Home Blog Page 307

نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ خیبرپختونخوا ریونیو اتھارٹی کے دفتر کا دورہ

نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ حمایت اللہ خان نے بدھ کے روز خیبرپختونخوا ریونیو اتھارٹی کے دفتر کا دورہ کیا جہاں پر ڈائریکٹر جنرل خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی شاہ محمود خان نے انہیں کے پی آر اے کے کام کرنے کے طریقہ کار، انتظامی ڈھانچے اورگزشتہ کئی سالوں میں اکٹھے کئے گئے محاصل کے بارے میں تفصیلی پربریفنگ دی اور آگے کا لائحہ عمل بھی واضح کیا۔ ان کے ہمراہ خیبرپختونخوا کے سیکرٹری خزانہ محمد آیاز بھی بریفنگ میں موجود تھے۔اس موقع پر ڈی جی کے پی آر اے نے بتایا کہ انکے ادارے نے گزشتہ مالی سال میں خیبرپختونخوا کے اپنے ذرائع آمدن کے کل حصے کا 71 فیصد حصہ جمع کیاہے اور 2017 سے اب تک ادارے کی آمدنی میں 180 فیصد اضافہ ہوا ہے جو کے پی آر اے ٹیم کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ڈائریکٹر جنرل کے پی آر اے نے مشیر خزانہ کو ایف بی آر، این ٹی ڈی سی اور پیسکو کے پاس کے پی آر اے کے ذمے واجب الادا رقوم کے بارے میں بتایا جس کے لیے حکومت کی سطح پر کوششوں کی ضرورت ہے تاکہ اداروں کو بقایا رقم کے اجراء پر قائل کیا جا سکے۔ڈی جی کے پی آر اے نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور کے پی آر اے کے درمیان کراس ان پٹ ایڈجسٹمنٹ کیلئے ایک معاہدہ طے ہوا ہے اور اس معاہدے کے تحت ایف بی آر اب تک کے پی آر اے کو 8 ارب روپے ادا کر چکا ہے جبکہ اس کے ذمے 10 ارب روپے واجب الادا ہیں۔ اس پر مشیر خزانہ کا کہنا تھا حکومت رقم حاصل کرنے کے لیے معاملہ وفاقی حکومت کے ساتھ اٹھائے گی۔ڈی جی کے پی آر اے کا کہنا تھاکہ کے پی آر اے نے وقت کے ساتھ ساتھ اپنے ٹیکس کی بنیاد کو مضبوط کیا ہے اور سروسز کے کاروبار سے وابستہ نئے شعبے ٹیکس نیٹ میں لائے گئے ہیں۔ جب کے پی آر اے قائم ہوا تو اسکے کل محاصل کا 93 فیصد حصہ ٹیلی کام سیکٹر سے وصول کیا جاتا تھا لیکن کے پی آر اے کی ٹیم نے اپنی کوششوں سے نئے شعبوں کوٹیکس کے دائرہ کار میں شامل کیا ہے اور تما م شعبہ جات پر محنت کی ہے جس کے نیتجے میں اب ادارے کے کل سالانہ محاصل کا صرف 35 فیصد حصہ ٹیلی کام سیکٹر سے آتا ہے جبکہ دیگر شعبہ جات سے حاصل ہونے والے محاصل میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مشیر خزانہ جناب حمایت اللہ خان نے کے پی آر اے کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا اور ٹیکس کی وصولی کے لیے نئے شعبوں کو تلاش کرنے پر زور دیا۔ہمیں اپنے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے پر کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس کے بنیاد پر ہم محصولات سے حاصل کی جانے والی آمدنی کو متاثر کیے بغیر ٹیکس کے ریٹ کو مزید کم کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔

خیبر پختونخوا کے نگران وزیر ایکسائز وانسدد منشیات کا نگران وزیراعلی کے مشیر برائے تعلیم سے ملاقات

خیبر پختونخوا کے نگران وزیر ایکسائز و انسداد منشیات حاجی منظور خان افریدی نے کہا ہے کہ محکمہ تعلیم کے جاری ترقیاتی منصوبوں کے تحت ضلع خیبر بشمول تمام اضلاح میں تعلیمی اداروں کی کمی پوری کی جائے گی جس سے قبائلی اضلا کی تعلیمی نظام میں مزید بہتری یقینی ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں اساتذہ کی کمی پوری کرنے کے لئے بروقت اقدامات کئے گئے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ ضم اضلاع کے بچوں کو دوسری سہولیات کے ساتھ ساتھ اساتذہ بھی بروقت میسر ہو جائیں گے۔ ان خیالات ک اظہار انہوں نے قبائلی وفد کے ہمراہ مشیر تعلیم رحمت سلام خٹک سے قبائلی اضلاع کے تعلیمی نظام میں بہتری کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کے موقع پر کیا۔

نگران وزیر ایکسائز حاجی منظور خان افریدی نے مشیر تعلیم کو قبائلی اضلاع کے تعلیمی مسائل سے اگاہ کیا۔ اور نگران حکومت کی جانب سے محکمہ تعلیم میں اٹھائے گئے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ضم اضلاع میں پیرنٹس ٹیچرز کونسل کے ذریعے تمام طلباء کو عارضی بنیادوں پر اساتذہ مہیا کئے گئے ہیں جو لائق تحسین عمل ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جتنے بھی نئے سکول بنے ہیں ان میں تدریسی اور غیر تدریسی معاون سٹاف کے ایس این ایز بھی جلد از جلد منظور کیے جائے۔ تاکہ چھٹیوں کے بعد طلباء کو اساتذہ اور دیگر تمام سہولیات میسر ہو۔ انہوں نے نگران مشیر تعلیم سے مطالبہ کیا کہ جاری ترقیاتی منصوبوں کے تحت سکولوں کے تعمیر پر بھی کام تیز کیا جائے اور کوالٹی یقینی بنانے کے لیے سخت مانیٹرنگ کی جائے تاکہ اعلیٰ کوالٹی مٹیریل استعمال ہو اور تمام منصوبے مقرر شدہ ٹائم لائن کے اندر مکمل ہو۔ نگران مشیر تعلیم رحمت سلام خٹک نے وزیر ایکسائز کو یقین دلایا کہ تعلیم ہماری اولین ترجیح ہے اور بالخصوص ضم اضلاع کے تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے ہر ممکنہ کوشش اور تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ تاکہ قبائلی اضلاع کے عوام کی محرومیوں کا ازالہ ہو سکیں اور حقیقی معنوں میں انظمام کے ثمرات ان علاقوں کے عوام کو مل سکیں۔

پختونخوا ریڈیو پشاور اور ائی ایم سائنسز کے زیر اہتمام باصلاحیت فنکاروں اور تخلیق کاروں کے ٹیلنٹ ہنٹ کا فیصلہ

پختونخوا ریڈیو پشاور کے زیرِ اہتمام ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس سے مختلف کالجز اور جامعات کے طلباء و طالبات کو اپنی فنکارانہ اور تخلیقی صلاحیتوں کو آزمانے کا موقع ملے گا۔ ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کی شروعات انسٹیٹیوٹ آف منیجمنٹ سائنسز پشاور سے ہوں گی۔ اس سلسلے میں ڈی جی انفارمیشن اینڈ پبلک ریلیشنز بصیر علی رحمان، سٹیشن ڈائریکٹر پختونخوا ریڈیو غلام حسین غازی، پروڈیوسر و ڈپٹی ڈائریکٹر نظام الدین، ٹرانسمشن انجینئر ساجد محمود، اور دیگر ریڈیو ماہرین نے انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز پشاور کا دورہ کیا اور ادارے کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عثمان غنی سے ملاقات کی جبکہ اس موقع پر منیجر آئی ٹی نعمان رضا اور منیجر کیئر سروس اسد اشفاق بھی موجود تھے۔ اجلاس میں منگل 18 جولائی 2023 کو ٹیلنٹ ہنٹ شو کروانے کا متفقہ فیصلہ کیا گیا۔ آڈیشن اردو، پشتو، ہندکو، کھوار، دری اور انگریزی زبانوں کی مختلف کیٹیگریز میں ہوگی جن میں نیوز ریڈر، سکرپٹ رائٹر، پروگرام ہوسٹ، وائس اوور آرٹسٹ(ڈرامہ وغیرہ) اور گلوث شامل ہیں خواہشمند طلباء و طالبات کو مطلع کیا جاتا ہے کہ آڈیشن کیلئے مذکورہ تاریخ کی صبح آئی ایم سائنسز کی لائبریری اور کیمپس سٹوڈیو میں تشریف لائیں۔

پاکستان میں تعینات آسٹریلیا کے ہائی کمشنر خیبر پختونخوا کے نگران وزیر برائے صنعت وحرفت اور فنی تعلیم سے ملاقات

پاکستان میں تعینات آسٹریلیا کے ہائی کمشنر نیل ہاکنز نے بدھ کے روز خیبر پختونخوا کے نگران وزیر برائے صنعت وحرفت اور فنی تعلیم محمد عدنان جلیل سے سول سیکریٹریٹ پشاور میں ملاقات کی اور ان کیساتھ باہمی دلچسپی کے امور خصوصی طور پرتجارتی تعلقات اور صوبے میں بیرونی سرمایہ کاری کے امکانات کے بارے میں تبادلہ خیال کیا،ملاقات کے دوران صوبائی وزیر نے آسٹریلین ہائی کمشنر سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین پائیدار تعلقات قائم ہیں جو نہایت اہمیت کے حامل ہیں، انھوں نے کہا کہ لاکھوں کی تعداد میں پاکستانی تعلیم اور کاروباری مقاصد کیلئے آسٹریلیا میں مقیم ہیں جن میں کثیر تعداد خیبر پختونخوا کے لوگوں کی ہے جو دونوں ممالک کی باہمی تعلقات میں ایک اہم کردار کے حامل ہیں،نگران وزیر نے اس موقع پر آسٹریلین ہائی کمشنر کو خیبر پختونخوا کے مختلف شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے امکانات پر تفصیلی روشنی ڈالی اور کہا کہ ہمارا صوبہ ٹورزم،معدنیات،انرجی اینڈ پاور،ہنرمندانہ تعلیم،پن بجلی کے منصوبوں اورزراعت سمیت کئی شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کیلئے خاص اہمیت کا حامل ہے اور اسٹریلیا کے سرمایہ کار و کمپنیاں ان شعبوں میں سرمایہ کاری سے استفادہ اٹھا سکتی ہیں،ملاقات کے دوران آسٹریلین ہائی کمشنر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین باہمی تعلقات کو مزید وسعت دیں گے، انھوں نے کہا کہ یقینا خیبر پختونخوا میں آسٹریلیا کے سرمایہ کاروں اور کمپنیز کیلئے کئی مواقع موجود ہیں اور ان کی کوشش ہوگی کہ وہ آسٹریلیا کے سرمایہ کاروں کو یہاں پر سرمایہ لگانے کیلئے راغب کریں،ملاقات کے دوران خیبر پختونخوا بورڈ آف انوسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کی جانب سے اسٹریلیا کے ہائی کمشنر کو صوبے میں سرمایہ کاری کیلئے پرکشش شعبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی جبکہ اس موقع پر محکمہ کے تمام شعبوں کے افسران موجود بھی تھے،

تھانہ ایکسائز مردان ریجن میں مشترکہ بڑی کاروائی، بھاری مقدار میں منشیات سمگلنگ کی کوشش ناکام

تفصیلات کے مطابق ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر نارکوٹکس کنٹرول اور سرکل آفیسر مردان ریجن کے زیر نگرانی ایس ایچ  او تھانہ ایکسائز مردان ریجن اور ڈائریکٹر مردان ریجن کے زیر نگرانی ریجنل سکواڈ انچارج نے بمعہ دیگر نفری خفیہ اطلاع پر نزد قیام و طعام گاڑی کو روک کر دوران تلاشی گاڑی سے 31200 گرام چرس برآمد کی، ملزم کلیم ولد محمد سلیم ساکن ایبٹ آباد کو موقع پر گرفتار کر کے مزید تفتیش اور قانونی کاروائی کیلئے تھانہ ایکسائز مردان  ریجن میں مقدمہ درج کردیا گیا۔

حاجی منظور آفریدی نے فریضہ حج کی ادائیگی کے بعد سرکاری فرائض کی انجام دہی کا آغاز کر دیا۔

خیبر پختونخوا کے وزیر ایکسائز و انسداد منشیات حاجی منظور خان آفریدی فریضہ حج کی ادائیگی کے بعد پشاور واپس پہنچ گئے ہیں اور انہوں نے سول سیکرٹریٹ پشاور میں اپنے سرکاری و دفتری امور کی انجام دہی بھی شروع کردی ہے، صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات محمد علی شاہ، سیکرٹری ایکسائز و انسدادِ منشیات احسان اللہ اور محکمے کے دیگر اعلیٰ حکام کے علاؤہ مختلف مکتبہ ہائے فکر کے لوگوں، قبائلی عمائدین، ناظمین و تحصیل چیئرمینوں اور دیگر سول و حکومتی شخصیات نے ان سے انکے دفتر سول سیکرٹریٹ پشاور میں ملاقات کی اور فریضہ حج کی ادائیگی پر انہیں مبارکباد پیش کی۔ دریں اثناء گورنر خیبرپختونخوا حاجی غلام علی، صوبائی وزیر منصوبہ سازی و ترقی حامد شاہ اور دیگر صوبائی وزراء اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کی اعلیٰ شخصیات نے بھی حاجی منظور خان آفریدی سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے انہیں حج ادائیگی اور حجاز مقدس سے کامیاب و بخیریت واپسی پر اپنے تہنیتی پیغامات دئیے اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

نگران صوبائی وزیر اطلاعات و اوقاف کی وزیراعظم کے معاون خصوصی سے ملاقات

خیبرپختونخوا کے نگران وزیر اطلاعات، اوقاف، حج، مذہبی اور اقلیتی امور بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے منگل کے روز پشاور میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے دفاع اور ترجمان ملک احمد خان سے ملاقات کی۔ اس موقع پر صوبے کی مجموعی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور زیر بحث آئے۔ نگران صوبائی وزیر بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے نگران صوبائی حکومت کی کارکردگی اور ضم اضلاع میں جاری منصوبوں کے حوالے سے وزیراعظم کے معاون خصوصی کو آگاہ کیا۔ بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے اس بات پر زور دیا کہ وفاقی حکومت صوبے کو درپیش مسائل کے حل میں مدد فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق کے ذمے مختلف مدات میں صوبے کے واجبات کی بروقت ادائیگی یقینی بنائی جائے۔ اس موقع پر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے دفاع اور ترجمان ملک احمد خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی نگران صوبائی حکومت احسن طریقے سے فرائض انجام دے رہی ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا حکومت کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی۔

خیبر پختونخواہ انفارمیشن کمیشن اور گلگت بلتستان کے محکمہ اطلاعات کے درمیان تعاون پر اتفاق۔

پختونخواہ انفارمیشن کمیشن کے ڈپٹی ڑجسٹرار اور اور سکیرٹری اطلاعات گلگت بلتستان کے درمیان ملاقات میں گلگت بلتستان میں معلومات تک رسائی کیلئے قانون سازی پر مشاورت اور باہمی تعاون پر اتفاق کا اظہار کیا گیا۔
گلگت بلتستان کے چیف سیکرٹری محی الدین احمد وانی کے درخواست پر گلگت میں معلومات تک رسائی کیلئے قانون سازی پر مشاورت کیلئے خیبر پختونخواہ انفارمیشن کمیشن کی چیف کمشنر فرح حامد خان کی ہدایت پر ڈپٹی رجسٹرار نے گلگت بلتستان کا دورہ کیا۔ جہاں انہوں نے گلگت بلتستان کے سیکرٹری اطلاعات ضمیر عباس سے ملاقات کی۔ ملاقات میں گلگت بلتستان میں معلومات تک رسائی کیلئے قانون سازی پر مشاورت اور تعاون پر اتفاق کیا گیا۔
خیبر پختونخواہ انفارمیشن کمیشن کے ڈپٹی رجسٹرار ناظم شہاب قمر نے انفارمیشن کمیشن کے دستاویزات بھی پیش کئے اور کہا گلگت بلتستان میں معلومات تک رسائی کے قانون کے نافذ ہونے سے سرکاری اداروں میں کرپشن کے خاتمے اور شفافیت کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔ ملاقات میں معلومات تک رسائی کے قانون کی افادیت، اور اس سے حکومت اور عوام کے درمیان تعلق اور جمہوریت کے فروغ میں کردار پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی و اطلاعات ضمیر عباس نے کہا کہ گلگت بلتستان میں اچھی طرز حکمرانی کو فروغ دینے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ 2013 میں خیبر پختونخواہ اسمبلی نے باقی صوبوں میں سب سے پہلی اس ایکٹ پر قانون سازی کی اور اس قانون کو صوبے میں نافذ کیا۔ اس کے علاوہ پنجاب، سندھ، بلوچستان اور فیڈرل لیول پر بھی یہ قانون پہلے سے نافذالعمل ہے۔

نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد اعظم خان کی زیر صدارت پیر کے روز امن و امان سے متعلق ایک اجلاس

نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد اعظم خان کی زیر صدارت پیر کے روز امن و امان سے متعلق ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے بالخصوص ضلع کرم میں امن وامان کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس اختر حیات خان گنڈا پور ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری زبیر اصغر قریشی ، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان ، سیکرٹری داخلہ عابد مجید کے علاوہ دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ وزیراعلیٰ نے ضلع کرم میں جاری کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ انتظامیہ اور پولیس حکام کو ضلع میں جاری کشیدگی کم کرنے اور امن و امان کو برقرار رکھنے کے لئے اقدامات تیز کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ کرم میں تمام تنازعات اور مسائل کو افہام و تفہیم اور پر امن طریقے سے حل کیا جائے ۔ وزیراعلیٰ نے ضلع کرم میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے شہریوں سے اپنے ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر امن کے لئے کوشاں رہنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ علاقے کی ترقی اور خوشحالی امن سے وابستہ ہے، اگر علاقے میں امن و امان قائم ہوگا تو ترقی اور خوشحالی کا راستہ بھی ہموار ہو گا ۔

خیبرپختونخوا میں ڈینگی وباء سے نمٹنے کے لیے ڈینگی رضاکار ٹاسک فورس اور محکمہ صحت کا مشترکہ لائحہ عمل

خیبرپختونخوا میں ڈینگی وباء سے نمٹنے کے لیے ڈینگی رضاکار ٹاسک فورس اور محکمہ صحت کا مشترکہ لائحہ عمل۔ سیکرٹری ہیلتھ خیبرپختونخوا محمود اسلم وزیر نے پیر کے روز ڈینگی رضاکار ٹاسک ٹیم سے ملاقات کی اور صوبے میں ڈینگی کی وباء سے نمٹنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کیا۔ اجلاس میں خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں ڈینگی کے خلاف آگاہی مہم، سرویلنس کی مضبوطی اور احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کو یقینی بنانے پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ ڈپٹی چیف عتیق احمد اور ڈویژنل وارڈن سرتاج خان کی سربراہی میں سول ڈیفنس کے ڈینگی رضاکار ٹاسک ٹیم نے سیکرٹری ہیلتھ محمود اسلم وزیر کو ڈینگی وباء پر قابو پانے کیلئے مکمل تعاون کی یقین دھانی کرائی۔ اجلاس کے دوران ڈینگی رضاکار ٹاسک ٹیم نے مقامی عمائدین، علما، تعلیمی اداروں کے سربراہان کو اعتماد میں لینے کی تجویز پیش کی، جس کا مقصد ڈینگی سے بچاؤ اور ضروری احتیاطی تدابیر کے بارے میں ان کے ذریعے عام لوگوں میں شعور اجاگر کرنا ہے۔ سیکرٹری صحت محمود اسلم وزیر اور ڈینگی کنٹرول پروگرام کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر قاسم افریدی نے ڈینگی رضاکار ٹاسک فورس کی کاوشوں پر ان کا شکریہ ادا کیا اور محکمہ صحت کی جانب سے بھرپور تعاون کی یقین دھانی کرائی۔ انہوں نے ڈینگی کے خلاف اس اہم مہم میں رضاکاروں کے اہم کردار کا اعتراف کیا اور اس بیماری سے وابستہ خطرات کو کم کرنے کے لیے باہمی تعاون کے طریقہ کار کی اہمیت پر زور دیا۔