Home Blog Page 366

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواکے معاون خصوصی برائے بہبود آبادی اور پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما ملک لیاقت علی خان نے کہا

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواکے معاون خصوصی برائے بہبود آبادی اور پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما ملک لیاقت علی خان نے کہا ہے کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کا دارومدار براہِ راست بہبود آبادی اور خاندانی منصوبہ بندی سے ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین گنڈاپور بہبودِ آبادی پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں کیونکہ عوام کو ریلیف دینا عوامی ایجنڈا میں اولین ترجیح ہے۔ پاکستان کی ترقی کے لیے ہر کام خلوص نیت اور دیانتداری کے ساتھ فرض سمجھ کر سب ملکر کام کرینگے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈسٹرکٹ پاپولیشن ویلفیئر آفیسرز کے لیے منعقدہ ایک روزہ سیمینار
Sensitization on National Narrative for Population Growth (TAWAZUN)
میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔سمینار میں سیکرٹری بہبودِ آبادی عماد علی لوہانی، ڈائیریکٹر جنرل بہبود آبادی عائشہ احسن اور بہبودِ آبادی کے ڈسٹرکٹ افسران نے شرکت کی۔ سیمینار میں محکمہ کی طرف سے معاون خصوصی کو ایک سالہ کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ سیمینار سے خطاب میں ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ ہمیں دنیا کے ساتھ قدم ملا کر چلنا ہوگا ورنہ جدید دور میں ہم بہت پیچھے رہ جائیں گے بہتر زندگی کے لیے لوگوں میں بہبودِ آبادی اور خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے شعور پیدا کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ غذائی، پانی، صحت کی سہولیات اور دیگر وسائل کی فراہمی مشکل ہو جاتی ہے۔ خاندانی منصوبہ بندی سے ماؤں اور بچوں کی صحت بہتر ہوتی ہے اور زچگی کے دوران پیچیدگیوں میں کمی آتی ہے۔لوگوں کو بہترین تولیدی صحت کی سہولیات ان کی دہلیز پر یقینی بنانے کے لیے دیہی سطح پر مراکز کو مزید فعال بنائینگے۔ ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ چھوٹے خاندان زیادہ بہتر مالی منصوبہ بندی کر سکتے ہیں اور بچوں کو اچھی تعلیم و تربیت فراہم کر سکتے ہیں جس سے بے روزگاری، غربت اور بے گھری جیسے مسائل کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاندانی منصوبہ بندی اور بہبودِ آبادی کی پالیسیوں کو فروغ دے کر، معاشرتی اور اقتصادی استحکام حاصل کیا جا سکتا ہے جو ایک ترقی یافتہ معاشرے کی ضامن ہو سکتی ہیں۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے محنت فضل شکورخان نے کہا ہے کہ لیبر ڈیپارٹمنٹ کے زیر انتظام چلنے والے تعلیمی اداروں کی معیار بہتر بنانے کیلیے

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے محنت فضل شکورخان نے کہا ہے کہ لیبر ڈیپارٹمنٹ کے زیر انتظام چلنے والے تعلیمی اداروں کی معیار بہتر بنانے کیلیے موجودہ صوبائی حکومت عملی اقدامات اٹھا رہی ہے ورکرز ویلفئیر بورڈ خیبر پختونخوا کے سکولوں کے تعلیمی نظام کو مذید بہتر بنائینگے اور ان سکولوں کو صوبے کے بہترین تعلیمی اداروں کے صف میں کھڑا کرینگے انہوں نے اساتذہ کو تاکید کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے ساتھ محنت کریں کیونکہ ان سٹوڈنٹس کا مستقبل آپ کے ہاتھوں میں ہے والدین کے بعد ان بچوں کی سب سے ذیادہ ذمہ داری اساتذہ پر ہوتی ہے صوبائی وزیر نے ان خیالات کا اظہار ورکنگ فوکس گرائمر سکول مردان کے سٹوڈنٹس کی حالیہ بورڈ امتحان میں نمایاں اور اپنے سکول میں ٹاپ پوزیشن لینے والے اور مختلف ٹیکنیکل کورسز مکمل کرنے والے طلباء وطالبات میں سرٹیفیکیٹس تقسیم کرنے کے حوالیسے منعقدہ تقریب سے بطورمہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر انکے ہمراہ صوبائی وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو، ارکین صوبائی اسمبلی عبدالسلام آفریدی، احتشام آفریدی، سیکرٹری ڈبلیو ڈبلیو بی،ایڈیشنل سیکرٹری لیبر، ڈی جی ای ایس ایس آئی، ڈائریکٹر لیبر سمیت محکمہ محنت کے دیگر افسران، سکول پرنسپل، اساتذہ، طلبہ اور والدین نے کثیر تعداد میں شرکت کی تقریب کا انعقاد ورکنگ فوکس گرائمر ہائیر سیکنڈری سکول مردان میں ہوا صوبائی وزراء فضل شکورخان اور ظاہر شاہ طورو نے میٹرک کے امتحان میں پوزیشن ہولڈرز اورمختلف ٹیکنیکل کوسرز مکمل کرنے والے طلباء وطالبات میں سرٹیفیکیٹس تقسیم کئے صوبائی وزیر فضل شکورخان نے ورکنگ فوکس گرائمر سکول مردان کے میٹرک امتحان میں ایک ہزار سے زائد نمبر حاصل کرنے والے ہر سٹوڈنٹس کیلیے 10ہزار روپے کا اعلان کیا اور ڈائریکٹر ایجوکیشن لیبر ڈیپارٹمنٹ کو فوری طور پر کیش ادا کرنے کی ہدایات جاری کئے تقریب سے خطاب میں صوبائی وزیر فضل شکورخان کا کہنا تھا کہ کی کسی کی محنت رائیگاں نہیں جاتا محنت کرنے والوں کو اسکی محنت کا صلہ اور بدلہ ضرور ملتا ہے انہوں نے امید ظاہر کی کہ ورکنگ فوکس گرائمر سکولوں کے سٹوڈنٹس آگے ابھی اسی طرح محنت جاری رکھیگی اور اچھے کالجز اور یونیورسٹیز میں داخلے لینیگے اور تعلیم کو ادھورا نہیں چھوڑینگے انہوں نے کہا کہ یہی بچے قوم کا قمیتی اثاثہ ہے اور انہی بچوں نے آگے بڑھ کر مستقبل میں ملک کی بھاگ دوڑ سھنبالنا ہے انہوں نے کہا کہ محکمہ محنت میں عملی کام جاری ہے پچھلے 5 سالوں سے مزدوروں کے بچوں کے سکالرشپس کیسز زیر التواء پڑے تھے جن پر محکمہ کے متعلقہ افسران کو مسئلہ تیزی سے حل کرنے کے احکامات جاری کئے تھے اللہ کے کرم سے سکالرشپس کی اہلیت رکھنے والے تمام سٹوڈنٹس کو سکالرشپ فنڈز جاری کیا ہوا ہے اور تمام زیر التواء کیسز ختم ہوگئے ہیں انہوں مذید کہا کہ محکمہ لیبر کے زیر انتظام چلنے والے ورکرز ولیفئیر بورڈ کے سکولوں کی تعلیمی معیار کو اتنا بہتربنائینگے کہ ان کا شمار صوبے کی بہترین تعلیمی اداروں میں ہوگا انہوں سکول کے اساتذہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ورکنگ فوکس گرائمر سکولز میں بہتری اور معیاری تعلیم اانکے اساتذہ کا بچوں کی محنت اور کوشش کے بغیر ممکن نہیں ہے صوبائی وزیر نے اسی مہینے سے ورکرز ویلفئیر بورڈ کے ملازمین کی تنخواہوں میں 25فیصد اضافے اور اسی سال ٹائم سکیل پروموشن اور اپگریڈیشن کی یقین دہانی کرائی۔

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے زیر تعمیر یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز سوات کا دورہ

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے زیر تعمیر یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز سوات کا دورہ کیا جہاں پر انہیں یونیورسٹی کے حوالے سے بریفنگ دی گئی صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے زیر تعمیر یونیورسٹی کے حوالے سے درپیش مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی اس موقع پر سیکرٹری لائیو سٹاک محمد فخر عالم، ڈی جی ڈاکٹر اصل خان، سیکرٹری لائیو سٹاک اینڈ ریسرچ اعجاز، سیکرٹری فشریز محمد شفیع مروت اور دیگر بھی تھے اس موقع پر صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی کو یونیورسٹی پر اب تک کی پیش رفت اور فنڈز فراہمی سے متعلق بریفنگ دی گئی بریفننگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ یونیورسٹی کی تعمیراتی کام شروع کرنے کیلئے ایک بلین روپے درکار ہے تاکہ کام تیزی سے جاری رکھا جا سکے، یونیورسٹی ڈیزائن کے علاوہ کوئی فنڈز جاری نہیں کئے گئے ہیں اور اس کے علاوہ 2022 کے فلڈ میں یونیورسٹی سائٹ کا کافی حصہ بھی سیلاب سے متاثر ہوا جس کیلئے ڈپٹی کمشنر سوات کو بھی سیکشن فور کیلئے تفصیلات دئیے گئے ہیں صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا کہ یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز سوات کے جتنے بھی مسائل ہیں وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور کو آگاہ کرکے حل کردئیے جائیں گے صوبائی وزیر نے واضح کیا کہ اصل مقصد طلبا و طالبات کو جدید تعلیم و تحقیق کے مواقع فراہم کرنا ہے جس کے لیے تدریسی و تحقیقی سرگرمیوں کا اجراء ناگزیر ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی کی مستقل عمارت کی تعمیر پر کام تیز کرنے کی ہدایت کی اور کہا ہے کہ حکومت اس مقصد کے لیے درکار وسائل کی فراہمی یقینی بنائے گی۔ صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے مذکورہ یونیورسٹی کے قیام کو اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینمل سائنسز کے قیام سے نہ صرف اس شعبے میں دلچسپی لینے والے طلبا و طالبات کو معیاری تعلیم و تحقیق کی سہولت میسر آئے گی بلکہ یہ منصوبہ لائیوسٹاک اور دیگر متعلقہ شعبوں کی ترقی کیلئے بھی سنگ میل ثابت ہوگا۔

خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت میجر (ر) محمد سجاد بارکوال نے سرکی لواغر کے مشران کو یقین دلایا ہے

خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت میجر (ر) محمد سجاد بارکوال نے سرکی لواغر کے مشران کو یقین دلایا ہے کہ پولیس سمیت کوئی بھی ادارہ کسی بے گناہ کے ساتھ زیادتی نہیں کر سکتا اور علاقے کے مسائل مشران کے باہمی مشاورت اور افہام و تفہیم سے حل کریں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گل رؤف خٹک کی قیادت میں سرکی لواغر کے مشران کیساتھ ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف تحصیل کرک کے صدر عاصم خٹک بھی موجود تھے۔ سرکی لواغر مشران نے حالیہ افسوسناک واقعہ پر دلی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور قوم نے آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے اپنا کردار ادا کرنے پر اتفاق کیا۔ مشران نے صوبائی وزیر زراعت کو سرکی لواغر کے افسوسناک واقع کے بعد گاؤں کو پیش آنے والے مشکلات سے آگاہ کیا اور انہیں اس سلسلے میں اپنا آئینی اور قانونی کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔ وزیر زراعت سجاد بارکوال نے مشران کو اس معاملے پر اپنا کردار ادا کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اس معاملے پر ڈی پی او کرک کے ساتھ بات ہوئی ہے اور انشاء اللہ آج ڈی پی او کے ساتھ معاملے کے حل پر دوبارہ گفتگو ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون سب کیلئے قابل احترام ہے اور پوری قوم قانون کی پاسداری کیلئے ہمہ وقت تیار ہے۔ کسی بے گناہ کے ساتھ کوئی بھی ادارہ زیادتی نہیں کرسکتا، پولیس اور عوام ایک دوسرے کی طاقت ہے، ملکر علاقائی رواج اور قانونی کے مطابق تمام معاملات حل کریں گے۔ پوری قوم پولیس کے ساتھ مجرم کے حوالے سے بھر پور تعاون کریگی اور کوئی بھی رکاؤٹ نہیں ڈالے گی۔ سرکی لواغر کے مشران اور پولیس دونوں ہمارے لئے قابل عزت و احترام ہیں، انشاء اللہ پولیس کے ساتھ مل کر اس معاملے کو باہمی افہام و تفہیم اور مشاورت سے حل کریں گے۔

خیبر پختونخواکے وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی کی زیر صدارت محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا کے اساتذہ کے مطالبات

خیبر پختونخواکے وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی کی زیر صدارت محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا کے اساتذہ کے مطالبات اور ان کے مسائل کے حل کیلئے قائم کی گئی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں ایڈیشنل سیکرٹری تعلیم فیض عالم، ایڈیشنل ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد اقبال اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی کو اساتذہ کی مختلف یونینز کی طرف سے پیش کئے گئے مطالبات اور ان کے مسائل پر بریفنگ دی گئی۔ وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا کہ حکومت اساتذہ کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ ہے اور مختلف مسائل کے حل کیلئے کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کا اجلاس بھی اسی سلسلے میں منعقد کیا گیا ہے تاکہ کمیٹیوں کے اٹھائے گئے اقدامات پر بریفنگ لے سکیں۔ انہوں نے ہدایت جاری کی کہ ایک ہفتے کے اندر اساتذہ کے سی پی فنڈ مسائل کے حل کے لیے سیکرٹری لیول اجلاس بلائی جائے جس میں سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری قانون، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ اور سیکرٹری تعلیم موجود ہوں گے جبکہ وزیر تعلیم خود اس اجلاس کی صدارت کریں گے۔ وزیر تعلیم نے حکام کو ہدایت جاری کی کہ اجلاس کے موقع پر تمام تیاری مکمل کی جائے اور ایک جامع اور قابل عمل رپورٹ مرتب کی جائے جس کی روشنی میں حکومت مطلوبہ فورم سے باضابطہ اور قانون کے مطابق منظوری کے لیے رپورٹ گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی معاشی حالت ٹھیک نہیں ہے تاہم حکومت پھر بھی اساتذہ کے جائز مطالبات کے حل کے لیے اقدامات کر رہی ہے تاکہ اساتزہ کے مسائل حل ہو سکیں۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ ہم نے سابقہ ادوار میں بھی اساتذہ کے لیے اسانیاں پیدا کی ہیں اور ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے ہیں اور ہماری اب بھی کوشش ہوگی کہ اساتذہ کے مسائل حل کریں تاکہ وہ تمام تر توجہ طلبہ و طالبات پر دیں۔

وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے مشیر برائے امور نوجوانان اور کھیل سید فخر جہان کا عالمی یوم نوجوانان کے موقع پر پیغام

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے کھیل اور امور نوجوانان سید فخر جہان نے 12 اگست کو نوجوانوں کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ہر سال پوری دنیا میں اس تاریخی اور اہم دن کے منانے کا مقصد نوجوانوں کی ترقی کے لیے مواقع تلاش کرنا اور انکے مسائل کے ازالے کے بارے میں شعور بیدار کرنا ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان میں کل آبادی کا نصف سے زیادہ حصہ نوجوان طبقے پر مشتمل ہے اور یہی نوجوان ہی ہمارا اصل اثاثہ ہیں جس کی حقیقت کو سمجھتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیر مین عمران خان اور ہماری صوبائی حکومت کا ویژن بلکل واضح ہے۔ مشیر کھیل نے کہا کہ وہ عالمی یوم نوجوانان کے اس اہم دن کے موقع پر ملک کے نوجوانوں کو خصوصی مبارکباد پیش کرتے ہیں کیونکہ نوجوان اس ملک و ریاست کے حقیقی مستقبل ہیں۔مشیر کھیل کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے نوجوان انتہائی متحرک ہیں اور ہمیں اقبال کیان شاہینوں پر پختہ یقین ہے کہ ہمارے ملک کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے۔انھوں نے کہا کہ ہمارے نوجوانوں میں خداداد صلاحیتیں موجود ہیں جو ہر شعبے میں اپنی کامیابی کا لوہا منوا سکتے ہیں۔مشیر کھیل نے کہا کہ ہم صوبے میں بانی چیر مین اور وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے ویژن کے تحت نوجوانوں کی ترقی،خودمختاری اورکامیابی کیلئے کوششوں میں مصروف عمل ہیں۔ان کے لئیے ایک میگا یوتھ بزنس لون سکیم شروع کررہے ہیں جو سود فری ہوگا تاکہ ہمارے نوجوان اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔انھوں نے کہا کہ یہ منصوبہ اس صوبے اور قوم کے مستقبل کی خاطر ایک مفید اور بہتر سرمایہ کاری سمجھتے ہیں جن پر ہم گامزن ہیں۔

> خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن خلیق الرحمان کی زیر صدارت گورنمنٹ ٹیکسوں کی وصولیوں کے حوالے سے ماہانہ جائزہ اجلاس پشاور میں منعقد ہوا

جس میں محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے سیکر ٹری، ڈائریکٹر جنرل، ڈائریکٹر ریونیو تمام علاقائی ڈائریکٹرز اور ای ٹی او آفیسرز نے شرکت کی۔ اس موقع پروزیر موصوف کو ٹیکسز کے حصول کے حوالے سے اعدادوشمار سے آگاہ کیا گیا جس پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیر ایکسائز نے کہا کہ ٹیکسز کا حصول موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس حوالے سے جو بھی مسائل درپیش ہیں ان کو ترجیحی بنیادوں پر جلد از جلد کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ محکمے ایکسائز میں ایچ ار کی کمی ہے کو جلد از جلد دور کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ اجلاس میں تمام علاقائی دفاتر کے چیک پوائنٹس اور ہیڈ آفس کے مابین باہمی رابطے کے نظام میں بہتری لانے کے امور پر بھی تفصیلی غور خوض کیا گیااور بہتر تجاویز پیش کی گئیں تاکہ ٹیکسوں کے حصول کو وسیع کر کے مقرر کردہ اہداف کو حاصل کیا جا سکے۔ اسی طرح ٹیکسوں کے حوالے سے سیمنارز،ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز اوراخبارات سمیت میڈیا آگاہی مہم چلانے پر بھی اتفاق کیا گیا اور وزیر ایکسائز کی ہدایات کی رشنی میں ایکسائز اور ٹیکسیشن کے نظام میں جدیدیت، شفافییت اور احتساب کے عمل کو یقنینی بنانے پر توجہ مرکوز کرنے کا بھی اعادہ کیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر ایکسائز نے واضح احکامات جاری کئے کہ ٹیکسوں کا حصول صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور انہی ٹیکسوں کی بدولت عوام کی فلاحی اقدامات اور صوبے کے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل ہوتی ہے اور ایک ترقی یافتہ قوم ٹیکسوں کے شفاف حصول اور منصفانہ تقسیم ہی سے قائم رہ سکتی ہے۔ اجلاس میں صوبائی وزیر نے محکمے کی گزشتہ مہینے کی مجموعی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا اور ا ٓئندہ مہینے کے اہداف کے حوالے سے متعلق تمام متعلقہ افسران کو احکامات جاری کئے کہ وہ اپنی تمام تر توانایؤں کو بروکار لا تے ہوئے ٹیکس نادہندہ گان کی نشاندہی کریں اور ان کو ایک ذمہ دار شہری کی طرح ٹیکس کے دائرہ میں شامل کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن اور لینڈ سٹلیمنٹ کے عمل کو بروقت مکمل کرنے کی ہدایت۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈا پور نے محکمہ مال کی استعداد کو مزید بڑھانے کیلئے تمام اہم پوسٹوں پر میرٹ اور کارکردگی کی بنیاد پر افسران تعینات کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ جن افسران کی کارکردی اچھی ہوگی، انہیں اسکا صلہ ضرور دیا جائے گا۔ اُنہوں نے بورڈ آف ریونیو کے تحت زمینوں کے ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن اور لینڈ سٹیلمنٹ کے عمل کی رفتار کو تیز کرنے اورمقررہ وقت میں مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت اس مقصد کےلئے درکار تمام وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرے گی۔ وہ پیر کے روز بورڈ آف ریونیو کے ایک اجلاس کی صدارت کررہے تھے۔صوبائی وزیر برائے محکمہ مال نذیر عباسی ، چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو اکرام اللہ خان اور وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان کے علاوہ محکمہ مال کے متعلقہ حکام بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔ اجلاس کو زمینوں کے ریکارڈکی کمپیوٹرائزیشن اور لینڈسٹیلمنٹ پر اب تک کی پیشرفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبہ بھر میں مجموعی طور پر اب تک 2876 موضع جات آپریشنل کر دئیے گئے ہیں جبکہ باقی ماندہ موضع جات کی آپریشنلائزیشن پر کام تیز رفتاری سے جاری ہے۔مجموعی طور پر 19 اضلاع میںفیز ون اور ٹو کے تحت 81 فیصد لینڈ ریکارڈز کی کمپیوٹرائزیشن مکمل کر لی گئی ہے۔ اجلاس کو ضلع وار پیشرفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ ضلع مردان، بونیر ، کوہاٹ ، ٹانک ، شانگلہ اور ہنگو کے سو فیصد موضع جات آپریشنل کر دئیے گئے ہیں ، پشاور اور ایبٹ آباد کے 98 فیصدموضع جات آپریشنل ہو گئے ہیں، اسی طرح صوابی کے84 فیصد ، نوشہرہ83فیصد ، ہری پور اور بنوں79 فیصد، بٹگرام اور سوات 75 فیصد ، لکی مروت 71 فیصد، ڈی آئی خان 70 فیصد ، چارسدہ 69 فیصد، کرک 68 فیصداور مانسہرہ کے47 فیصد موضع جات آپریشنل کر دئیے گئے ہیں۔ اجلاس کو لینڈ سٹیلمنٹ اور ری سٹیلمنٹ پر پیشرفت بارے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ضلع نوشہرہ میں اب تک 60 میں سے 52 موضع جات کی ری سٹیلمنٹ مکمل کر لی گئی ہے جو 87 فیصد بنتی ہے، مانسہرہ میں 260 میں سے 186 موضع جات کی ری سٹیلمنٹ مکمل ہو گئی ہے جو مجموعی طور پر 72 فیصد بنتی ہے ۔ اسی طرح ضلع ایبٹ آباد میں 111 موضع جات میں سے 57 موضع جات کی بھی ری سٹیلمنٹ مکمل کی گئی ہے جو 51 فیصد بنتی ہے ۔ مزید برآں ضلع ملاکنڈ ، دیر لوئر، دیر اپر اور کالام اور ضم اضلاع میں بھی لینڈ سٹیلمنٹ پر اب تک کی پیشرفت کے بارے میں اجلاس کو آگاہ کیا گیا ۔ وزیراعلیٰ نے لینڈ سٹیلمنٹ کوانتہائی اہم قرار دیتے ہوئے سٹیلمنٹ کے عمل کو مقررہ ٹائم لائنز کے مطابق مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ لینڈسیٹلمنٹ کی تکمیل سے زمینوں سے متعلق تنازعات میں بھی کمی آئیگی۔ بعدازاں ایجوکیشن ٹیسٹنگ اینڈ ایولولیشن ایجنسی (ایٹا)کے بورڈ آف بورڈ آف گورنر کے 32 ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے سرکاری محکموں میں بھرتیوں کے عمل کو مزید بہتر اور شفاف بنانے کیلئے درکار آلات خریدنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ امتحانی ہالوں میں جیمرز کی تنصیب سے موبائل اور دیگر ڈیوائسسز کے استعمال کو موثر انداز میں روکا جا سکتا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ اصل مقصد ٹیسٹنگ کے عمل میں شفافیت یقینی بنانا ہے جس کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں ۔ اُنہوںنے ایٹا کے تحت مختلف قسم کے ٹیسٹس کے انعقاد کیلئے پہلے سے موجود فیس سٹرکچر کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ ہم لوگوں کے معاشی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایٹا ٹیسٹ کی فیس میں کوئی اضافہ نہیں کر رہے ۔ اجلاس میں ایٹا کے بجٹ 2024-25 اور دیگر متعلقہ اُمور کی بھی منظوری دی گئی ۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ بورڈ کے سابقہ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں پر عمل درآمد ہو چکا ہے ۔ صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی ، پرنسپل سیکرٹری برائے وزیراعلیٰ امجد علی خان کے علاوہ ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ایٹا اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔

وزارت خزانہ خیبر پختونخوا نے مزید 3 ارب صحت کارڈ کے لئے جاری کر دئیے مشیر خزانہ خیبرپختونخوا

مارچ میں حکومت آنے کے بعد سے اب تک 10.5 ارب جاری کر دئیے ہیں مزمل اسلم

فری ادوایات کے لئے فنڈز علیحدہ سے جاری کر دئیے ہیں مشیر خزانہ خیبرپختونخوا

پانچ ماہ میں صحت کارڈ کے زریعے 363,000 لوگوں کا علاج ممکن ہوا مشیر خزانہ خیبرپختونخوا

جس میں 104,000 لوگوں نے صحت کارڈ پلس کی سہولت نجی ہسپتال سے حاصل کی ہے مزمل اسلم

موجودہ حکومت نے اپنے ماہانہ صحت کارڈ اخراجات کو ریفارم کرکے دو ارب تک پہنچا دیا مزمل اسلم

معیار کو بہتر کرکے عوام سرکاری ہسپتالوں کو ترجیح دے رہے ہیں مشیر خزانہ خیبرپختونخوا

اب تک صرف صحت کارڈ سے 260,000 لوگوں سرکاری ہسپتال سے علاج کرایا ہے مزمل اسلم

خیبرپختونخوا کو مالی بخران زدہ صوبہ قرار دینے والوں کیلئے یہ جواب ہی کافی ہے مزمل اسلم

وزیر اعلی علی امین گنڈہ پور اور چیرمین عمران خان کا ویژن عوامی خدمت ہے مشیر خزانہ خیبرپختونخوا

آنے والے دنوں میں عوام کے لئے مزید خوشخبریاں ہیں اور انشاءللہ اپنے خزانے سے انہیں پورا کریں گے مزمل اسلم

بس ٹک ٹاک حکومت کے لئے ایک مشورہ آپ نے گھبرانا نہیں مزمل اسلم

چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری نے پاکستان بھر کی مذہبی اقلیتوں خصوصاً خیبرپختونخوا میں رہنے والی اقلیتی برادری کو

چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری نے پاکستان بھر کی مذہبی اقلیتوں خصوصاً خیبرپختونخوا میں رہنے والی اقلیتی برادری کو ان کے قومی دن کے موقع پر مبارکباد دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی برادری کا پاکستان کی قومی تعمیر وترقی میں کردار اور مختلف شعبوں میں ان کی نمایاں خدمات قابل ستائش ہیں۔ انہوں نے قائداعظم محمد علی جناح کی تاریخی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات پر روشنی ڈالی کہ پاکستان کی شناخت اس کے غیر مسلم شہریوں کے بغیر نامکمل ہے جس کی علامت کو قومی پرچم میں سفید پٹی کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔انہوں نے اقلیتوں کی حمایت کے لیے پاکستان کی جاری کوششوں کی بھی نشاندہی کی، جس میں سرکاری عہدوں پر ملازمتوں کا 5 فیصد کوٹہ اور پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں مخصوص نشستیں شامل ہیں تاکہ سیاسی اور اقتصادی شعبوں میں ان کی فعال شرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ اقلیتوں کو درپیش منفرد چیلنجز سے نمٹنے اور ان کو بااختیار بنانے کے لیے پالیسیاں اور اقدامات موجود ہیں۔ انہوں نے مذہبی سکالرز اور میڈیا پر زور دیا کہ وہ عوام کو اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں آگاہ کریں اور محبت، رواداری اور اتحاد کی ثقافت کو فروغ دیں۔ چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اجتماعی کوششوں سے پاکستان ایک مضبوط اور خوشحال ملک بن سکتا ہے، جہاں ہر فرد کو ترقی کی منازل طے کرنے اور قومی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے کا موقع ملتا ہے۔