Home Blog Page 23

بٹگرام تحصیل کمپلیکس کا تنازعہ باہمی مشاورت سے حل کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں، آفتاب عالم

وزیر قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور خیبر پختونخوا آفتاب عالم کی زیر صدارت بٹگرام تحصیل کمپلیکس کی تعمیر اور ڈسٹرکٹ بار بٹگرام کے ساتھ جاری قانونی تنازع کے حوالے سے اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ایم پی اے منیر حسین لغمانی، ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا شاہ فیصل اتمان خیل، ڈپٹی کمشنر بٹگرام، ڈسٹرکٹ بار بٹگرام کے نمائندگان اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایت پر قائم خصوصی کمیٹی کی سفارشات، عدالتی کارروائی اور ضلعی انتظامیہ و بار کے مؤقف کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ بٹگرام میں تحصیل دفتر کی پرانی عمارت 1993 میں تعمیر کی گئی تھی جو 2005 کے زلزلے میں جزوی طور پر متاثر ہوئی۔ صوبائی حکومت نے 2021 میں بٹگرام اور الائی کے لیے نئے تحصیل کمپلیکس کی تعمیر کا منصوبہ منظور کیا، جس کی مجموعی لاگت تقریبا 170 ملین روپے ہے۔ پرانی عمارت 2024 میں مسمار کی گئی، تاہم متبادل سرکاری زمین دستیاب نہ ہونے کے باعث اسی مقام پر نئی عمارت تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ عمارت کی مسماری کے بعد ڈسٹرکٹ بار بٹگرام نے مختلف عدالتی فورمز سے رجوع کیا، جبکہ پشاور ہائی کورٹ ایبٹ آباد بینچ میں دائر رٹ پٹیشن پر سٹے آرڈر کے باعث تعمیراتی کام تاحال معطل ہے۔ضلعی انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا کہ تحصیل کمپلیکس کی تعمیر کے لیے صرف 15 مرلہ اراضی درکار ہے جو سابقہ اسسٹنٹ کمشنر دفتر کی جگہ پر دستیاب ہے، جبکہ متبادل سرکاری زمین موجود نہیں۔ انتظامیہ کے مطابق منصوبے میں تاخیر سے تعمیراتی لاگت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔دوسری جانب ڈسٹرکٹ بار بٹگرام کے نمائندگان نے منتخب مقام اور اراضی کے استعمال سے متعلق اپنے قانونی و انتظامی تحفظات سے اجلاس کو آگاہ کیا اور تمام فریقین کی مشاورت سے قابلِ قبول حل تلاش کرنے پر زور دیا۔اس موقع پر وزیر قانون آفتاب عالم نے کہا کہ صوبائی حکومت کا مقصد کسی فریق کے مفاد کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ قانون کے تقاضوں اور تمام متعلقہ فریقین کے جائز تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے معاملے کا دوستانہ اور پائیدار حل نکالنا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایت پر ایڈووکیٹ جنرل، مقامی ایم پی اے اور صوبائی وزیر قانون پر مشتمل خصوصی کمیٹی قائم کی گئی ہے، جو تمام فریقین سے مشاورت کے بعد اپنی سفارشات کو حتمی شکل دے گی۔آفتاب عالم نے ہدایت کی کہ مشاورتی عمل فوری طور پر مکمل کیا جائے اور عدالت عالیہ کے سامنے ایسا متفقہ حل پیش کیا جائے جس سے قانونی تنازع کا خاتمہ، فریقین کے تحفظات کا ازالہ اور تحصیل کمپلیکس کے تعمیراتی کام کی بحالی ممکن ہو سکے۔صوبائی وزیر قانون نے کہا کہ عوامی اہمیت کے منصوبوں میں غیر ضروری تاخیر قابلِ قبول نہیں، کیونکہ اس سے نہ صرف عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ سرکاری وسائل اور منصوبے کی لاگت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔انہوں نے تمام متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ معاملے کے جلد اور قانونی تصفیے کے لیے تمام دستیاب آپشنز پر غور کیا جائے اور باہمی اتفاقِ رائے سے قابلِ عمل سفارشات مرتب کی جائیں۔

Rescue 1122 Khyber Pakhtunkhwa Responded to 18,760 Emergencies During August 2026

Rescue 1122 Khyber Pakhtunkhwa provided timely emergency response services across the province during August 2026, responding to a total of 18,760 emergencies from August 1 to August 31.

During the month, Rescue 1122 responded to 15,038 medical emergencies, 2,126 road traffic accidents, 769 drowning incidents, 497 other emergencies, 415 fire incidents, 270 crime-related incidents, 96 wall and roof collapses, 28 mine-related incidents, and 17 small and major explosions, including cylinder explosions and other emergency incidents.

Rescue 1122 provided medical assistance to 22,947 patients during these emergencies, while affected people were also rescued and shifted to safe locations where required. Rescue teams carried out timely rescue operations in several incidents and provided immediate assistance to people in distress.

The highest number of emergencies was reported in Peshawar with 3,989, followed by Mardan 2,672, Nowshera 1,477, Swat 1,135, Dera Ismail Khan 1,003, Swabi 966, Lakki Marwat 847, and Bannu 760.

Similarly, Rescue 1122 responded to 574 emergencies in Abbottabad, 459 in Charsadda, 393 in Kohat, 398 in Malakand, 362 in Bajaur, 338 in Khyber, 292 in Haripur, 295 in Mansehra, 277 in Lower Chitral, 278 in Shangla, 270 in Buner, 224 in Karak, 228 in Upper Dir, 219 in Kurram, and 381 in Mohmand, while emergency services were also provided in other districts across the province.

Throughout August, Rescue 1122 personnel provided immediate and professional emergency services in medical emergencies, road traffic accidents, fires, drowning incidents, building collapses, crime-related incidents and other emergencies.

Rescue 1122 Khyber Pakhtunkhwa appeals to citizens to call 1122 immediately in case of any emergency and cooperate with Rescue 1122 personnel during emergency operations.

مشیرِ وزیراعلیٰ ملک لیاقت علی خان کاسماجی بہبود پبی کے مختلف مراکز کا دورہ، نوشہرہ میں کھلی کچہری کے دوران عوام کے مسائل سنے

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی خصوصی ہدایات اور بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے فلاحی ریاست، مستحق طبقات کی معاونت اور باعزت خودکفالت کے وژن کے تحت مشیرِ وزیراعلیٰ برائے زکوٰۃ، عشر، سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و ویمن ایمپاورمنٹ ملک لیاقت علی خان نے پبی کے مختلف سماجی بہبود اور تربیتی مراکز کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے فراہم کی جانے والی سہولیات، انتظامی امور اور زیرِ کفالت افراد کی نگہداشت کا تفصیلی جائزہ لیا۔مشیرِ وزیراعلیٰ نے سب سے پہلے پبی ریہیبلیٹیشن سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے رہائشی کمروں، بستروں، پنکھوں، صفائی ستھرائی، خوراک اور دیگر بنیادی سہولیات کا معائنہ کیا۔ انہوں نے مرکز میں فراہم کیے جانے والے کھانے کے معیار اور غذائیت کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ادویات کی دستیابی اور باقاعدہ فراہمی بھی چیک کی۔ملک لیاقت علی خان نے ریہیبلیٹیشن سینٹر کے اسٹاف سے ملاقات کرکے مرکز کے انتظامی امور اور زیرِ علاج افراد کی نگہداشت کے حوالے سے معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے وہاں مقیم افراد سے بھی ملاقات کی، ان کے مسائل سنے اور مرکز میں فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں آگاہی حاصل کی۔اس موقع پر مشیرِ وزیراعلیٰ نے کہا کہ میں نے اسٹاف کو سختی سے ہدایت کر رکھی ہے کہ یہاں داخل افراد کے کھانے پینے، علاج اور دیگر ضروریات کا بھرپور خیال رکھا جائے اور ان کے ساتھ کسی بھی قسم کی زیادتی یا ظلم برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی اور مستحق افراد کے ساتھ انسانیت، عزت اور احترام سے پیش آنا محکمہ سماجی بہبود کی بنیادی ذمہ داری ہے۔بعدازاں مشیرِ وزیراعلیٰ نے پبی کے باچا خان ویمنز ووکیشنل سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مرکز میں زیرِ تربیت خواتین اور بچوں سے ملاقات کی اور ان سے بات چیت کی۔ انہوں نے مرکز میں صفائی، حفظانِ صحت، رہائش، خوراک اور دیگر بنیادی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر ملک لیاقت علی خان نے بچوں میں انعامات بھی تقسیم کیے اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔انہوں نے کہا کہ ایسے تربیتی مراکز خواتین اور مستحق افراد کو ہنر سکھا کر انہیں باعزت روزگار کے مواقع فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مرکز کی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ زیرِ تربیت افراد کو بہتر ماحول، معیاری سہولیات اور مؤثر فنی تربیت کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ وہ مستقبل میں اپنے خاندانوں کا سہارا بن سکیں۔ملک لیاقت علی خان نے نوشہرہ کے ڈیف ریچ اسکول اینڈ کالج کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے سماعت سے محروم بچوں سے ملاقات کی اور ان سے اشاروں کی زبان میں بات چیت کی۔ انہوں نے بچوں کے کھانے پینے، صفائی، حفظانِ صحت، کچن اور دیگر تعلیمی و رہائشی سہولیات کا جائزہ لیا۔مشیرِ وزیراعلیٰ نے بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں اور ادارے میں فراہم کی جانے والی خصوصی تعلیم کے معیار کو سراہتے ہوئے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ بچوں کی بہتر نگہداشت، معیاری تعلیم اور ضروری سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی بچوں کو تعلیم، تربیت اور مناسب مواقع فراہم کرکے انہیں معاشرے کا فعال اور خودمختار حصہ بنایا جا سکتا ہے۔نوشہرہ کے ڈسٹرکٹ کونسل ہال میں کھلی کچہریبعدازاں نوشہرہ کے ڈسٹرکٹ کونسل ہال میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جہاں مشیرِ وزیراعلیٰ ملک لیاقت علی خان نے عوام کے مسائل تفصیل سے سنے اور ان کے حل کے لیے متعلقہ حکام کو ضروری اقدامات کی ہدایات جاری کیں۔کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ میرا نوشہرہ آنے کا مقصد فوٹو سیشن نہیں بلکہ عوام کے مسائل سننا اور انہیں حل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس دن سے انہوں نے محکمہ سماجی بہبود کی ذمہ داری سنبھالی ہے، اسی دن سے متعلقہ ضلعی افسران کو ہدایت کی ہے کہ خصوصی افراد، یتیم بچوں اور بیواؤں سمیت مستحق افراد کی گھر گھر جا کر رجسٹریشن کی جائے تاکہ کوئی بھی حقدار اپنے حق سے محروم نہ رہے۔مشیرِ وزیراعلیٰ نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ خصوصی افراد، خواتین، مرد، یتیم، بیوائیں اور دیگر مستحق افراد کو ایسے ہنر سکھائے جائیں جن کے ذریعے وہ اپنے گھروں میں بیٹھ کر باعزت روزگار کما سکیں، اپنے خاندانوں کا سہارا بنیں اور کسی کے محتاج نہ رہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت ہنرمندی اور فنی تربیت کے فروغ کے ذریعے مستحق افراد کو خودکفیل بنانے پر توجہ دے رہی ہے۔ قالین بافی، سلائی کڑھائی، دستکاری اور دیگر گھریلو صنعتوں سے متعلق تربیت فراہم کرکے انہیں روزگار کے پائیدار مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرامز کو مزید مؤثر بنایا جائے گا تاکہ تربیت حاصل کرنے والے افراد اپنی صلاحیتوں کو آمدن کے مستقل ذرائع میں تبدیل کر سکیں۔ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ مستحق افراد کو مستقل طور پر امداد کا محتاج رکھنے کے بجائے انہیں ہنرمند، باعزت اور خودکفیل بنانا حکومت کی ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ **میری کوشش ہے کہ ایک ایسا نظام قائم ہو جہاں لوگوں کو زکوٰۃ کی ضرورت ہی نہ پڑے، بلکہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں، اپنے گھروں کا سہارا بنیں اور ملکی معیشت میں اپنا کردار ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد صرف مالی امداد فراہم کرنا نہیں بلکہ مستحق افراد کو باعزت اور خودمختار بنانا ہے۔ وزیراعظم/بانی چیئرمین عمران خان کے فلاحی ریاست کے وژن اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی ہدایات کے مطابق محکمہ سماجی بہبود عوام کی خدمت اور مستحق طبقات کی فلاح کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گا۔کھلی کچہری کے دوران مشیرِ وزیراعلیٰ ملک لیاقت علی خان نے اعلان کیا کہ نوشہرہ میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹ قائم کیا جائے گا تاکہ بچوں کے تحفظ، حقوق اور فلاح کے لیے مؤثر اقدامات یقینی بنائے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ یونٹ کے قیام سے بچوں کو تحفظ فراہم کرنے، ان کے مسائل کے بروقت ازالے اور متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری میں مدد ملے گی۔انہوں نے خصوصی افراد سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ “میں آپ کا وکیل ہوں، میں آپ کے لیے یہاں موجود ہوں۔ یہ دفتر آپ لوگوں کی خدمت کے لیے ہے۔”انہوں نے یقین دلایا کہ خصوصی افراد، یتیموں، بیواؤں اور دیگر مستحق طبقات کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے اور انہیں ایسی مہارتیں فراہم کی جائیں گی جن کے ذریعے وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ ان شاء اللہ ہم اپنے خصوصی افراد کو ایسے ہنر سکھائیں گے کہ وہ باعزت طریقے سے اپنے گھروں کا سہارا بنیں اور کسی کے محتاج نہ رہیں۔

صوبائی وزیر فضل شکور خان کی پیسکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سے ملاقات، چارسدہ بالخصوص پی کے-65 میں بجلی کے مسائل کے حل پر تفصیلی تبادلہ خیال

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان نے چیف ایگزیکٹو آفیسر پیسکو سے انکے دفتر میں ملاقات کی، جس میں ضلع چارسدہ، بالخصوص حلقہ پی کے-65 میں بجلی کی فراہمی سے متعلق عوامی مسائل، لوڈشیڈنگ اور جاری ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران صوبائی وزیر فضل شکور خان نے چارسدہ کے عوام کو بجلی کی فراہمی میں درپیش مشکلات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لوڈشیڈنگ کے مسئلے کے فوری حل اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی مسلسل اور بلا تعطل ترسیل عوام کی بنیادی ضرورت ہے، اس لیے چارسدہ میں جاری لوڈشیڈنگ کے مسئلے کے حل کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔صوبائی وزیر نے چارسدہ بازار کے لیے منظور شدہ فیڈر پر کام جلد شروع کرنے کے حوالے سے پیسکو حکام کو ضروری ہدایات جاری کرنے کی سفارش بھی کی، تاکہ علاقے میں بجلی کی فراہمی کے نظام کو مزید بہتر بنایا جا سکے اور شہریوں کو درپیش مسائل میں کمی لائی جا سکے۔انہوں نے حلقہ پی کے-65 میں جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے مطلوبہ میٹیریل کی بروقت ریلیز اور فراہمی کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ میٹیریل کی عدم دستیابی کے باعث ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار متاثر نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے کہا کہ منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے تمام ضروری وسائل کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔اس موقع پر چیف ایگزیکٹو آفیسر پیسکو نے صوبائی وزیر کو یقین دہانی کرائی کہ چارسدہ بازار فیڈر پر جلد از جلد کام شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ افسران، بالخصوص ایم ایم، کو مطلوبہ میٹیریل کی ریلیز کے لیے ضروری ہدایات جاری کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی۔چیف ایگزیکٹو آفیسر پیسکو نے چارسدہ میں لوڈشیڈنگ کے مسئلے کے حل اور عوام کو ممکنہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون اور عملی اقدامات کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ عوامی مشکلات کے ازالے کے لیے متعلقہ حکام کے ساتھ مؤثر رابطہ اور اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔ملاقات میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ چارسدہ بالخصوص پی کے-65 میں بجلی سے متعلق عوامی مسائل کے حل، منظور شدہ منصوبوں پر پیش رفت اور مطلوبہ میٹیریل کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے باہمی رابطہ مزید مؤثر بنایا جائے گا۔

معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ سمیع اللہ خان اور مشیر خزانہ مزمل اسلم کا پشاور بس ٹرمینل کا دورہ

خیبرپختونخوا حکومت نے پشاور بس ٹرمینل لاہور اڈہ کی حدود میں موجود محکمہ ٹرانسپورٹ کی ملکیتی سرکاری
قیمتی اراضی کو عوامی مفاد اور صوبائی وسائل میں بہتری کے لیے مؤثر انداز میں بروئے کار لانے کے امکانات کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔اسی سلسلے میں معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ سمیع اللہ خان اور مشیر خزانہ مزمل اسلم نے پشاور بس ٹرمینل لاہور اڈہ کا دورہ کیا جہاں پر انھوں نے ٹرمینل سمیت اس پاس خالی اراضی اور زیر تعمیر عمارت کے مقامات کا بغور جایزہ لیا۔اس موقع پر سیکرٹری ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ محمد زبیر، سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقیات عادل شاہ، ڈائریکٹر ٹرانسپورٹ حسن عابد، ایڈمنسٹریٹر پشاور بس ٹرمینل اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔دورے کے دوران متعلقہ حکام نے معاون خصوصی اور مشیر خزانہ کو پشاور بس ٹرمینل کی موجودہ صورتحال ودستیاب سہولیات سمیت محکمہ ٹرانسپورٹ کی ملکیتی اراضی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ان کو بتایا گیا کہ پشاور بس ٹرمینل لاہور اڈہ کی حدود میں محکمہ ٹرانسپورٹ کی ملکیتی اراضی کا مجموعی رقبہ تقریباً 55 کنال بنتا ہے، جس میں موجودہ بس ٹرمینل کے علاوہ اضافی اراضی بھی شامل ہے۔اس موقع پر بتایا گیا کہ مذکورہ سرکاری اراضی کے بہترین، مؤثر اور عوامی مفاد پر مبنی استعمال کے امکانات کے پیش نظر اس اہم مقام پر موجود سرکاری اثاثے کو بہتر انداز میں استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ سمیع اللہ خان نے کہا کہ صوبائی حکومت کی کوشش ہے کہ سرکاری اراضی کو عوامی مفاد میں بہتر انداز سے استعمال میں لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پشاور بس ٹرمینل جیسے اہم مقام پر موجود اس قیمتی اثاثے کے استعمال کے لیے جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے تاکہ اس سے عوام کو سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ صوبائی وسائل میں بھی بہتری لائی جا سکے۔مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا کہ سرکاری اثاثوں کا مؤثر استعمال بہتر مالیاتی نظم و نسق کا اہم حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ اراضی کو مناسب منصوبہ بندی کے تحت ایسے منصوبوں کے لیے استعمال میں لایا جا سکتا ہے جن سے صوبائی حکومت کے وسائل کو مزید مستحکم کرنے میں مدد ملے گی اور یہاں کے بہترین لوکیشن کے باعث اس اثاثے کو مفید استعمال میں لایا جائے گا اور اس کو ضائع نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مذکورہ اراضی پر جدید سہولیات سے آراستہ منصوبے قائم کیئے جاسکتے ہیں جس سے شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم ہونے کے ساتھ ساتھ آمدن کے نئے مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔اس موقع پر ہدایت کی گئی کہ مذکورہ سرکاری اراضی کے مؤثر استعمال کے حوالے سے جامع تجاویز مرتب کی جائیں اور مزید پیش رفت کے لیے روڈ ٹرانسپورٹ بورڈ کا اجلاس طلب کیا جائے، جس میں تمام تکنیکی، مالی اور انتظامی پہلوؤں کا جائزہ لے کر آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے۔

محکمہ بہبودِ آبادی کے فیلڈ سٹاف کو درپیش مسائل اور جائز مطالبات کے حل کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں گے،طفیل انجم

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے بہبودِ آبادی طفیل انجم نے کہا ہے کہ محکمہ بہبودِ آبادی کے فیلڈ سٹاف کو درپیش جائز مسائل اور مشکلات کے حل کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں گے، فیلڈ سٹاف محکمہ بہبودِ آبادی کی خدمات عوام تک پہنچانے میں بنیادی کردار ادا کر رہا ہے، ان کے مسائل کا حل حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں فیلڈ سٹاف ایسوسی ایشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخوا کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ وفد کی قیادت ایسوسی ایشن کے صوبائی صدر نیاز علی یوسفزئی اور جنرل سیکرٹری بحت زادہ خان نے کی، جبکہ دیگر عہدیداران بھی اس موقع پر موجود تھے۔وفد نے معاونِ خصوصی کو فیلڈ سٹاف کو درپیش مختلف مسائل، مشکلات اور اپنے جائز مطالبات سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا اور ان کے حل کے لیے معاونِ خصوصی سے تعاون اور عملی اقدامات کی درخواست کی۔معاونِ خصوصی طفیل انجم نے وفد کے مسائل اور مطالبات غور سے سنے اور یقین دلایا کہ فیلڈ سٹاف کے جائز مسائل کے حل کے لیے متعلقہ حکام سے مشاورت کرکے ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ بہبودِ آبادی کے فیلڈ سٹاف کی خدمات قابلِ قدر ہیں اور حکومت ان کے مسائل کے حل اور انہیں بہتر ماحول فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون کرے گی۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ فیلڈ سٹاف کے جائز مسائل اور مطالبات کا قواعد و ضوابط کے مطابق جائزہ لے کر ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ محکمہ کی کارکردگی اور عوام کو فراہم کی جانے والی خدمات میں مزید بہتری لائی جا سکے۔

خیبرپختونخوا مدارس میں لائبریریز کا قیام، 210 مدارس کو نصابی کتب اور لائبریری فرنیچر کی فراہمی مکمل کر لی گئی

خیبرپختونخوا مدارس میں لائبریریز کا قیام، 210 مدارس کو نصابی کتب اور لائبریری فرنیچر کی فراہمی مکمل کر لی گئی۔محکمہ اوقاف، حج، مذہبی و اقلیتی امور خیبرپختونخوا نے صوبے کے دینی مدارس میں تعلیمی سہولیات کی بہتری اور طلبہ کو معیاری مطالعہ کا ماحول فراہم کرنے کے لیے ایک بڑے اور اہم منصوبے پر عمل درآمد کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ اوقاف بلڈنگ میں ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اور بندوبستی اضلاع کے 210 رجسٹرڈ مدارس میں نصابی کتب اور لائبریری فرنیچر تقسیم کیا گیا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی صوبائی وزیر برائے اوقاف و مذہبی امور محمد عدنان قادری تھے۔ تقریب میں سیکرٹری اوقاف عطاءالرحمان، سربراہ متحدہ علماء بورڈ مولانا احسان الحق سمیت علماء کرام شریک ہوئے.اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر محمد عدنان قادری نے کہا کہ اس منصوبے کا بنیادی مقصد دینی مدارس کے طلبہ کو نصابی کتب تک بہتر رسائی فراہم کرنا اور ان کے لیے جدید تعلیمی ماحول قائم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لائبریریوں کے قیام سے منتخب مدارس کے طلبہ کو باقاعدہ اور بہتر مطالعاتی سہولیات میسر آئیں گی، جو ان کی علمی و تحقیقی صلاحیتوں کو نکھارنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔منصوبے کی تفصیلات شئیر کرتے ہوئے صوبائی وزیر عدنان قادری نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت صوبے کے 140 مدارس بندوبستی اضلاع جبکہ 70 مدارس ضم شدہ اضلاع میں واقع ہیں، جنہیں یہ تعلیمی مواد فراہم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں دینی مدارس کے نصاب کو سپورٹ کرنے کے لیے ہر منتخب مدرسے کو منظور شدہ نصابی کتب کے سات (07) سیٹس فراہم کیے جا رہے ہیں۔ مجموعی طور پر 11,760 نصابی کتب تقسیم کی جا رہی ہیں، تعلیمی درجات کے مطابق ہر درجے کے لیے 1,470 کتب شامل ہیں جو درجہ اولیٰ، ثانیہ، ثالثہ، رابعہ، خامسہ، سادسہ، موقوف علیہ، دورہ حدیث پر مشتمل ہیں. وزیر مذہبی امور عدنان قادری نے مزید کہا کہ مدارس میں مطالعہ، علمی سرگرمیوں اور تحقیق کے لیے موزوں ماحول پیدا کرنے کی غرض سے مجموعی طور پر 2,940 فرنیچر آئٹمز فراہم کیے جا رہے ہیں ہر مدرسے کو 2 بک شیلف/الاریاں، 2 لائبریری ٹیبلز اور 10 کرسیاں دی جا رہی ہیں۔ جس میں مجموعی تعداد میں بک شیلف / الماریاں 420، لائبریری ٹیبلز 420، لائبریری کرسیاں 2,100 شامل ہیں. تقریب سے سیکرٹری اوقاف و مذہبی امور عطاء الرحمان، اور متحدہ علماء بورڈ کے سربراہ مولانا احسان الحق نے بھی تقریب سے خطاب کی.

اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کی زیرِ صدارت نجی تعلیمی اداروں کے مسائل کے حوالے سے اہم اجلاس

سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کی زیرِ صدارت نجی سکولوں کی نمائندہ تنظیم کے وفد، محکمہ لیبر، ابتدائی و ثانوی تعلیم اور پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی (PSSRA) خیبرپختونخوا کے افسران کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیرِ ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان اور وزیرِ قانون آفتاب عالم، چئیر قائمہ کمیٹی برائے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم افتخار علی مشوانی، ایم پی اے اکرام اللہ غازی بھی موجود تھے۔اجلاس میں نجی تعلیمی اداروں کو درپیش مختلف مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا، جبکہ خصوصی طور پر محکمہ لیبر کی جانب سے نجی سکولوں کے عملے کے لیے مقرر کردہ کم از کم اجرت (Minimum Wages) کی شرح اور اس پر عملدرآمد کے معاملے پر تفصیلی بحث ہوئی۔
نجی سکولوں کی نمائندہ تنظیم کے وفد نے مؤقف اختیار کیا کہ کم فیس لینے والے چھوٹے نجی سکولوں کے لیے موجودہ کم از کم اجرت کے مقررہ نرخوں پر عملدرآمد مالی مشکلات کا باعث بن رہا ہے اور ان اداروں کے لیے اپنے اخراجات پورے کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔اس موقع پر اجلاس کے شرکاء نے واضح کیا کہ کسی بھی فیصلے میں نجی تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ نجی سکولوں میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ اور دیگر عملے کے حقوق کا بھی مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔تفصیلی غور و خوض کے بعد اجلاس اس نتیجے پر پہنچا کہ اس معاملے کی بنیادی نوعیت مختلف قوانین کے باہمی تقابل اور ممکنہ اوورلیپ سے متعلق ہے، بالخصوص PSSRA کے متعلقہ قوانین اور محکمہ لیبر کے قوانین کے درمیان موجود ابہام اور تضادات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ متعلقہ قوانین کا جامع جائزہ لے کر ان میں موجود تضادات اور اوورلیپ کی نشاندہی کی جائے گی اور ضرورت کے مطابق قانون سازی یا قانونی ترامیم کے ذریعے اس مسئلے کا مستقل اور قابلِ عمل حل تلاش کیا جائے گا۔اسپیکر بابر سلیم سواتی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایسا متوازن اور دیرپا حل وضع کیا جائے گا جس میں نجی تعلیمی اداروں کے استحکام کے ساتھ اساتذہ اور دیگر ملازمین کے قانونی و معاشی حقوق کا تحفظ بھی یقینی ہو اور صوبے میں تعلیمی سرگرمیاں بلا تعطل اور مزید بہتر انداز میں جاری رہ سکیں۔

عظمیٰ بخاری سوال کا جواب دینے کی بجائے غلیظ زبان استعمال کر کے اخلاقیات کا جنازہ نکال رہی ہیں، مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے صرف ایک سادہ سا سوال پوچھا تھا کہ چین سے بغیر کیمو تھراپی کے کینسر کے علاج کے لیے جو مشین لائی گئی تھی، اس کا کیا بنا اور اس کے نتائج کیا رہے؟مزمل اسلم نے کہا کہ سوال کا جواب دینے کی بجائے غلیظ زبان استعمال کرنا انتہائی افسوسناک ہے، اس طرزِ عمل سے اخلاقیات کا جنازہ نکالا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ کینسر کے علاج کے لیے مبینہ طور پر صرف 70 مریضوں پر تجربہ کیا گیا، جبکہ یہ بھی واضح نہیں کہ اس تجربے کے نتائج کامیاب رہے یا نہیں۔ عوام کو بتایا جانا چاہیے کہ اس مشین سے کتنے مریضوں کا علاج ہوا، اس کے نتائج کیا رہے اور اس کی افادیت کیا ثابت ہوئی۔مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ دوسری جانب شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال لاکھوں مریضوں کو مفت علاج کی سہولت فراہم کر چکا ہے اور اب تک دس لاکھ مفت کیمو تھراپی مکمل کی جا چکی ہیں۔مزمل اسلم نے کہا کہ پاکستان کا تیسرا بڑا کینسر ہسپتال بھی دسمبر میں کراچی میں کھلنے جا رہا ہے، جو کینسر کے مریضوں کو علاج کی مزید سہولیات فراہم کرے گا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی ناحق قید کے باوجود ان کی جانب سے عوامی خدمت کا سلسلہ جاری ہے اور عوامی فلاح کے منصوبوں پر کام ہو رہا ہے۔مزمل اسلم نے کہا کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن عوام کے بنیادی سوالات کا جواب دلیل اور حقائق سے دیا جانا چاہیے، ذاتی حملوں اور غیر اخلاقی زبان سے نہیں۔

سرکاری نرخ پر آٹے کی فراہمی، گزشتہ ہفتے 3 لاکھ 6 ہزار سے زائد تھیلے فراہم

محکمہ خوراک خیبرپختونخوا نے گزشتہ ہفتے صوبہ بھر میں سرکاری نرخ پر فراہم کیے گئے آٹے کے اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے تفصیلات میں کہا گیا کہ 1639 فعال آٹا ڈیلرز کے ذریعے مجموعی طور پر 3 لاکھ 6 ہزار 303 آٹے کے تھیلے شہریوں کو سرکاری نرخ پر فراہم کیے گئے۔
محکمہ خوراک کے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق پشاور ڈویژن میں 86 ہزار 854، مردان ڈویژن میں 40 ہزار 401، ملاکنڈ ڈویژن میں 59 ہزار 264، ہزارہ ڈویژن میں 65 ہزار 682، بنوں ڈویژن میں 20 ہزار 700، ڈی آئی خان ڈویژن میں 33 ہزار 402 جبکہ کوہاٹ ڈویژن میں 23 ہزار 224 آٹے کے تھیلے فراہم کیے گئے۔
محکمہ خوراک کے حکام کا کہنا تھا کہ آٹے کی سرکاری فراہمی کے نظام میں ایس او پیز اور قانون کی خلاف ورزی پر کارروائیاں بھی کی گئیں، پشاور میں 14 آٹا ڈیلرز کا کوٹہ اور لائسنس منسوخ کیے گئے، جبکہ ضلع خیبر میں 11 ڈیلرز کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔
اسی طرح چارسدہ میں ایک فلور مل اور 7 آٹا ڈیلرز جبکہ نوشہرہ میں 2 فلور ملز اور 15 ڈیلرز کا سرکاری کوٹہ منسوخ کیا گیا ہے۔
حکام محکمہ خوراک کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت کے صوبائی اسٹریٹجک ریزرو سے فلور ملز کو روزانہ 3 ہزار میٹرک ٹن سرکاری گندم ریلیز کی جا رہی ہے
حکام کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے شہریوں کو 20 کلوگرام سرکاری آٹے کا تھیلا 2520 روپے میں منتخب ڈیلرز کے ذریعے فراہم کیا جا رہا ہے۔
محکمہ خوراک کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی اور محکمہ خوراک کی ٹیمیں گندم اور آٹے کے معیار کی باقاعدگی سے نگرانی کر رہی ہیں، جبکہ غیر معیاری آٹا فراہم کرنے والی فلور ملز کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔معاون خصوصی برائے خوراک ڈاکٹر محمد اسرار خان نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سرکاری گندم سے تیار کردہ آٹے کے معیار پر نظر رکھیں اور غیر معیاری آٹے کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔انہوں نے کہا کہ غیر معیاری آٹا فراہم کرنے والی فلور مل کا سرکاری کوٹہ منسوخ کرنے کے ساتھ ساتھ قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔ حکومت خیبرپختونخوا عوام کو معیاری اور سستا آٹا فراہم کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔ڈاکٹر محمد اسرار خان نے کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے گندم اور آٹے کی بین الصوبائی نقل و حرکت پر غیر آئینی پابندی کے باعث ملک بھر میں آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ پنجاب حکومت نے گندم اور آٹے کی بین الصوبائی آزادانہ تجارت میں تاحال رکاوٹیں برقرار رکھی ہوئی ہیں۔