی مستقل معذوری کے اندھیرے میں گم نہیں ہوگا، پاکستان کا سورج ہمیشہ صحت، اُجالے اور اُمید کے ساتھ طلوع ہوگا۔

تحریر: ارشاد محمد آفریدی، ڈپٹی ڈائریکٹر، ریجنل انفارمیشن آفس کوہاٹ

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے پاکستان میں تعینات ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر جمال بکر عبداللہ نے جمعہ کے روز اسلام آباد میں ملاقات

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے پاکستان میں تعینات ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر جمال بکر عبداللہ نے جمعہ کے روز اسلام آباد میں ملاقات کی۔ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، تجارت و سرمایہ کاری، ثقافت، ماحولیاتی تبدیلی، سیاحت کے فروغ اور خیبرپختونخوا و ایتھوپیا کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔گورنر خیبرپختونخوا نے گفتگو کے دوران کہا کہ صوبے کے شمالی علاقے اپنی قدرتی خوبصورتی، دلکش مناظر اور تاریخی ورثے کے باعث دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے پرکشش مقام رکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں سیاحتی شعبے سمیت دیگر شعبہ جات میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں، اورحکومت عالمی سرمایہ کاروں کو خوش آمدید کہتی ہے۔فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبرپختونخوا قدیم تہذیب و ثقافت کا گہوارہ اور قدرتی وسائل سے مالامال صوبہ ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ ان وسائل کو بروئے کار لاکر مقامی آبادی کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جائے۔ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر جمال بکر عبداللہ نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے کردار اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز اور پولیس کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے مختلف شعبوں بالخصوص سیاحت کے فروغ کے لیے باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔

Provincial Polio Eradication Task Force Reviews Preparations for Upcoming Campaign

The meeting of the Provincial Task Force on Polio Eradication was held on Friday under the chairmanship of Additional Chief Secretary Planning and Development, Ikramullah Khan. The meeting reviewed preparations for the upcoming anti-polio campaign commencing on October 13 as well as the outcomes of the previous drive.

Senior officials from the Health Department, Provincial and National Emergency Operations Centers (EOC), district administrations, police, and partner international organizations working in the health sector attended the meeting.

Briefing the participants, the Provincial EOC Coordinator said that all arrangements for the four-day campaign had been finalized. The drive will be carried out across the province in two phases, targeting over 7.3 million children under the age of five.

In the first phase starting on October 13, children in all districts of Peshawar, Kohat, Mardan, Malakand, and Hazara divisions will be administered polio drops. The second phase will begin on October 20, covering all districts of Bannu and Dera Ismail Khan divisions. To boost children’s immunity, Vitamin A doses will also be provided during the campaign.

A total of 35,248 trained polio workers have been deployed for the campaign, including 32,008 mobile teams, 1,836 fixed teams, and 1,404 transit teams. In addition, 8,279 area in-charges have been appointed for effective supervision. Around 50,000 security personnel will be deployed across the province to ensure foolproof security for the vaccination teams.

Addressing the meeting, Additional Chief Secretary Ikramullah Khan directed concerned departments to ensure a well-coordinated and organized campaign by utilizing all available resources and ensuring monitoring at every level. He appealed to parents to fully cooperate with vaccination teams so that no child remains vulnerable to the crippling disease.

مختلف مکاتب فکر کے جید علماء کرام کی انسداد پولیو کیلئے حمایت کی تجدید

مختلف مکاتب فکر کے جید علماء کرام نے بچوں کی بہتر صحت کو یقینی بنانے اور انہیں زندگی بھر کی معذوری سے محفوظ رکھنے کیلئے حفاظتی ٹیکہ جات اور پولیو ویکسی نیشن کی مکمل اور غیر متزلزل حمایت کی تجدید کرتے ہوئے کمیونٹی کی سطح پر پولیو ویکسین کے بارے میں موجود خرافات اور غلط فہمیوں کو دور کرنے میں اپنا کردارجاری رکھنے کا عہد کیا۔اس عزم کا اظہارانہوں نے یونیسف کے تعاون سے ایمرجنسی آپریشنز سنٹر اور متحدہ علماء بورڈ کے باہمی اشتراک سے انسداد پولیو مہم کی افتتاح کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب کے موقع پر کیا۔ مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے جید علماء کرام نے افتتاح جامعہ اشرفیہ پشاو میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلا کر مہم کا افتتاح کیا۔ تقریب میں ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ/ای او سی کوآرڈینیٹرشفیع اللہ خان، شیخ الحدیث مولانا احسان الحق، چیئرمین متحدہ علماء بورڈ، شیخ الحدیث مو لانا حسین احمد، صدر اتحاد تنظیمات مدارس، مفتی ظفرزمان حقانی، کوارڈینیٹر متحدہ علماء بورڈ ا، ڈپٹی کوآرڈینیٹر ای او سی، لطیف الرحمان، ڈپٹی کمشنر پشاور، کیپٹن ثناء اللہ خان، ٹیم لیڈ یونیسف ڈاکٹر انووا، ٹیم لیڈ این سٹاپ، ڈاکٹر محمد عمران، ٹیکنیکل فوکل پرسن پی ای آئی، ڈاکٹر علی حیدر، صوبائی پولیو آفیسر ڈبلیو ایچ او، ڈاکٹر سردار عالم اور مختلف مکاتب فکر کے سو سے زائد نامور ائمہ کرام اور خطباء کرام نے شرکت کی۔ تقریب میں اپنے خطابات میں شیخ الحدیث مولانا احسان الحق چئیرمن متحدہ علماء بورڈ،شیخ الحدیث مولانا حسین احمد صاحب صدر اتحاد تنظیمات مدارس۔مفتی ظفرزمان حقانی کوارڈینیٹر متحدہ علماء بورڈ اور دیگر جید علماء کرام نے پولیو مرض کے خلاف شعور وآگاہی اور شرعی تعلیمات و رہنمائی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہا کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پولیو ایک خطرناک مگر قابلِ تدارک مرض ہے اور اس کے خاتمے کے لیے حکومت، علمائکرام، معاشرے کے دیگر تمام طبقات کو متحد ہو کر جدوجہد کرنا ہوگی۔ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ /ای او سی کوارڈینیٹر شفیع اللہ خان نے شرکاء سے اپنے خطاب میں کہا کہ پولیو کا خاتمہ حکومتِ پاکستان اور پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اور امید ظاہر کی کہ علماء کرام اور معاشرے کے دیگر طبقات کی مدد و حمایت سے ہم بہت جلد پاکستان کو اس موذی مرض سے پاک کر دیں گے۔ انہوں نے پولیو کے خاتمے کے لیے علمائے کرام کی مسلسل حمایت کو سراہا اورانہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کے مسلسل تعاون سے ہم جلد ہی لوگوں کے ذہنوں میں ویکسین بارے پائی جانے والی پائی جانے والی شکوک و شبہات دور کرکیاس موذی مرض کے مکمل خاتمے میں کامیاب ہو جائیں گے۔انہوں نے علمائے کرام کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ علماء کرام کی آواز عوام کے دلوں تک رسائی رکھتی ہے اور اُن کی حمایت پولیو کے خاتمے کے لیے نہایت اہم اور ضروری ہے۔مولانا حسین احمد نے اپنے بیان میں کہا کہ اسلام انسانی جان کی حفاظت اور صحت کی بقاء پر زور دیتا ہے لہٰذا بچوں کو بیماریوں سے بچانا والدین کی دینی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیو ویکسین کے حوالے سے تمام شکوک و شبہات بے بنیاد ہیں اور عوام کو چاہیے کہ وہ حکومت اور پولیو ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں تاکہ ملک کو اس موذی مرض سے نجات دلائی جا سکے۔مولانا احسان الحق نے اپنے خطاب میں کہا کہ پولیو کے خلاف یہ جدوجہد دراصل ہماری نسلوں کے محفوظ مستقبل کی ضامن ہے۔ انہوں نے کہا کہ علمائے کرام کا کردار عوامی آگاہی میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے، اور ہم سب کی مشترکہ کاوشیں ہی پولیو کے مکمل خاتمے کی ضمانت ہیں۔ڈپٹی کمشنر پشاور جناب ثناء اللہ خان نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ پولیو کے خاتمے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور علما? کرام کے تعاون سے اس مہم کے نتائج مزید مؤثر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پولیو ٹیموں کی حفاظت، تربیت اور سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے تاکہ مہم کامیابی سے ہمکنار ہو سکے۔

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے جمعرات کے روز پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے جمعرات کے روز پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کی. ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال اور عوامی مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا. دونوں رہنماؤں نے وفاقی اکائیوں کے مضبوط روابط کو ملکی استحکام کے لیے ضروری قرار دیا۔سپیکر ایاز صادق نے کہا کہ جمہوری اداروں کا استحکام پارلیمان کی اولین ترجیح ہے, وفاق اور صوبوں میں ہم آہنگی سے ہی ملکی چیلنجز کا حل ممکن ہے. گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ایوانِ کو خوش اسلوبی سے چلانے پر اسپیکر قومی اسمبلی کے مؤثر کردار کو سراہا اور کہا کہ صوبوں اور وفاق کے درمیان رابطوں کے فروغ سے ملک کو درپیش مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے

ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے ورچوئل تعلیم کا باقاعدہ آغاز کر دیا اس سلسلے میں گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول حیات آباد پشاور میں ایک پر وقار تقریب کا اہتمام

ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے ورچوئل تعلیم کا باقاعدہ آغاز کر دیا اس سلسلے میں گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول حیات آباد پشاور میں ایک پر وقار تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ مہمان خصوصی تھے۔ تقریب کے دیگر شرکا میں سیکرٹری محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے علاوہ محکمہ تعلیم کے افسران اور تعلیم کے شعبے سے وابستہ ماہرین نے بھی شرکت کی۔ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے مینجنگ ڈائریکٹر قیصر عالم نے میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ فاؤنڈیشن ورچوئل سکول کا منصوبہ سرکاری سطح پر اپنی نوعیت کا ایک منفرد منصوبہ ہے جس کے تحت سرکاری مڈل ، ہائی اور ہائیر سیکنڈری سکولوں میں اساتذہ کی کمی کو دور کرنے کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل مضامین کی تدریس کی غرض سے آن لائن کلاسوں کا بندو بست کیا گیا ہے۔ ان مضامین میں جماعت ششم سے لے کر بارہویں جماعت تک انگلش ، اردو ، سائنس ، ریاضی، فزکس ، بیالوجی اور کمسٹری کے مضامین شامل ہیں ۔ ان مضامین کے تمام اسباق نیشنل کریکلم پالیسی (NCP) اور صوبائی نصاب و سلیبس کے مطابق تیار کیے گئے ہیں تاکہ ہر بچے کو معیاری اور یکساں تعلیمی مواقع میسر ہوں ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری تعلیم نے بتایا کہ ابتدائی طور پر صوبے کے مختلف اضلاع سے ایسے پچاس (50) سکولوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا ہے جس میں طلباء کی کثرت اور اساتذہ کی کمی کو سامنے رکھ کر ان سکولوں کی مالی معاونت کی گئی ہے تا کہ آن لائن کلاسوں کے اہتمام کے لیے ان سکولوں کو بنیادی سامان کمپیوٹر، ایل ای ڈی سکرین اور انٹرنیٹ کا بندو بست کیا جا سکے ۔ انھوں نے مزید بتایا کہ آن لائن تدریس کا یہ نظام انتہائی مفید اور کم خرچ ہے جس میں کسی قسم کے تعمیراتی خرچوں کی ضرورت نہیں بلکہ تعلیم کے موجودہ ڈھانچے کو بروئے کار لا کر طلباء کو تعلیم دی جائے گی اور اس کے ساتھ ساتھ طلباء کیلئے آن لائن امتحانات کے نظام کو بھی مربوط بنایاجائے گا۔ اس نظام کے تحت طلبا کو ماہر اساتذہ کے ریکارڈ شدہ لیکچرز بھی میسر ہوں گے جس سے طلباء گھر بیٹھے بھی استفادہ حاصل کر سکتے ہیں اس حوالے سے اساتذہ کی بھی تربیت کی جارہی ہے۔چیف سیکرٹری خیبر پختو نخوا شہاب علی شاہ نے اس منصوبے کو ایک اہم سنگ میل قرار دیا جس کے تحت تدریسی نظام میں انقلاب برپا ہوگا۔
ورچوئل تدریسی عمل کے تحت طلباء اور طالبات دونوں کو تعلیم تک رسائی کے یکساں مواقع میسر ہوں گے۔ فاؤنڈیشن ورچوئل سکول کی افادیت پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے چیف سیکرٹری نے بتایا کہ دور دراز علاقوں میں اساتذہ کی تعیناتی طلباء اور طالبات کی سکولوں تک رسائی، خواندگی کی عمر کے حامل بچوں کا سکولوں میں داخلہ اور تعلیم مکمل کیے بغیر بچوں اور بچیوں کا سکول سے خروج چند ایسے پیچیدہ عوامل ہیں جو ہمارے صوبے کی شرح خواندگی پر اثر ڈالتے ہیں۔ ڈیجیٹل تدریسی نظام ان رکاوٹوں کو دور کرے گا۔چیف سیکرٹری نے اس موقع پر امید ظاہر کی ‘ فاؤنڈیشن ورچوئل سکول کے کامیاب نفاذ کے بعد اس منصوبے کے جال کو صوبے کے دیگر تمام سکولوں تک پھیلایا جائے گا جس کے ذریعے قلیل وقت میں محدود وسائل کو بروئے کار لا کر شرح خواندگی کے اہداف کو حاصل کیا جائے گا ۔

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ ہمیں متحد ہو کر دکھی انسانیت کی خدمت جاری رکھنی ہے،  انسانی خدمت کے جذبہ، احساس اور خلوص کے بغیر کوئی ادارہ کامیاب نہیں ہوسکتا

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ ہمیں متحد ہو کر دکھی انسانیت کی خدمت جاری رکھنی ہے،  انسانی خدمت کے جذبہ، احساس اور خلوص کے بغیر کوئی ادارہ کامیاب نہیں ہوسکتا، ہلال احمر نے اپنی کارکردگی سے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ انسانیت کی خدمت کے جذبے سے سرشار ہے۔انجمن ہلال احمر کے رضاکار ضم اضلاع میں انسانیت کی خدمت کا جو مشن جاری رکھے ہوئے ہیں وہ قابل تحسین ہے۔
ان خیالات کا اظہارانہو ں نے منگل کے روز گورنر ہاؤس پشاور میں انجمن ہلال احمر ضم اضلاع کے سٹاف و رضاکاروں کو ضم ضلع باجوڑ میں خدمات پر خراج تحسین پیش کرنے کیلئے منعقدہ تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں چیئرمین انجمن ہلال احمر ضم اضلاع ایڈوکیٹ عمران وزیر، چیئرمین انجمن ہلال احمر خیبرپختونخوا فرزند وزیر،سیکرٹری انجمن ہلال احمر ضم اضلاع سعید کمال، پاکستان پیپلزپارٹی کے صوبائی صدر محمدعلی شاہ باچہ، سیاسی رہنمااخونزادہ چٹان، مولاناہارون الرشید، باجوڑ کے عمائدین اور انجمن ہلال احمر ضم اضلاع کے سٹاف اور رضاکاروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر گورنر خیبرپختونخوا نے پی آر سی ایس ضم اضلاع کے تین ایمبولینسز،  سولرائزئشن اور واش منصوبوں، ٹیوب ویلز بحالی منصوبوں کا افتتاح کیا  اور گورنرہاؤس میں لگائے گئے ایکٹیویٹی سٹالز کامعائنہ بھی کیا۔ چیئرمین عمران وزیرایڈوکیٹ نے اپنے خطاب میں کہا کہ انجمن ہلال احمر ضم اضلاع کی جانب سے باجوڑ کے سیلاب متاثرین میں جلد امدادی رقوم تقسیم کی جائیں گی.
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنرنے قبائلی اضلاع میں جاری انسانی خدمات پر انجمن ہلال احمر ضم اضلاع کو خراج تحسین پیش کیا ۔گورنر نے کہا کہ ضلع کرم میں مرکزی شاہراہ کی بندش کے باوجود انجمن ہلال احمر ضم اضلاع کی جانب سے عوام تک امداد کی فراہمی یقینی بنانا قابل تعریف ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ میری ہدایات پر انجمن ہلال احمر کی دونوں برانچز نے نہ صرف مؤثر عملدرآمد کیا بلکہ نئے وژن اور نئے جذبے کے ساتھ آگے بڑھتی دکھائی دیں۔گورنر خیبرپختونخوا نے ملکی و غیر ملکی ڈونرز اداروں کا بھی شکریہ ادا کیا جو قدرتی آفات کے دوران متاثرہ عوام کی بحالی اور امدادی سرگرمیوں میں ہلال احمر خیبرپختونخوا کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد متاثرہ خاندانوں کی دوبارہ بحالی میں بھی ہلال احمر کے رضاکاروں کا کردار نہایت اہم ہے۔انہوں نے یقین دلایا کہ وہ ہر موقع پرانہیں ساتھ پائیں گے۔آخر میں گورنرنے رضاکاروں میں تعریفی اسناداورمتاثرین باجوڑ میں ہائی جین کٹس تقسیم کیے

CS Shahab Ali Shah Reviews Good Governance Roadmap for Housing and Livestock Departments

Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa, Shahab Ali Shah, chaired a review meeting on the good governance roadmap implementation of Housing and Livestock Departments with Secretaries and relevant officials.
The meeting reviewed milestones of the Housing Department. It was informed that an online payment system in line with the government’s cashless economy initiative has been launched. A land sharing management system for the New Peshawar Valley has been developed, featuring an online system with Google Maps that shows Mauzas Khasras of the New Peshawar Valley.
The Chief Secretary directed that the system should provide end-to-end information for users, emphasizing that the awareness map is created for the public.
The Housing Department has fully adopted EPADs (E-Pak Acquisition and Disposal System) for transparency and e-procurement. An online grievance redressal system and public feedback system are operational in the department. Regional Facilitation Centers have been established in four divisions: Peshawar, Malakand, Kohat, and Hazara completed. Work is progressing smoothly on the New Peshawar Valley and Bani Gul Housing schemes. The government has decided that every new housing scheme should include green spaces.
The meeting was also updated on the Ehsaas Apna Ghar initiative, which provides interest-free loans of up to Rs 1.5 million to low-income individuals for building homes.
The Livestock Department’s milestones were also reviewed, including initiatives to double the vaccination rate from 7% to 15% for large animals. The department is also working on developing 571 acres of land in Hari Chan through Public Private Partnership for corporate cattle farming, with milestones on track. Additionally, the department is distributing livestock units to 1,000 vulnerable farmers, focusing on women and vulnerable communities, with the objective of poverty elimination. The expansion of veterinary health services through support to unemployed DVM graduates and strengthening service delivery in underserved areas is also underway.
The Chief Secretary instructed the KP IT Board to develop a real-time app for tracking the vaccination process in livestock department.
Furthermore, CS said that teams to inspect facilities on the ground across different departments in line with the good governance roadmap.

محکمہ اعلیٰ تعلیم خیبرپختونخوا کی جانب سے انٹر کالجزسپورٹس گالا 2025 کی تقسیم انعامات کی تقریب کا انعقاد

محکمہ اعلیٰ تعلیم خیبرپختونخوا کے زیر اہتمام خیبرپختونخوا انٹر کالجز اسپورٹس گالا 2025 کی شاندار تقریب تقسیم انعامات بروز بدھ گورنمنٹ فرنٹیئر کالج فار ویمن پشاور میں منعقد ہوئی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم محمد سہیل آفریدی اور وزیرِ مواصلات و تعمیرات مینا خان آفریدی تھے۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک اور نعت شریف سے کیا گیا۔ گورنمنٹ فرنٹیئر کالج فار ویمن پشاور کی پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر شاہین عمر، محکمہ اعلیٰ تعلیم کے ڈائریکٹرز، اسپورٹس ڈیپارٹمنٹ کے عہدیداران اور طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔وزیرِ اعلیٰ تعلیم محمد سہیل آفریدی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تمام اساتذہ، طلبہ و طالبات، اور محکمہ تعلیم کے افسران کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے طلبہ کو نصیحت کی کہ اپنے اساتذہ کا احترام کریں، اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے ویژن کے مطابق ہمیشہ اپنے مقاصد بلند رکھیں اور ان کے حصول کے لیے محنت کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ “یہ طلبہ ہمارا فخر اور ملک کا مستقبل ہیں، میں کسی صورت ان کے ساتھ ناانصافی برداشت نہیں کروں گا۔” وزیرِ مواصلات و تعمیرات مینا خان آفریدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ “میں نے بطور وزیرِ اعلیٰ تعلیم اپنے اٹھارہ ماہ کے دور میں پوری کوشش کی کہ خیبرپختونخوا کے تعلیمی نظام میں اصلاحات لائی جائیں، سہولت پیدا کی جائے اور اسے جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔ عمران خان چاہتے ہیں کہ پاکستان ایک فلاحی ریاست بنے، جو کسی کے تابع نہ ہو بلکہ ایک خودمختار ملک کے طور پر ابھرے۔” تقریب کے اختتام پر محمد سہیل آفریدی اور مینا خان آفریدی نے خیبرپختونخوا انٹر کالجز اسپورٹس گالا 2025 کے تمام فاتح طلبہ و طالبات میں انعامات تقسیم کیے۔