وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات، بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے اقرا نیشنل یونیورسٹی، پشاور میں منعقدہ آل پاکستان اقرا لٹریری فیسٹیول سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے ادب کے انسانی ترقی میں بنیادی کردار کو اجاگر کیا۔اپنے فکر انگیز خطاب میں ڈاکٹر سیف نے اس بات پر زور دیا کہ ادب انسانی تجربات، علم اور فکری ارتقا کو نسل در نسل منتقل کرنے کا بنیادی ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی ترقی کے تمام پہلو—چاہے وہ سماجی ہوں، سیاسی، سائنسی یا فلسفیانہ—ان کی بنیاد ادب میں ہی ہے۔ ”اگر ہم انسانی ترقی کا تجزیہ کریں تو معلوم ہوگا کہ ہر پیش رفت کسی نہ کسی فکر کا نتیجہ ہوتی ہے، اور ادب وہ وسیلہ ہے جو ان خیالات کو آنے والی نسلوں تک پہنچاتا ہے،”بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مزید وضاحت کی کہ ادب مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے، جیسے شاعری، نثر، بصری اور اسٹیج آرٹ، موسیقی اور رقص، اور یہ سب انسانی اجتماعی ذہانت کو پروان چڑھانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسی قوم کی پائیدار ترقی کا دار و مدار اس کے ادبی اثاثے اور تخلیقی صلاحیتوں پر ہوتا ہے اورکسی قوم کی فکری گہرائی ہی اس کی ترقی کا پیمانہ ہوتی ہے۔ڈاکٹر سیف نے کہا کہ نئے خیالات ہی نئی دنیا کے قیام کا باعث بنتے ہیں اور فکری ترقی ہی تمام مادی ترقی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے سائنسی ترقیات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ خلا کی تسخیر جیسے کارنامے سب سے پہلے انسانی فکر میں جنم لیتے ہیں اور پھر عملی شکل اختیار کرتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ محض معلومات اکٹھی کرنے کے بجائے اپنے کردار کو مضبوط بنانے پر بھی توجہ دیں، کیونکہ ایک مضبوط کردار ہی عظیم خیالات کی بنیاد رکھتا ہے۔”آپ کی فکری صلاحیت کا دار و مدار آپ کے کردار کی مضبوطی پر ہے۔ اگر آپ کا اخلاقی اور فکری کردار مضبوط نہ ہو، تو آپ کی علمی کامیابیاں محض سطحی ہوں گی،”اپنے خطاب کے اختتام پر ڈاکٹر سیف نے ادب کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ قومی فکر کی تشکیل اور فکری ورثے کی حفاظت کا ایک بنیادی ذریعہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کے نوجوان اپنی علمی اور ادبی تخلیقات کے ذریعے قومی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔آل پاکستان اقرا لٹریری فیسٹیول میں ملک بھر سے آئے ہوئے طلبہ نے شرکت کی، جہاں انہیں مختلف علمی، ادبی اور تخلیقی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع ملا۔ ان سرگرمیوں میں قرات/نعت، تقریری مقابلے، بیت بازی، فائن آرٹس، تھیٹر پرفارمنس، مختصر فلمیں، فوٹوگرافی نمائش، مضمون نویسی، کوئز مقابلے اور دیگر سرگرمیاں شامل تھیں، جن کا مقصد نوجوانوں میں علمی مکالمے کو فروغ دینا اور ادبی و فکری ماحول پیدا کرنا تھا۔
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری کی زیرصدارت صوبائی ٹاسک فورس برائے انسدادِ پولیو کا اجلاس
صوبائی ٹاسک فورس برائے انسدادِ پولیو کا اجلاس چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری کی زیرصدارت سول سیکریٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں متعلقہ انتظامی سیکرٹریز، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ حکام، کوآرڈینیٹر ای او سی، عالمی معاون اداروں یونیسف اور عالمی ادارہ صحت کے نمائندوں سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی جبکہ نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سنٹر اسلام آباد کے حکام، کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری نے کہا کہ ماحولیاتی نمونے مثبت آنے والے اور پولیس کیسسز رپورٹ ہونے والے اضلاع کی یونین کونسل میں پولیو وائرس کو کنٹرول کرنے کے لئے مربوط حکمت اپنائی جائے، فیک فنگر مارکنگ و ڈیٹا رپورٹنگ میں کوتاہیوں کو روکا جائے, اس ضمن میں کوتاہی کے مرتکب سٹاف کے خلاف ضابطے کے تحت سخت کارروائی کی جائے۔ مختلف اضلاع میں کیسسز رپورٹ ہونا،ماحولیاتی نمونوں کا مثبت آنا خطرے کی علامت ہے اور اس کے تدارک کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں۔ ایسے میں ٹیموں کو پوری ذمہ داری سے کام کرنے کی ضرورت ہے. ماحولیاتی نمونے مثبت آنے والے علاقوں پر بات کرتے ہوئے چیف سیکرٹری نے حکام پر زور دیا کہ وہ تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے وجوہات کا تعین کریں اور اس ضمن میں اقدامات جاری رکھے جائیں۔ انہوں نے حکام کو مہم کے معیار پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی اور کہا کہ پولیو وائرس کے انسداد کا دارومدار معیاری پولیو مہم پر منحصر ہے. چیف سیکرٹری کا کہنا تھا کہ پولیو مہمات کی معیار اور مانیٹرنگ کے حوالے سے کوئی کوتاہی نہ برتی جائے۔ انسداد پولیو ایک قومی فریضہ ہے۔ معیاری اور بروقت اقدامات سے ہی پولیو کا مکمل تدارک کیا جاسکتا ہے اور ہم اپنے بچوں کو ایک محفوظ مستقبل دے سکتے ہیں۔ اجلاس میں گزشتہ ٹاسک فورس میں کئے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔چیف سیکرٹری نے فکس پوانٹس اور ہسپتالوں میں پولیو ویکسین کی دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت کی اور کہا کہ والدین کی سہولت کے لئے ڈور ٹو ڈور ویکسین مہم کے ساتھ صحت مراکز میں بھی یہ ویکسین دستیاب ہونی چاہیے۔ چیف سیکرٹری کا مزید کہنا تھا کہ پولیو مہم کیساتھ ساتھ بچوں کی حفظان صحت اور غذائیت، بچوں کے لئے صاف پانی کی فراہمی اور صفائی ستھرائی کے معاملات کے حوالے سے اقدامات پر بھی خصوصی توجہ دی جائے۔ چیف سیکرٹری نے اضلاع کی کارکردگی کا بغور جائزہ بھی لیا اور بعض اضلاع بشمول ضلع بنوں کی کارکردگی کو سراہا۔
روڈ ٹرانسپورٹ بورڈ کے 44 کروڑ روپے بنک آف خیبر میں انویسٹمنٹ کی عرض سے جمع کر دئے گئے، رنگیز احمد معاون خصوصی ٹرانسپورٹ
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ حاجی رنگیز احمد نے کہا ہے کہ ہماری کوشش ہے کہ محکمہ ٹرانسپورٹ کے محاصل میں خاطر خواہ اضافہ کیا جاسکے انہوں نے کہا ہے کہ بنک آف خیبر میں محکمہ ٹرانسپورٹ روڈ ٹرانسپورٹ بورڈ کے 44 کروڑ روپے جو کہ سر پلس سرمایہ تھا بنک آف خیبر میں 11.30 فیصد منافع پر انویسٹ کردئیے گئے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز بنک آف خیبر کے بزنس ہیڈ سے اپنے دفتر میں ملاقات کے دوران کیا ہے، اس موقع پر ڈائریکٹر ٹرانسپورٹ ودیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ معاون خصوصی نے اپنے ہاتھوں سے بینک آف خیبر کو 44 کروڑ روپے کا چیک دیا ہے، انہوں نے کہا ہے کہ روڈ ٹرانسپورٹ بورڈ کے اس سرپلس سرمایہ سے محکمہ ٹرانسپورٹ کے محاصل میں اضافہ ہوگا جس سے صوبے کی معیشت میں حاطر خواہ بہتری دیکھنے کو ملے گی۔ ملاقات کے دوران معاون خصوصی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ محکمہ ٹرانسپورٹ کی ریونیو کو مزید بہتر کریں اور محکمہ میں حقیقی مثبت تبدیلی لاسکیں۔
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن طفیل انجم کی کے پی ٹیوٹا ملازمین کی ایسوسی ایشن سے ملاقات
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن طفیل انجم نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی کو جدید خطوط پر استوار کرنے جارہے ہیں، انہوں نے کہا ہے کہ کے پی ٹیوٹا ملازمین کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کے پی ٹیوٹا ملازمین ایسوسی ایشن کے نمائندہ وفد سے ایک ملاقات کے دوران کیا ہے۔ ملاقات کے دوران کے پی ٹیوٹا ملازمین کی ایسوسی ایشن اور منیجنگ ڈائریکٹر کے پی ٹیوٹا منصور قیصر و دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن طفیل انجم نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی ملازمین (پبلک سرونٹس) کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے۔ انہوں نے تمام ملازمین کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کے جتنے بھی جائز مطالبات ہیں ان کے حل کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ اجلاس کے دوران ایسوسی ایشن نے کے پی ٹیوٹا کے امور اور ملازمین کو درپیش مسائل پر تفصیلی بریفننگ دی ہے۔ اس موقع پر معاون خصوصی نے کہا ہے کہ کے پی ٹیوٹا کے ملازمین کے مسائل جن میں سی پی فنڈ کا مسئلہ، سروس سٹرکچر، لازمی ٹر یننگ،ملازمین کی پروموشن کیلئے آسامیوں کی تخلیق،پی ایچ ڈی اور ایم پل الاوئنس،EOBI،اور ڈیتھ گرانٹ وغیرہ کے مسائل حل کئے جائیں گے۔ اجلاس کے دوران ایسوسی ایشن کے وفد نے معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن طفیل انجم کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی ہے کہ ان کے تمام حل طلب مسائل حل کئے جائیں گے۔
محکمہ ریلیف کا اعلیٰ سطحی اجلاس، میرٹ اور شفافیت پر زور
محکمہ ریلیف کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے ریلیف، بحالی و آبادکاری ملک نیک محمد خان داوڑ کی زیر صدارت سول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا، جس میں سیکرٹری ریلیف یوسف رحیم، ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے، ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122، ڈائریکٹر سول ڈیفنس اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران معاون خصوصی ملک نیک محمد خان داوڑ نے میرٹ اور شفافیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے تمام اداروں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے امور کو دیانتداری اور قانونی تقاضوں کے مطابق انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی خدمت اور ہنگامی صورتحال میں فوری رسپانس کو یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔اجلاس میں ضلع شمالی وزیرستان کے ڈپٹی کمشنر نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی اور علاقے میں جاری ریلیف سرگرمیوں پر بریفنگ دی۔ اجلاس کے شرکاء نے عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانے اور مزید اقدامات کرنے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی ہدایات کی روشنی میں سیکرٹری محکمہ ایکسائز سید فیاض علی شاہ
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی ہدایات کی روشنی میں سیکرٹری محکمہ ایکسائز سید فیاض علی شاہ کی زیر صدارت ایکسائز تھانہ جات اور ایکسائز اینٹیلیجنس بیورو کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول اور ڈائریکٹر جنرل ایکسائز سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں تمام سرکل افسران اور انچارج ایکسائز اینٹیلیجنس بیورو کو منشیات کے تدارک کے لیے موئثر اقدامات اٹھانے اور اس حوالے سے کاروائی مزید تیز کرنے کی ہدایت کی گئی اور کہا گیا کہ تمام سرکل افسران، ایس ایچ اوز اور ایکسائز اینٹلیجنس سکواڈز انچارج 15 دن کے اندر منشیات کے خلاف نمایاں کارکردگی سرانجام دیں اور اس کے حوالے سے رپورٹ پیش کریں۔ اسی طرح صوبہ بھر میں منشیات فروشوں کے فہرستیں مرتب کرنے، بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرنے کی منشیات کے کاروبار میں ملوث افراد کو گرفتار کرنے، ان کے خلاف انویسٹیگیشن نظام کو جدید خطوط کے مطابق کرنے، مقدمات کی بھر پور پیروی کرنے کی بھی ہدایت کی گئی تاکہ لوگوں کو منشیات کا عادی بنانے اور انہیں برباد کرنے والوں کو عدالتوں سے سخت سے سخت سزائیں دلوائی جا سکیں۔ اجلاس میں منشیات کے خلاف غیر تسلی بخش کارکردگی والے افسران کے تبادلوں، ایکسائز تھانوں کی استعداد کار بڑھانے کیلئے مزید سٹاف تعینات کرنے پر بھی زور دیا گیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر نارکوٹکس کنٹرول نے سیکریٹری ایکسائز کو ماہ جنوری میں منشیات کی روک تھام کے حوالے سے کئے گئے اقدامات،پکڑی گئی منشیات ا و رگرفتار ملزمان کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی جبکہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر فیصل خورشید برکی نے ڈائریکٹر جنرل کو منشیات کیسز میں عدالتی مقدمات کی پیروی اور پیش رفت پر بریفنگ دی۔، سیکریٹری ایکسائز نے اس موقع پر منظم منصوبہ بندی اور لائحہ عمل کے مطابق منشیات کی کسی بھی قسم سرگرمی کے خلاف ہمہ وقت الرٹ رہنے اور مشیات نیٹ ورکس کے خلاف انٹیلیجنس کا دائرہ کار بڑھانے کے ہدایات جاری کیں۔
وزیر اعلی ٰخیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت عبدالکریم تورڈھیر نے
وزیر اعلی ٰخیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت عبدالکریم تورڈھیر نے کہا ہے کہ خیبر پاس اکنامک کوریڈور پورے ریجن کو مواصلاتی راہداری کے ذریعے منسلک کرنے کا ایک اہم منصوبہ ہے جس کے ذریعے نہ صرف تجارت و کاروبار کو فروغ حاصل ہوگا بلکہ اس منصوبے میں شامل دیگر ذیلی ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے علاقے میں ترقی و خوشحالی آئے گی۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے جمعرات کے روز سول سیکریٹریٹ پشاور میں خیبر پاس اکنامک کوریڈور (KPEC) کے بڑے مواصلاتی منصوبے کے حوالے سے انھیں دی جانے والی بریفنگ کے دوران کیا۔بریفنگ میں منصوبے کے پراجیکٹ ڈائریکٹرعمران ظہور،اکانومسٹ صادق حسین،ڈپٹی سیکرٹری صنعت اعزاز اللہ سمیت خیبر پختونخوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ منیجمنٹ کمپنی کے نمائندوں و دیگر افسران نے شرکت کی۔اس موقع پر معاون خصوصی کو ورلڈ بنک کے تعاون سے شروع کردہ اس اہم علاقائی مواصلاتی منصوبے کی پیش رفت اور اس میں شامل مختلف نوعیت کے دیگر سہولیاتی منصوبوں کے حوالے سے تفصیلات فراہم کی گئیں۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ خیبر پاس وسطی ایشیا تک جانے کیلئے مرکزی گیٹ وے ہونے کی وجہ سے ریجن کے ممالک تک آسان سفری سہولت کی غرض سے اس منصوبے کا آغاز کیا گیا ہے جسکا مقصد نہ صرف سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے بلکہ یہ علاقے کے ممالک کے مابین ایک اسان زمینی راہداری ہوگی۔معاون خصوصی کو بتایا گیا کہ یہ سنٹرل ایشین روڈز اکنامک کوریڈورز(CAREC) منصوبے کے تحت ایک ذیلی منصوبہ ہے اور اس کا 85 فیصد حصہ مواصلاتی منصوبہ ہے جبکہ15 فیصد حصے میں دیگر سہولیاتی سرگرمیاں شامل ہیں۔اس طرح بنیادی سہولیات کی فراہمی میں علاقے میں ماڈرن ماربل پروسسنگ زون،جیمز سٹی،ماڈرن ووکیشنل سنٹر،سپورٹس کمپلیکس اور ریجنل ہسپتال کے قیام جیسے منصوبے اس مرکزی منصوبے کیساتھ یہاں پر قائم کرنا شامل ہیں جن کے ذریعے یہاں پر نہ صرف لوگوں کو کثیر تعداد میں روزگار کے مواقع میسر آئیں گے بلکہ غربت کے خاتمے سمیت علاقائی ممالک کیساتھ کاروبار بڑھے گا اور مقامی صنعتیں بھی ترقی کریں گی۔ ان کو بتایا گیا کہ منصوبے کے تحت بزنس کلسٹرز کو بھی معاونت فراہم کی جارہی ہے اور خواتین کیلئے روزگار کے مواقع فراہم کرنے کیلئے انکلوسیو بزنس ڈویلپمنٹ پارک بھی اس منصوبے کا حصہ ہے۔اس طرح شاہ کس ضلع خیبر میں اس منصوبے کے تحت ایک بس ٹرمینل کا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا جس کیلئے 30 ایکڑ اراضی کی نشاندہی کی گئی ہے۔مزید برآں اس منصوبے میں ایک بارڈر بازار اور پاک افغان اکنامک زون کے قیام کے ذیلی منصوبے بھی تجویز کیئے گئے ہیں۔اس موقع پر معاون خصوصی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ مواصلاتی منصوبہ صوبے کی ترقی کیلئے اہمیت کا حامل ہے اور اس حوالے سے درکار مراحل میں وہ اپنی جانب سے بھرپور تعاون فراہم کریں گے۔انھوں نے کہا کہ یہ نہ صرف علاقائی ممالک کو جانے کیلئے ایک پر آسائش راہداری ہوگی بلکہ اس کے ذریعے باہمی تجارت کے نئے مواقع میسر آسکیں گے۔
گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج نحقی پشاور میں سالانہ تقریب تقسیم انعامات منعقد کی
گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج نحقی پشاور میں سالانہ تقریب تقسیم انعامات منعقد کی گئی جس کا مقصد ان طالبات کی حوصلہ افزائی کرنا تھا جنہوں نے نحقی کالج کے لیے مختلف شعبوں میں اپنی قابلِ قدرخدمات سر انجام دی تقریب میں ڈائریکٹر پی اینڈ ڈی جاوید اکبر، ڈائریکٹر اسٹیبلشمنٹ محمد اقبال،کپلا کے صدر عبد الحمید خان، اور گورنمنٹ کالج پشاور کیاسسٹنٹ پروفیسر ناصر خان نے خصوصی شرکت کی جبکہ کالج کی پرنسپل پروفیسر نوشابہ نورین، ڈائریکٹر سپورثس سعدیہ گل، پروفیسر آسیہ سمیت دیگر سٹاف اور طالبات بھی کٹیر تعداد میں موجود تھیں۔ تقریب میں ان طالبات کو سرٹیفیکیٹس، میڈلز اور ٹرافیاں دی گئیں جنہوں مختلف کھیلوں، حال ہی گورنمنٹ کالج پشاور میں منعقدہ سائنس نمائش اور دیگر شعبوں میں نمایاں اور شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا تقسیم انعامات کے موقع پر منعقدہ تقریب سے کیپلا کے صدر، کالج پرنسپل اور دیگر نے خطاب کیا مقررین نے کہا کہ گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج نحقی نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ہم نصابی سرگرمیوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتا رہا ہے کالج کی پرنسپل کی قائدانہ فہراست کی بدولت نحقی کالج ترقی کے منازل طے کر رہا ہے انہوں نے طالبات کے جوش وولولے اور سپورٹس کے حوالے سے نحقی کالج کی فتوحات کو سراہتے ہوئے کہا کہ نامساعد حالات کے باوجود ہر میدان میں کامیابی کا جھنڈا گاڑ دینا معمولی بات نہیں اور یہ فتوحات ہیلتھ اینڈ فزیکل ایجوکیشن کی لیکچرر سعدیہ گل کی بدولت ہیں جہنوں نے اپنی انتھک محنت اور مسلسل جدوجہد کی بدولت نحقی کالج کا نام روشن کیاکالج کی پرنسپل نے تمام کامیاب طالبات کو مبارکباد دی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ مستقبل میں بھی کالج کی سٹوڈنٹس کے ساتھ نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے گا۔
مشیر صحت احتشام علی کی ویمن اینڈ چلڈرن ہسپتال ایبٹ آباد آمد
مشیر صحت احتشام علی نے چیف آف یونیسیف پشاور راڈوسلا رادک کے ہمراہ ویمن چلڈرن ہسپتال میں سٹیٹ آف ڈی آرٹ این آئی سی یو کا افتتاح کردیا۔اس موقع پر ڈی ایچ او ایبٹ آباد شکیل سرور، ریجنل ڈائریکٹر ہزارہ ڈاکٹر عامر اسرار، چیف آف یونیسیف پشاور راڈوسلا رادک، ہیلتھ سپیشلسٹ ڈاکٹر انعام اللہ خان بھی موجود تھے۔ مشیر صحت نے فیتہ کاٹ کر نومولود بچوں کی نگہداشت کے لئے بنائے گئے یونٹ کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ مشیر صحت نے اس موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نومولود بچوں کی نگہداشت کے لئے ایسے یونٹس کا قیام وقت کی ضرورت ہے۔ سٹیٹ آف دی آرٹ این آئی سی یو 45 بستروں پر مشتمل ہے جو کہ پورے ہزارہ ریجن کو کور کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یونیسیف کے تعاون سے آکسیجن کی بلا تعطل فراہمی کیلئے پلانٹ بھی لگایا گیا ہے۔ این آئی سی یو، کینگرو مدر کئیر، انٹنسیو کئیر اور انفیکشئیس ڈیزیز کے علاج کیلئے الگ الگ یونٹس قائم کئے گئے ہیں۔ مشیر صحت احتشام علی نے کہا کہ حکومت ہر ضلعی ہسپتال میں یونیسف کے ماڈل کا نیو بارن یونٹ بنائے گی۔ جسکے لئے آئندہ ADP میں رقم مختص کی جائیگی۔مشیر صحت نے این آئی سی یوز کے قیام پر یونیسیف کے تعاون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یونیسیف کے تعاون سے نیوٹریشن کا پروگرام بھی اس ہسپتال میں چل رہا ہے۔ انہوں نے یونیسیف سے تعاون جاری رکھنے اور اس کو مزید مربوط بنانے کی استدعا بھی کی۔ چیف آف یونیسیف پشاور راڈوسلا رادک نے اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ این آئی سی یو کے قیام سے نوزائدہ بچوں کی اموات کی شرح میں واضح کمی واقع ہوگی۔ اس سے قبل ہم نے باچا خان میڈیکل کمپلیکس میں ایسا این آئی سی یو قائم کیا ہے۔ انہوں نے عہد کیا یونیسیف ماں اور بچے کی صحت کی بہتری کیلئے محکمہ صحت خیبرپختونخوا کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور اس بابت دور دراز علاقوں میں انقلابی اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں۔
ملاکنڈ ڈویژن میں ریوینیو مقدمات کے نمٹانے کے لیے سوات میں کیمپ کورٹ کا قیام صوبائی حکومت کا خوش آئند اقدام ہے۔ وزیر لائیو سٹاک
خیبر پختونخوا کے وزیر لائیو سٹاک ماہی پروری اور امداد باہمی فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ مالاکنڈ ڈویژن میں ریوینیو کے زیر التوام مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سوات میں کیمپ کورٹ کا انعقاد صوبائی کا خوش آئند اقدام ہے جس کی بدولت ملاکنڈ ڈویژن کے تمام9 اضلاح کے عوام کو کافی ریلیف ملے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر سول سیکٹریٹ پشاور میں ممبر بورڈ آف ریوینیو خیبر پختونخوا نعیم اختر سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ممبر بورڈ آف ریو ینیونے صوبائی وزیر سے ملاقات کے دوران ملاکنڈ میں زیر التواریوینیو مقدمات کی تفصیلات سے آگاہ کیا وزیر موصوف نے کہا کہ مالاکنڈ ڈویژن میں پانچ سو سے زائد ریوینیو مقدمات زیر التوا ہیں اور ممبر بورڈ کے نہ ہونے کی وجہ سے عوام کو پشاور کے چکر لگانے پڑتے اور کافی عرصہ سے انہیں بڑی مشکلات درپیش تھیں۔ فضل حکیم خان یوسفزئی نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا بھی شکریہ ادا کیا جنھوں نے ان کی تجویز پر عوامی مشکلات کا احساس کرتے ہوئے مالا کنڈ میں ریوینیو مقدمات کے حل کے لئے ممبر بورڈ اف ریوینیو نعیم اختر کی تعیناتی کی ہدایت کی تاکہ ان مقدمات کو بروقت حل کرتے ہوئے عوام کو ان کی دہلیز پر انصاف فراہم کیا جا سکے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ سوات می باقاعدہ کیمپ کورٹ قائم کر دیا ہے جہاں پر ممبر بورڈ اف ریوینیو مالاکنڈ کے تمام اضلاع کے ریوینیو مقدمات نمٹائیں گے اور عوام الناس کو ریلیف کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔ صوبائی وزیر نے اس موقع پر ممبر بورڈ آف ریوینیو کو اپنی طرف سے بھرپور تعاون کا یقین دلایا جبکہ ممبر بورڈ آف ریوینیو نے صوبائی وزیر کو زیر التوا مقدمات کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مالاکنڈکے عوام کو سستے انصاف کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔
