Home Blog Page 270

معیاری تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنائیں اور غیر معیاری اداروں کے خلاف کارروائی۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی نے خیبر پختونخوا ہائیر ایجوکیشن ریگولٹری اتھارٹی کے حکام کو ہدایت کی ہے کہ صوبے میں معیاری تعلیم کی فروغ اور فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے عملی اقدامات اٹھائیں جو نجی تعلیمی ادارے اتھارٹی کے معیار پر پورے نہیں اترتے انکے خلاف اتھارٹی قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، معیاری تعلیم کو عام کرنا ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے غیر معیاری ادراوں کی روک تھام کیلیے اتھارٹی میرٹ اورشفافیت پرعمل درآمد کو یقینی بنائے، صوبائی وزیر نے یہ ہدایات منگل کے روز محکمہ ایجوکیشن کے کمیٹی روم میں کے پی ایجوکیشن ریگولیٹری اتھارٹی کے تعارفی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔ اجلاس میں اتھارٹی کے سیکرٹری ساجد انعام، چیئرمین شریف حسین اور دیگر افسران نے شرکت کی، صوبائی وزیر کو اتھارٹی کے کام اور کارکردگی کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی، بریفنگ میں کالجز اور یونیورسٹیز کی اتھارٹی کے ساتھ رجسٹریشن کے عمل اور طریقہ کار پر صوبائی وزیر کوبتایا گیا کہ اتھارٹی کے ساتھ اب تک صوبے کے مختلف اضلاع میں 344 نجی یونیورسٹیز اور کالجز رجسٹرڈ ہیں جن میں 9 یونیورسٹیز, ایک یونیورسٹی سب کیمپس، ایک ڈگری ایوارڈنگ انسٹی ٹیوٹ، 8 میڈیکل کالجز، 3 ڈینٹل کالجز، 2 میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز، ایک انجینئرنگ کالج، 2 ہمیوپیتھک کالجز، 181 الائیڈ ہیلتھ سائنسز/نرسنگ کاجز، 36 جنرل ڈگری کالجز اور 100 پروفیشنل انسٹیٹوشنز شامل ہے مذید بتایا گیا کہ160 غیر معیاری نجی ہائیر ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز کو ڈی رجسٹرڈ کیا گیا ہے، بریفنگ میں صوبائی وزیر کو ریگولٹری اتھارٹی کی کارکردگی اور سرگرمیوں کے بارے میں بتایا گیا کہ اتھارٹی کے زیراہتمام مختلف یونیورسٹیز میں سمینار منعقد کئے جا چکے ہیں جبکہ شہیدبے نظیر بھٹو یونیورسٹی پشاور، کوہاٹ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، فاٹا یونیورسٹی اور ہزارہ یونیورسٹی کے سو جوانوں اور سو فیکلٹی اراکین کو ڈائیورسٹی مینیجمنٹ، ڈیجیٹل سیٹیزنشپ، لیڈرشپ اور ریسرچ میتڈز میں ٹریننگز کا انعقاد کیا ہے، اس کے علاوہ ڈویژن ڈویلپمنٹ پراجکیٹ کے تعاون سے ضلع کرک، کوہاٹ اور ہنگو، کوہاٹ میں ٹیکنیکل ٹریننگ سکالرشپس شروع کی ہیں،اس موقع پر اتھارٹی میں اصلاحات اور ترامیم پر تفصیلی گفتگو ہوئی اور مختلف تجاویز بھی زیرغور آئیں۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر: پشاور کی تاریخی اہمیت کو بحال کرنے کیلئے ترقیاتی اقدامات اٹھائے جائیں۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات وتعلقات عامہ بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ پشاور تجارتی سرگرمیوں کا ایک قدیم تاریخی شہر ہے اور ماضی میں وسطی ایشیائی ممالک کی تجارت کا حب رہ چکا ہے۔صوبائی حکومت پشاور شہر کی صفائی و دیگر مسائل کی حل کیلئے ترجیحاتی بنیادوں پر اقدامات اٹھارہی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے برین انسٹیٹیوٹ پشاور میں منعقدہ“ہمارا پشاور“کے نام سے منعقدہ ایک تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے ایم این اے ارباب شیر علی خان سمیت ناصر علی سید،سابق پولیو کوآرڈینیٹر جانباز آفریدی،ڈائریکٹر برینز انسٹیٹیوٹ ظفر اللہ خان اور دیگر مکاتب فکر کے دانشوروں،ادیب پروفیسر ان نے شرکت کی۔تقریب میں رکن قومی اسمبلی ارباب شیر علی خان اور دیگر مکاتب فکر افراد نے پشاور شہر کے قدیم روایت،ورثہ اور تاریخی پس منظر پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔مشیر اطلاعات نے اس موقع اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پشاور ایک قدیم تاریخی شہر ہے جہاں وسطی ایشیائی ممالک سے تجارتی سرگرمیاں جاری رہتی تھیں۔انہوں نے کہا کہ پشاور شہر کے تاریخی ورثہ کو برقرار رکھنے کیلئے صوبائی حکومت ترجیحاتی بنیادوں پر کام کر رہی ہے۔بیرسٹر سیف نے کہا کہ تیزی سے پھیلتی ہوئی آبادی اور کمرشل تعمیرات نے ملک کیساتھ ساتھ پشاور شہر کی رونق کو متاثر اور مسائل میں اضافہ کیا ہے اور اس مسئلہ کی روک تھام کیلء سنجیدگی سے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پشاور شہر کا مستقبل نوجوانوں کے پاس ہے اور مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے عملی سوچ اپنانی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پشاور شہر کی خوبصورتی، ترقی و تعمیر اور ثقافتی ورثہ کی بحالی کیلئے متعلقہ تکنیکی پیشہ ور افراد کی تجاویز و سفارشات صوبائی حکومت کو ارسال کی جائیں اور اس معاملہ پر ایک خصوصی اجلاس بلانے کیلئے غور کیا جائیگا۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر کھیل: ارباب نیاز سٹیڈیم کی بہتری کے تعمیراتی کام کو تیز کرنے کی ہدایت

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر کھیل اور امور نوجوانان سید فخر جہان نے ہدایت کی ہے کہ ارباب نیاز سٹیڈیم پشاور کی بہتری کے تعمیراتی منصوبے کا کام ہنگامی بنیادوں پر تیز کیا جائے تاکہ سال رواں یہ اہم منصوبہ ہر حالت میں پایہ تکمیل تک پہنچ سکے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز پشاور میں ”فیزیبلٹی اینڈ امپروومنٹ آف ارباب نیاز سٹیڈیم پشاور” کے ترقیاتی منصوبے کے تعمیراتی کام کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل سپورٹس عبدالناصر خان،چیف پلاننگ آفیسر سپورٹس حامد نوید، محکمہ مواصلات و تعمیرات کے چیف میگا پراجیکٹس اعجاز خان،سپرنٹنڈنگ انجینئر قدرت اللہ مروت،ایکسین ریاض بنگش اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں مشیر کھیل کو مذکورہ منصوبے پر کام کی رفتار اور اس سلسلے میں حائل روکاوٹوں کے حوالے سے بریف کیا گیا۔اس موقع پر مشیر کھیل نے ہدایت کی کہ صوبے کے اس اہم کھیل کے میدان کا تعمیراتی کام تیز کیا جائے اور اس سال جون تک اس کا سول ورک ہر حالت میں مکمل کیا جائے۔انھوں نے کہا کہ یہ گرانڈ صوبے میں عالمی کرکٹ کی بحالی کیلئے ایک اہم منصوبہ ہے اور ہماری کوشش ہے کہ ہم اس کو جلد از جلد انٹرنیشنل کرکٹ اور دیگر لیگ میچز کیلئے تیار کریں۔ اس حوالے سے محکمہ واپڈا سے بجلی کے سلسلے میں جڑے مسائل کے حل کیلئے اگلے اجلاس میں انھوں نے واپڈا کے متعلقہ حکام کو بھی طلب کرنے کی ہدایت کی۔

مشیر وزیراعلیٰ مشال اعظم یوسفزئی کا محکمہ سماجی بہبود و ترقی نسواں کے ڈائریکٹوریٹ کا دورہ

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی مشیر برائے زکوٰۃ و عشر، سماجی بہبود و ترقی نسواں مشال اعظم یوسفزئی نے کہا ہے کہ ہر افسر و اہلکار کی ایک جگہ پر تین سال سے زیادہ عرصہ تک پوسٹنگ نہیں ہوگی۔ تین سال سے زیادہ عرصے گزارنے والے افسران و اہلکاروں کے تبادلے کیے جائیں گے۔ٹیم ورک کے ساتھ تیز رفتاری سے آگے بڑھنا ہے۔ رمضان دستر خوان کے اعدادوشمار سے روزانہ کی بنیاد پر آگاہ کیا جائے۔ رمضان دستر خوان میں کسی قسم کی غفلت و کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ غریب بیواؤں کو رمضان ریلیف پیکج میں شامل کرنے کیلئے حصوصی اقدامات کریں تاکہ کوئی غریب بیوہ اس پیکج سے محروم نہ رہے۔ دارلامان میں سہولیات کو بہتر بنایا جائے۔ جہاں جہاں زمونگ کور منصوبے کی ضرورت ہو وہاں کی نشاندھی کریں تاکہ اس حوالے سے اقدامات اٹھائے جائیں۔منشیات کی روک تھام کیلئے پولیس اور دوسرے محکموں کے ساتھ ملکر بھرپور مہم چلائیں تاکہ اس ناسور کو معاشرے سے ختم کیا جا سکے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ سماجی بہبود کے افسران و ضلعی ڈائریکٹرز کے تعارفی اجلاس کی صدارت کے دوران کیا۔ اجلاس مشیر وزیراعلیٰ مشال اعظم یوسفزئی کو محکمے کے جاری منصوبوں اور مختلف اضلاع میں محکمے کو درپیش مسائل و چیلنجز سے آگاہ کیا۔ اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے مشیر وزیراعلیٰ مشال اعظم یوسفزئی نے ہدایت کی کہ اسپیشل ایجوکیشن انسٹیٹیوٹ میں بچوں کے ٹرانسپورٹ کیلئے اقدامات اٹھائیں جہاں ضرورت ہو وہاں کرائے پر گاڑیوں کا انتظام کیا جائے۔ مشیر وزیراعلی مشال اعظم یوسفزئی نے مزید ہدایت کی کہ جہاں بھی خواتین کو کوئی مسئلہ درپیش ہو اس کے حل کیلئے ضلعی ڈائریکٹرز ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھایا کریں۔جبکہ غریب بیواؤں کو رمضان ریلیف پیکج میں ترجیحی بنیادوں پر شامل کریں جو کسی وجہ سے احساس پروگرام سے باہر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈسٹرکٹ ڈائریکٹرز اپنے اپنے اضلاع میں سروے کرکے اسپیشل بچوں کی صحیح تعداد معلوم کریں۔تاکہ ضرورت کے مطابق اسپیشل ایجوکیشن کے نئے ادارے بنائے جا سکیں۔ زمونگ کور پشاور گرلز کیمپس کو کسی دوسری بلڈنگ شفٹ کرنے کیلئے ضروری اقدامات اٹھائے جائیں۔ مشیر وزیراعلیٰ مشال اعظم یوسفزئی نے ضلعی ڈائریکٹرز کو ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کروائی اور صوبے کی خدمت ملکر کرنے کا عزم کا اظہار کیا۔

وزیر ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبر پختونخوا: ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کیلئے ہدایات جاری

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہاہے کہ محکمہ تعلیم کے جاری منصوبے بروقت مکمل کئے جائیں تاکہ طلباؤطالبات کے مسائل بروقت حل ہوسکیں۔ انہوں نے پلاننگ حکام کو ہدایات کی ہے کہ جتنے منصوبے پائپ لائن میں ہیں ان کے پی سی ون اوردیگرضروریات بروقت مکمل کریں تاکہ وہ منصوبے بھی متعلقہ فورمز سے منظور کئے جاسکیں۔ انہوں نے کہاکہ منصوبوں پر کام کی رفتار میں بہتری لانے کیساتھ ساتھ ان کی درجہ بندی کریں اور اولین ضرورت کے منصوبے جن سے زیادہ ثمرات مل رہے ہیں ان پر کام پہلے شروع کریں اوردرجہ وائز منصوبوں کی تکمیل کیلئے ٹائم لائن مکمل کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ تعلیم کے ترقیاتی بجٹ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری ایجوکیشن مسعود احمد اورمحکمہ تعلیم کے دیگرحکام نے شرکت کی۔ بریفنگ کے دوران وزیرتعلیم کو بتایاگیاکہ محکمہ تعلیم کے اس وقت کل 107 منصوبوں پر کام جاری ہیں جن میں بندوبستی اضلاع کے 58، ضم شدہ اضلاع کے 19 اور اے آئی پی کے 30 منصوبے شامل ہیں جن کی بروقت تکمیل ہرصورت یقینی بنائی جائیگی۔ انہیں بتایاگیا کہ ان منصوبوں میں آئی ٹی لیبز، ای سی ای رومز، امتحانی ہالز، سائنس لیبز، سکولوں کی تعمیرو اپ گریڈیشن، سولرائزیشن، کیڈٹ کالجز کا قیام، کمیونٹی سکولز کے قیام اور عوامی فلاح کے دیگر کثیرالمقاصد منصوبے شامل ہیں۔وزیرتعلیم فیصل خان ترکئی نے کہاکہ سابقہ دور حکومت میں بھی تعلیم اولین ترجیح تھی اور سکولوں میں سہولیات کی فراہمی اور دیگر ضروری کاموں پراربوں روپے خرچ کئے جاچکے ہیں اور ترقی کا یہ سفر موجودہ دور حکومت میں بھی جاری رہے گا۔ صوبے میں تعلیم کواولین ترجیح دیکر زیادہ وسائل اس پر خرچ کئے جائیں گے۔جو ترقی کا واحد ذریعہ ہے۔ وزیرتعلیم نے کہاکہ ہمارا بنیادی مسئلہ سکولوں سے باہر بچوں کو لاناہے اور ڈراپ آوٹ شرح کوکم کرنا ہے جبکہ سکولوں میں موجود بچوں کو کوالٹی ایجوکیشن فراہم کرناہے۔انہوں نے حکام کو مزید ہدایات جاری کرتے ہوئے کہاکہ ترقیاتی منصوبوں میں خواتین کی تعلیم اور نئے ضم اضلاع میں تعلیم کی ترقی پرخصوصی توجہ دی جائے تاکہ وہ پسماندہ علاقے بھی ترقی کے سفر میں شامل ہوسکیں۔

وزیر اعلیٰ کا دیرہ اسماعیل خان کا دورہ: عوام کی فلاح، امن و امان، اور صوبے کی ترقی پر توجہ

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے دورے پر ڈیرہ اسماعیل خان پہنچ گئے ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان آمد پر عوام اور پارٹی کارکنوں نے وزیر اعلیٰ کا پرتپاک استقبال کیا۔ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ پورے صوبے کے وزیر اعلیٰ ہیں اور پورے صوبے کا امن و امان، ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود انکی ذمہ داری ہے۔ صوبے میں جو بھی ترقیاتی کام نہیں ہوئے وہ ترجیحی بنیادوں پر کیے جائیں گے۔ موجودہ صوبائی حکومت کی پہلی ترجیح صوبے میں امن و امان کا قیام ہے جبکہ امن و امان کے حوالے سے مکمل ایک پلان بنایا گیا ہےجس پر جلد عملدرآمد شروع ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے سال ڈیڑھ سے معطل شدہ صحت کارڈ دوبارہ بحال کر دیا ہے،سرکاری ہسپتالوں کو بہتر کرنا ہے، وہ وقت دور نہیں کہ لوگوں کو پرائیویٹ ہسپتالوں کی ضرورت نہیں ہوگی۔ علی امین نے مزید کہا کہ عمران خان کی حکومت کو ہٹانے کے بعد ملک میں مہنگائی کا طوفان آیا ہے،ملک میں روزگار ہے نہ کاروبار، لوگ مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ساڑھے آٹھ لاکھ خاندانوں کو باعزت طریقے سے رمضان پیکج دیا جائے گا، لوگوں کو انکا حق دہلیز پر پہنچائیں گے اور تذلیل نہیں کریں گے۔پناہ گائیں دوبارہ کھول دی ہیں اور وہاں پر لوگوں کو تمام سہولیات میسر ہیں۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبے کو معاشی لحاظ سے اپنے پاو¿ں پر کھڑا کرنا انکی حکو مت کی ترجیح ہے جبکہ فوڈ سیکیورٹی کے لیے ٹھوس اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہے۔سی آر بی سی لفٹ کنال منصوبے پر جلد کام شروع کیا جائیگا جبکہ ٹانک زام اور دیگر چھوٹے ڈیموں پر بھی کام کیا جائے گا۔صوبے کے نوجوانوں کو خود روزگاری کے مواقع فراہم کئے جائیں گے،خواتین کو گھروں میں روزگار اور نوجوانوں کو جدید سکلز ٹریننگز دی جائیں گی۔زراعت اور لائیو اسٹاک کو ترقی دے کر لوگوں کو خود روزگاری کے مواقع فراہم کئے جائیں گے۔ڈی آئی خان کے لوگوں کو کاروبار پر لگانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ صوبے کا ریونیو بڑھانے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے، ایسے انقلابی اقدامات کریں گے جن سے خیبر پختونخوا ماڈل صوبہ بن جائے گا۔وزیر اعلیٰ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وفاق کے ذمے صوبے کے بقایا جات کی ادائیگی کے لئے وزیر اعظم سے بات ہوئی ہے،یہ بقایا جات صوبے کے عوام کا حق ہے، وفاق نے یہ حق صوبے کو دینا ہوگا۔ہمارا صوبہ سستی بجلی پیدا کر رہا ہے، وہی بجلی ہمیں مہنگے داموں مل رہی ہے، وزیر اعلیٰ کی کرسی پر بیٹھ کر مجھے عوام کا حق ادا کرنا ہے۔اگر میں عوام کا حق ادا نہیں کر سکتا تو پھر اس کرسی پر بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں، صوبے کے عوام کے حقوق کی جنگ لڑتا رہوں گا۔جس طریقے سے ہمارا مینڈیٹ چوری کیا گیا وہ سب کے سامنے ہے، عوام کا مینڈیٹ چوری ہوا ہے عوام اس پر آواز اٹھائیں۔عمران خان کو ایک چیز کی فکر ہے کہ ملک میں جو حالات چل رہے ہیں ایسا نہ ہو کہ ہم اس جگہ پر چلے جائیں کہ واپسی کا راستہ نہ ہو۔ عمران خان کے دور حکومت میں ملک درست سمت میں چل رہا تھا۔ دو سال کی حکومت نے عوام پر مہنگائی کا طوفان لا کھڑا کیا ہے۔

صوبائی وزیر برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن خلیق الرحمان کی زیر صدارت، محکمہ ایکسائز بارے تعارفی اجلاس۔

خیبر پختونخوا کے وزیر خلیق الرحمان کو سیکرٹری ایکسائز اور ڈائریکٹر جنرل ایکسائز نے محکمہ ایکسائز کے انتظامی امور، محاصل ریکوری،منشیات روک تھام، غیر قانونی گاڑیوں اور محکمہ میں جاری ریفارمز پر تفصیلی بریفنگ دی، ڈائریکٹر جنرل ایکسائز نے تمام ڈائریکٹرز سے انکے متعلقہ ایکسائز امور پر تفصیلی آگاہی حاصل کی۔ صوبائی وزیر خلیق الرحمان نے اس موقع پر محکمہ کی کارکردگی کو سراہا اور محکمہ کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کیلئے اصلاحات بارے اور منشیات کی لعنت کو معاشرے سے ختم کرنے کے پرزور عزم کا اظہار کیا، خلیق الرحمان نے مزید کہا کہ مقرہ اہداف پورا کرنے کے ساتھ ساتھ محکمہ ایکسائز سے متعلق عوامی امور کی بہترین سہولیات اولین ترجیح ہے، انہوں نے محکمہ کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کیلئے محکمہ کو درپیش مسائل اور اصلاحات بارے اپنی سفارشات پیش کرنے کے ہدایات جاری کیں۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی مشیر برائے عشر و زکوٰۃ، سماجی بہبود اور ترقی خواتین مشال یوسفزئی کا دورہ۔

ضلع صوابی۔مشیر وزیراعلیٰ برائے عشر و زکوٰۃ، سماجی بہبود اور ترقی خواتین مشال یوسفزئی نے رمضان المبارک کا تیسرا روزہ افطار پناہ گاہ شاہ منصور صوابی میں کیا۔ انہوں نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال صوابی، پناہ گاہ شاہ منصور اور منشیات سنٹر صوابی میں محکمہ سوشل ویلفیئر کی جانب سے افطار پروگرام کا جائزہ لیا۔دورے کے موقع پر ڈپٹی کمشنر صوابی طارق اللہ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر صوابی اور محکمہ سوشل ویلفیئر کے ضلعی آفسر ظفر خان سمیت اعلی حکام موجود تھے۔ ضلعی افسر سوشل ویلفیئر ظفر خان نے مشیر وزیراعلیٰ مشال یوسفزئی کو پناہ گاہوں میں مسافروں کو دی جانے سہولیات کے بارے میں بریف کیا۔نیز مشال یوسفزئی نے سہولیات کا خود بھی جائزہ لیا۔ مشال یوسفزئی نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کو خیبرپختونخوا کے عوام نے خدمت کرنے کا تیسرا موقع دیا ہے۔عوامی امنگوں پر اُترنے کی بھرپور کوشش کرینگے۔ عوامی خدمت کا یہ سفر جاری رہے گا۔ مشیر وزیراعلیٰ مشال یوسفزئی نے پناہ گاہ میں دی جانے والی سہولیات کی مزید بہتری کے حوالے سے کہا کہ خیبرپختونخوا میں موجود تمام پناہ گاہوں میں سہولیات کی دستیابی مزید بہتر بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ صوبہ بھر میں تمام پناہ گاہوں کی خود مانیٹرنگ کر رہی ہوں تاکہ عوام کو خدمات کی فراہمی مزید بہتر بنائی جا سکے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی عوام دوست و فلاحی پالیسیوں کے تحت پناہ گاہوں میں افطاری کا اہتمام ہر ضلع میں رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں جاری رہیگا۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ہاؤسنگ امجد علی خان کا محکمہ میں باقاعدہ چارج سنبھالنا۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ہاؤسنگ امجد علی خان نے اپنے عہدے کا باقاعدہ چارج سنبھال لیا، سیکرٹری ہاوسنگ عنبر علی نے معاون خصوصی سے انکے دفتر میں ملاقات کی، ملاقات میں محکمہ کے مختلف منصوبوں اور دیگر امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی، معاون خصوصی امجد علی خان نے اس موقع پر کہا کہ محکمہ ہاؤسنگ کی تمام جاری سکیموں کو عملی جامہ پہنا کر مقررہ وقت میں مکمل کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ میں بہتری لانے اور عوام کو سہولیات کی فراہمی کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھائینگے، خیبر پختونخوا کے عوام نے ہمیں تیسری مرتبہ بھاری مینڈیٹ سے کامیابی دلائی ہے اور ہم عوام کی امنگوں کے مطابق محکمہ میں بہتر لانے کے لئے ضروری اصلاحات کریں گے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ محکمہ پر تفصیلی بریفنگ تیار کرکے چند روز میں انہیں پیش کی جائے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر ریونیو اینڈ اسٹیٹ اور سئینر ممبر بورڈ آف ریونیو کی زیر صدارت بورڈ آف ریونیو کا تعارفی اجلاس

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے ریونیو و اسٹیٹ نذیر احمد عباسی اور سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو اکرام اللہ خان کے زیر صدارت بورڈ آف ریونیو کا تعارفی اجلاس بورڈ آف ریونیو کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا، اجلاس میں بورڈ آف ریونیو کے ممبران، سیکرٹریز اور مختلف پراجیکٹس کے ڈائریکٹرز نے شرکت کی۔ اجلاس میں بورڈز کے ممبران و افسران کا صوبائی وزیر نذیر احمد عباسی سے تعارف کرایا گیا۔ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو اکرام اللہ خان نے صوبائی وزیر ریونیو اینڈ اسٹیٹ کو خوش آمدید کہا اور بورڈ آف ریونیو کے تنظیمی ڈھانچے، بورڈ کے قیام کے پس منظر اور افعال پر تفصیلی پر روشنی ڈالی۔ نیز ریونیو کورٹس میں زیر سماعت کیسز سے آگاہ کیا۔لینڈ ریکارڈ ڈیجیٹلائزیشن پراجیکٹ کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس کا فیز ون جون تک مکمل ہو جائے گا۔اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے صوبائی وزیر ریونیو اینڈ اسٹیٹ نذیر احمد عباسی نے کہا کہ ہم نے ملکر کام کرنا ہے۔ مختلف سروسز کو آن لائن کرنے کیلئے اقدامات کرینگے تاکہ عوام کو انکے گھر کی دہلیز پر سہولت میسر ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم سب کو اللہ تعالیٰ نے خدمت کا موقع دیا ہے۔ عوام کی بھرپور خدمت کرکے خوشی ہوگی۔ بریفینگ کے دوران سروس ڈیلیوری سنٹر، ضم اضلاع میں لینڈ ریکارڈ ڈیجیٹلائزیشن، ای سٹامپ، مالی سال 2023-24 کیلئے مختص بجٹ و اخراجات، گڈ گورننس کے لئے اقدامات و اصلاحات اور بورڈ آف ریونیو کو درپیش چیلنجز و مشکلات سے آگاہ کیا گیا۔ صوبائی وزیر ریونیو اینڈ اسٹیٹ نذیر احمد عباسی نے ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا۔