Home Blog Page 342

مروت کینال میں پانی کے بہاؤ کو جلد از جلد ممکن بنایا جائے۔تاکہ لوگوں کو گندم کی فصل اگائے.کمشنر بنوں ڈویژن

کمشنر بنوں ڈویژن پرویز ثبت خیل کی زیر صدارت محکمہ آبپاشی کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا۔جس میں مروت کینال میں پانی چھوڑنے کے حوالے سے تمام امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر بنوں محمد نواز، ڈپٹی کمشنر لکی مروت رحمت علی، سیکرٹری ٹو کمشنر نور الامین محکمہ آبپاشی کے حکام پراجیکٹ ڈائریکٹر باران ڈیم رائزنگ، ایکسیئن ایریگیشن موجود تھے۔ پراجیکٹ ڈائریکٹر باران ڈیم رائزنگ اور ایکسیئن ایریگیشن نے اجلاس کو مروت کینال کے بارے میں اب تک کی مجموعی پیش رفت سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ جس پر اجلاس کے شرکاء نے سیر حاصل گفتگو کی۔کمشنر بنوں ڈویژن نے زور دیتے ہوئے کہا کہ مروت کینال میں پانی کے بہاؤ کو جلد از جلد ممکن بنایا جائے۔تاکہ لوگوں کو گندم کی فصل اگانے کیلئے پانی کی بروقت دستیابی ممکن بنائی جاسکے۔اس موقع پر محکمہ آبپاشی کے حکام نے مروت کینال سے غیر قانونی کنکشن، گومے”خلے” کو بند کرنے کرنے پر زور دیا تاکہ زمینداروں کو پانی کی یکساں فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔اسی طرح کینال سے نکلنے والی ندیوں میں پانی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا نہایت ضروری ہے تاکہ پانی کے بہاؤ میں رکاوٹیں در پیش نہ ہو۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ چونکہ باران ڈیم رائزنگ کے بعد پہلی بار مروت کینال میں 850 کیوسک پانی کی بڑی مقدار چھوڑی جارہی ہے لہذا اس کے سپل ویز کو کھولنے اور بند کرنے کا تجرباتی مشاہدہ کیا جائے۔ جس کیلئے لاہور سے تجربہ کار ماہرین کو اسی ہفتے تک بلایا جائے۔تاکہ پانی کے بہاؤ میں مستقبل کی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔کمشنر بنوں نے اس موقع پر کہا کہ وہ سپل وے کے کھولنے اور بند کرنے کا خود معائنہ کرینگے۔ اجلاس میں متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ مذکورہ بالا لوازمات پورے کرنے کے بعد اکتوبر کے آخری ہفتے میں 850 کیوسک پانی چھوڑا جائے گا۔ جس سے ضلع بنوں اور لکی مروت کی ایک لاکھ ستر ہزار ایکڑ زمین سیراب ہوگی۔جس سے علاقے کی تقدیر بدل جائے گی۔

صوبائی محتسب عوام کو مفت انصاف کی فراہمی کیلئے کوشاں ہیں، نگران وزیر قانون و انسانی حقوق

صوبائی محتسب سروس رولز (قواعد و ضوابط) 2023 کا جائزہ لینے کیلئے کابینہ کمیٹی کا اجلاس نگران صوبائی وزیر برائے قانون و انسانی حقوق جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ کی زیر صدارت محکمہ قانون کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں نگران صوبائی وزیر سماجی بہبود و ترقی نسواں جسٹس ریٹائرڈ ارشاد قیصر، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ اختر سعید ترک، سیکریٹری لاء،نمائندہ فنانس اور صوبائی محتسب کے حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں شرکاء کو صوبائی محتسب سروس رولز (قواعد و ضوابط) 2023 پر بریف کرتے ہوئے سروس رولز کے خذوحال اور ضرورت پر روشنی ڈالی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ رولز کا مقصد نئی آسامیاں پیدا نہیں کرنا بلکہ موجودہ ملازمین کیلئے قواعد و ضوابط بنانا ہیں۔رولز میں سزا و جزا و اے۔سی۔آر کے حوالے سے جامع قواعد بنانا ہیں۔صوبائی وزیر قانون و انسانی حقوق جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ نے رولز کی تاخیر سے بنانے پر افسوس کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی محتسب کے قیام کے ساتھ ہی سروس رولز بنانے چاہیے تھے۔ سروس رولز کے نفاذ سے ملازمین کی کارکردگی میں مزید نکھار آئے گا۔ انہوں نے سروس رولز بنانے کے حوالے سے سیکرٹری قانون کی کاوشوں کو سراہا۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی محتسب عوام کو مفت انصاف کی فراہمی کیلئے کوشاں ہیں۔ صوبائی محتسب کے نمائندے نے کمیٹی کی کارکردگی کو سراہا اور صوبائی محتسب کے سروس رولز میں دلچسپی لینے پر شکریہ ادا کیا۔

خیبر پختونخوا میں ماحولیاتی و غذائی تحفظ کے اہمیت پر زور، نگران وزیر کا عالمی یوم خوراک کی تقریب میں خطاب

خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات، ثقافت و سیاحت بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے کہا کہ ماحولیاتی و غذائی تحفظ باہم جڑے ہوئے ہیں، بہتر ماحولیاتی تحفظ سے غذائی قلت جیسے اہم مسئلے کو کم کیا جاسکتا ہے، 800 ملین افراد بھوکا سونے پر مجبور ہیں جبکہ 1.9 بلین افراد کئی گنا زیادہ غذا ضائع کرتے ہیں، ترقیافتہ اور ترقی پزیر ممالک کے درمیان عدم توازن ہے، ترقیافتہ ممالک میں تمام چیزوں کی بہتات ہے جبکہ غریب ممالک سہولیات کو ترس رہے ہیں، ماحولیاتی تبدیلیوں نے اس عدم توازن کو مزید بڑھا دیا ہے، ترقی پزیر ممالک کو ماحولیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کا سامنا ہے جس سے غذائی قلت جیسے سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں، صاف پانی ناپید ہوتا جارہا ہے، غریب و مالدار ممالک کے درمیان وسائل کے عدم توازن کو کم کرنا ہوگا، خیبرپختونخوا میں غذا و ماحول سے متعلق بھرپور اقدامات کے ساتھ ساتھ آگاہی کی بھی اشد ضرورت ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی یوم خوراک کی مناسبت سے ماحولیاتی و غذائی تحفظ سے متعلق آگاہی تقریب، واک و انڈس ریور صفائی مہم کے افتتاح کے موقع پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا. تقریب میں ادارہ خوراک و زراعت اقوام متحدہ کی نمائندہ فلورنس رولے، انٹرنیشنل پروگرام آفیسر فرخ ٹائروو، خیبرپختونخوا ثقافت و سیاحت اتھارٹی کے حکام اور کالج و یونیورسٹی کے طلباء و طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی. بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے کہا کہ ماحول دوست اقدامات کے لئے گڈ گورننس پر عمل پیرا ہونا ہوگا اور سب کو جانفشانی سے اپنے فرائض نبھانے ہوں گے، انہوں نے کہا کہ 1985 میں میرے مرحوم والد میاں جمال شاہ کاکاخیل نے بطورِ وفاقی وزیر اس کنڈ پارک کا افتتاح کیا تھا اور یہ اس وقت کا ایک بہترین پارک تھا جو آج زوال پزیر نظر آیا اس لئے کنڈ اور منگلوٹ نیشنل پارک کو بحال کرنے کے لئے اقدامات کریں گے، یہ خیبرپختونخوا کی خوبصورتی ہے جو عدم توجہ کی وجہ سے زوال پزیر ہیں، انہوں نے کہا کہ ہمیں ان اقدار کی طرف واپس جانا ہوگا جو ہمیں ماحول کا تحفظ و دیگر اسلوب سکھاتی ہیں، ہمارے آباو اجداد جو بہترین ماحول ہمیں دے کر گئے وہ ہمیں بہتر انداز میں اگلی نسلوں تک پہنچانا ہے. میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ماحول دوست اور ذمہ دارانہ سیاحت کی ضرورت ہے اور کہا کہ قدرتی ماحول کا تحفظ اولین ترجیح ہونا چاہیے۔

کھیل کود جیسی صحت مندانہ سرگرمیوں میں حصہ لینا زندہ قوموں کی نشانی ہے، نگران صوبائی وزیر کھیل

خیبر پختونخوا کے نگران وزیر برائے کھیل،امور نوجوانان،سائنس و ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر نجیب اللہ نے کہا ہے کہ کھیل کود جیسی صحت مندانہ سرگرمیوں میں حصہ لینا زندہ قوموں کی نشانی ہے،کھیلوں میں بطور ٹیم شامل ہونا ٹیم ورک کے ذریعے بڑی کامیابی کے حصول کیلئے تجربات اور لیڈرشپ کوالٹی کے حصول کا ذریعہ ہوتا ہے جسکا حصول ٹیم ورک کے بغیر ممکن نہیں،ان خیالات کا اظہار انھوں نے پیر کے روز ایگریکلچر یونیورسٹی پشاور میں گرینڈ سپورٹس گالا کی افتتاحی تقریب میں بطور گیسٹ آف آنر شرکت کرنے کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کیا،تقریب کے مہمان خصوصی خیبر پختونخوا کے گورنر اور چانسلر حاجی غلام علی تھے جبکہ نگران صوبائی وزیر برائے اعلی اور ثانوی اور ابتدائی تعلیم پروفیسر ڈاکٹر قاسم جان، یونیورسٹی کے وائس چانسلر،مختف تدریسی شعبوں کے ڈین اور دیگر سربراہان اساتذہ،طلبا نے ایونٹ میں شرکت کی،تقریب سے خطاب کے دوران نگران وزیر نے کہا کہ مختلف کھیلوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے والے چمکتے ستارے بیرونی دنیا میں ہمارے برانڈ ایمبیسیڈر ہیں جو پوری دنیا کو ہمارا مثبت چہرہ پیش کررہے ہیں، انھوں نے اس موقع پر کہا کہ بطور وزیر وہ نوجوانوں کی فلاح وبہبود کیلئے 5 جہتی پروگرام شروع کررہے ہیں جس میں سائنس پریکٹیلز،انٹرپرینیورشپ،کیرئیر رہنمائی،سکل ڈویلپمنٹ اور آئی ٹی سکل پر توجہ دی جائے گی۔نگران وزیر کا مزید کہنا تھا کہ نوجوان اس ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں اور وہ اس قوم کیلئے وہ سرگرمیاں سر انجام دیں جن پر قوم،والدین اور معاشرہ ان پر فخر محسوس کرے۔اس موقع پر ایونٹ کے انعقاد کے انتظام پر انھوں نے پاک فوج کا شکریہ ادا کیا،

نیوٹریشن انٹرنیشنل کی وفد نے خیبر پختونخوا کے وزیر خوراک سے ملاقات کی، غذائیت کی اہمیت پر تبادلہ خیال

نیوٹریشن انٹرنیشنل کی گلوبل ڈائریکٹر کرسٹن جو اے این کی قیادت میں ایک وفد نے نگران صوبائی وزیر برائے خوراک، زراعت، لائیو سٹاک اور جنگلات خیبر پختونخوا آصف رفیق سے سول سیکرٹریٹ پشاور میں ملاقات کی، جہاں صوبے میں غذائیت کی صورتحال اور آگاہی کے فروغ کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ نیوٹریشن انٹرنیشنل پاکستان اور خیبرپختونخوا کے اعلیٰ حکام بھی وفد میں شامل تھے۔ وفد نے نگراں صوبائی وزیر کو خیبرپختونخوا میں نیوٹریشن انٹرنیشنل کے جاری متوازن خوراک اور غذائیت کے منصوبوں پر بریفنگ دی اور اپنی کارکردگی سے آگاہ کیا۔ خیبرپختونخوا کے وزیر برائے خوراک، زراعت، لائیو سٹاک اور جنگلات آصف رفیق نے کہا کہ متوازن خوراک ہر فرد کی ضرورت ہے، اس سلسلے میں نومولود اور دودھ پلانے والی ماؤں کی غذائیت کا خیال رکھنے کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ آگاہی دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے سرکاری ہسپتالوں میں نومولود بچوں کے والدین اور حاملہ خواتین کو متوازن غذا کھانے کی ترغیب دی جاتی ہے تاکہ ایک صحت مند معاشرہ تشکیل پا سکے۔ نگراں وزیر آصف رفیق نے صوبہ خیبرپختونخوا میں مضر صحت اشیائے خوردونوش کے بروقت خاتمے اور اس کے خلاف قانونی کارروائیوں کا ذکر کیا تاکہ عوام کو صحت بخش اشیائے خوردونوش کی فراہمی کو ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے متوازن غذا کی اہمیت کو اجاگر کرنے اور غذائیت کو فروغ دینے کے لیے نیوٹریشن انٹرنیشنل کی کاوشوں کو سراہا۔ وزیر خوراک اس کے طویل مدتی اور خیبر پختونخوا کے عوام کی بہتری کے لیے قانونی مضمرات پر محکمے کے ساتھ بحث کے بعد لازمی فوڈ فورٹیفیکیشن کے نفاذ اور لاگت کی منتقلی کے طریقہ کار کی منظوری کے لیے مسودہ بھیجیں گے۔

خیبرپختونخوا میں طلبہ کو اعلیٰ تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کی جا رہی ہیں۔

خیبرپختونخوا کے نگران وزیر برائے محکمہ خزانہ، ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول اور محکمہ مال احمد رسول بنگش نے کہا ہے کہ نگراں صوبائی حکومت طلبہ کواعلیٰ تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لئے آگہی کے ساتھ ساتھ عملی اقدامات بھی اٹھا رہی ہے۔ نوجوانوں کے لئے اعلیٰ تعلیم اور عملی میدان میں اگے بڑھنے کے لئے مختلف قسم کی سکالرشپس سے استفادہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز پشاور کے ایک مقامی ہوٹل میں برٹش ہائی کمیشن کے زیر اہتمام چیوننگ سکالرشپ ایلومینائی کی منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں برٹش ہائی کمیشن پاکستان کے ڈپٹی ہیڈ آف کمیونیکیشن اینڈ پبلک ڈپلومیسی ٹام ہائیڈ، ہیڈ اف چیوننگ سکالرشپ اسلام آباد پاکستان شہلا قیوم، سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ارشد خان، ڈائریکٹر جنرل سپورٹس خالد محمود، حسیب سالارزئی، نثار خان، فضل غفور شاہ ودیگر اعلی حکام نے شرکت کی ہے۔ اس موقع پر نگراں وزیر نے کہا ہے کہ اس تقریب کا مقصد سکالرز، جرنلسٹس، اکیڈیمیہ اور خواہش مند طلبہ میں چیوننگ سکالرشپ پروگرام کو فروغ دینا ہے تاکہ صوبے کے تعلیم یافتہ افراد اس پروگرام سے استفادہ کر سکیں۔ تقریب سے برٹش ہائی کمیشن پاکستان کے ڈپٹی ہیڈ آف کمیونیکیشن اینڈ پبلک ڈپلومیسی ڈیپارٹمنٹ ٹام ہائیڈ نے بھی خطاب کیا اور چیوننگ سکالرشپ پروگرام کی افادیت اور ضرورت پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔ بعد ازاں برٹش ہائی کمیشن پاکستان کے ڈپٹی ہیڈ اف کمیونیکیشن اینڈ پبلک ڈپلومیسی ڈیپارٹمنٹ ٹام ہائیڈ کو نگراں وزیر برائے خزانہ اور چیوننگ ایلومینائی خیبرپختونخوا اور خیبرپختونخوا کے عوام کی طرف سے شیلڈ بھی پیش کیا گیا۔

“یتیموں کی تربیت اور شفافیت، خیبرپختونخوا میں حکومت کی اولین ترجیح، بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل

خیبرپختونخوا نگران وزیر اطلاعات، ثقافت و سیاحت بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے کہا ہے کہ جب تک بچوں کی تربیت پر توجہ نہیں دی جائے گی معاشرہ آگے نہیں بڑھے گا، تربیت اور سہولیات سب کو یکساں طور پر مہیا کرنا ہوگا، یتیموں کا خصوصی خیال رکھنا ہوگا، قرآن مجید میں 22 جگہ یتیموں کے بارے میں احکامات موجود ہیں، حضور نبی اکرم ﷺ کی زندگی کو دیکھیں، ان کے احکامات کو دیکھیں، یتیموں کے ساتھ ان کے شفقت کو دیکھیں سب جگہ یتیموں سے حسن سلوک کا سبق ملتا ہے، تعلیم و تربیت کے بعد بچوں کو ان کے محنت کا صلہ ملنا چاہیے، ان کو یہ احساس بھی دینا ہے کہ کسی فورم پر بھی ان سے ناانصافی نہیں ہوگی ان کا حق نہیں مارا جائے گا تب ہی وہ اونرشپ لیں گے، اس ملک کی ذمہ داری لیں گے، حکومت خیبرپختونخوا گوڈ گورننس پر عمل پیرا ہے، مقصد میرٹ کی بالادستی اور شفافیت ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالم آباد صوابی میں کشمیر آرفن ریلیف ٹرسٹ (کورٹ) کے تحت منعقدہ تقریب سے خطاب میں کیا. اس موقع پر اعلیٰ سول و ملٹری آفیسرز، کورٹ ادارے کے عہدیداروں سمیت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی، تقریب میں شرکت کیلئے آذاد کشمیر میں قائم کورٹ ادارے میں زیر تعلیم طلباء و طالبات نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی. کورٹ ادارے میں زیر تعلیم بچوں نے تقاریر، ٹیبلو، ڈرامہ، قوالی اور ملی نغموں کی صورت میں بہترین فن کا مظاہرہ کیا جس پر شرکاء نے طلباء و طالبات کو داد دی. شرکاء سے خطاب میں نگران وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا نے کورٹ ادارے کی جانب سے صوابی میں ایجوکیشن کمپلیکس تعمیر کرنے پر شکریہ ادا کیا اور اس امر کو دوسروں کے لئے بھی قابل تقلید قرار دیا. انہوں نے کہا کہ صوابی کو شہید کیپٹن کرنل شیرخان کی وجہ سے منفرد حیثیت حاصل ہے، شہید کیپٹن کرنل شیرخان جیسے سپوت صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں، مقامی افراد نے زمین بلا معاوضہ فراہم کرکے ایک عمدہ مثال قائم کی. نگران وزیر نے یتیموں کی کفالت سے متعلق بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے کردار پر بھی بات کی اور کہا کہ وہ خود بھی تعلیم کے سلسلے میں لندن میں مقیم رہے اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے احساسات سے بخوبی آگاہ ہیں اور کہا کہ ملک کی تعمیر و ترقی میں وہ ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں، بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے کہا کہ جائز اور ناجائز میں فرق کے لئے شعور کی بیداری اہم ہے.خطاب میں انہوں نے صوبے اور ملک سے برین ڈرین کی وجوہات پر بھی روشنی ڈالی اور میرٹ کی پامالی کو اس کی بڑی وجہ قرار دیا. انہوں نے کہا کہ میرٹ اور نظام میں شفافیت سے نوجوانان اونرشپ لیں گے، اور ملک کے نظام کی بھاگ دوڑ سنبھالیں گے. تقریب سے خطاب میں بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے کہا کہ محکمہ سیاحت کو خصوصی بچوں کے لئے ٹوور منعقد کرنے کے احکامات دئے ہیں اور اس سلسلے میں بینائی سے محروم بچوں کو گلیات کا دورہ کرایا گیا اور یتیم بچوں کے لئے بھی خصوصی ٹوور سروس فراہم کریں گے تاکہ یہ بچے خیبرپختونخوا کی خوبصورتی دیکھیں اور محظوظ ہوں. تقریب سے پیر سلطان العارفین، کور ٹرسٹ کے سربراہ چوہدری اختر، لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر، ایئر چیف مارشل سہیل امان، ائیر کموڈور محمد شبیر، لاہور قلندر کے اونر عاطف رانا و دیگر نے بھی خطاب کیا۔

خیبرپختونخوا میں منشیات فروشوں کے خلاف بڑی کاروائی، اہم ملزمان گرفتار۔

محکمہ ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول خیبرپختونخوا نے منشیات فروشوں کے خلاف صوبہ بھر میں کریک ڈاؤن تیز کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پہلی کاروائی ایکسائز انٹیلی جنس بیورو  نے پشاور میں کی ہے جس میں بین الاقوامی منشیات نیٹ ورک کے دو اہم کارندے گرفتار کر لئے گئے ہیں۔ گرفتار ملزمان سے 80 عدد (588 گرام) ہیروئن بھرے کیپسول برآمد کر لئے گئے ہیں۔ ملزمان ہیروئن بھرے کیپسول پہلے پنجاب اور بعد ازاں خلیجی ممالک کو سمگل کرنے والے تھے۔ دونوں ملزمان حنیف اللہ ولد امین گل اور عبدالواجد ولد نبی گل ساکنان باڑہ ضلع خیبر کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ مزید تفتیش اور قانونی کاروائی کیلئے تھانہ ایکسائز پشاور میں مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔ دوسری کاروائی میں تھانہ ایکسائز مردان نے منشیات سمگلنگ اور ڈیلینگ میں سہولت کاری پر دو ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔ ملزمان کے موبائل فونز سے منشیات کی خرید و فروخت اور منی چینر کے ذریعے رقم کی ترسیل کے اہم شواہد ملے ہیں۔ ملزمان کو خفیہ اطلاع پر رشکئی انٹر چینج کے قریب شدید مزاحمت کے بعدگاڑی نمبر LE 7337 سمیت گرفتار کیا گیا ہے۔ دونوں ملزمان نصراللہ ولد امان اللہ اور محمد اسماعیل ولد رحمن گل ساکنان گلشن کالونی لنڈے سڑک کو موقع پر گرفتار کر کے مزید تفتیش کیلئے تھانہ ایکسائز مردان ریجن میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اسی طرح تیسری کاروائی تھانہ ایکسائز ایبٹ آباد نے کی ہے۔ مخبر نے اطلاع دی کہ کیلنک کی آڑ میں منشیات فروشی کا کاروبار ہو رہا ہے، جس پر ایکسائز عملے نے بر وقت کاروائی کرتے ہوئے الشفاء ہومیو کلینک گڑھی روڈ مانسہرہ پر چھاپہ مارا جہاں پر 18 لیٹر شراب اور 1120 گرام چرس برآمد کر لیا اور ملزم محمد جمیل ولد محمد یونس ساکن مانسہرہ موقع پر گرفتار کر لیا گیا جبکہ ملزم کا بھائی دوسرا ملزم محمد شفیق ساکن مانسہرہ موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوا،مزید تفتیش اور قانونی کارروائی کیلئے تھانہ ایکسائز ایبٹ آباد میں مقدمہ درج کر دیا گیا ہے۔

نیوٹریشن انٹرنیشنل اور خیبرپختونخوا کا مشترکہ کوشش برائے متوازن غذا کی ترویج۔

خیبرپختونخوا میں متوازن غذا کے استعمال اور اس کے متعلق آگہی کو فروغ دینے کے حوالے سے نگران وزیر برائے خوراک، زراعت، لائیو سٹاک اور جنگلات آصف رفیق کے ساتھ نیوٹریشن انٹرنیشنل کے گلوبل ڈائریکٹر کرسٹن جو آن کی سربراہی میں ایک وفد نے سول سیکرٹریٹ پشاور میں خصوصی ملاقات کی۔وفد میں نیوٹریشن انٹرنیشنل پاکستان اور خیبرپختونخوا کے اہم حکام بھی شریک ہوئے۔وفد نے صوبائی وزیر کو نیوٹریشن انٹرنیشنل کی جانب سے خیبرپختونخوا میں جاری متوازن غذا اور غذائیت کے حوالے سے اپنے پراجیکٹس پر بریفنگ دی اور کارکردگی سے آگاہ کیا۔خیبرپختونخوا کے نگران وزیر برائے خوراک، زراعت، لائیو سٹاک اور جنگلات آصف رفیق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ متوازن غذا ہر فرد کی ضرورت ہے اس سلسلے میں نوزائیدہ بچوں اور دودھ پلانے والی ماں کی غذائیت کا خیال رکھنے کے حوالے سے آگہی کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے سرکاری ہسپتالوں میں متوازن غذا کے حوالے سے نوزائیدہ بچوں کے والدین اور حاملہ خواتین کو ترغیب دی جاتی ہے تاکہ صحت مند معاشرے کی تشکیل ممکن ہو سکے۔نگران وزیر آصف رفیق نے عوام کو صحت مند اشیاء خوردونوش کی فراہمی ممکن بنانے کی غرض سے محکمہ خوراک خیبرپختونخوا کی صوبہ میں مضر صحت اشیاء خوردونوش کی بروقت تلفی اور اس کے خلاف قانونی کارروائیوں کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے متوازن غذا کی اہمیت اجاگر کرنے اور آگہی کو فروغ دینے پر نیوٹریشن انٹرنیشنل کی کاوشوں کو سراہا۔

مشترکہ کوششوں سے ہی پولیووائرس کا مکمل خاتمہ ممکن ہے۔ چیف سیکرٹری

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری نے ہدایت کی ہے کہ پانچ سال تک کے ہر بچے کو انسداد پولیو ویکسین پلائے جائیں۔ پولیو مہمات کی موثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ اس خطے سے پولیو وائرس کے مکمل خاتمے کو ممکن بنایا جاسکے۔ یہ ھدایات چیف سیکرٹری نے اتوار کے روز ڈپٹی کمشنر پشاور آفاق وزیر کے ہمراہ حیات آباد اور ریگی سمیت دیگر علاقوں میں جاری انسداد پولیو مہم کی نگرانی کرتے ہوئے دیں۔ چیف سیکرٹری نے پولیو سٹاف سے بھی ملاقات کی اور مہم کے دوران بہترین کارکردگی پر ان کی حوصلہ افزائی کی۔ انھوں نے والدین سے اپیل کی ہے کہ اپنے بچوں کو مستقل معذوری سے بچانے کے لیے پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلائیں اور پولیو ٹیموں سے تعاون کریں تاکہ پولیو وائرس کا خاتمہ کیا جا سکے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں پولیو کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کر نا ہو گا اور ہماری مشترکہ کوششوں سے ہی پولیو کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔واضح رہے کہ صوبائی دارلحکومت پشاورمیں ضلعی انتظامیہ کی زیر نگرانی سات روزہ انسداد پولیو مہم جاری ہے جس میں پشاور بھر میں 901985بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں جائیں گے جس کے لیے 2496ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں اور ان ٹیموں کی سیکیورٹی کا بھی خاطر خواہ بندوبست کیا گیا ہے۔