Home Blog Page 34

صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان کی زیرِ صدارت سیدو شریف میں صحت کے ہسپتالوں سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس

صوبائی وزیر صحت خیبرپختونخوا خلیق الرحمان کی زیرِ صدارت کمشنر ملاکنڈ ڈویژن کے دفتر سیدو شریف، سوات کے کانفرنس روم میں سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہسپتال، سنٹرل ہسپتال سیدو شریف، بالخصوص ایم ٹی آئی سوات اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال سوات سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ممبر صوبائی اسمبلی فضل حکیم خان یوسفزئی، چیئرمین ڈیڈیک سوات اختر خان ایڈوکیٹ، کمشنر ملاکنڈ ڈویژن مسعود احمد، سیکرٹری صحت خیبرپختونخوا فیاض علی شاہ، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر نعیم اعوان، ڈین ایم ٹی آئی سوات پروفیسر ڈاکٹر اسرار الحق، ایم ایس ڈاکٹر محمد سلیم، ڈی ایچ او سوات اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہسپتال، سنٹرل ہسپتال سیدو شریف، ایم ٹی آئی سوات اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال سوات سے متعلق مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ حکام نے صوبائی وزیر صحت کو ہسپتالوں میں مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، انتظامی امور، ہسپتالوں کی کارکردگی اور دیگر اہم اقدامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان نے کہا کہ مریضوں کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ صحت کے شعبے سے متعلق تمام فیصلے باہمی مشاورت، شفافیت اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔صوبائی وزیر صحت نے ہدایت کی کہ ایم ٹی آئی سوات اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال سوات کی انتظامیہ باہمی مشاورت سے جامع پلان تیار کرے، جس میں مریضوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی، انتظامی امور، وسائل کے مؤثر استعمال اور دیگر متعلقہ معاملات کا قابلِ عمل حل شامل ہو۔ انہوں نے ہدایت کی کہ مذکورہ پلان محکمہ صحت کو ارسال کیا جائے تاکہ اس کا جائزہ لے کر آئندہ کے اقدامات کیے جا سکیں۔صوبائی وزیر صحت نے تمام متعلقہ امور کا جائزہ لینے اور شفاف، منصفانہ اور قابلِ عمل سفارشات مرتب کرنے کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی۔خلیق الرحمان نے کہا کہ سوات میں اجلاس منعقد کرنے کا بنیادی مقصد عوام کو درپیش مسائل کا مقامی سطح پر جائزہ لینا اور زمینی حقائق کی روشنی میں ایسے اقدامات کرنا ہے جن سے عوام اور مریضوں کو براہِ راست فائدہ پہنچے۔انہوں نے واضح کیا کہ صحت کے شعبے میں تمام فیصلوں کا محور مریض ہوگا اور ایسے اقدامات کو ترجیح دی جائے گی جن سے مریضوں کو بہتر، مؤثر اور معیاری طبی خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔صوبائی وزیر صحت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مریضوں کی سہولت، طبی خدمات کے معیار اور ہسپتالوں کی مجموعی کارکردگی میں بہتری کے لیے مربوط حکمتِ عملی کے تحت عملی اقدامات کیے جائیں۔صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان نے کہا کہ حکومت کا مقصد ہسپتالوں کے انتظامی و طبی نظام کو مزید مؤثر بنانا اور عوام کو ان کی دہلیز پر بہتر صحت کی سہولیات فراہم کرنا ہے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم کی زیرِ صدارت مختلف اہم قانونی و انتظامی امور سے متعلق اجلاس

خیبر پختونخوا کے وزیر قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم کی زیرِ صدارت مختلف اہم قانونی و انتظامی امور سے متعلق اجلاس منعقد ہوئے، جن میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 میں مجوزہ ترامیم، خیبر پختونخوا سروس ٹربیونل (ترمیمی) بل 2026 اور بٹگرام تحصیل بلڈنگ کی تعمیر سے متعلق عدالتی معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔صوبائی لیگل کمیٹی کے چوتھے اجلاس میں ممبران صوبائی اسمبلی منیر حسین لغمانی، ارباب محمد عثمان خان اور سجاد اللہ خان سمیت سی ٹی ڈی، محکمہ قانون، محکمہ داخلہ اور دیگر متعلقہ محکموں کے حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 میں ترامیم کی گنجائش کا جائزہ لیا گیا۔ وفاقی حکومت کی ہدایات کی روشنی میں قائم صوبائی لیگل کمیٹی نے مقدمات کی سماعت اور اپیلوں سے متعلق مختلف قانونی مدتوں میں اضافے کی تجاویز پر بھی غور کیا۔مجوزہ ترامیم میں بعض قانونی مدتوں کو سات دن سے بڑھا کر چھ ماہ، پندرہ دن سے بڑھا کر تیس دن جبکہ اپیل دائر کرنے کی مدت میں اضافے کی تجاویز شامل ہیں۔ کمیٹی نے مجوزہ ترامیم کے قانونی و عملی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے مسودہ بل پر مزید کارروائی کے لیے غور کیا۔دوسرے اجلاس میں خیبر پختونخوا سروس ٹربیونل (ترمیمی) بل 2026 کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری ہیومن ریسورس مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ، سیکرٹری محکمہ قانون اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ کمیٹی نے مجوزہ قانون کی مختلف شقوں، قانونی و انتظامی پہلوؤں اور سرکاری ملازمین سے متعلق امور پر تفصیلی غور و خوض کیا۔اسی طرح بٹگرام میں تحصیل بلڈنگ کی تعمیر سے متعلق رٹ پٹیشن نمبر 397-A/2025 کے معاملے پر بھی اجلاس منعقد ہوا، جس میں مشیر کھیل و امور نوجوانان تاج محمد ترند سمیت متعلقہ محکموں کے حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں مقدمے کی موجودہ صورتحال، صوبائی حکومت کے مؤقف اور معاملے کے جلد حل کے لیے قانونی و انتظامی اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔وزیر قانون آفتاب عالم نے کہا کہ صوبائی قوانین کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا، قانونی پیچیدگیوں کا بروقت ازالہ اور مؤثر قانون سازی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام قانونی معاملات کا قانون اور متعلقہ عدالتی احکامات کی روشنی میں باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے ضروری کارروائی بروقت مکمل کی جائے۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ عوامی اہمیت کے ترقیاتی منصوبوں سے متعلق زیرِ التوا قانونی معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے اور صوبائی حکومت کے مفادات کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔

صوبائی وزیر فضل شکور خان کی زیرِ صدارت سنٹر ریجن کے ترقیاتی منصوبوں سے متعلق اہم اجلاس کا انعقاد

اجلاس میں چیف انجینئر سنٹر ریجن اور ریجن کے متعلقہ ایگزیکٹو انجینئرز (ایکسینز) نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبائی وزیر کو سنٹر ریجن میں محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے تحت جاری اور نئے اے ڈی پی سکیموں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔بریفنگ میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت، نئے منظور شدہ منصوبوں، عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے جاری اقدامات اور مختلف سکیموں کی موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر سنٹر ریجن میں غیر فعال واٹر سپلائی سکیموں کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔سنٹر ریجن کی تمام جاری، نئی اور غیر فعال سکیموں کے حوالے سے آئندہ کے لائحہ عمل اور ترجیحی بنیادوں پر اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔صوبائی وزیر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ سنٹر ریجن میں تمام جاری ترقیاتی سکیموں پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے اور نئی سکیموں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے غیر فعال سکیموں کی مکمل نشاندہی کرکے ان کی بحالی کے لیے عملی اور قابلِ عمل لائحہ عمل مرتب کرنے کی بھی ہدایت کی .انہوں نے کہا کہ عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی بنیادی ذمہ داری ہے انہوں نے ہدایت کی کہ غیر فعال سکیموں کا مستقل بنیادوں پر ازالہ کیا جائے تاکہ عوام کو بلا تعطل صاف پانی کی سہولت میسر رہے۔انہوں نے افسران پر زور دیا کہ ترقیاتی منصوبوں میں معیار اور شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، جبکہ سکیموں کی نگرانی اور فیلڈ میں عملی پیش رفت کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ عوامی ضرورت اور ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کی جائے اور دستیاب وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے۔فضل شکور خان نے کہا کہ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے ترقیاتی منصوبوں کا بنیادی مقصد عوام کو صاف اور محفوظ پینے کے پانی کی سہولت فراہم کرنا ہے، اس لیے منصوبوں کی تکمیل میں غیر ضروری تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔

محکمہ سماجی بہبود کے سروس سٹرکچر اور اے ڈی پی منصوبوں کے حوالے سے اہم اجلاس

محکمہ سماجی بہبود کے سروس اسٹرکچر اور اے ڈی پی منصوبوں کے حوالے سے ایک اجلاس پشاور میں منعقد ہواجس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے سماجی بہبود، زکوٰۃ و عشر، خصوصی تعلیم و ویمن ایمپاورمنٹ ملک لیاقت علی خان اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم سمیت محکمہ سماجی بہبود کے سیکرٹری شریف حسین اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں محکمہ سماجی بہبود کے سروس سٹرکچر کی بہتری،جاری و نئے اے ڈی پی منصوبوں اور دیگر اہم انتظامی و ترقیاتی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اسی طرح محکمہ سماجی بہبود کے مختلف منصوبوں، ان کی ضروریات، مستقبل کے لائحہ عمل اور دیگر متعلقہ امور کا جائزہ لیا گیا اور متعدد اہم تجاویز پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔مشیر خزانہ مزمل اسلم نے محکمہ سماجی بہبود کے امور پر تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ آئندہ اجلاس میں تمام اہم معاملات کو حتمی شکل دینے کے لیے فیصلہ کن پیش رفت کی جائے گی۔مشیر سماجی بہبود ملک لیاقت علی خان نے اس موقع پر کہا کہ محکمہ سماجی بہبود کو مزید مؤثر، فعال اور عوام دوست بنانے کے لیے سروس اسٹرکچر کی بہتری سمیت تمام ضروری اقدامات کو جلدعملی شکل دی جائے گی۔

سپریم کورٹ کے بانی چیئرمین عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں، شفیع جان

عمران خان کو ہمشیرہ اور ذاتی معالج کی موجودگی میں طبی علاج کی سہولیات فراہم کرنے کا عدالتی حکم خوش آئند ہے، شفیع جان

امید ہے عدالتی احکامات پر عملدرآمد کرتے ہوئے عمران خان کو جلد ہسپتال منتقل کیا جائے گا، شفیع جان

عدالت کے واضح احکامات پر عملدرآمد میں کسی قسم کی تاخیر نہیں ہونی چاہیے، شفیع جان

پاکستان تحریک انصاف ایک پرامن سیاسی جماعت ہے جو آئین، قانون اور جمہوری اصولوں کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے، شفیع جان

پی ٹی آئی نے ہمیشہ آئینی و قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے عمران خان کے لیے انصاف کے حصول کی جدوجہد کی ہے، شفیع جان

ضلع خیبر کی 200 مستحق خواتین کیلئے سکل ڈویلپمنٹ پروگرام کا آغاز، ملک لیاقت علی خان نے پروگرام کا افتتاح کیا

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے زکوٰۃ و عشر، سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و ویمن ایمپاورمنٹ ملک لیاقت علی خان نے حیات آباد پشاور میں محکمہ سماجی بہبود خیبرپختونخوا کے سکل ڈویلپمنٹ پروگرام کا باقاعدہ افتتاح کیا۔اس موقع پر ٹیوٹا کے پرنسپل، ڈائریکٹر فنانس،ڈائریکٹر ضم اضلاع، متعلقہ افسران اور اساتذہ بھی موجود تھے۔ اس دوران مشیر وزیراعلیٰ کو پروگرام کے اغراض و مقاصد اور تربیتی سرگرمیوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پروگرام کے تحت ضلع خیبر کے کمزور اور مستحق طبقے سے تعلق رکھنے والی 200 خواتین کو تین ماہ پر مشتمل فنی و پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جا رہی ہے، خواتین کو پانچ مختلف ہنروں میں تربیت دی جائے گی، جن میں الیکٹریشن، آئی ٹی، سولر سسٹم، ایمبرائیڈری (کڑھائی) اور ٹیلرنگ شامل ہیں، پروگرام کا مقصد مستحق اور کمزور طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین کو عملی ہنر فراہم کرکے انہیں باعزت روزگار، خود انحصاری اور معاشی خودمختاری کے مواقع فراہم کرنا ہے، تاکہ وہ اپنے خاندانوں کی کفالت میں مؤثر کردار ادا کرسکیں۔پروگرام کی فنڈنگ یواین ڈی پی کے تعاون سے کی جا رہی ہے، جبکہ اس پروگرام کا انتظام و انعقاد محکمہ سماجی بہبود خیبرپختونخوا کے تحت کیا جا رہا ہے۔ ضم شدہ اضلاع میں مستحق افراد کو ہنر مند بنانے اور انہیں معاشی طور پر بااختیار کرنے کیلئے محکمہ سماجی بہبود اور متعلقہ شراکت داروں کے تعاون سے ایسے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔بعد ازاں ملک لیاقت علی خان نے تربیتی مرکز کا دورہ کیا، مختلف تربیتی شعبوں کا معائنہ کیا۔ انہوں نے متعلقہ افسران اور اساتذہ کو ہدایت کی کہ خواتین کو تربیت کے دوران ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے اور انہیں جدید و عملی مہارتوں سے آراستہ کیا جائے۔ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ غریب اور کمزور طبقات خصوصاً خواتین کو ہنر مند بنانا انہیں خود انحصار بنانے کی جانب اہم قدم ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ مستحق افراد کو صرف مالی معاونت فراہم کرنے کی بجائے انہیں ایسے ہنر سکھائے جائیں جن کے ذریعے وہ مستقل بنیادوں پر روزگار اور آمدن حاصل کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ محکمہ سماجی بہبود کا سکل ڈویلپمنٹ پروگرام کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق نوجوانوں اور خواتین کو فنی تربیت کے مواقع فراہم کرکے انہیں معاشرے کا بااختیار اور فعال حصہ بنایا جاسکے۔

Meeting between U.S. Ambassador Natalie A. Baker and Speaker Khyber Pakhtunkhwa Assembly Babar Saleem Swati in Islamabad

U.S. Ambassador Natalie A. Baker and the Consul General met with Speaker Khyber Pakhtunkhwa Assembly Babar Saleem Swati at the Khyber Pakhtunkhwa House in Islamabad. All parliamentary leaders of the Khyber Pakhtunkhwa Assembly, provincial ministers and other prominent personalities also attended the meeting.
During the meeting, detailed discussions were held on further promoting mutual cooperation between Pakistan and the United States, strengthening bilateral ties in various fields, and exploring opportunities for cooperation for the development and prosperity of Khyber Pakhtunkhwa.

The participants discussed prospects for cooperation in various sectors, including sports, tourism, minerals, energy and power, education, parliamentary cooperation and capacity building.
During the meeting, provincial ministers briefed the U.S. delegation about investment opportunities in their respective departments and ongoing development projects. Parliamentary leaders also held detailed discussions on the law and order situation in the province, public issues and other matters of importance.
Speaking on the occasion, Speaker Babar Saleem Swati said that Khyber Pakhtunkhwa possesses immense potential in natural resources, minerals, tourism and its young population.

He said that promoting international cooperation and investment in various sectors could create new opportunities for economic activity, employment and development in the province.

The Speaker said that the presence of all parliamentary leaders at the meeting was a clear reflection of the fact that the Assembly represents the people of the entire province. He said the presence of all parliamentary leaders under one roof demonstrated their unity and shared commitment to working for the rights, welfare and goodwill of the people of Khyber Pakhtunkhwa without discrimination.
He emphasized the importance of strengthening linkages between parliamentary institutions, exchanging experiences and enhancing institutional capacity, saying that mutual cooperation could further strengthen and improve the effectiveness of democratic institutions.

He further said that through effective policies, the provincial government was continuing efforts to create a conducive environment for investment in the province, promote economic stability and ensure public prosperity.
The meeting concluded with an agreement to further expand mutual cooperation between Pakistan and the United States, strengthen engagement in various sectors, and explore avenues for joint cooperation aimed at promoting development and prosperity in Khyber Pakhtunkhwa.

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے مشیر برائے جنگلات و ماحولیات پیر مصور خان کا فاریسٹ سکول تھائی ایبٹ آباد میں 89ویں فاریسٹ گارڈ کورس کے پاسنگ آؤٹ پریڈ کے تقریب سے خطاب

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے مشیر برائے جنگلات و ماحولیات پیر مصور خان نے کہا ہے کہ جنگلی حیات اور جنگلات کے تحفظ کے لئے ٹرینڈ ہیومن ریسورس انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے تربیت یافتہ اور پیشہ ور افرادی قوت انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے پاسنگ آؤٹ پریڈ کے نوجوانوں کو مبارکباد پیش کی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے خیبرپختونخوا فاریسٹ سکول تھائی ایبٹ آباد میں 89ویں فاریسٹ گارڈ کورس کی شاندار پاسنگ آؤٹ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ہے۔تقریب میں پیر مصور خان غازی نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اس کے علاوہ چیف کنزرویٹر فاریسٹس نادرن فاریسٹ ریجن-II ایبٹ آباد جناب اصغر خان صاحب، ڈویژنل فاریسٹ آفیسر گلیز فاریسٹ ڈویژن جناب بلال احمد اور محکمہ جنگلات کے دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔ تقریب کے دوران کامیاب فاریسٹ گارڈز اور وائلڈ لائف واچرز میں سرٹیفکیٹس اور اعزازات تقسیم کیے گئے، جو ان کی محنت، لگن اور پیشہ ورانہ تربیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ وزیراعلی کے مشیر جنگلات و ماحولیات پیر مصور خان غازی نے اپنے خطاب میں فارغ التحصیل نوجوانوں کو مبارکباد پیش کی اور جنگلات و جنگلی حیات کے تحفظ میں ان کے کردار کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تربیت یافتہ اور پیشہ ور افرادی قوت وقت کی اہم ضرورت ہے۔ محکمہ جنگلات خیبرپختونخوا مستقبل میں بھی اسی طرح کے تربیتی پروگرام جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتا ہے تاکہ صوبے کے قیمتی جنگلاتی و حیاتیاتی وسائل کا مؤثر تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم سب نے مل کر جنگلات کے فروغ اور اسکا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی کی خصوصی دودھ چیکنگ مہم مکمل، صوبہ بھر میں 53 ہزار 478 لیٹر غیر معیاری دودھ تلف

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے خوراک ڈاکٹر محمد اسرار خان نے کہا ہے کہ غیر معیاری دودھ کی فروخت کی روک تھام اور عوام کو محفوظ و معیاری دودھ کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، اس مقصد کے لیے صوبہ بھر میں دودھ کی نگرانی اور چیکنگ کا عمل مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دودھ بردار گاڑیوں کی رجسٹریشن کے ذریعے دودھ کے سورس اور سپلائی چین کا مکمل ریکارڈ مرتب کیا جا رہا ہے تاکہ معلوم ہوسکے کہ دودھ کہاں سے آتا اور کہاں سپلائی ہوتا ہے۔ترجمان فوڈ اتھارٹی نے خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کی ایک ماہ کی خصوصی دودھ چیکنگ و ٹیسٹنگ مہم رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ صوبہ بھر میں فوڈ سیفٹی ٹیموں نے دودھ بردار گاڑیوں، ڈیری فارمز، ہول سیل سپلائرز اور دودھ کی دکانوں کی چیکنگ کی اور بین الصوبائی داخلی راستوں اور بین الاضلاعی شاہراہوں پر ناکہ بندیوں کے دوران بھی دودھ کی جانچ کی گئی۔ترجمان نے تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا کہ خصوصی مہم کے دوران موبائل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹریز کے ذریعے صوبہ بھر میں دودھ کے مجموعی طور پر 1205 نمونے چیک کیے گئے، جن میں سے 938 نمونے معیاری جبکہ 267 نمونے غیر معیاری قرار پائے۔ یوں مجموعی طور پر 78 فیصد دودھ کے نمونے معیار کے مطابق پائے گئے۔رپورٹ کے مطابق پشاور میں 314، ڈی آئی خان میں 153، ایبٹ آباد میں 111 اور سوات میں 81 دودھ کے نمونے چیک کیے گئے۔ مردان میں 76، چارسدہ 62، نوشہرہ 57، کرک 55، بنوں 54، صوابی 53، ہری پور 41، مانسہرہ 34، ملاکنڈ 27، لوئر دیر 26 جبکہ بونیر میں 23 نمونے چیک کیے گئے۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ غیر معیاری دودھ کے نمونوں میں پانی، کاسٹک سوڈا، مختلف کیمیکلز، فارملین اور کم چکنائی سمیت مختلف اقسام کی ملاوٹ کی نشاندہی ہوئی۔ مہم کے دوران 53 ہزار 478 لیٹر غیر معیاری اور ناقص دودھ تلف کیا گیا جبکہ دودھ کے معیار کی خلاف ورزیوں پر متعلقہ کاروباری افراد کو 4.76 ملین روپے جرمانے عائد کیے گئے اور امپروومنٹ نوٹسز بھی جاری کیے گئے۔خصوصی مہم کے دوران 143 دودھ بردار گاڑیوں کی رجسٹریشن بھی کی گئی۔ معاون خصوصی برائے خوراک ڈاکٹر محمد اسرار خان نے کہا کہ رجسٹریشن کا مقصد دودھ کے سورس اور سپلائی چین کا ریکارڈ مرتب کرنا ہے، جس سے دودھ کی نقل و حرکت اور سپلائی کے نظام کی مؤثر نگرانی ممکن ہوگی۔انہوں نے کہا کہ عوام کو محفوظ اور معیاری دودھ کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے صوبہ بھر میں نگرانی، ٹیسٹنگ اور کارروائیوں کا سلسلہ مزید مؤثر بنایا جائے گا اور ملاوٹ و غیر معیاری دودھ کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عملدرآمد جاری رہے گا۔

حکومت خیبرپختونخوا اور یونیسف کا بچوں کے حقوق اور بہبود کے لیے شراکت داری کے عزم کا اعادہ

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ سے سول سیکرٹریٹ پشاور میں یونیسف پاکستان کی نمائندہ پرنیلا آئرن سائیڈ اور یونیسف خیبرپختونخوا کے چیف فیلڈ آفس رادوسلاو رژیہاک نے ملاقات کی۔ملاقات میں صحت، تعلیم اور بچوں کے تحفظ کے شعبوں میں جاری پیش رفت پر بات چیت کی گئی۔ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے حفاظتی ٹیکہ جات، تعلیمی اصلاحات اور بچوں کے تحفظ اور سماجی ترقی کی منصوبہ بندی سے متعلق اہم اقدامات پر روشنی ڈالی۔ چیف سیکرٹری نے صوبے میں بچوں کے لیے خدمات کو مضبوط بنانے میں اداروں کی کارکردگی اور صوبائی حکومت کی ترجیحات کو اجاگر کیا، جبکہ یونیسف نے حکومت کی ان ترجیحات کی معاونت میں اپنے کردار کا اعادہ کیا۔ملاقات میں چیف سیکرٹری نے خیبرپختونخوا میں بچوں کے حوالے سے صوبائی حکومت کی پالیسیوں اور پروگراموں کو مزید وسعت دینے کے ارادے کا اظہار کیا، جبکہ یونیسف نے صوبے کی ترجیحات کے مطابق تکنیکی اور پروگراماتی معاونت جاری رکھنے کا یقین دلایا۔ ملاقات اس عزم کے ساتھ اختتام پزیر ہوئی کہ یونیسف اور حکومت خیبرپختونخوا کے درمیان قریبی روابط کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔