Home Blog Page 260

نظام پور 29 کلومیٹر سڑک پرذاتی مسافر اور چھوٹی گاڑیوں پر کسی قسم کا ٹیکس نہیں لگنے دیں گے۔صوبائی وزیر ایکسائز میاں خلیق الرحمان

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم صوبائی وزیر ایکسائز میاں خلیق الرحمان کے ساتھ اجلاس میں متفق، صرف ٹو ایکسل اور اس سے بڑی گاڑیوں پر ٹیکس لگایا جائے گا

پختونخوا ہائی وے اتھارٹی کے زیر سرپرستی نظام پور نوشہرہ ٹول پلازہ پر ٹول ٹیکس لگانے کے حوالے سے ایک اعلی سطح اجلاس مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم اور صوبائی وزیر ایکسائز میاں خلیق الرحمان کے مشترکہ زیر صدارت منعقد ہوا جس میں پختونخوا ہائی وے اتھارٹی اور مقامی انتظامیہ کے حکام نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا کہ پختونخواہائی وے اتھارٹی کی زیر نگرانی جتنی بھی سڑکیں قرضہ جات لیکر بنائی گئی ہیں ان کی مرمت اور بحالی حکومت کا کام ہے جن کیلئے روڈ ٹول پلازہ کے ذریعے ٹول ٹیکس لینا لازمی ہے تاکہ صوبے میں سڑکوں کی حالت بہتر ہو کر عوام کو مشکلات اور حادثات سے چھٹکارا حاصل ہو سکے۔ اجلاس کا ایجنڈا نظام پور 29 کلومیٹر روڈپر ٹول پلازہ کی فعالی تھی تاکہ اس سڑک پر گزرنے والی گاڑیوں سے ٹول ٹیکس لینا شروع کیا جا سکے جس پر صوبائی وزیر ایکسائز میاں خلیق الرحمان نے اجلاس کو واضح طور پر بتایا کہ کسی بھی مسافر اور ذاتی گاڑی سمیت تمام چھوٹی گاڑیوں پر کسی قسم کا ٹول ٹیکس نہیں لگنے دیں گے جس پر مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ نظام پور ٹول پلازہ پر صرف بڑی گاڑیوں جن میں 2 ایکسل ٹرکس ٹریکٹرز بمعہ ٹرالی، تھری ایکسل ٹرکس اور اس سے بڑی گاڑیوں سے ٹیکس لیا جائے گا۔ اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ 25 سواریوں سے کم رکھنے والی گاڑی سے بھی ٹول ٹیکس نہیں لیا جائے جس میں منی بس اور مزدہ کو بھی استشنا حاصل ہوگا۔ صوبائی وزیر ایکسائز میاں خلیق الرحمان نے پختونخوا ہائی وے اتھارٹی حکام کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ سڑک کے دونوں اطراف میں سائیڈ وال مکمل کی جائیں تاکہ حادثات میں کمی ہو سکے۔

بیرسٹر ڈاکٹر سیف کا نواز شریف اور مریم نواز کے بیان پر ردعمل

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے خیبر پختونخوا سے مریضوں کے اپنے علاج کے لئے پنجاب جانے کا نواز شریف کا بیان مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شریف خاندان کے افراد خود توسردرد کے علاج کے لئے بھی لندن جاتے ہیں اور اگر پنجاب کے ہسپتال اتنے اچھے ہیں تو خود اپنا علاج ان ہسپتالوں میں کیوں نہیں کراتے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے سوال اٹھایا کہ پنجاب میں اقتدارکی کئی باریاں لینے کے باوجود صحت کارڈ منصوبہ کیوں شروع نہیں کیا گیا۔آج عمران خان کا اپنا گھر سکیم منصوبہ کو کاپی کیا ہے تواب صحت کارڈ منصوبہ کب کاپی کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ن لیگ میں معاشی استحکام کا دعوہ بھی مضحکہ خیز  ہے اورملک پر مسلط جعلی فارم 47 کی حکومت ن لیگ کی نہیں ہے، شائد نواز شریف شہباز شریف کی حکومت کو ن لیگ کی حکومت نہیں مانتے ہیں۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف کی تقریر سے لگ رہا ہے کہ اپنے بھائی کی حکومت سے وہ خوش نہیں ہیں اور خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور باپ بیٹی دونوں کے اعصاب پر سوار ہے۔انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈاپور احتجاج کے لئے پنجاب آتے ہیں جو انکا جمہوری اور آئینی حق ہے۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ سمجھ نہیں آ رہا کہ اقتدار کی کئی باریاں لینے کے باوجود نواز شریف آج کس سے گلہ کررہے ہیں، دریں اثناء وزیر اعلیٰ کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ نے اہور کی سڑکوں پر نابینا افراد پر تشدد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت تسلط میں لاہور کی سڑکوں پر اب نابینا افراد بھی خوار ہورہے ہیں اور ان کی مدد کرنے کی بجائے انہیں تشدد کا نشانا بنایا جا رہا ہے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف ان نابینا افراد پر ہونے والے تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جعلی حکمران مریم نواز کی انتظامیہ نے نابینا افراد پر بھی ڈنڈے برسائے ہیں جو نا انصافی اور ظلم کی انتہا ہے حالانکہ بدترین ڈکٹیٹر شپ میں بھی کبھی نابینا افراد پر تشدد نہیں ہوا ہے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف کا مزید کہنا تھا کہ ٹک ٹاکر وزیراعلیٰ کے دعووں کا پول نابینا افراد نے کھول دیا۔ پنجاب کی وزیر اعلیٰ ٹک ٹاک پر ترقی کے دعوے تو بہت کرتی ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ سڑکوں پر احتجاج روز کا معمول بن چکا ہے اور اس سے بڑا نا اہلی کا دوسرا ثبوت کیا ہوگا کہ اب نابینا افراد بھی جعلی حکومت کے خلاف سڑکوں پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مظلوم مظاہرین پر تشدد شریف خاندان کا پرانا وطیرہ ہے اور اس حوالے سے ماڈل ٹاون کی مثال سب کے سامنے ہے۔

مشیر صحت احتشام علی کی سربراہی میں صحت کارڈ سے متعلق اجلاس معنقد ہوا

مشیر صحت احتشام علی کی سربراہی میں صحت کارڈ سے متعلق اجلاس معنقد ہوا۔ اجلاس میں سی ای او صحت کارڈ ڈاکٹر ریاض تنولی، سٹیٹ لائف انشورنس کمپنی کے نمائندے فیاض نور و دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مشیر صحت نے صوبے میں صحت کارڈ پر ہسپتالوں کی ایمپنلمٹ کیلئے جاری سروے بارے کہا کہ جو ہسپتال کرائٹیریا پر پورا نہ اترے انہیں فوری نا اہل قرار دیں۔صحت کارڈ پر موجود ہسپتالوں کی بارہا مانیٹرنگ معیاری علاج تک رسائی کا واحد حل ہے۔ مشیر صحت کو بتایا گیا کہ ہسپتالوں کی صحت کارڈ پر ایمپلنلمنٹ کیلئے پورٹل یکم جولائی سے کھولا گیا تھا۔ جس پر 173 ہسپتالوں نے آن لائن ایپلائی کیا تھا۔ صوبہ بھر میں ہسپتالوں کی اسسمنٹ کا نوے فیصد مکمل ہوچکا ہے۔ چیف ایگزیکٹیو ٓفیسر صحت کارڈ ریاض تنولی نے بتایا کہ اگلے ہفتے تک ہسپتالوں کی لسٹ فائنل ہوجائیگی جس کی حتمی منظوری پالیسی بورڈ دیگا۔ ہسپتال ایمپنلمنٹ سے قبل ڈسک اور فزیکل اسسمنٹ کے مراحل سے گزرتے ہیں۔ ڈسک اسسمنٹ میں 22 مراکز صحت کو نااہل قرار دیدیا گیا ہے۔ مشیر صحت کو بتایا گیا کہ سیکنڈری ہسپتال کی ایپلائی کیلئے ایک لاکھ اور ٹرشئیری کئیر ہسپتالوں کے ایپلائی کیلئے پانچ لاکھ روپے فیس مقرر کی گئی۔ قبائلی اضلاع شمالی و جنوبی وزیرستان اور کرم سمیت صوبے کے پندرہ ہسپتالوں کا جائزہ ابھی رہتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ہزارہ ریجن میں 43, ملاکنڈ ریجن میں 67, مردان ریجن میں 64, جنوبی اضلاع میں 19 اور وسطی اضلاع میں 45 مراکز صحت کی سسمنٹ مکمل ہوچکی ہے۔ اس سال کیلئے کُل 253 ہسپتالوں کی صحت کارڈ کے تحت ایمپنلمنٹ پلان کیا گیا ہے۔ ان میں سے 151 نئے اور 103 پہلے سے موجود ایمپنلڈ ہسپتالوں کا جائزہ لیا جارہاہے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے سیاحت و ثقافت زاہد چن زیب نے کہا ہے

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے سیاحت و ثقافت زاہد چن زیب نے کہا ہے کہ کاغان میں سیاحوں کی آمد سے علاقے میں سیاحت کے فروغ اور اس کے نتیجے میں علاقائی معاشی ترقی کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ چونکہ سیاحت اور ہوٹل انڈسٹری لازم و ملزوم ہیں،اس لئے ہوٹل انڈسٹری کے لئے این او سی کے حصول کے مرحلے کو آسان بنایا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سیکرٹری سیاحت و ثقافت کے دفتر میں منعقدہ کاغان ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری سیاحت و ثقافت، کمشنر ہزارہ ڈویژن، ڈائریکٹر جنرل کاغان ڈیولپمنٹ اتھارٹی، چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز کاغان ڈیولپمنٹ اتھارٹی سمیت دیگر ممبران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران بورڈ آف ڈائریکٹرز کاغان ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین جمیل احمد نے مشیر سیاحت و ثقافت کو علاقے میں جاری لینڈ زوننگ و ڈیمارکیشن، اپ لفٹ پروگرامز سمیت دیگر منصوبوں پر بریفننگ دی۔ زاہد چن زیب نے لینڈ زوننگ اور ڈیمارکیشن کی ترتیب پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کی مالی استطاعت کے مطابق یہ ترتیب موزوں ہونی چاہیے۔۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کے ڈی اے کے پاس وسائل کی کمی نہیں اور ہمیں علاقے کی ترقی کے لئے ان وسائل کو بروئے کار لانے کے لئے سنجیدہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ مشیر سیاحت و ثقافت نے مزید کہا کہ علاقے میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور ہنگامی صورتحال کو قابو کرنے کے لیے کے ڈی اے کو بھاری مشینری کی فراہمی بہت جلد ممکن ہوگی اور علاقے میں سیاحت کے فروغ اور تعمیر و ترقی کے لئے ہم سب کو مل کام کرنا ہوگا۔

دو روزہ خیبر میڈیکل کالج انٹرنیشنل ریسرچ کانفرنس کا شاندار آغاز – طبی تحقیق کے فروغ پر زور

تیسری خیبر میڈیکل کالج انٹرنیشنل ریسرچ کانفرنس کی شاندار تقریب کا آغاز ہوا، جس کا افتتاح ربن کاٹنے کی رسم سے کیا گیا۔ اس اہم اور متوقع ایونٹ کی تقریب میں مہمانِ خصوصی، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے صدر، پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج نے شرکت کی۔ ان کے علاوہ چیئرمین بورڈ آف گورنرز، ڈاکٹر عمر ایوب خان اور کانفرنس کی آرگنائزنگ کمیٹی کے اہم اراکین نے بھی شرکت کی، جن میں پیٹرن انچیف ڈین خیبر میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر محمود اورنگزیب، چیف آرگنائزر پروفیسر ڈاکٹر بشیر احمد، اور آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرپرسن ڈاکٹر فاروق احمد اور ڈاکٹر اقبال حیدرشامل تھے۔تقریب میں پاکستان بھر سے نامور طبی ماہرین، محققین، اور طلباء کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جن کا مقصد طب کے میدان میں جدید تحقیقاتی رجحانات اور نئے طریقوں کو فروغ دینا تھا۔ قبل از ریسرچ کانفرنس،پچھلے دو ماہ سے خیبر پختونخواہ کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں 50 سے زائد مختلف امور پر ریسرچ کے حوالے سے ورکشاپوں کا اہتمام بھی کیا گیا جس سے نا صرف ڈاکٹر بلکہ طلباء اور دیگر طبی عملہ بھی مستفید ہوئے۔ تقریب کے دوران مختلف فارماسیٹیکل کمپنیوں کی جانب سے سٹالز بھی قائم کیے گئے تھے بلکہ دوسرے شہروں سے آئے مہمانوں کے لیے پشاور شہر کی سیر اور گالا ڈنر کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔ یہ دو روزہ کانفرنس آج اختتام پزیر ہوگی۔تقریب سیمہمانِ خصوصی، پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج نے اپنے خطاب میں کہا،“صحت کے شعبے میں تحقیق ایک بنیاد ہے جس پر پوری دنیا کا طبی نظام قائم ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی ترقیات نے دنیا کو تیزی سے بدل دیا ہے، اور اس تبدیلی کے ساتھ قدم ملا کر چلنا ضروری ہے۔ طبی شعبے میں تحقیق کا فروغ ہماری قوم کی صحت کو بہتر بنانے کے لئے ناگزیر ہے۔ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ طبی ادارے تحقیق پر خصوصی توجہ دیں تاکہ ہم عالمی سطح پر صحت کے معیار کو بہتر بنا سکیں۔”چیئرمین بورڈ آف گورنرز ڈاکٹر عمر ایوب خان نے کہا،“خیبر میڈیکل کالج ہمیشہ سے ہی تحقیقی میدان میں پیش پیش رہا ہے۔ اس کانفرنس کا مقصد نہ صرف طلباء اور اساتذہ کو جدید تحقیقاتی طریقوں سے آگاہ کرنا ہے بلکہ انہیں اس قابل بنانا ہے کہ وہ طب کے شعبے میں نئے افق کو چھو سکیں۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہمارے محققین جدید تحقیقات کی روشنی میں نئے علاج اور طریقہ کار تیار کریں تاکہ عوام کو بہتر اور معیاری صحت کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔”ڈین خیبر میڈیکل کالج، پروفیسر ڈاکٹر محمود اورنگزیب نے اس موقع پر کہا،“تحقیق کے بغیر صحت کے شعبے میں ترقی ممکن نہیں۔ ہمیں اپنی محنت اور جدوجہد کو تحقیق کی طرف مائل کرنا ہوگا تاکہ ہم عالمی معیار کے مطابق اپنی خدمات فراہم کر سکیں۔ کے ایم سی ہمیشہ سے تحقیق کی اہمیت کو تسلیم کرتا آیا ہے اور اس کانفرنس کا مقصد تحقیقاتی کلچر کو مزید فروغ دینا ہے۔”تقریب کے اختتام پر مقررین نے خیبر میڈیکل کالج کی تحقیقی کامیابیوں کو سراہا، اور کامیاب تقریب کے اہتمام پر تمام آرگنائزر کو خراج تحسین پیش کیا اور عزم کا اظہار کیا کہ یہ کانفرنس تحقیقاتی جدت کو فروغ دینے کے لئے ایک مضبوط پلیٹ فارم ثابت ہوگا جو نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی تحقیق کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔

خیبر پختونخوا کے وزیر بلدیات ارشد ایوب خان نے ہدایت کی ہے کہ تمام ترقیاتی منصوبوں پر

خیبر پختونخوا کے وزیر بلدیات ارشد ایوب خان نے ہدایت کی ہے کہ تمام ترقیاتی منصوبوں پر عملی کام شروع کیاجائے اور کوئی زبانی جمع خرچ نہیں ہوناچاہیے۔ خالی باتوں سے کام نہیں چلے گا کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے جو کام نہیں کریگا گھر جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے خیبر پختونخوا اربن ایریا ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے بورڈ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ممبران صوبائی اسمبلی افتخار مشوانی، محمد خورشید، سیکرٹری بلدیات داؤد شاہ، مینجنگ ڈائریکٹر اربن ایریا ڈیویلپمنٹ اتھارٹی رشید خان، تمام اتھارٹیوں کے پروجیکٹ ڈائریکٹرز اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر بلدیات نے کہا کہ تمام اتھارٹیز کے سربراہان کو اجازت ہے کہ اگر وہ اپنے اپنے ماسٹر پلان میں کوئی بہتری لانا چاہتے ہیں تو وہ اپنے مذکورہ پلان بورڈ کے اگلے اجلاس میں پیش کرسکتے ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام اتھارٹیز کے سربراہان متعلقہ ممبران صوبائی اسمبلی کے ساتھ مل کر ترقیاتی منصوبوں کے دورے کریں اور کام کے معیار اور کوالٹی کو بہتر بنانے کیلئے سنجیدہ اقدامات اٹھائیں۔ارشد ایوب خان نے ہدایت کی کہ جن اتھارٹیز کے پاس فنڈز موجود ہیں وہ فوراً ترقیاتی منصوبوں پر کام شروع کروالیں اور تمام منصوبوں میں فنڈز کی منصفانہ تقسیم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام منصوبوں کو اپنی مقررہ مدت میں مکمل کیاجائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں خود تمام اتھارٹیز کے زیر انتظام جاری منصوبوں کا دورہ کرونگا اور کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور غفلت برتنے والوں کو قانونی کاروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔وزیر بلدیات نے کہا کہ فنڈز کے معاملے میں محکمہ بلدیات تمام اتھارٹیز ک کی مدد کرے گا تاکہ عملی کام شروع کروائے جاسکیں اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دلوایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اربن ایریا ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کا اجلاس ہر ماہ منعقد کروایا جائے گا تاکہ منصوبوں کی بروقت تکمیل ہو سکے۔

پنجاب حکومت نے عمران خان اور وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا ”اپنا گھر” اسکیم کا نام چرا لیا ہے۔ مزمل اسلم

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے پنجاب حکومت کے منصوبے ”اپنا گھر” سکیم بارے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے عمران خان اور وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا ”اپنا گھر” اسکیم کا نام چرا یا ہے۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ مزاق میں اگر کوئی کاپی کرتا ہے تو اسے چائینا کی کاپی کہتے ہیں ,اس وقت مریم نواز حکومت کی پالیسی بھی چائینا کاپی والی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت عمران خان حکومت کے منصوبے کاپی کر ر رہی ہے اورماڈل ریڑھی، ہسپتال، اپنا گھراور بجلی رعائیت وغیرہ سب عمران خان کے منصوبے ہیں۔اسی طرح صحت کارڈ، تعلیم کارڈوغیرہ بھی سب خیبرپختونخوکی حکومت کے شروع کردہ منصوبے ہیں۔مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اس بہانے پنجاب حکومت کی کچھ تربیت توہو رہی ہے۔

خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی کا صوبے کی مختلف اضلاع میں کاروائیاں، غیر معیاری اور مضر خوراک کی اشیاء ضبط، بھاری جرمانے بھی عائد

خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی اتھارٹی کی ٹیموں نے صوبہ بھر میں ملاوٹ مافیا اور مضر صحت خوردونوش اشیاء کے خلاف کارروائیاں جاری رکھتے ہوئے پشاور مردان، ملاکنڈ اور خیبر میں مختلف کاروباروں پر چھاپے مارے اور غیر معیاری و مضر صحت مختلف خورا ک کی اشیاء برآمد کیں اور بھاری جرمانے عائد کئے اس سلسلے میں فوڈ اتھارٹی کے ترجمان نے تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ فوڈ سیفٹی اتھارٹی ٹیم نے پشاور کے چارسدہ روڈ پر ایک پاپس بنانے والے یونٹ کو حفظان صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی پر سیل کر دیا اور فوڈ سیفٹی ایکٹ کے مطابق مزید کاروائی کا آغاز کر دیا مزید تفصیلات کیمطابق مردان فوڈ سیفٹی ٹیم نے بھی خواجہ گنج، تخت بھائی، اور جھنڈی بازار میں چھاپے مار کر دو گوداموں سے 500 کلو غیر معیاری کیچپ اور 40 کلو چائنہ سالٹ برآمد کیا، جنہیں فوری طور پر ضبط کرکے بھاری جرمانہ بھی عائد کر دیا۔ تخت بھائی میں ضلعی انتظامیہ کے ہمراہ موبائل فوڈ ٹیسٹنگ لیب کے ذریعے دودھ کے نمونوں کی جانچ بھی کی گئی۔ دودھ میں پانی کی ملاوٹ پائی گئی، جس پر دکانداروں پر بھاری جرمانے کیے گئے اور وارننگ جاری کی گئی۔دوسری جانب مالاکنڈ فوڈ سیفٹی ٹیم نے سخاکوٹ میں شاہراہ پر ناکہ بندی کی اور چیکنگ کے دوران 200 لیٹر سے زائد غیر معیاری دودھ تلف کیا گیا، جبکہ بھاری جرمانے بھی عائد کیے گئے۔اسی طرح فوڈ سیفٹی ٹیم نے ضلع خیبر کے لنڈی کوتل بازار میں موبائل ٹیسٹنگ لیب کے ذریعے چائے کی پتی، دودھ، مصالحہ جات، گھی، نمک اور کولڈ ڈرنکس کے نمونوں کا معائنہ کیا جبکہ ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کی چیکنگ کے دوران 40 لیٹر غیر معیاری کوکنگ آئل برآمد کر کے تلف کیا گیا۔ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی واصف سعید نے فوڈ سیفٹی ٹیموں کو کامیاب کاروائیوں پر داد دیتے ہوئے کہا کہ ملاوٹ مافیا کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں کی جائے گی اور شہریوں کی صحت کے ساتھ کھلواڑ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔صوبائی وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو نے بھی ملاوٹ مافیا کو انتباہ کیا اور کہا کہ وہ اپنا قبلہ درست کریں ورنہ سخت کارروائی کے لیے تیار رہیں۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی کی زیر صدارت ویمن یونیورسٹی مردان کا 25-2024بجٹ کے حوالے سے سینیٹ اجلاس

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی کی زیر صدارت ویمن یونیورسٹی مردان کا 25-2024بجٹ کے حوالے سے سینیٹ اجلاس بدھ کے روز منعقد ہوا اجلاس میں محکمہ خزانہ، اعلیٰ تعلیم، اسٹبلشمنٹ، ہائیر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد کے نمائندہ سمیت سینیٹ کے دیگر اراکین نے شرکت کی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر کو ویمن یونیورسٹی مردان کے بجٹ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جبکہ 24-2023 نظرثانی شدہ بجٹ پر بھی تفصیل سے گفتگو ہوئی بریفنگ میں یونیورسٹی کے سالانہ اخراجات، ریگولر اور کنٹریکٹ سٹاف کی تنخواہوں پر تفصیل سے بحث ہوئی جبکہ ٹرانسپورٹ، ریسرچ سے متعلق اخراجات، یونیورسٹی کے ذرائع آمدن اور اینڈومنٹ فنڈ سمیت دیگر پر صوبائی وزیر کو تفصیل سے آگاہ کیا گیا بریفنگ میں یونیورسٹی کو ہائیر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد کی طرف سے ملنے والی گرانٹ ان ایڈ اور خیبر پختونخوا حکومت کی طرف سے ملنے والی گرانٹ پر بھی بحث ہوئی۔ اجلاس میں بجٹ امور پر طویل بحث مباحثے کے بعد سینیٹ کے اراکین نے ویمن یونیورسٹی مردان کے سال25 -2024 کی سرپلس بجٹ کی یونیورسٹی کے 24-2023 بجٹ کے اے جی آفس اور تھرڈپارٹی آڈٹ کے ساتھ مشروط کرکے متفقہ طور پر منظوری دیدی۔

خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی نے پہلے تین ماہ کے محصولات میں 41 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

گزشتہ سال کی اسی مدت کے 7.69 ارب روپے کے مقابلے میں 10.82 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے خیبرپختونخوا ریونیو اتھارٹی کے محصولات وصولی بارے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی نے پہلے تین ماہ کے محصولات میں 41 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا ہے جس کے مطابق گزشتہ سال کی اسی مدت کے 7.69 ارب روپے کے مقابلے میں 10.82 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ ان خیالات کا اظہار مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے اپنے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کیا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا ہے کہ دلچسپ امر یہ ہے کہ اسی مدت کے لیے ایف بی آر کی ٹیکس وصولی 25 فیصد ہے اور دیکھنا ہوگا کہ پنجاب اور سندھ کی ٹیکس وصولی میں کتنا اضافہ ہوا ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت اپنے ریونیو بڑھانے کیلئے متعدد اقدامات اٹھا رہی ہے تاکہ صوبے کے مالی معاملات بہتر ہو سکیں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت عوامی ہے جس میں عوام کے پیسے عوام کی بہتری کیلئے خرچ کیے جا رہے ہیں۔