Home Blog Page 281

عصری علوم کے طلبا کو مختلف تیکنیکی ہنر اور کورسز سے آراستہ کرنے کے لیے پروپوزل پیش، نگران وزیر برائے فنی تعلیم

خیبر پختونخوا کے نگران وزیر برائے فنی تعلیم،صنعت وحرفت اور امور ضم اضلاع ڈاکٹر عامر عبداللہ نے عصری علوم کے طلبا کو دوران تعلیم مختلف تیکنیکی ہنر اور کورسز سے آراستہ کرنے کی تجویز کو قابل عمل قرار دیتے ہوئے ہیدایت کی ہے کہ اس سلسلے میں ایک تجرباتی منصوبے کاپروپوزل پیش کیا جائے جس میں اس منصوبے کے حوالے سے اعلی تعلیم اور فنی تعلیم کے شعبوں کی شراکت داری کے امکانات،اس منصوبے کی کامیابی اور افادیت واضح ہوں۔اس حوالے سے سول سیکریٹیریٹ پشاور میں نگران وزیر فنی تعلیم،صنعت وحرفت اور امور ضم اضلاع ڈاکٹر عامر عبداللہ کی زیر صدارت ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں سیکرٹری اعلی تعلیم ارشد خان اور سیکریٹری صنعت وحرفت سید ذوالفقار علی شاہ کے علاؤہ ڈائریکٹر فنانس ٹیوٹا منیر گل اور چیف اکانومسٹ محکمہ صنعت باسط خلیل نے شرکت کی ۔اجلاس میں جدید دور میں فنی مہارت اور ہنرمندانہ تعلیم وتربیت کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے جنرل ایجوکیشن کے اداروں میں طلبہ کیلئے عصری علوم کیساتھ فنی تربیتی کورسز کو نصاب کا حصہ بنانے اور اس سلسلے میں محکمہ فنی تعلیم اور اعلی تعلیم کے شعبوں کے مابین امکانی شراکت داری کے امور پر تبادلہ خیال ہوا اور اس سلسلے میں اس تجویز کو اہم قرار دیتے ہوئے شرکاہ نے مفید آرا دیں۔اجلاس میں سیکریٹری اعلی تعلیم ارشد خان نے بتایا کہ اس مجوزہ پلان کی کامیابی سے عصری علوم کے گریجویٹس اور ثانوی و اعلی ثانوی سرٹیفیکیٹس کے حصول کے ساتھ ساتھ ہنر حاصل کرنے والے طلبہ بے روزگار نہیں رہ سکیں گے جبکہ ایسے تعلیم یافتہ افراد مارکیٹ میں اپنے لئیے باعزت روزگار بھی حاصل کرسکیں گے۔اس موقع پر نگران وزیر نے مزکورہ تجویز کو مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس حوالے محکمہ اعلی تعلیم اور صنعت وحرفت باہمی طور پر ایک معقول اور بہتر پلان پیش کرے جس میں اس مشترکہ کوشش کے ہر پہلو سے فائدے،اس کی کامیابی اور دونوں محکموں کی زمہ دار یوں کا احاطہ واضح کیا گیا ہو۔انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں پائلٹ پراجیکٹ کیلئے مختص کردہ کالجز کا ایک کلسٹر بھی بنا دیا جائے۔

خیبر پختونخوا کے نگران صوبائی وزیر صنعت وحرفت کانوشہرہ اکنامک زون اور ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کا دورہ

خیبر پختونخوا کے نگران وزیر برائے صنعت وحرفت،فنی تعلیم اور امور ضم اضلاع ڈاکٹر عامر عبداللہ نے جمعرات کے روز نوشہرہ کا دورہ کرکے ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں 16 ملین امریکی ڈالر کی کنیڈین سرمایہ کاری سے قائم ہونے والے جدید ترین اسپلنٹ مینوپکچرنگ یونٹ کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔ یہ یونٹ دنیا میں پروڈکشن کے اعتبار سے اپنی نوعیت کی سب سے بڑی فیکٹری ہوگی اور اس کی تمام پیداوار بیرونی ممالک برآمد کی جائے گی۔اس وقت دنیا میں اس نوعیت کی سب سے بڑی فیکٹری 3 اسمبلی لائن پر مشتمل ہے جبکہ اس فیکٹری میں 8 اسمبلی لائن ہونگے۔اسطرح مذکورہ یونٹ میں تقریبا 800 افراد کو روزگار کے مواقع میسر آسکیں گے جن میں 60 فیصد حصہ خواتین پر مشتمل ہوگا جبکہ یہاں پر عالمی لیبر معیار کے مطابق لیبر کارکنان کو تمام سہولیات دستیاب ہوں گے۔ایک روزہ دورے کے دوران نگران وزیر نے نوشہرہ اکنامک زون کے اندر چمڑے اور پلاسٹک و پائپ بنانے کے تین یونٹس کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔ ان منصوبوں میں 210 ملین روپے کی مجموعی سرمایہ کاری کی گئی ہے جس سے تقریبا 330 افراد کو روزگار کی سہولت میسر آسکے گی۔اس طرح انھوں نے اکنامک زون میں صابن اور کیمیکلز انڈسٹری کے زیرتعمیر یونٹ کا معائنہ بھی کیا جو 500 ملین روپے کی لاگت سے تعمیر کیا جارہاہے اور اس سے تقریبا 250 افراد کو روزگار مہیا ہو سکے گا۔قبل ازیں نوشہرہ اکنامک زون پہنچنے پر خیبر پختونخوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ منیجمنٹ کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر جاوید اقبال خٹک و دیگر افسران نے نگران وزیر کا استقبال کیا۔انھیں کمپنی کی جانب سے اکنامک زون اور ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کے پورے ماسٹر پلان سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی اور انھیں بتایا گیا کہ کمپنی کی کوششوں سے پروسیسنگ زون میں مختلف شعبوں کی 6 بیمار صنعتیں دوبارہ بحال ہو چکی ہیں۔اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے نگران وزیر نے فیکٹریز کے قیام کو صوبے کی معاشی ترقی میں ایک اہم قدم قرار دیا۔انھوں نے امید ظاہر کی کہ صوبے میں سرمایہ کاری کیلئے موجودہ مفید پالیسیاں مستقبل میں بھی جاری رکھی جائیں گی اور یہاں پر اس طرح سرمایہ کار راغب ہو جائیں گے۔ انھوں نے مختصر وقت میں بڑی کینیڈین سرمایہ کاری کو صوبے میں لانے اور یہاں پر اس یونٹ کے قیام کو یقینی بنانے میں خیبر پختونخوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ منیجمنٹ کمپنی کی پوری ٹیم کی انتھک محنت کو سراہا۔نگران وزیر نے سرمایہ کاروں کو حکومت کی جانب سے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کا یقین دلایا اور کہا کہ انھیں تمام سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کریں گے کیونکہ ان کی کامیابی صوبے کی کامیابی ہے۔ دورے کے دوران نگران وزیر کو ریسکیو 1122 کی ٹیم نے گارڈ آف آنر بھی پیش کیا جبکہ انھوں نے نئے تعمیر ہونے والے یونٹس میں پودے بھی لگائے۔

صوبائی حکومت محدود وسائل کے باوجود تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے اقدامات اٹھا رہی ہے۔خیبرپختونخوا کے نگران وزیر

خیبرپختونخوا کے نگران وزیر برائے اعلی تعلیم اور ابتدائی وثانوی تعلیم پروفیسر ڈاکٹر محمد قاسم جان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت محدود وسائل کے باوجود تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے اقدامات اٹھا رہی ہے،ضم اضلاع سمیت صوبے کے تمام کالجز کے مسائل حل کرنااولین ترجیح ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے محکمہ اعلی تعلیم کے 9 میل و فیمیل کالجز کے پرنسپلز کو ہائی ایس گاڑیوں کی چابیاں حوالے کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں ایڈیشنل سیکرٹری اعلیٰ تعلیم سید مظہر علی شاہ، ڈائریکٹر اعلیٰ تعلیم ڈاکٹر فرید اللہ شاہ اور متعلقہ کالجز کے پرنسپلز نے شرکت کی،اس موقع پر صوبائی وزیر کو متعلقہ حکام نے بتایا کہ پہلی فیز میں اے آئی پی پروگرام کے تحت کل 55 ہائی ایس گاڑیاں اور بسیں منظور ہوئی تھی جن میں پہلے مرحلے میں 46 جبکہ ابھی نو ہائی ایس گاڑیاں تقسیم کی گئیں صوبائی وزیر کو بتایا گیا کہ اس حوالے سے کالجز کی سلیکشن میں طلبہ کی تعداد اور سفری فاصلوں کو ملحوظ خاطر رکھا گیا تھا جبکہ جنرل اور کامرس کالجز کے لیے ٹرانسپورٹ کی فراہمی کے فیز ون منصوبے کے لیے کل 945 ملین روپے کا تحمینہ رکھا گیا تھا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو ٹرانسپورٹ کی فراہمی کے منصوبے کے فیز ٹو بارے بھی اقدامات اٹھا رہے ہیں تاکہ تمام کالجز میں ٹرانسپورٹ کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے انہوں نے کہا کہ خواتین کی تعلیم پر بھی خصوصی توجہ دے رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ اس منصوبے میں بھی گرلزکالجز کو شامل کیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ کالجز میں سٹاف کی کمی سمیت دیگر تمام سہولیات فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہے ہیں۔

رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن میں پانچ عوامی شکایات کی سماعت, ایس ایچ او یونیورسٹی ٹاؤن اور پشتخرہ کو سمن جاری

رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن میں پانچ عوامی شکایات کی سماعت ہوئی۔جج محمد عاصم امام کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے شہریوں کی شکایات سنیں۔لوئر دیر سے تعلق رکھنے والے شہری سیاست خان نے نکاح نامے کے حصول کے لئے کمیشن کو درخواست دی تھی۔کمیشن نے سماعت کے بعد اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ لوئر دیر کو ویلج کونسل سیکرٹری کے خلاف پندرہ روز میں کاروائی کر کے کمیشن کو آگاہ کرنے کے احکامات دیئے۔ویلج کونسل سیکرٹری نے تاخیری حربے استعمال کرتے ہوئے شہری کے بنیادی حقوق کے خلاف خلاف ورزی کی ہے۔ دو شہریوں نے پشاور سے ایف آئی آر کے عدم اندراج کے خلاف کمیشن سے رجوع کیا تھا۔کمیشن نے حلقہ ایس ایچ او یونیورسٹی ٹاؤن اور پشتخرہ کو اگلی سماعت پر کمیشن کے سامنے حاضر ہونے کے احکامات جاری کیئے پشاور سے تعلق رکھنے والے حسن ناصر نامی شہری نے کمیشن کو درخواست دی تھی کہ حلقہ پٹواری زمین کافرد مہیا نہیں کر رہا۔رشوت طلب کرنے کے ساتھ ساتھ بوڑھے والد کے ساتھ بد تمیزی بھی کی ہے۔ کمیشن کے احکامات پر شہری کو نقول فراہم کر دی گئیں۔کمیشن نے تاخیر پر اسسٹنٹ کمشنر کو طلب کیا تھا۔اسسٹنٹ کمشنر نے کمیشن کو آگاہ کیا کہ الیکشن کمیشن کی ڈیوٹی پر موجود ہونے کی وجہ سے وہ پیش نہیں ہو سکتیں۔کمیشن نے آئندہ سماعت پر اسسٹنٹ کمشنر کو بذات خود پیش ہونے کی ہدایت دی۔کمیشن نے اپنے اعلامیہ میں کہا ہے کہ خدمات تک بروقت رسائی ہر شہری کا بنیادی حق ہے. نوٹیفایڈ خدمات تک بروقت رسائی میں کسی بھی سرکاری اہلکارکی کوتاہی قانون کے تحت قابل تعزیرجرم ہے۔ بنیادی خدمات کے حصول کیلئے شہری کمیشن سے رجوع کریں۔

صوبے میں ایک ایسا ماحول بنایا جائے گا جہاں سیاح آئیں گے، اور دوبارہ آنے کو ترجیح دیں گے، نگران وزیر اطلاعات، ثقافت و سیاحت

خیبر پختونخوا کے نگران وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ،ثقافت و سیاحت بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے کہا ہے کہ حکومت خیبرپختونخوا، ہماری مسلح افواج اور ادارے صوبے میں سیاحت کے شعبے کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں، ضروری سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے، صوبے میں سیاحوں کی مدد کے لیے ٹورازم پولیسنگ، 24/7 ہیلپ لائن جیسے اقدامات کئے گئے ہیں، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت اقدامات کا خیر مقدم اور حوصلہ افزائی کی جارہی ہے، سیاحتی مقامات میں اضافہ کرتے ہوئے صوبے میں چار انٹگریٹڈ ٹورازم زون قائم کیے جا رہے ہیں جن میں سے ایک چترال میں قائم کیا جارہا ہے. چترال میں سیاحت کے فروغ کیلئے اقدامات کا مربوط سلسلہ بھی شروع کرنے جارہے ہیں، اس سلسلے میں تجاویز اکٹھی کرنے اور مسائل جاننے کے لئے چترال کے حوالے سے ‘چترال سمپوزیم’ کا کامیابی سے انعقاد کیا گیا. اس کامیاب سمپوزیم کے انعقاد میں بھرپور معاونت پر پاک آرمی کے مشکور ہیں. بہترین انتظامات پر محکمہ سیاحت اور کلچر وٹوورزم اتھارٹی کی ٹیم داد کی مستحق ہے، اس موقع پر چترال سے عمائدین، ماہرین، نوجوانوں، میڈیا پرسنز اور دیگر سٹیک ہولڈرز کا چترال سمپوزیم میں بھرپور شرکت پر بھی شکریہ ادا کرتے ہیں. ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں چترال سمپوزیم کے شرکاء سے خطاب میں کیا. شرکاء سے خطاب میں چترال کے حوالے سے بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے کہا کہ چترال جیسے مقامات اپنی متنوع ثقافت، بھرپور روایات، ورثے، ماحول، خوبصورت مناظر اور جنگلی حیات کی وجہ سے خیبرپختونخوا میں منفرد مقام رکھتے ہیں. چترال محفوظ ترین خطہ ہے، یہاں کی ثقافت، خوبصورت مناظر اور قدرتی ماحول اسے منفرد بناتے ہیں۔ چترال کے مختلف تہوار، یہاں پر پولو کا کھیل اور یہاں کی دستکاریاں اسے سیاحوں کے لیے مزید پرکشش بناتی ہے۔ یہاں سیاحت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے اور ساتھ ساتھ ماحول اور ثقافت کی حفاظت بھی کرنی ہے۔ یہاں کی فطری ماحول اور مقامات بہت نازک ہیں ہمیں ان کی دیکھ بھال کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم ان جگہوں خیال نہیں رکھیں گیتو ہمارے پاس آنے والی نسلوں کے لیے کچھ نہیں بچے گا. اجتماعی طور پر ہمیں کالاش جیسی مقامی ثقافت کا احترام کرنا ہوگا۔ نگران وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ، ثقافت و سیاحت خیبرپختونخوا نے خیبرپختونخوا میں سیاحت کے مستقبل پر بات کرتے ہو ئے کہا کہ پاکستان خصوصاً خیبرپختونخوا سیاحت کے حوالے سے دنیا میں منفرد مقام رکھتا ہے۔ صدیوں پرانی تاریخ، قدرتی ماحول، یہاں کی مہمان نوازی اور منفرد ثقافت اسے دنیا میں منفرد بناتی ہیں۔ بدھ مت کے 90 فیصد مقامات خیبر پختونخوا میں ہیں، ملک میں 22000 ہیریٹیج سائٹس ہیں جن میں سے پانچ یونیسکو کی سائٹس ہیں۔ صوبے کے پاس 2000 قیمتی ارٹیکفٹس موجود ہیں جن میں سے صرف 50 فیصد پشاور میوزیم میں نمائش کے لئے رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اسے مثبت انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے. نگران وزیر سیاحت خیبرپختونخوا نے کہا کہ سمپوزیم میں اہم تجاویز پیش کی گئیں ہیں، حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مضبوط ہم آہنگی اور مربوط طریقہ کار کے تحت موثر نفاذ کو یقینی بنائے گی۔ سال 2024 کو صوبے کے لیے سیاحت کے سال کے طور پر منانے کی تجویز پیش کی گئی ہے، جس پر کام ہوگا۔ غیر ملکی اور مقامی سیاحوں کو سیاحتی مقامات تک آسانی رسائی فراہم کرنے کے لیے بہتر سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ سیاحتی مقامات پر آنے والے کسی سیاح کے لیے این او سی کی ضرورت نہیں ہے.

سیکرٹری لائیو سٹاک کا ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ (اے ایچ آئی ٹی آئی) پشاور کا دورہ۔

سیکرٹری لائیو سٹاک،ماہی پروری اور کو آپریٹو خیبرپختونخوا ڈاکٹر محمد اسرار نے اینیمل ہسبنڈری ان سروس ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ (اے ایچ آئی ٹی آئی) پشاوع کا دورہ کیا اور سنٹر کے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا۔اس موقع پر پرنسپل اے ایچ آئی ٹی آئی میاں احد اللہ اور دیگر متعلقہ افسران بھی ان کے ہمراہ تھے۔سیکرٹری لائیو سٹاک نے اپنے دورے کے دوران انسٹی ٹیوٹ کے ٹریننگ فیسیلٹی کلاس روم،زنانہ و مردانہ ہاسٹل سیمینار روم اور دیگر تربیتی حصوں میں کا م کی پیش رفت اور نوعیت کا تفصیل کے ساتھ جائزہ لیا جبکہ اس موقع پر انہیں انسٹی میں جانوروں کے پالنے کی تکنیکی تربیت،مشاورتی خدمات اور کورسز کی تکمیل کے اقدامات اور دیگر سر انجام دیئے جانے والے اہم امور کے بارے میں بریفنگ بھی دی گئی۔سیکرٹری لائیو سٹاک نے انسٹی ٹیوٹ کے جائزہ کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے میٹ ٹریننگ فیسیلیٹی سنٹر کے چلانے میں یونیڈو اور جیکاکے تعاون کو سراہتے ہوئے ان کی جانب سے پاکستان میں اس منصوبے کے لیئے خیبر پختونخوا کا انتخاب کرنے اور پھر اینیمل ہسبنڈری ان سروس ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کی فعالیت کو ترجیح دیتے ہوئے اس منصوبے میں سرمایہ کاری پر ان کا شکریہ ادا کیاجس میں قصابوں کو کچھ عرصہ کے دوران مویشیوں کے ذبح کرنے سمیت اہم امور کی تربیت دی جا ئے گی۔ انہوں نے پرنسپل اے ایچ آئی ٹی آئی کوہدایت کی کہ انسٹی ٹیوٹ کو مزید بہتر بنانے کے لیئے جدید ضروریات اور سہولیات پر مبنی منصوبہ سے متعلق انہیں رپورٹ بھیجیں تاکہ اس انسٹی ٹیوٹ کو مزید بہتر سے بہتر بنایا جاسکے جس سے مویشی پال زمیندار خاطر خواہ فوائد حاصل کر سکیں۔

پورے ملک کا استحکام ضم اضلاع میں امن و استحکام سے وابستہ ہے۔ نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا

نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس (ر) سید ارشد حسین شاہ نے کہا ہے کہ امن و امان کے قیام اور عوام کے جان و املاک کے تحفظ میں پولیس کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے،ملک دشمن عناصر کے خلاف پالیسی بڑی واضح ہے،اس سلسلے میں مرکزی و صوبائی حکومتیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عوام سب ایک پیج پر ہیں۔ پورے ملک کا استحکام ضم اضلاع میں امن و استحکام سے وابستہ ہے، سابقہ فاٹا کا انتظامی انضمام تو مکمل ہو چکا مگر مالی انضمام بدستور نامکمل ہے جو خصوصی توجہ کا متقاضی ہے، قومی سطح پر موجودہ مالی عدم استحکام کی وجہ سے ضم اضلاع میں بھی ترقی کا عمل سست روی کا شکار ہے۔ ضم اضلاع کی فنڈنگ کا مسئلہ وزیراعظم کے ساتھ اٹھا رکھا ہے، امید ہے جلد صورتحال بہتر ہو جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں زیر تربیت اسسٹنٹ سپرٹینڈنٹس آف پولیس (اے ایس پیز) پر مشتمل مطالعاتی دورے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چودھری، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ عابد مجید اور دیگر متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ زیر تربیت پولیس افسران کو اس موقع پر محکمہ داخلہ اور محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کے اعلی حکام کی جانب سے صوبے کی ڈیموگرافی، امن و امان کی صورتحال، صوبے میں امن کی بحالی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات، ترقیاتی پورٹ فولیو، مجموعی معاشی صورتحال،ضم اضلاع کے مسائل اور دیگر اہم امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ نگران وزیر اعلیٰ سید ارشد حسین شاہ نے مطالعاتی دورے پر آنے والے اے ایس پیز کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ یقینی طور پر آپ لوگوں نے پولیس سروس میں شامل ہونے کے لیے بڑی محنت کی ہے اور ملک و قوم کی خدمت کے لیے خود کو پیش کیا ہے۔ انہوں نے زیر تربیت پولیس افسران سے کہا کہ وہ فرض شناسی، ایمانداری اور حق کی حمایت کو اپنا شعار بنائیں، ظلم اور برائی کے خلاف سینہ سپر رہیں اور مظلوم انسانیت کی حمایت کریں، ہماری زندگی، یہ عہدے اور مرتبے سب امانت ہیں، کوشش کرنی چاہیے کہ ان میں خیانت نہ ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک و قوم کے محافظ ہونے کی وجہ سے پولیس اور دیگر سیکیورٹی فورسز پر بڑی بھاری ذمہ داری ہے،امن و امان کے قیام اور ملک و قوم کے تحفظ میں پولیس نے ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیا ہے اور اس مقصد کے لیے بیش بہا قربانیاں دی ہیں۔ خیبرپختونخوا پولیس کے کردار کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشد حسین شاہ نے کہا کہ ہمارے جوانوں نے صوبے میں دہشت گردی کا ہمیشہ ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ہمارے اداروں کا مورال بلند یے، چیلنجز ضرور ہیں مگر حوصلے بلند ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جو بھی ملک کے خلاف ہے وہ ہم سب کا دشمن ہے، جو ریاست کے آئین کو نہیں مانتا اس کے خلاف سختی سے نمٹا جائے گا۔ وزیر اعلی نے ضم اضلاع میں ترقیاتی و فلاحی عمل کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ضم اضلاع کی فلاح و ترقی ترجیح یے، اس سلسلے میں باضابطہ منصوبہ بندی کی گئی ہے، تاہم قومی سطح پر مالی مسائل کی وجہ سے ضم اضلاع کی فلاح و ترقی متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انضمام کے وقت جو وعدے کیے گئے تھے، بدقسمتی سے ابھی تک پورے نہیں ہوئے، یہی وجہ ہے کہ ضم اضلاع میں ترقی کا عمل رکا ہوا ہے۔ ارشد حسین شاہ کہا کہنا تھا کہ وہ ضم اضلاع کے سلسلے میں نہایت سنجیدہ ہیں اور پر امید ہیں کہ نگران وزیراعظم کے تعاون مسائل پر جلد قابو پا لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نگران صوبائی حکومت ضم اضلاع کے عوام کو درپیش مسائل سے بخوبی واقف ہے اور فلاحی سرگرمیوں میں ان اضلاع کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ ہم جلد خوشحال خیبرپختونخوا پروگرام کا اجراء کریں گے جس کے تحت نوجوانوں کو بین الاقوامی مارکیٹ کی ڈیمانڈ کے مطابق فنی تربیت دیکر روزگار کے لیے باہر بھیجیں گے، اس پروگرام کے تحت بھی ضم اضلاع کے نوجوانوں کو پہلی ترجیح دی جائے گی۔ ارشد حسین شاہ کا کہنا تھا کہ حتمی مقصد نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع فراہم کرکے انہیں منفی سرگرمیوں سے بچانا ہے، اس طرح وہ نا صرف وہ اپنے لیے کمانے کے قابل ہوں گے بلکہ ایک ذمہ دار فرد کے طور پر قومی ترقی و خوشحالی میں بھی کردار ادا کر سکیں گے۔

شہید پولیس ہیڈ کانسٹیبل بنوں محمداشرف خان کی نماز جنازہ پولیس لائن میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کردی گئی۔

بنوں میں شہید پولیس ہیڈ کانسٹیبل محمداشرف خان کی نماز جنازہ پولیس لائن میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کرنے کے بعد شہید کے جسد خاکی کو ان کے آبائی گاؤں کو روانہ کر دیا گیا ہے جہاں پر شہید کو پورے سرکاری اعزاز کیساتھ سپرد خاک کیا جائے گا۔نماز جنازہ میں ریجنل پولیس آفیسر بنوں ڈویژن قاسم علی خان اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر بنوں افتخار شاہ سمیت پولیس افسران و اہلکاروں اور مقامی افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔واضح رہے کہ شہید پولیس ہیڈ کانسٹیبل بنوں محمد اشرف تھانہ صدر میں تعینات تھے اور انسدادِ پولیو مہم کے دوران اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے نامعلوم دہشتگردوں کی فائرنگ سے زخمی ہوئے،ا نہیں علاج معالجے کی خاطر لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور ریفر کیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتہ ہوئے شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے۔آر پی او بنوں قاسم علی خان اور دیگر پولیس آفسران نے قومی پرچم میں لپٹے شہید کے تابوت پر پھول چڑھائے اور ان کی مغفرت کے لئے خصوصی دعا کی۔ اس موقع پر ریجنل پولیس آفیسرقاسم علی خان نے پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ شہید پولیس اہلکار محمد اشرف خان جیسے جوان ہمارا فخر ہیں جنہوں نے ملک و قوم کی سلامتی و بقا کی خاطر اپنی جان قربان کردی،ہم ان جانبازوں کو کبھی نہیں بھولیں گے۔انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ دہشتگرد اپنے ناپاک عزائم سے ہمارے حوصلے پست نہیں کرسکتے، ہم ان کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے اور ان کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دیں گے۔

خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کا پشاور میں چھٹی کے دن بھی چھاپوں کا سلسلہ جاری

خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کا صوبہ بھر میں ملاوٹ مافیا کا خاتمہ اور شہریوں کو معیاری اور ملاوٹ سے پاک خوردونوش اشیاء کی فراہمی کیلئے کاوشیں جاری رکھتے ہوئے پشاور فوڈ سیفٹی نے چھٹی کے روز بھی باچا خان چوک، کوہاٹ روڈ اور پشاور موٹر وے ٹول پلازہ پر کاروائیاں کیں اور سینکڑوں کلوگرام غیر معیاری گوشت اور دودھ پکڑ کر موقع پر تلف کر دیا گیا اس سلسلے میں ترجمان حلال فوڈ اتھارٹی نے تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ فوڈ سیفٹی ٹیموں نے گزشتہ روز باچا خان چوک میں قصائیوں پر اچانک چھاپہ مارا قصائی فوڈ اتھارٹی کے اہلکاروں کو دیکھتے ہی فرار ہو گئے تفصیلات کے مطابق قصائی کم عمر بچھڑوں کا غیر معیاری گوشت سڑک کے کنارے صفائی کی انتہائی ناقص صورتحال میں بیچ رہے تھے فوڈ افسران نے1000 کلو گرام سے زائد غیر معیاری گوشت پکڑ کر تلف کیا اور ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے قصائی کی موٹر سائیکل کو سرکاری تحویل میں لیا،اسی طرح فوڈ اہلکاروں نے کوہاٹ روڈ پر ناقہ بندی بھی کی جس کے دوران موبائل فوڈ ٹیسٹنگ لیب سے دودھ ٹینکرز سے دودھ کے نمونوں کی چیکنگ کی گئی اور تمام سیمپلز تسلی بخش پائے گئے۔مزید تفصیلات دیتے ہوئے بتایا گیا کہ فوڈ سیفٹی ٹیم نے پشاور موٹر وے ٹول پلازہ پر بھی ناکہ بندی کی اور انسپکشن کے دوران 36 بسوں، 9 عدد دودھ، 5 عدد شہد،3 عدد مچھلی، 21 عدد مرغیوں اور 13 دیگر خوراکی اشیاء سپلائی کرنے والی گاڑیوں کے معائنے کیے گئے،موبائل فوڈ ٹیسٹنگ لیب سے دودھ کے 35 نمونے چیک کیے گئے اور پانچ سیمپلز میں پانی کی ملاوٹ پائی جانے پر جرمانے عائد کیے گئے اور 100 لیٹرز ملاوٹی دودھ موقع پر تلف کر دیا گیا۔ڈائریکٹر جنرل حلال فوڈ اتھارٹی شفیع اللہ خان نے کامیاب کاروائیوں کو سراہتے ہوئے ہدایت دی کہ خیبرپختونخوا کو دوسرے صوبوں سے داخلی راستوں پر دودھ ٹینکرز کی باقاعدگی سے چیکنگ ہر صورت یقینی بنائیں تاکہ صوبے کو خالص دودھ کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

نگران وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا کی حضرت کاکاصاحب کے مزار پر حاضری

خیبرپختونخوا کے نگران وزیر اطلاعات،ثقافت و سیاحت بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے شیخ المشائخ حضرت کاکاصاحب ‘المعروف شیخ رحمکار صاحب’ رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر حاضری دی اور رب العالمین کے حضور ملک کی سلامتی، معاشی استحکام، خوشحالی اور پائیدار امن کے لئے خصوصی دعائیں کیں۔نگران وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے اس موقع پر رب العالمین کے حضور خیبرپختونخوا میں امن و امان کی پائیداری، عوام کی خوشحالی اور اتحاد و اتفاق کے لئے بھی خصوصی دعا کی۔انہوں نے اس موقع پر رب العالمین کے حضور نہتے اور مظلوم مسلمانوں خصوصاً غزہ کے فلسطینیوں اور مقبوضہ کشمیر کے کشمیریوں کے لئے جدوجہد میں کامیابی کے لئے خصوصی دعا کی۔بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے تنگ دستی اور افلاس سے نجات اور رزق کی فراوانی کے لئے بھی خصوصی دعائیں کی۔اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ ان بزرگانِ دین نے اسلام کی تبلیغ اور خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کے اسوہ حسنہ کو دوسروں تک پہنچانے میں زندگیاں صرف کیں یہی وجہ ہے کہ آج بھی ان بزرگانِ دین کی تعلیمات اور طرزِ زندگی مشعل راہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ہی موجودہ مسائل سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔نوشہرہ کا دورہ کرتے ہوئے نگران صوبائی وزیر بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے اس سے پہلے حضرت کاکاصاحب کے دربار پر حاضری دی، کچھ دیر وہاں قیام کیا، فاتحہ پڑھی اور دعائیں کیں، بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل اپنے والد محترم حضرت میاں جمال شاہ کاکاخیل مرحوم و دیگر مرحومین کے مزاروں پر بھی حاضر ہوئے اور ایصال ثواب کے لئے دعائیں کیں۔