Home Blog Page 36

خیبرپختونخوا حکومت نے پاکستان کی پہلی ذیلی قومی ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن پالیسی لانچ کردی

خیبرپختونخوا حکومت نے پاکستان کی پہلی ذیلی قومی ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن (DRR) پالیسی باضابطہ طور پر لانچ کردی۔ پالیسی کا اجرا وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی تقریب کے دوران کیا گیا، جو خیبرپختونخوا کو زیادہ محفوظ، موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ، لچکدار اور خطرات سے باخبر صوبہ بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔تقریب کا انعقاد صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) اور محکمہ ریلیف، بحالی و آبادکاری خیبرپختونخوا کے باہمی تعاون سے کیا گیا، جبکہ ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن پالیسی جرمن حکومت، بالخصوص جرمن وفاقی وزارت برائے اقتصادی تعاون و ترقی (BMZ) کے تعاون سے تیار کی گئی ہے۔تقریب میں اعلیٰ سرکاری حکام، ترقیاتی شراکت داروں، سفارتکاروں، انسانی امداد سے وابستہ اداروں، جامعات، سول سوسائٹی اور میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی نمائندگی کرتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع اللہ جان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن پالیسی کا اجرا صوبے کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض ایک پالیسی دستاویز نہیں بلکہ صوبے کے عوام کی زندگیوں اور املاک کے تحفظ کے لیے حکومت کے عزم کا عملی اظہار ہے۔شفیع جان نے کہا کہ خیبرپختونخوا اب آفات کے بعد ردعمل، امداد اور بحالی تک محدود رہنے کے بجائے پیشگی تیاری، خطرات کی نشاندہی اور ان کے اثرات میں کمی کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔ جدید سائنسی طریقوں اور پیشگی اقدامات کے ذریعے آفات کے ممکنہ اثرات کو کم کرنے کے لیے ایک جامع اور فعال نظام تشکیل دیا جائے گا۔صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ صرف خطرے کی اطلاع کافی نہیں، اصل کامیابی بروقت وارننگ کو خطرے سے دوچار آبادی تک مؤثر انداز میں پہنچانے اور اس کے مطابق فوری پیشگی اقدامات یقینی بنانے میں ہے۔ بروقت وارننگ اور پیشگی تیاری کے ذریعے انسانی جانوں اور املاک کے نقصانات میں نمایاں کمی لائی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی اور عالمی سطح کی تکنیکوں سے استفادہ کرے گا، جبکہ مستقبل کی ترقیاتی منصوبہ بندی میں قدرتی خطرات کو ابتدا ہی سے مدنظر رکھا جائے گا۔ رسک انفارمڈ ڈویلپمنٹ کے اصول کے تحت ترقیاتی منصوبہ بندی اور سرمایہ کاری میں قدرتی اور موسمیاتی خطرات کو شامل کیا جائے گا۔شفیع جان نے کہا کہ آبادی میں تیزی سے اضافہ، غیر منصوبہ بند تعمیرات، زمین کے غیر مؤثر استعمال اور جنگلات میں کمی جیسے عوامل قدرتی آفات کے خطرات میں اضافہ کر رہے ہیں، اس لیے ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن کو ترقیاتی عمل اور حکمرانی کے نظام کا لازمی حصہ بنانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن پالیسی کے ذریعے خیبرپختونخوا کو ایک محفوظ، جدید، موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ اور آفات کے مقابلے میں زیادہ مضبوط صوبہ بنایا جائے گا۔گورننس کے حوالے سے شفیع جان نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت گورننس، اصلاحات، عوامی خدمت اور جدید پالیسی سازی کے میدان میں آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ گورننس اور کارکردگی کے میدان میں خیبرپختونخوا سے آگے ہے تو خیبرپختونخوا حکومت اس دعوے پر کھلے، مثبت اور بامقصد مکالمے کے لیے تیار ہے۔شفیع جان نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت محض دعووں اور نعروں پر نہیں بلکہ عملی اقدامات، پالیسی اصلاحات اور عوامی فلاح کے منصوبوں پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پہلی ذیلی قومی ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن پالیسی کا اجرا اس بات کا ثبوت ہے کہ صوبائی حکومت مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پیشگی، سائنسی اور جدید بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی خود کو گورننس کے میدان میں خیبرپختونخوا سے آگے سمجھتا ہے تو ہم اعداد و شمار، پالیسیوں اور عملی کارکردگی کی بنیاد پر مکالمے کے لیے تیار ہیں۔جرمن سفارتخانے کی ہیڈ آف کوآپریشن ڈاکٹر میریم بُڈن بینڈر بُوخ ہولز نے جرمن سفیر انالے پل کی نمائندگی کرتے ہوئے خیبرپختونخوا حکومت اور PDMA کو پاکستان کی پہلی صوبائی ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن پالیسی کی تیاری پر مبارکباد دی اور جرمنی کی جانب سے پالیسی کے نفاذ میں تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ڈاکٹر میریم نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کی ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن کے حوالے سے قیادت اور عزم قابل تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی اور قدرتی خطرات وقت کے ساتھ بڑھ رہے ہیں، جن میں آبادی میں اضافہ، غیر رسمی آبادیوں کا پھیلاؤ، زمین کے استعمال کی ناقص منصوبہ بندی اور جنگلات میں کمی جیسے عوامل شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن کا مقصد صرف آفات کے بعد بہتر ردعمل نہیں بلکہ خطرناک واقعات کے امکانات اور ان کے اثرات کو پہلے ہی کم کرنا ہے۔ انہوں نے پالیسی کو مختلف اداروں کو ایک مشترکہ سمت میں کام کرنے کے لیے ایک اہم مربوط فریم ورک قرار دیا۔پانچ سالہ ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن پالیسی میں پیشگی وارننگ، خطرات سے باخبر ترقیاتی منصوبہ بندی، کمیونٹی کی استعداد اور لچک، ڈیزاسٹر رسک فنانسنگ اور ایڈاپٹو سوشل پروٹیکشن سمیت اہم شعبوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، جبکہ موسمیاتی اور قدرتی آفات کے جھٹکوں سے متاثر ہونے والے کمزور گھرانوں کے تحفظ کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے GIZ پاکستان کے ایڈاپٹو سوشل پروٹیکشن پروگرام کی سربراہ جوہانا کنیس نے ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ کو سماجی تحفظ کے نظام سے مربوط کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس انضمام کے ذریعے غربت اور قدرتی خطرات کے باہمی تعلق کو بہتر طور پر سمجھنے اور کمزور طبقات کی مؤثر معاونت کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔محکمہ ریلیف، بحالی و آبادکاری کے سیکرٹری نے پالیسی کے اجرا کو اس کے عملدرآمد کے مرحلے کا آغاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ پالیسی کی کامیابی کے لیے تمام متعلقہ محکموں، اداروں اور شراکت داروں کے درمیان مسلسل تعاون ضروری ہوگا۔تقریب کے اختتام پر خیبرپختونخوا حکومت اور اس کے ترقیاتی شراکت داروں نے پالیسی کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے اور ایک لچکدار خیبرپختونخوا کی تشکیل کے عزم کا اعادہ کیا، جہاں ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن، پیشگی تیاری، جامع ترقی اور سماجی تحفظ کو صوبے کے حکمرانی اور ترقیاتی نظام کا مستقل حصہ بنایا جائے گا۔

سی سی آر آئی پیرسباق نوشہرہ میں سپیڈ بریڈنگ فیسلٹی اور زیتون سے تیل نکالنے کے سیزن کا افتتاح

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے زراعت میاں محمد عمر نے سیریل کراپس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (سی سی آر آئی) پیرسباق نوشہرہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ادارے میں جاری زرعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور مختلف ترقیاتی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ دورے کے دوران مشیر زراعت نے اسپیڈ بریڈنگ فیسلٹی کا افتتاح کیا جبکہ زیتون سے تیل نکالنے کے رواں سیزن اور شجرکاری مہم کا بھی باقاعدہ آغاز کیا۔ اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی زر عالم خان، ڈائریکٹر جنرل زراعت تحقیق ڈاکٹر عبدالرؤف اور پلاننگ آفیسر محکمہ زراعت نثار محمد بھی موجود تھے۔اس موقع پر مشیر زراعت نے کہا کہ اسپیڈ بریڈنگ فیسلٹی گندم کے بریڈنگ پروگرام کو تیز کرنے، نئی و بہتر اقسام کی تیاری اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ فصلوں کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔ جدید سہولت کے ذریعے کم وقت میں بہتر پیداواری صلاحیت رکھنے والی اقسام تیار کرنے میں مدد ملے گی، جس سے صوبے میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کی کوششوں کو مزید تقویت حاصل ہوگی۔میاں محمد عمر نے زیتون سے تیل نکالنے کے رواں سیزن کا بھی افتتاح کیا اور جدید طریقہ کار کے تحت زیتون کی پراسیسنگ اور خالص و معیاری زیتون کا تیل تیار کرنے کے عمل کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو خالص اور معیاری زیتون کا تیل فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر زیتون کی ویلیو ایڈیشن کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، جس سے کاشتکاروں کی آمدنی میں اضافہ اور زرعی معیشت کو مستحکم کیا جاسکتا ہے۔ مشیر زراعت میاں محمد عمر نے مزید کہا کہ محکمہ زراعت کے ذیلی دفاتر میں امور کی انجام دہی کا جائزہ لینے کے لئے سرپرائز دوروں کا سلسلہ شروع کررہا ہوں۔ محکمے کی بہتری کے لئے سب کو ملکر کام کرنا ہوگا۔مشیر زراعت نے سی سی آر آئی پیرسباق نوشہرہ میں پودا لگا کر شجرکاری مہم کا بھی آغاز کیا۔ اس موقع پر ماحول کے تحفظ، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے اور زرعی تحقیقی اداروں میں سرسبز ماحول کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا گیا۔اس موقع پر ڈائریکٹر سی سی آر آئی پیرسباق نوشہرہ مفتاح الدین نے مشیر زراعت کو ادارے کی مجموعی کارکردگی، جاری تحقیقی سرگرمیوں، مختلف فصلوں کے بریڈنگ پروگرامز، غلہ دار اجناس کی نئی اقسام، معیاری بیج کی پیداوار اور جدید زرعی ٹیکنالوجیز کے استعمال کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ انہیں گندم، مکئی اور دیگر اہم فصلوں کی پیداواری صلاحیت بڑھانے، جدید اقسام کی تیاری اور تحقیقی نتائج کاشتکاروں تک منتقل کرنے کے لیے جاری اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔میاں محمد عمر نے ادارے کے سائنسدانوں اور تحقیقی عملے کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ زرعی تحقیق کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا، جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ بڑھانا اور تحقیق کے نتائج کو عملی طور پر کاشتکاروں تک پہنچانا صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جدید زرعی تحقیق، تیز رفتار بریڈنگ پروگرامز اور بہتر پیداواری اقسام کی تیاری نہ صرف فصلوں کی پیداوار میں اضافے کا ذریعہ بن سکتی ہے بلکہ غذائی تحفظ، کاشتکاروں کی آمدنی میں اضافے اور صوبے میں زرعی شعبے کی پائیدار ترقی میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گی۔

خیبرپختونخوا میں عشرہ رحمت للعالمین ﷺ کے تحت جامع پروگرام کا اعلان، عدنان قادری نے آغاز کیا

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اوقاف، حج، مذہبی و اقلیتی امور محمد عدنان قادری نے کہا ہے کہ حکومت خیبرپختونخوا ربیع الاول 1448ھ کے دوران عشرہ رحمت للعالمین ﷺ بھرپور عقیدت و احترام کے ساتھ منائے گی، جس کے تحت صوبہ بھر میں سیرتِ طیبہ ﷺ، اخوت، رواداری، بین المذاہب ہم آہنگی اور امن کے فروغ کے لیے جامع پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔اطلاع سیل محکمہ اطلاعات میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ عشرہ رحمت للعالمین ﷺ کے تحت مختلف محکموں، ضلعی انتظامیہ، تعلیمی اداروں، مدارس، علماء، نوجوانوں، خواتین، اقلیتی برادریوں اور سول سوسائٹی کو سرگرمیوں میں شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پروگرام کا مقصد سیرتِ نبوی ﷺ کی تعلیمات کو معاشرے کے مختلف طبقات تک پہنچانا اور آپ ﷺ کے پیغامِ رحمت، امن، برداشت، عدل و انصاف اور بین المذاہب ہم آہنگی کو اجاگر کرنا ہے۔ عدنان قادری نے بتایا کہ عشرہ رحمت للعالمین ﷺ کی تقریبات 14 سے 25 اگست 2026ء تک جاری رہیں گی، جبکہ صوبائی سطح پر افتتاحی سرگرمیوں کا آغاز 17 اگست سے کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں تمام اضلاع میں سیرت کانفرنسز، حسنِ قرأت و نعت کے مقابلے اور دیگر تقریبات منعقد ہوں گی۔ محمد عدنان قادری نے کہا کہ 18 اگست کو جامعات اور کالجز میں سیرت سیمینارز منعقد کیے جائیں گے، جبکہ 19 اگست کو سکولوں میں سیرت کانفرنسز اور مختلف مقابلوں کا انعقاد ہوگا۔ 20 اگست کو مدارس میں خصوصی سیرت پروگرامز منعقد کیے جائیں گے، جن میں سیرت کانفرنسز، تقریری و مباحثے کے مقابلے، تلاوتِ قرآن کریم اور دیگر سرگرمیاں شامل ہوں گی۔ صوبائی وزیر نے بتایا کہ 21 اگست کو ڈویژنل سطح پر حسنِ قرأت و نعت کے مقابلے ہوں گے، جبکہ 24 اگست کو صوبائی سطح پر فائنل مقابلوں کا انعقاد کیا جائے گا۔ نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے شرکاء میں نقد انعامات اور اسناد بھی تقسیم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی سطح پر عظیم الشان سیرت کانفرنس کا انعقاد بھی کیا جائے گا، جس میں ممتاز علماء، مشائخ، خواتین، قرأت و نعت کے ججز، اقلیتی برادریوں کے نمائندوں اور دیگر معزز شخصیات کو مدعو کیا جائے گا۔ کانفرنس میں سیرتِ طیبہ ﷺ کی روشنی میں بین المذاہب ہم آہنگی، رواداری، امن، عدل و انصاف اور انسانی حقوق کے پیغام کو اجاگر کیا جائے گا۔ محمد عدنان قادری نے کہا کہ ریاستِ مدینہ کا ماڈل امن، انصاف، انسانی احترام اور مساوی حقوق کے حوالے سے ایک رہنما اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیرتِ نبوی ﷺ میں تمام انسانوں کے احترام، حسنِ سلوک، برداشت، عدل و انصاف اور مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے ساتھ رواداری کے واضح اصول موجود ہیں، جنہیں موجودہ دور میں معاشرتی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ عشرہ رحمت للعالمین ﷺ کے پیغام کو گھر گھر پہنچانے کے لیے پرنٹ، الیکٹرانک اور ریڈیو میڈیا کے ذریعے خصوصی پروگرامز اور آگاہی مہمات بھی چلائی جائیں گی۔ صوبائی وزیر نے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ عشرہ رحمت للعالمین ﷺ کے تمام پروگراموں میں بھرپور عوامی شرکت کو یقینی بنایا جائے اور سیرتِ طیبہ ﷺ کے پیغامِ رحمت، امن، رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کو معاشرے کے ہر طبقے تک مؤثر انداز میں پہنچایا جائے۔

ادویات کی خریداری میں شفافیت، مسابقتی نرخ اور عوامی وسائل کے بہترین استعمال کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔وزیر صحت

محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے ادویات اور طبی آلات کی خریداری کے عمل میں شفافیت، مسابقتی نرخوں اور سرکاری وسائل کے دانشمندانہ استعمال کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔محکمہ صحت نے پنجاب حکومت کی جانب سے مالی سال 2026-27 کے لیے تقریباً 18 ارب 94 کروڑ روپے مالیت کی ادویات اور طبی آلات کی منظور شدہ خریداری فہرست پر نظرثانی اور اسے منسوخ کیے جانے سے متعلق سامنے آنے والی رپورٹس کا نوٹس لیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق بعض ادویات اور طبی آلات کی قیمتوں میں خیبر پختونخوا کی میڈیکل کوارڈینیشن سیل (MCC) کے حاصل کردہ نرخوں کے مقابلے میں نمایاں فرق سامنے آیا۔رپورٹس کے مطابق تین اشیاء، جن کی خصوصیات اور مطلوبہ معیار یکساں تھے، کی قیمتوں میں مجموعی طور پر تقریباً 1 ارب 60 کروڑ روپے کا فرق سامنے آیا، جس کے بعد معاملے کا جائزہ لیا گیا اور پنجاب حکومت کی جانب سے متعلقہ خریداری فہرست پر نظرثانی کا فیصلہ کیا گیا۔محکمہ صحت خیبر پختونخوا کے مطابق یہ پیش رفت صوبے میں ادویات اور طبی آلات کی خریداری کے لیے اختیار کیے گئے شفاف اور مسابقتی نظام کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ MCC خیبر پختونخوا کے ذریعے مسابقتی بولی، معیاری اسپیسفکیشنز اور شفاف خریداری کے طریقہ کار کو یقینی بناتے ہوئے معیاری ادویات اور طبی آلات کو مسابقتی نرخوں پر حاصل کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ سرکاری خریداری کا مقصد صرف ادویات کی فراہمی نہیں بلکہ عوام کے ہر روپے سے زیادہ سے زیادہ طبی سہولیات اور فوائد حاصل کرنا ہے۔ ادویات کی مسابقتی قیمتوں پر خریداری سے نہ صرف سرکاری خزانے پر بوجھ کم ہوتا ہے بلکہ دستیاب وسائل سے مزید مریضوں کو ضروری ادویات اور طبی سہولیات فراہم کرنے کے مواقع بھی بڑھتے ہیں۔یمحکمہ صحت خیبر پختونخوا نے واضح کیا کہ خریداری کے نظام میں شفافیت، مسابقت، معیاری ادویات، مالیاتی نظم و ضبط اور مؤثر نگرانی کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ عوامی وسائل کا بہترین استعمال یقینی بنایا جا سکے۔محکمہ صحت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شفافیت، جوابدہی، مسابقتی خریداری اور عوامی ہوسائل کا مؤثر استعمال خیبر پختونخوا حکومت کے صحت کے شعبے میں اصلاحات کے بنیادی اصول ہیں اور مریضوں کو معیاری ادویات کی بروقت فراہمی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے بہبود آبادی طفیل انجم نے محکمہ بہبود آبادی کے تمام ضلعی افسران کو ہدایت کی ہے کہ ضلع میں تعینات محکمہ کے تمام ملازمین کی اپنے متعلقہ اضلاع میں حاضری اور فرائض کی انجام دہی ہر صورت یقینی بنائی جائے

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے بہبود آبادی طفیل انجم نے محکمہ بہبود آبادی کے تمام ضلعی افسران کو ہدایت کی ہے کہ ضلع میں تعینات محکمہ کے تمام ملازمین کی اپنے متعلقہ اضلاع میں حاضری اور فرائض کی انجام دہی ہر صورت یقینی بنائی جائے، جبکہ ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے یا اپنے تعیناتی والے ضلع میں فرائض سرانجام نہ دینے والے ملازمین کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔یہ ہدایات انہوں نے پیر کے روز پشاور میں محکمہ بہبود آبادی خیبر پختونخوا کے سالانہ آن لائن جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔ اجلاس میں سیکرٹری بہبود آبادی ڈاکٹر انیلہ محفوظ درانی، ڈائریکٹر جنرل بہبود آبادی عبداللہ، ڈائریکٹر پلاننگ عمران شاہ، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن سلمان اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران صوبے کے تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ پاپولیشن ویلفیئر افسران نے اپنے اپنے اضلاع میں محکمے کی کارکردگی، بجٹ کے استعمال، جاری سرگرمیوں، عوام کو فراہم کی جانے والی خدمات اور درپیش مسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔طفیل انجم نے کہا کہ محکمہ بہبود آبادی کی خدمات کا براہ راست تعلق عوام کی فلاح و بہبود سے ہے، اس لیے افسران اور اہلکاروں کی بروقت حاضری، ذمہ داری اور فرائض کی دیانت داری سے انجام دہی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے ضلعی افسران کو ہدایت کی کہ وہ فیلڈ سرگرمیوں کی مؤثر نگرانی کریں اور اس امر کو یقینی بنائیں کہ سرکاری وسائل اور افرادی قوت عوام کو بہتر اور بروقت خدمات کی فراہمی کے لیے استعمال ہو۔معاون خصوصی نے مزید ہدایت کی کہ ضلعی سطح پر محکمہ کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے درپیش مسائل کی نشاندہی کرکے ان کے فوری حل کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں، جبکہ ترقیاتی و غیر ترقیاتی بجٹ کے شفاف اور مؤثر استعمال کو بھی یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ بہبود آبادی کو مزید فعال، مؤثر اور عوام دوست بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور ضلعی افسران اپنی ذمہ داریاں پوری تندہی سے ادا کریں تاکہ محکمہ کی خدمات کے ثمرات صوبے کے عوام تک مؤثر انداز میں پہنچ سکیں۔

عوامی مسائل کے حل کے لیے بھر پور اقدامات جاری ہیں ملک لیاقت علی خان

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و ویمن ایمپاورمنٹ ملک لیاقت علی خان نے اپنے دفتر مختلف عوامی وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی مسائل و مشکلات کا صوبائی حکومت کو بھر پور احساس ہے اور ان مسائل کے حل کے لئے بھر پور اقدامات جاری ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر میں مختلف عوامی وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر شہریوں نے اپنے درپیش مسائل اور مختلف امور سے متعلق مشیر وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا، جنہوں نے ان کی بات غور سے سنی اور مسائل کے حل کے لیے متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات جاری کیں۔ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ عوامی خدمت ان کی اولین ترجیح ہے اور عوام کے لیے ان کے دفتر کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔ شہری بلا جھجھک اپنے مسائل کے حل کے لیے ان سے رابطہ کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو درپیش مسائل کے حل اور مستحق و کمزور طبقات کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ سماجی بہبود کے شعبے میں عوامی ریلیف اور فلاحی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ملک لیاقت علی خان نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ عوام کی جانب سے پیش کیے جانے والے جائز مسائل پر فوری توجہ دی جائے اور ان کے حل کے لیے قانون و ضابطے کے مطابق ہر ممکن اقدامات یقینی بنائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ عوام سے براہِ راست رابطہ مسائل کو بہتر انداز میں سمجھنے اور ان کے مؤثر حل کے لیے انتہائی اہم ہے، اس لیے عوامی ملاقاتوں کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔

Global Recognition for KP’s Digital Initiatives: KPITB Selected for Prestigious International Award

Khyber Pakhtunkhwa Minister for Information and Public Relations Shafi Jan has said that Khyber Pakhtunkhwa’s performance in technology and digital development is being recognized at the global level, which is a proud moment for both the province and the country.
He said that the Khyber Pakhtunkhwa Information Technology Board (KPITB) has won the ASOCIO Government Award 2026 in recognition of its outstanding performance in the digital sector, innovation, and promotion of digital governance. He said the award recognizes the KP Government’s initiatives for digital governance, digitization of public services, and provision of modern facilities to citizens.
The Minister information said that the recognition of KPITB’s performance by ASOCIO, a leading technology organization in the Asia-Oceania region, is a matter of pride for the government and people of Khyber Pakhtunkhwa. He added that ASOCIO’s federation comprises 24 member countries, including Australia, Japan, South Korea, India, Thailand, and New Zealand.
Shafi Jan said the KP Government is making extensive use of modern technology to improve public services, simplify government facilities, and make the governance system more effective.
He said that, in line with the vision of Founding Chairman Imran Khan, Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa Sohail Afridi has placed special focus on Digital Khyber Pakhtunkhwa, under which citizens are being provided with modern, fast, and convenient digital services.
Shafi Jan said that under the leadership of Chief Minister Sohail Afridi, making Khyber Pakhtunkhwa a hub of modern technology is among the top priorities of the provincial government. Through digital governance and promotion of technology, the delivery of public services is being made easier, more transparent, and more efficient.
He said the KP Government is fully committed to advance its digital reform agenda and will continue taking steps to further strengthen the province’s position in digital development and enhance its global recognition.
The award will be formally presented to the Khyber Pakhtunkhwa Information Technology Board during the ASOCIO Summit in Indonesia, which will be held from October 5 to 7, 2026, in Jakarta, the capital of Indonesia.
He said that this international recognition is clear evidence of the KP Government’s success in implementing its digital policy and effectively using technology to improve public services.

It is worth noting that, over the past few years, the province has received numerous national and international awards and widespread recognition in IT sector including the PASHA ICT Awards, WSIS Awards, and APTICA Award.

Unequal Federal Resource Distribution Fuels Deprivation Among Provinces: KP Finance Adviser Muzzammil Aslam

Advisor to the KP Chief Minister on Finance Muzzammil Aslam has expressed serious concern over the federal government’s alleged unequal distribution of resources among the provinces, asking why the system is “collapsing” and whether smaller provinces are deliberately being kept behind Punjab. He said the federal government’s unbalanced decisions have created a clear disparity in the distribution of resources among the provinces.
The Finance Adviser questioned why Punjab was being given higher payments under the head of Net Hydel Profit (NHP) compared with Khyber Pakhtunkhwa, despite KP having greater hydropower resources than Punjab. He said that last year, the federal government paid Rs96.8 billion to Punjab, while KP received only Rs30 billion. Thus, Punjab received Rs66.8 billion more than KP in a single year.
He said figures for the past three years also highlighted the same imbalance. During this period, Punjab received Rs106.2 billion more than Khyber Pakhtunkhwa. “The question is, what kind of justice is this?” he asked.
Muzzammil Aslam said that if the federal government was continuously providing additional resources to support the Maryam Nawaz-led Punjab government, this should not be done by withholding the rights and resources of other provinces. “The rights and resources of other provinces cannot be sacrificed to keep the Punjab government on a ventilator,” he said.
He further said that while Punjab was being provided additional resources, its share in the divisible pool under the NFC also stood at 51.5 percent. Despite this, he said, the delay in payments of legitimate dues and entitlements to other provinces was inexplicable.
The Finance Adviser also questioned the distribution of federal development projects, saying that out of 786 federal development projects, only seven were included for Khyber Pakhtunkhwa. He said that after excluding funds for the merged districts from the federal development budget of around Rs1,000 billion for the current year, only Rs2.2 billion had been allocated for Khyber Pakhtunkhwa, describing it as a serious injustice to the province.

Muzzammil Aslam questioned whether the Prime Minister’s association with Lahore meant that the resources of the rest of Pakistan should be used in an unbalanced manner. He said the federal government belonged to all provinces of Pakistan and that resources must be distributed according to constitutional, fair and transparent principles.
He said that instead of purchasing aircraft worth Rs11 billion from the resources of other provinces and naming certain projects after family members, the federal government should prioritize payment of the provinces’ outstanding dues and fulfillment of their constitutional rights.
The Finance Adviser also expressed concern over the silence of the ruling party and its allied representatives on the issue of Khyber Pakhtunkhwa’s rights. He said the people of the province expected their representatives to raise their voice for KP’s constitutional and financial rights.
Muzzammil Aslam made it clear that Khyber Pakhtunkhwa would demand immediate payment of its outstanding dues in response to the federal government’s unilateral and unbalanced policies. “If the federal government has resources to pay Punjab’s dues, why is financial difficulty being cited as a justification for delaying payments to Khyber Pakhtunkhwa?” he asked.
He urged the federal government to end discrimination among the provinces and ensure fair distribution of resources, timely payment of outstanding dues and respect for constitutional rights, saying equal treatment of all provinces was essential for a strong federation.

منشیات کے خلاف محکمہ ایکسائز کا کریک ڈاؤن، نوشہرہ اور پشاور میں 7.2 کلو چرس اور 10 کلو ہیروئن برآمد

محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول خیبرپختونخوا کے تحت منشیات کے خلاف جاری اپریشن کے سلسلے میں پشاور اور نوشہرہ میں دو الگ الگ تازہ کامیاب کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 10 کلوگرام ہیروئن اور 7.2 کلوگرام چرس برآمد کر کے منشیات کی سمگلنگ کی کوششیں ناکام بنا دی گئیں، جبکہ ایک ملزم کو گرفتار کرکے مقدمات بھی درج کر لیے گئے۔
محکمہ ایکسائز سے موصولہ تفصیلات کے مطابق ایکسائز بیورو آف انٹیلیجنس اینڈ انویسٹیگیشن سکواڈ نے پشاور میں کوہاٹ روڈ پر ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے ٹرک نمبر TAC-451 کو روک کر تلاشی لی۔ تلاشی کے دوران ٹرک میں چھپائی گئی 10 ہزار گرام (10 کلوگرام) ہیروئن برآمد ہوئی۔
کارروائی کے دوران ملزم نور محمد ولد قاری، ساکن افغانستان کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا۔ ملزم کے خلاف مزید تفتیش اور قانونی کارروائی کے لیے تھانہ ایکسائز پشاور میں مقدمہ درج کردیا گیا ہے۔دوسری کارروائی میں تھانہ ایکسائز نوشہرہ نے عجب باغ چیک پوسٹ کے قریب ایک فلائنگ کوچ نمبر C-4011 سوات کو روک کر تلاشی لی، جس کے دوران 7200 گرام (7.2 کلوگرام) چرس برآمد کرکے منشیات کی سمگلنگ کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔
برآمد شدہ منشیات کو تحویل میں لے کر مزید تفتیش اور قانونی کارروائی کے لیے تھانہ ایکسائز نوشہرہ میں مقدمہ بھی درج کردیا گیا ہے۔