Home Blog Page 33

پشاور اور سوات میں فوڈ اتھارٹی کی بڑی کارروائیاں، 8 ہزار کلو سے زائد غیر معیاری اشیائے خوردونوش تلف

خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی ھدایات پر کاروائیاں جاری رکھتے ہوئے پشاور اور سوات میں غیر معیاری اور مضر صحت خوراک کے خلاف بڑی کارروائیاں کیں اور 8 ہزار کلوگرام سے زائد مضر صحت اشیائے خوردونوش ضبط کرکے تلف کر دیں۔
ترجمان فوڈ اتھارٹی نے کاروائیوں کے حوالے سے تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا کہ پشاور میں فوڈ سیفٹی ٹیم نے خفیہ اطلاع ملنے پر مختلف مصالحہ جات تیار کرنے والی یونٹس پر چھاپے مارے۔ کارروائی کے دوران ایک یونٹ سے 1200 کلوگرام چوکر، 100 کلوگرام استعمال شدہ آئل اور 30 کلوگرام نان فوڈ گریڈ کلر برآمد کرکے ضبط کر لیا گیا۔ فوڈ اتھارٹی حکام نے خلاف ورزیوں پر مالکان پر جرمانے عائد کرتے ہوئے فوڈ سیفٹی ایکٹ کے تحت مزید قانونی کارروائی بھی شروع کر دی ہے۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ دوسری جانب سوات میں فوڈ سیفٹی ٹیم نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے 8 ہزار کلوگرام سے زائد غیر معیاری اور ضبط شدہ اشیائے خوردونوش کو تلف کر دیا۔ کارروائی کے دوران 3654 لیٹر سے زائد غیر معیاری مشروبات اور 1880 کلوگرام مصالحہ جات بھی تلف کیے گئے۔
مزید برآں 158 کلوگرام چاٹ مصالحہ، 423 کلوگرام چائنا سالٹ، 251 کلوگرام گٹکا و میٹھی سپاری بھی ضائع کی گئی۔ اسی طرح 843 کلوگرام غیر معیاری پیکجنگ میٹریل، 160 کلوگرام بیکری آئٹمز اور 60 کلوگرام پاپس بھی تلف کیے گئے۔
فوڈ اتھارٹی حکام کے مطابق کارروائی کے دوران 25 کلوگرام نان فوڈ گریڈ کلر سمیت 749 کلوگرام مختلف کریانہ آئٹمز بھی تلف کیے گئے۔
ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی کاشف اقبال جیلانی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی ہدایت پر صوبہ بھر میں ملاوٹ مافیا کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے سے ملاوٹ مافیا کا مکمل خاتمہ فوڈ اتھارٹی کا مشن ہے اور عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔

وزیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کا پیٹرولیم مصنوعات کے حلال اور حرام ایڈجسمنٹ پر ردعمل

عمران خان دور میں جب تیل $120 ڈالر ہوا تو 24 روپے فی لیٹر ایڈجسمنٹ دی تھی۔ مزمل اسلم

جس کا بندو بست صارفین پر اضافی ٹیکس لگائے بغیر کیا گیا تھا۔ وزیر خزانہ خیبرپختونخوا

اس وقت میڈیا اور اپوزیشن نے اسے حرام اور IMF مخالف قرار دیا تھا۔ مزمل اسلم

حکومت پیٹرولیم مصنوعات میں تقریباً اسی صورتحال پر کھڑی ہے۔ مزمل اسلم

حکومت نے مجبور ہو کر 23 ارب کا فرق پورا کیا جو ڈیزل کا 75 روپے اور پٹرول کا 50 روپے فی لیٹر بنتا ہے۔ مزمل اسلم

مگر آج میڈیا اور حکومت اسے حلال ایڈجسٹمنٹ کہے گی۔ وزیر خزانہ خیبرپختونخوا

عمران خان نے پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی اور سیلز ٹیکس صفر کیا تھا۔ مزمل اسلم

حکومت آج پیٹرول پر
105 فی لیٹر اور ڈیزل پر 55 روپے فی لیٹر لیوی لے رہی ہے۔ مزمل اسلم

دوسری طرف تیل اسٹاک کی وجہ سے او ایم سی اور ریفائنری کی لاٹری لگ گئی ہے۔ مزمل اسلم

او ایم سی اور ریفائنری منافع 100 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ مزمل اسلم

مٹی کے تیل میں 39 روپے فی لیٹر مزید اضافہ کرکے 358 روپے کر دیا گیا۔ مزمل اسلم

ایک ہفتہ کے دوران مٹی تیل کی قیمت میں دگنی یعنی 170 روپے لیٹر اضافہ کیا گیا۔ مزمل اسلم

مٹی کا تیل غریب استعمال کرتے ہیں جس کی قیمت پٹرول اور ڈیزل سے زیادہ کیا گیا۔ مزمل اسلم

مٹی تیل میں اتنا اضافہ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلی دفعہ دیکھا جارہا ہے۔ مزمل اسلم

سیکریٹری محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول خیبرپختونخوا خالد الیاس کی زیر صدارت ایک اعلی سطح اجلاس منعقد ہوا

سیکریٹری محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول خیبرپختونخوا خالد الیاس کی زیر صدارت ایک اعلی سطح اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کے ویژن اور وزیر ایکسائز سید فخرجہان کی ہدایات کی روشنی میں کیپیٹل ویلیو ٹیکس کے امور اور پرسنلائزڈ رجسٹریشن مارک سے متعلق مجوزہ بہتر ترامیم کے حوالے سے غور خوض کیا گیا۔اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل ایکسائز عبدالحلیم خان اور محکمہ کے دیگر متعلقہ سینئر افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں کیپیٹل ویلیو ٹیکس اور پرسنلائزڈ رجسٹریشن مارک کے نظام کو مزید شفاف، مؤثر اور عوام دوست بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر اس امر پر زور دیا گیا کہ ٹیکس کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے تاکہ شہریوں کو سہولیات کی فراہمی آسان ہو اور سرکاری محصولات میں بھی اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔
سیکرٹری ایکسائز نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے وژن کے مطابق صوبے میں گڈ گورننس، شفافیت اور عوامی سہولت کو یقینی بنانے کے لیے محکمہ ایکسائز میں اصلاحات کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیپیٹل ویلیو ٹیکس اور PRM سے متعلق مجوزہ ترامیم کا بنیادی مقصد نظام کو سادہ، شفاف اور عوام کے لیے قابلِ رسائی بنانا ہے۔
ڈائریکٹر جنرل ایکسائز عبدالحلیم خان نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ محکمہ جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل نظام کے ذریعے شہریوں کو بہتر خدمات فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ اصلاحات سے نہ صرف سرکاری آمدن میں اضافہ ہوگا بلکہ عوام کو بھی آسان اور تیز تر خدمات میسر آئیں گی۔
اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے اقدامات کیے جائیں گے جن سے ٹیکس کے نظام میں آسانی، شفافیت اور اعتماد کو فروغ ملے۔ حکام کا کہنا تھا کہ حکومت خیبر پختونخوا کا مقصد ایک ایسا نظام قائم کرنا ہے جس میں شہریوں کو کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
متعلقہ حکام کے مطابق مجوزہ ترامیم کی حتمی سفارشات مرتب کر کے متعلقہ فورمز کو ارسال کی جائیں گی تاکہ ان پر جلد از جلد عملی اقدامات کیے جا سکیں۔

کوہاٹ پولیس کی خصوصی ٹیم نے مشتبہ ڈرون کو اینٹی ڈرون سسٹم کے ذریعے جام کرکے ناکارہ بنا دیا، شفیع جان

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کوہاٹ میں مشتبہ ڈرون پروازوں کو مؤثر کارروائی کرتے ہوئے ناکارہ بنانے پر خیبرپختونخوا پولیس کو خراج تحسین پیش کیا ہے، انہوں نے کہا ہے کہ کوہاٹ پولیس کی خصوصی ٹیم نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے مشتبہ ڈرون کو اینٹی ڈرون سسٹم کے ذریعے جام کرکے ناکارہ بنایا جو کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبائی حکومت کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال اور پولیس کے استعداد کار میں اضافے کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوہاٹ سمیت پورے صوبے کے امن کو سبوتاژ کرنے کی ہر کوشش ناکام بنائی جائے گی اور کسی کو بھی امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔معاون خصوصی نے بتایا کہ ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو افراد زخمی ہوئے ہیں، جنہیں ہسپتال میں بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔شفیع جان نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبائی حکومت نے پولیس کی استعداد کار میں اضافے کے لیے 31 ارب روپے کے پیکج کی منظوری دے رکھی ہے، جس میں سے 7 ارب روپے جدید اسلحہ، اینٹی ڈرون جیمنگ سسٹم اور دیگر جدید ٹیکنالوجی کی خریداری پر خرچ کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت صوبے میں قیامِ امن کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔دریں اثناء معاون خصوصی شفیع جان نے لکی مروت میں پولیس گاڑی کے قریب ہونے والے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایس ایچ او سمیت چھ پولیس اہلکاروں کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے آئی جی پولیس سے واقعے کی رپورٹ طلب کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت شہداء کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے اور مشکل کی اس گھڑی میں انہیں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔

سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کی خصوصی کاوشوں اور علاقائی ترقی کے وژن کے تحت ضلع مانسہرہ میں سیاحتی و تفریحی سہولیات کے فروغ کے لیے اہم منصوبہ منظور کر لیا گیا ہے

سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کی خصوصی کاوشوں اور علاقائی ترقی کے وژن کے تحت ضلع مانسہرہ میں سیاحتی و تفریحی سہولیات کے فروغ کے لیے اہم منصوبہ منظور کر لیا گیا ہے۔محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات نے کوٹکئی ڈیم کے قریب پبلک پارکس کی تعمیر کے منصوبے کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ اس منصوبے کی مجموعی لاگت 100 ملین روپے مقرر کی گئی ہے جس کے تحت کوٹکئی ڈیم کے اطراف میں جدید طرز کے عوامی پارکس تعمیر کیے جائیں گے۔منصوبے کے تحت عوام کو بہتر تفریحی سہولیات فراہم کرنے کے لیے واکنک ٹریک، بیٹھنے اور نظارے کے مقامات، پارکنگ کی سہولت، رسائی سڑکیں، سینیٹیشن کی سہولیات اور سولر لائٹنگ سمیت دیگر بنیادی انتظامات فراہم کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ منصوبے میں عوامی تحفظ اور پارک کی بہتری کے لیے باؤنڈری وال اور دیگر ضروری اقدامات بھی شامل ہوں گے۔اس منصوبے کا مقصد نہ صرف مقامی آبادی کو صحت مند اور معیاری تفریحی ماحول فراہم کرنا ہے بلکہ اس سے علاقے میں سیاحت کے فروغ اور مقامی معیشت کی بہتری میں بھی مدد ملے گی۔علاقہ کےعوام نے اس اہم منصوبے کی منظوری پر سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس منصوبے سے ضلع مانسہرہ میں سیاحت اور عوامی سہولیات کو مزید فروغ ملےگا۔

نو تعینات سیکرٹری اطلاعات کو محکمہ کے امور پر بریفنگ

نو تعینات سیکرٹری اطلاعات و تعلقاتِ عامہ خیبرپختونخوا مطیع اللہ خان کو محکمہ اطلاعات و تعلقاتِ عامہ کے تنظیمی ڈھانچے اور مختلف امور کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ایڈیشنل سیکرٹری اطلاعات حضرت علی نے سیکرٹری اطلاعات کو محکمہ کے مختلف شعبہ جات، ذمہ داریوں اور مجموعی تنظیمی ڈھانچے سے آگاہ کیا۔ بریفنگ میں محکمہ اطلاعات و تعلقاتِ عامہ کے جاری اقدامات اور اہم منصوبوں پر بھی روشنی ڈالی گئی۔اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل اطلاعات و تعلقاتِ عامہ محمد عمران خان، پریس رجسٹرار انصار اللہ خلجی، ڈائریکٹر ایڈمن ابن آمین، سٹیشن ڈائریکٹر پختونخوا ریڈیو پشاور ہارون الرشید، ڈائریکٹر کریئیٹو ونگ ڈاکٹر دانش بابر، ڈپٹی سیکرٹری انور اکبر، ڈپٹی ڈائریکٹر آئی ٹی زار علی، پلاننگ آفیسر حزب اللہ اور محکمہ اطلاعات و نظامتِ اطلاعات و تعلقاتِ عامہ کے دیگر افسران نے شرکت کی۔اس موقع پر سیکرٹری اطلاعات و تعلقاتِ عامہ مطیع اللہ خان نے محکمہ کی مجموعی کارکردگی اور پیش رفت کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے اور عوام تک مؤثر انداز میں معلومات پہنچانے کے لیے مربوط انداز میں کام کیا جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محکمہ کی بہتری اور ادارہ جاتی مضبوطی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

سیکرٹری زراعت ڈاکٹر محمد بختیار خان کی زیر صدارت آن لائن کھلی کچہری کا انعقاد

خیبرپختونخوا کے سیکرٹری زراعت ڈاکٹر محمد بختیار خان کی زیرصدارت جمعہ کے روزمحکمہ زراعت کی آن لائن کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا جس میں صوبے کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے کسانوں اور عوام نے آن لائن اپنے مسائل، شکایات اور تجاویز پیش کیں۔کھلی کچہری کے دوران کسانوں نے محکمہ زراعت سے متعلق مختلف امور، زرعی سہولیات کی فراہمی، سبسڈی پروگرامز، بیج و کھاد کی دستیابی اور زرعی مشینری کے استعمال سے متعلق مسائل کی نشاندہی کی۔ سیکرٹری زراعت نے تمام شکایات اور تجاویز کو غور سے سنتے ہوئے متعلقہ حکام کو بروقت ازالے کے لیے ضروری احکامات جاری کیے۔آن لائن کھلی کچہری میں محکمہ زراعت کی مختلف ونگز کے ڈائریکٹر جنرلز اور متعلقہ افسران نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر سیکرٹری زراعت بختیار خان نے محکمہ زراعت میں زرعی مشینری کے استعمال اور پودوں کی تقسیم میں مبینہ بے قاعدگیوں سے متعلق شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری تحقیقات کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قسم کی بدانتظامی یا بے ضابطگی برداشت نہیں ہونے دی جائے گی اور ملوث افسران و اہلکاروں کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ زراعت کسانوں کو جدید زرعی سہولیات فراہم کرنے اور زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے۔ کھلی کچہریوں کے انعقاد کا مقصد عوام اور حکومت کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانا اور عوامی مسائل کو فوری طور پر حل کرنا ہے۔سیکرٹری زراعت نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ فیلڈ سطح پر کسانوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کریں اور حکومتی زرعی منصوبوں سے زیادہ سے زیادہ کسانوں کو مستفید کرنے کو یقینی بنائیں۔

A meeting regarding the integration of Intensive Care Units (ICU) under the Sehat Card Plus Program was held under the chairmanship of Provincial Minister for Health Khaliq ur Rehman.

A meeting regarding the integration of Intensive Care Units (ICU) under the Sehat Card Plus Program was held under the chairmanship of Provincial Minister for Health Khaliq ur Rehman. The meeting was attended by Secretary Health Shahid Ullah Khan, CEO SHPI, Divisional Head State Life, Regional Chief, Zonal Head, PMO State Life, representatives of Medical Teaching Institutions (MTIs) Peshawar, and officials from the Khyber Pakhtunkhwa Healthcare Commission.

During the meeting, the Divisional Head State Life presented a detailed briefing on the ICU Bed Integration System. Participants were also given a demonstration of the system, which shows real-time availability of ICU beds across panel hospitals. It was explained that through this system, all panel hospitals will be able to view the real-time availability of ICU beds in other panel hospitals before referring a patient. This will help ensure timely and appropriate referral of patients to facilities where ICU beds are available.

The meeting was further informed that the integrated system will facilitate both public and private panel hospitals in managing patients more efficiently. Through improved coordination with State Life, the system will help ensure optimal utilization of ICU facilities and strengthen the overall patient management process. It was also shared that the package rates for ICU treatment have been re-negotiated with the panel hospitals to ensure better service delivery and improved patient care.

At the conclusion of the meeting, Provincial Minister for Health Khaliq ur Rehman emphasized the need for early implementation of the integration model across all panel hospitals in Peshawar to enhance coordination between hospitals and improve patient care.

Speaking on the occasion, the Minister stated that the project will initially be launched in the major hospitals of the Peshawar region and will soon be expanded to other key hospitals across the province. He reiterated that the government is committed to introducing modern systems in the health sector to provide coordinated, professional, and quality healthcare services to the people.

Preparations in Full Swing to Set Historic Record of Planting One Million Trees in a Single Day in Khyber Pakhtunkhwa on Pakistan Day, says Secretary Forests Junaid Khan

The Government of Khyber Pakhtunkhwa is set to commemorate Pakistan Day on March 23, 2026, through a unique and historic plantation campaign aimed at planting one million trees across the province in a single day . This remarkable initiative will not only highlight the national significance of Pakistan Day but will also serve as a powerful step toward environmental protection and the realization of a greener and more sustainable Pakistan.

Secretary, Climate Change, Forestry, Environment and Wildlife Department Khyber Pakhtunkhwa, Junaid Khan, stated that under the special vision of the Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa titled “Green Khyber Pakhtunkhwa,” the plantation drive will be launched simultaneously across the province. He emphasized that planting one million trees in a single day will be an unprecedented and historic achievement in Pakistan’s history, symbolizing not only environmental stewardship but also a renewed national commitment toward ecological responsibility.

He further remarked that Pakistan Day reminds the nation of the historic moment on March 23, 1940, when the Muslims of the subcontinent envisioned the creation of an independent and sovereign homeland through the adoption of the Pakistan Resolution. Reflecting the spirit of that historic day, the Government of Khyber Pakhtunkhwa has decided to transform this national occasion into a “Green Pledge” to safeguard the blessings of independence and ensure a sustainable future for generations to come.

The Secretary noted that climate change has emerged as one of the most pressing global challenges, and Pakistan is among the countries significantly affected by its impacts. In such circumstances, tree plantation plays a vital role in environmental conservation, improving air quality, restoring ecological balance, and promoting sustainable development. He expressed hope that this campaign will serve as a milestone in promoting environmental awareness across the country.

On this occasion, Muhammad Junaid Dayar, Project Director of the 10 Billion Tree Tsunami Project and focal person for the March 23 record plantation drive, informed that the process of dispatching saplings from government forest nurseries to all districts of the province has already started. He stated that the plantation drive will formally commence at 9:00 AM on March 23 and will continue uninterrupted until the final sapling is planted.

He further explained that to ensure transparency and maintain a comprehensive record of this historic plantation activity, a specialized software application along with a central monitoring dashboard has been established at the control center. Through this system, details regarding the distribution of saplings, plantation sites, and the planting process will be shared with the central center via mobile phones, accompanied by live videos and photographs. In remote areas where internet connectivity is limited, the application also includes an offline data submission facility to ensure complete documentation.

He added that this record-setting plantation drive will witness active participation from government departments, educational institutions, district administrations, Motorway Police, Pakistan Railways, local communities, and the Pakistan Armed Forces, making it a truly collective national effort.

The Government of Khyber Pakhtunkhwa believes that if every citizen takes responsibility for planting and protecting even a single tree, these saplings will grow into a strong foundation for a green, prosperous, and environmentally secure Pakistan in the years to come.

خیبرپختونخوا میں میٹرک امتحانات 31 مارچ سے شروع ہوں گے، امتحانی نظام میں شفافیت کیلئے اصلاحات متعارف

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ نے کہا ہے کہ صوبے کے امتحانی نظام میں اصلاحات کے ذریعے شفافیت کو مزید مضبوط بنایا جائے گا اور تعلیمی نظام کی بہتری حکومت خیبرپختونخوا کی ترجیحات میں شامل ہے۔یہ بات انہوں نے میٹرک امتحانات کی تیاریوں کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس آن لائن منعقد ہوا جس میں صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز کے چیئرمین، ڈویژنل کمشنرز اور سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم نے شرکت کی۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری کو محکمہ تعلیم کے حکام نے میٹرک امتحانات کی تیاریوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا میں میٹرک کے سالانہ امتحانات کا آغاز 31 مارچ سے ہوگا۔ اس سال امتحانی نظام کو مزید شفاف اور مؤثر بنانے کیلئے کئی اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں۔بریفنگ کے مطابق تمام تعلیمی بورڈز میں تین پیپرز کی ای مارکنگ کی جائے گی جبکہ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن پشاور میں چھ پیپرز کی ای مارکنگ ہوگی۔ اسی طرح پورے صوبے میں کلسٹر بیسڈ سسٹم کے تحت امتحانات کا انعقاد کیا جائے گا اور اس نظام کو مکمل تیاری کے ساتھ نافذ کیا جا رہا ہے۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ تمام امتحانی ہالز میں پانی، سی سی ٹی وی کیمرے، بجلی اور دیگر ضروری سہولیات کی دستیابی یقینی بنائی جائے گی۔ اس سال امتحانی عملے میں نئے گریجویٹس کو بھی شامل کیا جا رہا ہے جن کی باقاعدہ تربیت جاری ہے۔نقل کی روک تھام کیلئے سخت اقدامات کیے گئے ہیں اور ایماندار اور عمدہ و شفاف کارکردگی کے حامل عملے کو ہی زمہ داریاں سونپی جائیں گی۔ امتحانی مراکز کے اطراف دفعہ 144 نافذ کیا جائے گا اور نقل کے مواد کی روک تھام کیلئے بھی مؤثر انتظامات کیے گئے ہیں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ اس سال روٹیشن سسٹم کے تحت امتحانی عملے کو دو سے تین پیپرز کے بعد تبدیل کیا جائے گا تاکہ امتحانی عمل کو مزید شفاف بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ تمام بورڈز کے جوابی پرچوں کو ای مارکنگ کے لیے اسٹینڈرڈائز کیا جا رہا ہے۔چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ امتحانات کے انعقاد میں شفافیت، نظم و ضبط اور طلبہ کو بہتر سہولیات کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔