Home Blog Page 287

کرپشن کے خلاف بھرپور اقدامات کا آغاز

> انٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی پہلی کھلی کچہری بروز منگل 2جولائی 2024کومنعقد ہوگی

> وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے انسدادِ بدعنوانی برگیڈیئر (ر) محمد مصدق عباسی صدارت کریں گے

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سردار علی امین گنڈا پور کی خصوصی ہدایات پر صوبے میں کرپشن کے خاتمے کیلئے اقدامات کا آغاز کرتے ہوئے ماہانہ بنیادوں پر باقاعدہ کھلی کچہری کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس سلسلے میں انٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی پہلی کھلی کچہری بروز منگل صبح 11بجے سے لیکر سہ پہر3 بجے تک انٹی کرپشن کے ہیڈ آفس واقع حیات آباد پشاور میں ہوگی جس کی صدارت وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے انسدادِ بدعنوانی برگیڈیر (ر) محمد مصدق عباسی کریں گے۔عوام اپنی شکایات انٹی کرپشن کے ہیڈ آفس واقع حیات آباد پشاور کی کھلی کچہری میں برہ راست اور ریجنل دفاتر کے ذریعے جمع کر سکیں گے۔درج شکایات کو خصوصی ٹریکنگ نمبر جاری کیا جائے گا اور فوری کارروائی کا آغاز ہوگا۔

مشیر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا مشال اعظم یوسفزئی عوام تک خدمات فراہمی

مشیر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا مشال اعظم یوسفزئی عوام تک خدمات فراہمی بہتر اور بروقت بنانے کے لیے مزید سرگرم ہو گئی ہیں،اس سلسلے میں انہوں نے نوشہرہ میں قائم ڈائریکٹوریٹ آف سوشل ویلفیئر نوشہرہ آفس، خصوصی افراد کے لیے قائم سکول اور بے سہارا بچوں کے لیے قائم پناہ گاہ سمیت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفس کا خصوصی دورہ کیا۔اس موقع پر مشیر برائے عشر و زکوٰۃ، سماجی بہبود اور ترقی خواتین مشال اعظم یوسفزئی نے جملہ امور کا جائزہ لیتے ہوئے ڈائریکٹوریٹ آف سوشل ویلفیئر نوشہرہ آفس میں متعلقہ حکام سے بریفنگ لی، خدمات کی فراہمی کا جائزہ لیا، سٹاف حاضری چیک کی جبکہ انہوں نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نوشہرہ سے بھی ملاقات کی اور محکمہ سوشل ویلفیئر کے زیر انتظام تعلیمی اداروں کی کارکردگی اور دیگر متعلقہ امور کے حوالے سے بات چیت کی۔مشیر وزیراعلیٰ نے نوشہرہ میں خصوصی افراد کے لیے قائم سکول کا دورہ کیا جہاں پائے جانے والی سہولیات و خدمات کا جائزہ بھی لیا جبکہ وہ وہاں سہولیات کی عدم موجودگی پر مشیر وزیراعلیٰ مشال اعظم یوسفزئی نے موقع پر ہی حکام کو ہدایات جاری کر دئیے۔مشیر وزیراعلیٰ مشال اعظم یوسفزئی نے دورہ نوشہرہ کے موقع پر بچوں کے قائم ویلفیئر ہوم کا بھی دورہ کیا اور وہاں پر بچوں کو دی جانے والی سہولیات و خدمات کا جائزہ لیا۔
مشیر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا مشال اعظم یوسفزئی نے دورہ نوشہرہ کے موقع پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے جب سے ذمہ داری سنبھالی ہے تواس وقت سے اب تک کئی اضلاع میں قائم سوشل ویلفیئر کے دفاتر کا دورہ کر چکی ہوں،صوبے میں خصوصی بچوں کے لیے قائم سکولوں، پناہ گاہ اور شیلٹر ہوم میں خدمات کی فراہمی مزید بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ قائد عمران خان کے وژن کے مطابق کوشش ہے کہ خیبرپختونخوا میں نہ کوئی بھوکا سوئے اور نہ کوئی کھلے آسمان تلے، کیونکہ ہم ہر ممکن کوشش کررہے ہیں کہ عوامی خدمات کا سفر جاری رہے۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ جن سیکشنز میں کوئی ٹیکنیکل کمی ہے یا کسی اور وجہ سے خدمات کی فراہمی بہتر نہیں ہو پا رہی، اس حوالے سے کارروائی فوری مکمل کرکے سمری بھیج دیں تاکہ اس پر جلد از جلد کارروائی کر سکیں۔

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری نے نوتھیہ میں آتشزدگی کی جگہ کا دورہ کیا

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری نے نوتھیہ میں آتشزدگی کی جگہ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر پشاور آفاق وزیر نے چیف سیکریٹری کو نوتھیہ میں آتشزدگی سے ہونے والے نقصان کے بارے میں تفصیل سے آگاہی دی۔ چیف سیکریٹری سے آتشزدگی سے متاثرہ تاجران نے بھی ملاقات کی اور آتشزدگی سے ہونے والے نقصان کے بارے میں بتایا۔اس موقع پر انھوں نے کہا کہ تاجر برادری کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے احکامات کی روشنی میں آتشزدگی کے متاثرین کیساتھ ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کا خزانہ مالی سال 2023-24 کے اختتام پر

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کا خزانہ مالی سال 2023-24 کے اختتام پر تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے جس کا کریڈیٹ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، کابینہ و دیگر متعلقہ حکام کو جاتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی ایک بیان میں کیا۔مشیر خزانے نے کہا کہ ہمارے قائد عمران خان جیل میں ہونے کے باوجود بھی حکومت کی کارکردگی کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں اور وہیں سے ہی بانی پی ٹی آئی حکومتی اراکین کو مسلسل عوامی خدمت اور صوبے کی ترقی کیلئے تاکید اور رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ پاکستان اور دیگر صوبے مالی مشکلات کا شکار ہیں جبکہ خیبرپختونخوا کے مالی نتائج بہترین ہیں کیونکہ خیبر پختونخوا کی عوامی حکومت نے عوام کے پیسے کو نہ صرف ضائع ہونے سے بچایا ہے بلکہ بہترین حکمت عملی سے اسے ترقیاتی اور منافع بخش منصوبوں پر خرچ کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سمت اور ویژن درست ہو تو پاکستان بھی اپنے پیروں پر کھڑا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سستی بجلی،کارخانوں کا قیام اور روزگار فراہم کرنا مشن ہے،خیبر پختونخوا میں 180 میگاواٹ بجلی کے منصوبے تین ماہ تک مکمل ہو رہے ہیں۔ مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا کہ واپڈا کے تعاون سے سستی بجلی چند ماہ میں کارخانوں تک پہنچا سکتے ہیں مگر افسوس نیپرا 27 روپے فی یونٹ ترسیل چارجز کا تقاضا کر رہا ہے جو سراسر نا انصافی ہے۔

خیبرپختونخوا حلال فوڈ اتھارٹی اور محکمہ لائیو اسٹاک کی ملاوٹ مافیا کیخلاف مشترکہ کارروائیاں

6 سو پچاس لیٹرز غیر معیاری اور مضر صحت دودھ تلف جبکہ 2 ہزار جعلی وغیر معیاری مشروبات برآمد کرکے ضبط، ترجمان فوڈ اتھارٹی
خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی اور محکمہ لائیوسٹاک نے پشاور، ڈی آئی خان اور نوشہرہ میں مشترکہ کارروائیاں کرتے ہوئے پشاور موٹر وے ٹول پلازہ اور بکھر پل ڈی آئی خان پر ناکہ بندیاں قائم کیں اور سینکڑوں لیٹرز غیر معیاری دودھ اور مشروبات پکڑ کر ضبط کر لیا گیا۔ کاروائیوں کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے فوڈ اتھارٹی کے ترجمان نے کہا کہ گزشتہ روز فوڈ سیفٹی ٹیموں نے لائیو سٹاک کے اہلکاروں نے پشاور موٹر وے ٹول پلازہ اور بکھر پل پر صبح سویرے ناکہ بندیاں کیں اور خوراکی اشیاء لے جانے والی گاڑیوں، خصوصاً دودھ بردار ٹینکرز کی چیکنگ کی گئی۔ترجمان نے بتایا کہ موبائل ٹیسٹنگ لیب کے ذریعے دودھ، آئس کریم اور دیگر خوراکی اشیاء سے نمونے لے کر چیک کیے گئے۔ مزید تفصیلات کے مطابق پشاور میں 650 لیٹر جبکہ ڈی آئی خان میں 400 لیٹر سے زائد دودھ غیر معیاری اور مضر صحت ثابت ہونے پر تلف کر دیا گیا۔مزید برآں، نوشہرہ کی ٹیم نے جی ٹی روڈ پر ناکہ بندی کے دوران ایک گاڑی سے 2000 لیٹر سے زائد جعلی اور غیر معیاری مختلف برانڈڈ کولڈرنکس برآمد کرکے ضبط کر لئے، حفظان صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی پر مالکان پر بھاری جرمانے عائد کیے گئے اور فوڈ سیفٹی ایکٹ کے تحت مزید کارروائی کا آغاز کیا گیا ہے۔ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی واصف سعید نے کامیاب کاروائیوں پر انسپکشن کو سراہتے ہوئے کہا کہ شہریوں اور خصوصاً بچوں کی صحت سے کھلواڑ کرنے والوں کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے جنگلات، ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی و جنگلی حیات فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے جنگلات، ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی و جنگلی حیات فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں جنگلات کی کٹائی پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے محکمہ جنگلات کے افسران کو سختی سے ہدایت جاری کی ہے کہ اس سلسلے میں شفاف طریقے سے نگرانی کریں اور اس عمل کو یقینی بنانے کیلئے تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں انہوں نے کہا کہ جنگلات کا تحفظ ہم سب کا قومی فریضہ ہے لہذا عوام درختوں کی کٹائی اور لکڑی کے نقل و حمل کی روک تھام کیلئے میرے دفتر میں قائم کمپلینٹ سیل سے بر وقت رابطہ کریں ملوث افراد کیخلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر نے سوات کی مقامی سول سوسائٹی کے نمائندہ وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، وفد میں ڈاکٹر عبداللہ، ڈاکٹر شہریار آفریدی، آذان کرم، عزیز الحق، محمد ہلال، عبد الرحیم، عابد علی جان، رحیم الدین، ماجد مسعود، وسیم الحق،اظہر الدین اور وسیم خان شامل تھے۔ملاقات میں محکمہ جنگلات کی مجموعی کارکردگی، کامیابیوں پر اب تک کی پیشرفت، درختوں کی کٹائی کی روک تھام کے لئے اقدامات، آئندہ کے لائحہ عمل سمیت موسمیاتی تبدیلی، جنگلی حیات، مینگورہ گریویٹی واٹر سپلائی سکیم، ڈمپنگ سائٹ اور دیگر مختلف امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی، ملاقات میں سول سوسائٹی کے وفد نے صوبائی وزیر کو عوامی مطالبات و خدشات سے آگاہ کیا۔ فضل حکیم خان یوسفزئی نے یقین دہانی کرائی کہ عوامی مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے تمام قانونی مطالبات و خدشات دور کئے جائیں گے عوام کے مسائل کا حل موجودہ حکومت کی اہم ذمہ داری ہے ہم عوام کے سامنے جوابدہ ہیں۔اس موقع پر فضل حکیم خان یوسفزئی نے جنگلات کی حفاظت اور درختوں کی کٹائی کی مکمل روک تھام کواہم ترجیحات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگلات کی حفاظت اور درختوں کی کٹائی کی روک تھام کے لئے فارسٹ چیک پوسٹوں پر چیکنگ کا عمل سخت کردیا گیا ہے درختوں کی کٹائی میں ملوث عناصر کیخلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے گی،عوامی خدمت میرا مشن ہے جس پر نہ پہلے کمپرومائز کیا اور نہ ہی آئندہ کیا جائیگا عوام کیلئے ہمارے دفتر اور حجرے کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں،عوامی خدمت میں کوئی کمی نہیں آنے دینگے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ سول سوسائٹی معاشرے کا وہ باشعور طبقہ ہے جن کی خدمات قابل ستائش ہیں جو سماجی معاملات پر اپنی رائے اور اپنا رد عمل دیتے ہیں،آپ کی رائے ہمارے لئے مقدم ہے ہم سب کی تجاویز کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

صوبائی وزیر قانون کا محکمہ پبلک ہیلتھ کو خوشحال گڑھ کے غیر فعال 3 واٹر فلٹریشن پلانٹس فوری طور پر قابل استعمال بنانے کی ہدایت

خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ اور قانون آفتاب عالم آفریدی ایڈوکیٹ نے اتوار کے روز کوہاٹ میں چیئرمین تحصیل گمبٹ ساجد اقبال اور پی ٹی آئی کے مقامی رہنما اشتیاق قریشی کے ہمراہ خوشحال گڑھ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے وہاں کے مسائل و مشکلات سے آگاہی حاصل کی۔انہوں نے چیئر مین خوشحال گڑھ صابر عزیز اعوان کو ساتھ لیکر خوشحال گڑھ واٹر سکیم کے انڈر گراؤنڈ واٹر ٹینک کا معائنہ کیا اور اسے قابل استعمال بنانے کیلئے فوری طور پر صفائی کروانے کی ہدایت کی۔علاوہ ازیں آفتاب عالم آفریدی نے محکمہ پبلک ہیلتھ کے حکام کو بھی وہاں پر غیر فعال 3 واٹر فلٹریشن پلانٹس کی فوری مرمت کر کے فعال کرنے کی ہدایات دیں۔دریں اثناء وزیر قانون آفتاب عالم نے اپنا پبلک ڈے چیئرمین تحصیل گمبٹ ساجد اقبال اور دیگر پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ ٹی ایم اے گمبٹ میں منعقد کیا جس میں انہوں نے عوام کے مسائل سنے،زیادہ تر مسائل موقع پر حل کئے جبکہ باقی ماندہ مسائل کو حل کرنے کیلئے متعلقہ حکام کو ضروری کارروائی کیلئے بھیج دیا۔اس موقع پر وزیر موصوف کا کہنا تھا کہ عوام نے پاکستان تحریک انصاف کو واضح مینڈیٹ دے کر اپنافرض ادا کر دیا ہے اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ان کے مسائل و مشکلات کیلئے دن رات ایک کر کے کام کریں لہٰذا عوام کی جانب سے پی ٹی آئی پرکئے گئے اعتماد کو ہر گز ٹھیس نہیں پہنچائیں گے اور ان سے کئے گئے وعدے پورے کریں گے اور ان کی توقعات پر پورا اترنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔

خیبر پختونخوا کابینہ کے اہم فیصلے: جوڈیشل کمیشن، زکواۃ و عشر ایکٹ میں ترامیم، اور پولیس کی نئی بھرتیاں

خیبر پختونخوا کابینہ کا 9واں اجلاس جمعرات کے روز وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین گنڈا پور کی صدارت میں پشاور میں منعقد ہوا جس میں صوبائی وزراء مشیروں اور معاونین خصوصی، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور انتظامی سیکرٹریز نے شرکت کی۔صوبائی کابینہ نے 9 مئی کے واقعات کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کے قیام کی منظوری دی۔کابینہ نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے صوبائی اسمبلی کی گیارہویں قرارداد کو وفاقی حکومت کو باضابطہ طور پر ارسال کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے ایرانی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے وفاقی حکومت کو صوبائی اسمبلی کی پندرہویں قرارداد باضابطہ طور پر ارسال کرنے کی بھی منظوری دی، مذکورہ قرار دادمیں ہیلی کاپٹر حادثے کے نتیجے میں ایرانی صدر اور دیگر معززین کے جاں بحق ہونے پرایرانی عوام اور حکومت کے ساتھ تعزیت اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔کابینہ نے خیبر پختونخوا زکواۃ و عشر ایکٹ 2011 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی تاکہ فلاحی تعاون فنڈ قائم کیا جا سکے۔ جس میں ابتدائی عطیات کے طور پر، صوبائی کابینہ کے اراکین ایک ماہ کی تنخواہ دیں گے۔ اسی طرح،زکوٰۃو عشر کونسل، ضلعی زکوٰۃکمیٹیوں، مقامی زکوٰۃکمیٹیوں اور صوبائی و ضلعی سطح پر جانچ کمیٹی کی تشکیل کے لیے بھی ضروری ترامیم کی جائیں گی۔ ان ترامیم کے ذریعے محکمہ،زکوٰۃو عشر کی تقسیم کے مؤثر انتظام کو یقینی بنانے کے لیے زکوٰۃ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم قائم کر سکے گا۔صوبائی کابینہ نے اسلام آباد اور ایبٹ آباد میں خیبر پختونخوا ہاؤسز اور پشاور میں شاہی مہمان خانہ کے کمروں کے کرایوں میں 100% اضافے کی منظوری دی۔کابینہ نے 53 کلومیٹر ‘بورڈ یختنگی-پورن-مارتونگ سڑک اور 18 کلو میٹر کالام-اتروڑ گبرال سڑک کو صوبائی اختیار میں لانے کی منظوری دی۔صوبائی کابینہ نے خیبر پختونخوا پولیس کے لئے جنوبی اضلاع میں 565 پوسٹوں کی تخلیق کی منظوری دی ہے۔یہ فیصلہ صوبہ خاص طور پرضم اضلاع میں امن و امان کی بہتری کے لئے پولیس کو مستحکم کرنے کی پالیسی کے تحت کیا گیا۔کابینہ نے پشاور، سوات، اور ایبٹ آباد کی طرز پر دیگر ڈیویژنل ہیڈ کوارٹر میں ٹریفک وارڈن نظام متعارف کرنے کی منظوری دی ہے۔ ہوم ڈیپارٹمنٹ نے خیبر پختونخوا پولیس ڈیپارٹمنٹ (ریسرچ اینڈ انالیسس ونگ) سروس رولز، 20214 آخری ترمیم شدہ 2022 میں، خیبر پختونخوا پولیس ایکٹ، 2017 کے سیکشن 140 کے تحت ترمیم کی تجویز پیش کی جس سے متفق ہوتے ہوئے، صوبائی کابینہ نے مسودہ نوٹیفکیشن کی منظوری دے دی۔ مذکورہ ترمیم کا مقصد ری-ڈیزیگنیٹڈ پوسٹوں کے سروس معاملات کو منظم کرنے اور ان پوسٹوں پر تقرریاں کرنے اور ابتدائی فورینزک لیبارٹری (IFL) کے سیٹ اپ کو فعال بنانا ہے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے نیدر لینڈ کی سفیر کی ملاقات، زراعت، لائیوسٹاک اور توانائی میں باہمی تعاون پر گفتگو

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور سے پاکستان میں تعینات نیدر لینڈ کی سفیر حینی فوکل ڈی ورائس نے جمعرات کے روز وزیراعلیٰ ہاو¿س پشاور میں ملاقات کی اور ان سے باہمی دلچسپی کے امور خصوصاًمختلف شعبوں میں باہمی تعاون اور اشتراک کار سے متعلق معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمد عابد مجید اور محکمہ منصوبہ بندی کے اعلیٰ حکام بھی ملاقات میں موجود تھے۔ملاقات میں افغان مہاجرین سے متعلق امور کے علاوہ زراعت، لائیواسٹاک، آبی وسائل، سیاحت اور توانائی کے شعبوں میں باہمی اشتراک کار کے ممکنہ مواقع پر سیرحاصل گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر باہمی اشتراک کار کےلئے صوبے میں استعداد کے حامل شعبوں کی نشاندہی اور عملی پیشرفت کےلئے قابل عمل تجاویز تیار کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ سردار علی امین خان گنڈاپور نے سفیر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زراعت اور لائیو سٹاک کی جدید طرز پر ترقی صوبائی حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہے، زراعت اور لائیوسٹاک میں پیداوار کو بڑھانے کےلئے صوبائی حکومت کو جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے اور ہم اس سلسلے میں نیدر لینڈ حکومت کے تعاون کا خیر مقدم کریں گے۔ علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت زراعت اور لائیوسٹاک کے شعبوں کی ترقی کےلئے مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہے، ان شعبوں کو جدید خطوط پر ترقی دے کر نہ صرف صوبے بلکہ ملک کی فوڈ سکیورٹی کا مسئلہ بھی حل کیا جاسکتا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبے میں زرعی اور ڈیری پیداوار میں اضافے کے بے پناہ مواقع موجود ہیں، صوبائی حکومت اس مقصد کےلئے متعدد منصوبوں پر کام کر رہی ہے جن میں سی آر بی سی لفٹ کینال اور چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کے منصوبے بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں توانائی، معدنیات اور سیاحت کے شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں، صوبائی حکومت ان شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرے گی۔ علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اپنی آمدن میں اضافے کےلئے استعداد کے حامل شعبوں کو ترقی دینے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے،ہم قرضے اور گرانٹس لینے کی بجائے اپنی معیشت کو مضبوط کرنے پر کام کر رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے مہاجرین کی وطن واپسی کے حوالے سے صوبائی حکومت کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم مہاجرین کی رضاکارانہ واپسی کے دوران صوبائی حکومت نے وطن واپس جانے والوں کو پختون روایات کے مطابق تمام تر سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا، اس پورے مرحلے کے دوران کوئی ایک شکایت بھی موصول نہیں ہوئی۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے یہاں مقیم افغان نوجوانوں کو اچھی تعلیم اور ٹیکنیکل ٹریننگز دینے کےلئے تیار ہے تاکہ اپنے وطن واپس جانے کے بعد یہ اپنے پاو¿ں پر کھڑے ہوسکیں۔ حینی فوکل ڈی ورائس نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت اور عوام نے کئی دہائیوں تک افغان مہاجرین کی مہمان نوازی کی ہے، مہاجرین کی بہترین مہمان نوازی کے سلسلے میں خیبرپختونخوا حکومت اور صوبے کے عوام کا کردار قابل ستائش ہے۔ نیدر لینڈ سفیرکا کہنا تھا کہ نیدر لینڈ کی حکومت دیگر شعبوں کے علاوہ زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبوں میں صوبائی حکومت کے ساتھ اشتراک کار کی خواہاں ہے، ان شعبوں میں باہمی اشتراک دونوں حکومتوں کےلئے انتہائی فائدہ مند ثابت ہوگا۔

پشاور کے ارباب نیاز اسٹیڈیم کے تعمیراتی کاموں پر تیزی سے کام شروع

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے کھیل اور امور نوجوان سید فخر جہان نے ا رباب نیاز سٹیڈیم پشاور کا دورہ کیا اور وہاں پر جاری تعمیراتی کام کا تفصیلی معائنہ کیا۔چیف انجینئر سی اینڈ ڈبلیو،ڈائریکٹر جنرل سپورٹس،ڈائریکٹر ورکس سپورٹس اور تعمیراتی کام کے ٹھیکدار بھی اس موقع پر موجود تھے۔مشیر کھیل نے اسٹیڈیم کے مختلف حصوں میں تزین وآرائش اور دیگر تعمیراتی کاموں کا جائزہ لیا اور زیر تعمیر کام کی جلد از جلد تکمیل کیلئے متعلقہ حکام کو احکامات جاری کیے۔اس موقع پر مشیر کھیل نے کہا کہ صوبے کے اس اہم سٹیڈیم کے تعمیراتی کام میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور کام کے معیار پر بھی کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ سٹیڈیم کے تعمیراتی کام میں تیزی لائی جائے تاکہ اسے انٹرنیشنل کرکٹ اور مختلف لیگز میچز کیلئے جلد از جلد تیار کیا جاسکے۔انھوں نے کہا کہ حکومت کی یہ کوشش ہے کہ ہر حالت میں صوبے کے اس اہم گراؤنڈ کو عالمی معیار اور سہولیات کے مطابق جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ یہاں پر انٹر نیشنل کرکٹ کے مقابلوں کا انعقاد عنقریب ممکن ہوسکے۔