خیبر پختونخوا کے وزیر مواصلات و تعمیرات شکیل احمد اور محکمہ مواصلات و تعمیرات کے پارلیمانی سیکرٹری میاں شرافت علی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ حلقہ پی کے 3 برسوات میں جاری تمام عوامی ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے اور انہیں مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے۔ یہ ہدایات انہوں نے پشاور میں حلقہ پی کے 3 سے متعلق منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں اس موقع پر خیبر پختونخوا ہائی وے اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر سہیل احمد خان،چیف انجینیئر نارتھ اسد خان،اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ اجلاس میں صوبائی وزیر کو بریفنگ دی گئی اور برسوات میں عوامی ترقیاتی منصوبوں پر جاری ترقیاتی کاموں سے متعلق جائزہ لیا گیا اور عوامی ترقیاتی منصوبوں کو بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے کئی اہم فیصلے بھی کیے گئے۔ صوبائی وزیر مواصلات نے نے واضح کیا کہ منصوبوں کی بروقت تکمیل کے ساتھ ساتھ تعمیراتی کام کے معیار اور مقدار پر بھی خصوصی توجہ دی جائے، اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ اجلاس کے دوران حلقہ پی کے 3 برسوات میں جاری اور منظور شدہ ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے شکیل احمد نے کہا کہ موجودہ حکومت عوامی خدمت کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے۔ عوام کے ٹیکسوں اور سرکاری خزانے سے مختص فنڈز عوام ہی کی فلاح و بہبود اور ترقی پر خرچ کیے جائیں گے اور ان کے درست، شفاف اور مؤثر استعمال کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ جاری منصوبوں کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے، تعمیراتی کام میں مقررہ معیار اور محکمہ کے وضع کردہ قواعد و ضوابط پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبے صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہیں ہونے چاہئیں بلکہ ان کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچنے چاہئیں۔پارلیمانی سیکرٹری میاں شرافت علی نے کہا کہ پی کے 3 برسوات کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور علاقے کی پائیدار ترقی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے افسران پر زور دیا کہ منصوبوں کی تکمیل میں غیر ضروری تاخیر سے گریز کیا جائے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات مزید مؤثر بنائے جائیں۔شکیل احمد نے مزید کہا کہ حکومت ترقیاتی منصوبوں کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور عوامی پیسے کی ایک ایک پائی کا درست استعمال یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بہتر معیار کے ترقیاتی منصوبے علاقے کی ترقی، عوام کی سہولت اور حکومت پر اعتماد میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔
CM Sohail Afridi to Visit Hangu on Saturday and Buner on Sunday
Khyber Pakhtunkhwa Information Minister Shafi Jan has said that the September 27 date announced for the long march remains unchanged for now, while reiterating that Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) remains committed to negotiations and political dialogue.
He said the door to dialogue remained open; however, there would be no change in the September 27 schedule unless there was tangible and credible progress on the party’s core demands.
Shafi Jan said two principal demands had been set out when the September 27 date was announced at the August 5 public gathering.
The first was to ensure that cases against Imran Khan were fixed for hearing and adjudicated strictly in accordance with law and justice. The second was to ensure his transfer, in view of his health condition, to a facility where he could receive appropriate medical care in the presence of his family members and personal physicians. He said the Supreme Court’s decision concerning Imran Khan’s transfer constituted clear progress on the second demand and that the court’s order must now be implemented fully and without delay. He expressed concern over the delay in implementation of the judicial order.
The provincial information minister said that nothing was more important than Imran Khan’s health and that the matter should not be reduced to a political controversy. He said the government should have taken the decision to facilitate his transfer on humanitarian and moral grounds in the first place. With a clear judicial order now in force, he added, its implementation was the responsibility of the government.
Shafi Jan said the September 27 date was not intended as confrontation for its own sake, but as a means of securing constitutional, legal and political rights. He said the date would remain in place until the stated demands were addressed, while preparations for the movement would continue.
Shafi Jan said PTI had not issued any formal call for a movement since November 26, yet restrictions on political activities had continued to intensify rather than ease. He said Imran Khan had remained in isolation for an extended period and that his sister had been able to meet him only after approximately 265 days.
He said that whenever PTI’s political movement gained momentum or a date was announced, the government began speaking about negotiations. “Our position is clear: negotiations should take place, but they should not be used merely to buy time. What is required is serious, clear and workable progress on the demands,” he said.
The provincial information minister said Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa Muhammad Sohail Afridi was personally overseeing the overall process. The chief minister would visit Hangu on Saturday and Buner on Sunday as part of the street movement.
He said the chief minister would subsequently visit other parts of the province, while consultations with allied parties and the party leadership would continue regarding a broader political outreach campaign in Punjab, Sindh and Balochistan.
Rejecting speculation circulating on social media regarding a possible deal, Shafi Jan categorically said there had been no deal, no backchannel contact and no intention to enter into any secret arrangement.
“If a deal had been the objective, Imran Khan would not have spent nearly 1,000 days in detention,” he said.
Shafi Jan said the matter was not about any deal but about a clear judicial determination. The court had issued its decision, he said, and respect for judicial orders was binding on all stakeholders. The government must therefore ensure the immediate and full implementation of the order.
He said that in the event of non-compliance, PTI would pursue all available legal remedies, including seeking contempt of court proceedings. He expressed confidence that the Supreme Court, having issued its decision in accordance with law and justice, would also ensure its effective implementation.
Shafi Jan reiterated that the September 27 date remained in place for the time being. However, if immediate and genuine progress was made on the demands, the future course of action would be determined through consultations among the party leadership, allied parties and relevant forums.
He said PTI’s priorities were clear: safeguarding Imran Khan’s health, ensuring implementation of the judicial order, securing adjudication of cases strictly on merit, and upholding the supremacy of the Constitution and the rule of law.
وفاقی حکومت کا سپریم کورٹ احکامات پر نظرثانی اپیل عمران خان کی ہسپتال منتقلی میں تاخیری حربہ تھا، شفیع جان
وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبر پختونخوا شفیع جان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت کی جانب سے نظرثانی اپیل بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو طبی سہولیات کی فراہمی میں تاخیری حربہ تھا۔ عمران خان کو بروقت اور مناسب طبی علاج کی فراہمی ان کا آئینی، قانونی اور بنیادی حق ہے، جس سے انہیں محروم نہیں کیا جا سکتا،اس لیے عدالتی احکامات کی روشنی میں انھیں فوری طور پر علاج کے لئے شفا ہسپتال منتقل کیا جائے یہاں سے جاری اپنے ایک بیان میں صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے لیے پاکستان تحریک انصاف نے قانونی راستہ اختیار کیا اور سپریم کورٹ نے اس حوالے سے واضح احکامات جاری کیے ہیں لیکن بدقسمتی سے سپریم کورٹ کے احکامات پر تاحال عملدرآمد نہیں کیا گیا جو افسوسناک امر ہے، سپریم کورٹ احکامات پر مقررہ وقت میں عملدرآمد یقینی نہیں بنایا گیا تو توہین عدالت درخواست دائر کی جائے گی،شفیع جان نے واضح کیا کہ عمران خان کو سپریم کورٹ احکامات پر ہسپتال منتقلی اور طبی علاج کی فراہمی میں جو بھی رکاوٹ بنے گا، اسے اس کا حساب دینا ہوگا، وفاقی حکومت اس معاملے پر منفی سیاست سے گریز کرے اور قانونی تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے سپریم کورٹ کے احکامات پر فوری عملدرآمد یقینی بنائے،انہوں نے کہا کہ آئین و قانون کی بالادستی کا تقاضا ہے کہ عمران خان کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جائے اور انہیں مطلوبہ طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ کسی بھی شہری، خصوصاً ملک کے سابق وزیراعظم اور مقبول ترین سیاسی جماعت کے لیڈر کے بنیادی اور قانونی حقوق کو سیاسی اختلافات کی بنیاد پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔صوبائی وزیر اطلاعات نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت سپریم کورٹ کے واضح احکامات پر عملدرآمد میں مزید تاخیر سے گریز کرے انھوں نے مزید کہا کہ وزیراعلی سہیل آفریدی کی قیادت میں اسٹریٹ موومنٹ کا سلسلہ جاری ہے ، وزیراعلی سہیل آفریدی ہفتہ اور اتوار کو اسٹریٹ موومنٹ کے سلسلے میں ہنگو اور بونیر کا دورہ کرینگے،
چیئرپرسن پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی اور ڈائریکٹر جنرل پیمرا کا خیبر پختونخوا وویمن کمیشن کا دورہ، ڈاکٹر سمیرا شمس سے ملاقات

جہاں آرا وٹو، چیئرپرسن پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی، اور عائشہ وٹو، ڈائریکٹر جنرل پیمرا پاکستان نے خیبر پختونخوا وویمن کمیشن کا دورہ کیا اور چیئرپرسن ڈاکٹر سمیرا شمس سے اہم ملاقات کی۔ اس موقع پر سیکرٹری خیبر پختونخوا کمیشن ان دے سٹیٹس آف وویمن شازیہ عطائ بھی اس موقع پر موجود تھیں۔ ملاقات کے دوران خواتین کے حقوق کے تحفظ، سماجی و معاشی بااختیاری، خواتین کے لیے مؤثر تحفظ و معاونت کے نظام، پالیسی سازی اور مختلف اداروں کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینے سمیت باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ? خیال کیا گیا۔ خیبر پختونخوا میں سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کے قیام اور سماجی تحفظ کے مؤثر نظام کو مزید مضبوط بنانے کے حوالے سے بھی تبادلہ? خیال کیا گیا۔اس موقع پر خواتین کو درپیش مسائل کے حل، ان کے لیے بہتر مواقع کی فراہمی اور معاشرے میں خواتین کے مؤثر کردار کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات کی اہمیت پر بھی گفتگو ہوئی۔ ملاقات میں تجربات اور بہترین طریقہ? کار کے تبادلے کے ذریعے خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں صوبائی وزیر برائے زکوٰۃ و عشر، سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و ویمن ایمپاورمنٹ ملک لیاقت علی خان نے اپر چترال کا اہم دورہ کیا
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں صوبائی وزیر برائے زکوٰۃ و عشر، سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و ویمن ایمپاورمنٹ ملک لیاقت علی خان نے اپر چترال کا اہم دورہ کیا۔صوبائی وزیر نے ڈپٹی کمشنر آفس میں لائن ڈیپارٹمنٹس کے سربراہان اور دیگر نمائندگان سے ملاقات کی اور مختلف محکموں کے مسائل و تجاویز سنے۔بعد ازاں ڈپٹی کمشنر آفس کے لان میں خصوصی افراد، بیواؤں اور یتیموں کے لیے خصوصی کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیاجس میں شرکائ نے اپنے مسائل اور مطالبات براہِ راست صوبائی وزیر کے سامنے پیش کیے۔کھلی کچہری میں اہم مطالبات میں اپر چترال میں مستقل ڈسٹرکٹ سماجی بہبود آفیسر کی تعیناتی، دارالامان کا قیام، خصوصی افراد کے لیے خصوصی تعلیم، خصوصی گرانٹ، خصوصی افراد کے میڈیکل کے لیے اپر چترال میں خصوصی میڈیکل بورڈ کا قیام، ہنرمندی کی تربیت کے لیے اقدامات، خصوصی افراد کے لیے کھیلوں کے مواقع، اجتماعی شادیوں کے لیے گرانٹ، خصوصی افراد کے لیے ٹریننگ سینٹر کا قیام اور دیگر فلاحی اقدامات شامل تھے۔صوبائی وزیر ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ وہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی خصوصی ہدایات پر اپر چترال آئے ہیں اور ان کا مقصد محض فوٹو سیشن نہیں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے عوامی مسائل کا حل ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ اپر چترال میں ڈسٹرکٹ سماجی بہبود
آفیسر کی تعیناتی کے لیے پشاور پہنچتے ہی عملی کارروائی شروع کی جائے گی۔ انہوں نے خصوصی افراد کے لیے سماجی بہبود کمپلیکس کے قیام کا اعلان کیاجہاں ہنرمندی کی تربیت، کھیل، صحت، روزگار، خصوصی تعلیم اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے دارالامان کے قیام کے لیے بھی جلد عملی اقدامات شروع کرنے کا اعلان کیا جبکہ احساس امید پروگرام کے تحت خصوصی افراد کو زیادہ سے زیادہ مستفید کرنے کے لیے محکمہ سوشل ویلفیئر کی جانب سے گھر گھر سروے شروع کرنے کا اعلان بھی کیا۔صوبائی وزیر نے خصوصی افراد کے لیے اہم اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میڈیکل بورڈ کی سہولت اب اپر چترال میں ہی فراہم کی جائے گی اور انہیں میڈیکل کے لیے لوئر چترال جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔بعد ازاں صوبائی وزیر نے سماجی بہبود آفس اپر چترال کا دورہ کیاجہاں ڈسٹرکٹ سماجی بہبود
آفیسر نے محکمہ کے امور اور درپیش مسائل کے حوالے سے بریفنگ دی۔صوبائی وزیر نے پریس کلب اپر چترال کا بھی دورہ کیا اور صحافی برادری کے مسائل سنے۔ انہوں نے کہا کہ پریس کلب عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔ انہوں نے پریس کلب کی بہتری اور اپ گریڈیشن کے لیے ڈپٹی اسپیکر صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا محترمہ ثریا بی بی کے ہمراہ وزیر اعلیٰ سے ملاقات کرکے مسائل کے حل کے لیے اقدامات کرنے کی یقین دہانی کرائی۔صوبائی وزیر نے دورہ اپر چترال کو یادگار قرار دیتے ہوئے عزم کا اظہار کیا کہ اپنے متعلقہ پورٹ فولیو کے مطابق اپر چترال کی ترقی، خصوصی افراد اور دیگر مستحق طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن عملی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ انہوں نے دورے کے دوران تعاون اور بہترین انتظامات پر ضلعی انتظامیہ اپر چترال کا شکریہ بھی ادا کیا۔قبل ازیں اپر چترال آمد پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل نے ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر موڑکھو/تورکھو اور ضلعی انتظامیہ کے دیگر افسران کے ہمراہ صوبائی وزیر کا استقبال کیا۔ ڈپٹی کمشنر آفس آمد پر اپر چترال لیویز کے چاق و چوبند دستے نے انہیں سلامی پیش کی۔ اس موقع پر ڈائریکٹر سماجی بہبود خیبر پختونخوا محمد صالح اور پی ایس ٹو منسٹر باچا خان بھی ان کے ہمراہ تھے
خیبر پختونخوا کے وزیر مواصلات و تعمیرات شکیل احمد خان نے کہا ہے کہ عوامی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے ساتھ ساتھ ان کے معیار اور مقدار کو ہر صورت یقینی بنایا جائے
خیبر پختونخوا کے وزیر مواصلات و تعمیرات شکیل احمد خان نے کہا ہے کہ عوامی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے ساتھ ساتھ ان کے معیار اور مقدار کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، ترقیاتی منصوبوں کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ عوامی منصوبوں میں شفافیت، معیار اور مقررہ مدت میں تکمیل محکمہ مواصلات و تعمیرات کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔انہوں نے متعلقہ حکام اور محکمہ کے اہلکاروں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری لگن، دیانت داری اور فرض شناسی کے ساتھ انجام دیں اور محکمہ مواصلات و تعمیرات کے وقار میں اضافے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کریں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کا پیسہ قومی امانت ہے، اس کا درست اور شفاف استعمال ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جبکہ موجودہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح عوام کی خدمت اور انہیں بنیادی سہولیات کی فراہمی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز پشاور میں خیبر پختونخوا پی ڈبلیو ڈی لیبر یونین کی خصوصی دعوت پر منعقدہ تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں یونین کے صدر ملک نثار خان، چیئرمین حبیب اللہ عمرزئی، مومن خان، اعجاز خان، نور خان، روح اللہ، پرویز خان، اقبال خان اور دیگر عہدیداران بھی موجود تھے۔اس موقع پر پی ڈبلیو ڈی لیبر یونین کے صدر اور چیئرمین نے صوبائی وزیر کو محکمہ کے ملازمین کو درپیش مسائل اور مشکلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کلاس فور ملازمین کی اپ گریڈیشن اور کلرکوں کی ترقیوں سمیت دیگر جائز مطالبات بھی صوبائی وزیر کے سامنے پیش کیے۔صوبائی وزیر شکیل احمد خان نے یقین دلایا کہ خیبر پختونخوا پی ڈبلیو ڈی لیبر یونین کے تمام جائز مطالبات اور مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ کے ملازمین ہمارے ادارے کا قیمتی اثاثہ ہیں اور ان کے مسائل کا حل حکومت کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ سیکرٹریٹ میں دورانِ ڈیوٹی محکمہ مواصلات و تعمیرات کے جس اہلکار کا انتقال ہوا ہے، اس کے بیٹے کو قواعد و ضوابط کے مطابق ملازمت فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے، کیونکہ اس اہلکار نے محکمہ کی خدمت کے دوران اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا ہے اور اس کے خاندان کی کفالت حکومت کی ذمہ داری ہے۔بعد ازاں صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات شکیل احمد خان نے محکمہ کے مینٹیننس آفس کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے مختلف امور کا جائزہ لیا اور متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال، منصوبوں کے اعلیٰ معیار اور عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔اور مقدار کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، ترقیاتی منصوبوں کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ عوامی منصوبوں میں شفافیت، معیار اور مقررہ مدت میں تکمیل محکمہ مواصلات و تعمیرات کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔انہوں نے متعلقہ حکام اور محکمہ کے اہلکاروں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری لگن، دیانت داری اور فرض شناسی کے ساتھ انجام دیں اور محکمہ مواصلات و تعمیرات کے وقار میں اضافے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کریں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کا پیسہ قومی امانت ہے، اس کا درست اور شفاف استعمال ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جبکہ موجودہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح عوام کی خدمت اور انہیں بنیادی سہولیات کی فراہمی ہے۔بعد ازاں صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات شکیل احمد خان نے محکمہ کے مینٹیننس آفس کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے مختلف امور کا جائزہ لیا اور متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال، منصوبوں کے اعلیٰ معیار اور عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
صوبائی وزیر فضل شکورخان کی زیر صدارت ضلع چارسدہ، بالخصوص پی کے 65 میں محکمہ مواصلات کے ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس کا انعقاد
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان کی زیرِ صدارت ضلع چارسدہ، بالخصوص حلقہ پی کے 65 میں محکمہ مواصلات کے نئے اور جاری ترقیاتی منصوبوں سے متعلق اہم اجلاس جمعرات کے روز صوبائی وزیر کے دفتر میں منعقد ہوا۔اجلاس میں ایکسین ہائی وے ڈویژن چارسدہ سمیت محکمہ مواصلات کے دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی ایکسین ہائی وے ڈویژن چارسدہ نے صوبائی وزیر کو ضلع چارسدہ اور بالخصوص پی کے 65 میں محکمہ مواصلات کے تحت جاری، نئے، مکمل ہونے والے اور تکمیل کے قریب ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں مختلف سڑکوں کی تعمیر و بحالی، رابطہ سڑکوں کی بہتری، جاری ترقیاتی سکیموں پر کام کی پیش رفت اور منصوبوں کی تکمیل سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر صوبائی وزیر نے متعلقہ افسران سے ترقیاتی منصوبوں کی موجودہ صورتحال، کام کے معیار، مقررہ مدت کے اندر تکمیل اور عوام کو درپیش مشکلات کے حوالے سے تفصیلات دریافت کیں۔صوبائی وزیر نے ہدایت کی کہ ضلع چارسدہ اور خصوصاً پی کے 65 میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے اور تکمیل کے قریب منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے، تاکہ ان کے ثمرات جلد از جلد عوام تک پہنچ سکیں۔انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ قابلِ قبول نہیں، جبکہ منصوبوں کی بروقت تکمیل کو بھی ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوامی فلاح و بہبود اور بنیادی سہولیات کی فراہمی موجودہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اس لیے ایسے منصوبے جو براہِ راست عوام کو بہتر سفری سہولیات اور علاقوں کے درمیان رابطے کی بہتری فراہم کرتے ہیں، ان پر خصوصی توجہ دی جائے.صوبائی وزیر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ نئے ترقیاتی منصوبوں کی منصوبہ بندی میں مقامی ضروریات اور عوامی مسائل کو مدِنظر رکھا جائے، جبکہ جاری منصوبوں میں حائل رکاوٹوں کو باہمی مشاورت سے دور کرکے ان کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جائے۔
پختونخوا ریڈیو ایف ایم 92.2 پشاور اور صوبائی حکومت کی ایک سالہ اصلاحاتی اقدامات
تحریر:نیلم ظاہر
خیبر پختونخوا حکومت نے گزشتہ ایک سال کے دوران عوامی خدمت، ترقی اور بہتری کے لیے کئی اصلاحاتی اقدامات (Reform Initiatives) کا آغاز کیا۔ ان اصلاحات کا مقصد صحت، تعلیم، قانون نافذ کرنے والے ادارے، بنیادی ڈھانچے، معیشت اور عوامی سہولیات جیسے اہم شعبوں میں واضح اور دیرپا بہتری لانا تھا ان تمام اصلاحات کے حصول میں صوبائی حکومت کافی حد تک کامیاب رہی اور ان اصلاحات کو ریکارڈ پر لانے اور عوام کو ان سے باخبر رکھنے کے لیے ڈاکومنٹ کیا گیا۔ ان ڈاکومنٹڈ اقدامات و اصلاحات کو
پختونخوا ریڈیو ایف ایم 92.2پشاور نے مزید موثر طریقے سے اجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ بطور ایک صوبائی نشریاتی ستون پختونخوا ریڈیو پشاور نے حکومت کے ترقیاتی و اصلاحاتی اقدامات سے متعلق عوام کو بروقت، درست اور مکمل معلومات فراہم کیے تاکہ لوگوں میں ان تمام اصلاحات سے شعور حاصل ہو۔ پختونخوا ریڈیو پشاور نے صوبائی حکومت کے تعلیمی اصلاحات پر 12 خصوصی پروگرام ، 8 پروگرام حالات حاضرہ اور بحث مباحثے ، 15 پبلک سروس انونسمنٹ (PSAs) اور 20 نیوز بلیٹن نشر کیے ، اسی طرح شعبہ صحت پر 10 خصوصی رپورٹس, 7 کرنٹ افیئرز پروگرام، 18 پبلک سروس انونسمنٹ اور 22 نیوز بلیٹن نشر کیے ۔
پولیس اور قانون و انصاف پر 6 ڈاکیومینٹری رپورٹس ، 5 ٹاک شوز سمیت 12 پبلک سروس پیغامات اور 15 نیوز چلائے ۔ اسی طرح انفراسٹرکچر اور عوامی سہولیات سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کے لیے پختونخوا ریڈیو پشاور نے 8رپورٹس ، 6 کرنٹ افیئرز پروگرام، 10 پبلک سروس پیغامات اور18 نیوز براہ راست نشر کیے ۔ اسی طرح معیشت اور سرمایہ کاری پر 7 خصوصی پروگرام، 5 کرنٹ افیئرز ڈسکشن اور 14 نیوز پیش کیے گئے ۔
کھلی کچہری پروگرامز میں 14 براہ راست نشریات کی شکل میں متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی اور 10 رپورٹس اور 5 نیوز فیچرز پروڈیوس کیے گیے۔ ان تمام اصلاحات پر
پختونخوا ریڈیو ایف ایم 92.2پشاور نے صرف رپورٹنگ کی بلکہ عوام اور حکومت کے درمیان ایک مؤثر رابطہ قائم کیا۔ ہر پروگرام میں مقامی زبان، زمینی حقائق، اور عوامی مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے باخبر، تحقیقی اور غیر جانبدارانہ مواد پیش کیا گیا۔ پختونخوا ریڈیوایف ایم 92.2پشاور نے عوامی خدمت کے سفر میں قدم بہ قدم حکومت کا ساتھ دیا اور اصلاحات کی روشنی کو گھر گھر تک پہنچایا۔
Important knowledge exchange meeting held between Khyber Pakhtunkhwa and Bangladesh on Safely Managed Sanitation
An online Knowledge Exchange Meeting was organized by the Public Health Engineering Department (PHED), Khyber Pakhtunkhwa, with the Department of Public Health Engineering (DPHE), Bangladesh, focusing on Safely Managed Sanitation and further strengthening institutional cooperation between the two sides.
The meeting was attended by senior officials, technical experts and relevant representatives from PHED, KP; Department of Public Health Engineering (DPHE), Bangladesh; INT-BUET; and UNICEF.
The primary objective of the meeting was to facilitate the exchange of knowledge, technical expertise and practical experiences for the promotion of safe and sustainable sanitation services, enhancement of institutional capacity, and adoption of modern and effective approaches by learning from experiences and best practices from the region.
During the session, participants shared their experiences and practical initiatives related to various approaches to Safely Managed Sanitation, effective planning and management of sanitation systems, institutional strengthening, technical knowledge sharing, and sustainability of sanitation services.
The participants emphasized that safe and sustainable sanitation facilities play a fundamental role in protecting public health, safeguarding the environment and building healthy communities. They also highlighted the importance of continued institutional collaboration and knowledge exchange for improving sanitation services and achieving sustainable outcomes.
The participants agreed to continue the exchange of technical knowledge, best practices, research and practical experiences in the future, while also exploring new opportunities for joint cooperation in the sanitation sector.
The PHED, Khyber Pakhtunkhwa, reiterated its commitment to benefiting from regional and international experiences and continuing effective measures for the promotion of comprehensive, safe, sustainable and resilient sanitation services across the province.
جرما ہاؤسنگ اسکیم ہر صورت کامیاب بنائیں گے، صوبائی وزیر ہاؤسنگ کا پہلے گھر کے مالک کو مفت سولر سسٹم دینے کا اعلان
خیبرپختونخوا کے وزیر ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی خان نے کہا ہے کہ مناسب رہائش ہر شہری کی بنیادی ضرورت ہے اور صوبائی حکومت عوام کی ہاؤسنگ ضروریات پوری کرنے کیلئے جامع پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرما ہاؤسنگ سکیم کو ہر صورت کامیاب بنایا جائے گاجبکہ کوہاٹ میں سرکاری ملازمین کیلئے بھی عنقریب الگ ہاؤسنگ سکیم شروع کی جائے گی۔عمران خان کے وژن اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی ہدایت پر جرما ہاؤسنگ اسکیم میں منعقدہ کھلی کچہری میں صوبائی وزیر نے الاٹیز، پراپرٹی ڈیلرز اور شہریوں کے مسائل سنے۔ اس موقع پر پارلیمانی سیکرٹری ہاؤسنگ محمد علی شاہ باچا، چیئرمین ڈیڈک و ایم پی اے داؤد آفریدی، سیکرٹری ہاؤسنگ محمد انور خان، کمشنر کوہاٹ ڈویژن سید معتصم باللہ شاہ، ڈائریکٹر جنرل ہاؤسنگ زاہد خان اور دیگر متعلقہ حکام موجود تھے۔ڈاکٹر امجد علی خان نے متعلقہ حکام کو زیرِسماعت مقدمات کی مؤثر پیروی کرنے اور سٹے ختم ہوتے ہی 24 گھنٹوں کے اندر عملی کام شروع کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہاؤسنگ اسکیم کی اراضی پر کسی بھی قسم کا غیر قانونی قبضہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔صوبائی وزیر نے شرکاء کے مطالبے پر ریجنل فیسلٹیشن سنٹر کو فوری طور پر مکمل فعال بنانے، الاٹیز کو ٹرانسفر سمیت تمام ضروری سہولیات فراہم کرنے اور بجلی، گیس، پانی اور سڑکوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایت کی۔انہوں نے کہا کہ جرما ہاؤسنگ اسکیم پراونشل ہاؤسنگ اتھارٹی کا پائلٹ پراجیکٹ ہے اور حکومت اس کی کامیابی کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی۔ ان کے بقول ہاؤسنگ اسکیم کی کامیابی صرف گھروں کی تعمیر نہیں بلکہ تمام بنیادی سہولیات کی فراہمی سے مشروط ہے۔ڈاکٹر امجد علی خان نے اعلان کیا کہ اسکیم میں سب سے پہلے گھر تعمیر کرنے والے الاٹی کو مفت سولر سسٹم دیا جائے گا جبکہ گھر کی تعمیر شروع کرنے والے دیگر الاٹیز کی حوصلہ افزائی کیلئے انہیں تعریفی اسناد بھی دی گئیں۔بعد ازاں صوبائی وزیر اور دیگر مہمانوں نے جرما ہاؤسنگ سکیم کے پبلک پارک میں پودا لگا کر مون سون شجرکاری مہم کا افتتاح کیا۔
