Home Blog Page 375

ورلڈ سپورٹس جرنلسٹس ڈے کے حوالے سے خیبر پختونخوا اسمبلی میں تقریب

> مشیر کھیل سید فخر جہان کی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت

خیبر پختونخوا رائٹرز ایسوسی ایشن نے پاکستان سپورٹس رائٹرز فیڈریشن اور سپورٹس جرنلسٹس کی عالمی تنظیم اے آئی پی ایس کے تعاون سے ورلڈ جرنلسٹس ڈے منایا جبکہ اس موقع پر اے آئی پی ایس کے سو سال مکمل ہونے پر سالگرہ کیک بھی کاٹا گیا۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے کھیل اور امور نوجوانان سید فخر جہان اس حوالے سے صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں منعقدہ پر وقار تقریب میں مہمان خصوصی تھے۔ تقریب میں کرکٹر محمد رضوان، سکواش کے سابق عالمی چیمپئن شپ قمر زمان، اے آئی پی ایس ایشیا کے سیکرٹری امجد عزیز ملک، پشاور پریس کلب کے سابق صدر ایم ریاض، سپورٹس رائٹرز ایسوسی خیبر پختونخوا کے صدر عاصم شیراز، سابق اولمپئن رحیم خان، پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن کے صدر سید اظہر علی شاہ، پشاور ڈسٹرکٹ کرکٹ ایسوسی ایشن کے سابق صدر اصغر علی خان، سابق ایم پی اے ڈاکٹر ذاکر شاہ، کھلاڑیوں، آرگنائزرز، خصوصی کھلاڑیوں، سپورٹس جرنلسٹس اور زندگی کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ عالمی یوم اس عزم کے ساتھ منایا گیا کہ سوشل میڈیا کے عروج میں فیک نیوز کی روک تھام کے لئے سپورٹس جرنلسٹس کی استعداد کار بڑھائی جائے گی جس کے لئے ورکشاپس اور سیمینار کا انعقاد کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ کے مشیر سید فخر جہان نے عالمی یوم کے موقع پر سپورٹس جرنلسٹس اور اے آئی پی ایس کو مبارکباد دی اور کہا کہ کھیلوں کے فروغ اور کھلاڑیوں کی فلاح وبہبود میں سپورٹس جرنلسٹس کا بڑا کردار ہے۔انھوں نے کہا کہ صحافی مثبت انداز میں کام کر کے صوبے اور کھلاڑیوں کو قومی اور عالمی سطح پر روشناس کرا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انٹرپراونشل گیمز اور ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کا انعقاد کیا جائے گا۔ ہارس شو بھی ہوگا جبکہ رائیڈنگ کلب اور کھیلوں کے میدان بنا رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ حیات آباد سپورٹس کمپلیکس کو مکمل کرلیا ہے اورقیوم سپورٹس کمپلیکس میں چھوٹے چھوٹے کام جلد مکمل کئے جائیں گے۔مشیر کھیل کا مزید کہنا تھا کہ ضم اضلاع میں چار سپورٹس کمپلیکس تکمیل کے مراحل میں ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ ستمبر میں ان کا افتتاح کیا جائے۔انھوں نے کہا کہ سکول سطح پر کرکٹ ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کرایا جائے گا اورملک اور بیرون ملک کھیلنے جانے والے کھلاڑیوں کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔اسی طرح کھلاڑیوں کو ماہانہ اعزازیہ دیا جائے گا اورٹیلنٹ کو سامنے لاکر نکھارا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ اراکین اسمبلی اور محکموں کے افسران و دیگر شعبوں کے کرکٹ میچز کرائے جائیں گے۔ تقریب میں کرکٹر محمد رضوان، امجد عزیز ملک، رحیم خان اور عاصم شیراز نے بھی خطاب کیا۔

وزیر مواصلات و تعمیرات کا دلہ زاک روڈ کے تعمیراتی کام میں تاخیر پر نوٹس

خیبر پختونخوا کے وزیر مواصلات و تعمیرات شکیل احمد نے پشاور دلہ زاک روڈ کے تعمیراتی کام میں تاخیر اور سست روی کا سخت نوٹس لیا ہے۔اس حوالے سے انہوں نے دلہ زاک روڈ کا اچانک معائنہ کیا اور تعمیراتی کام کا خود تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر محکمہ کے متعلقہ افسران بھی موجود تھے دورے کے دوران صوبائی وزیر نے علاقے کے معززین سے روڈ کے تعمیرارتی کام سے متعلق آگہی حاصل کی۔انہیں بتایا گیا کہ اس عوامی منصوبے پر کام کئی مہینوں سے بند ہے اور اس سے مقامی آبادی اور عوام کوسفر کرنے میں بڑی مشکلات کا سامنا ہے خاص طور پر سڑک کے درمیان موجود بجلی کے کھمبے آئے روزحادثات کا سبب بنتے ہیں۔ صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات نے ہدایت کی کہ محکمہ واپڈا سے اس منصوبے کے معاملہ کی اچھی طرح سے پیروی کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس پرجیکٹ کے لئے فنڈز دستیاب ہیں اور واپڈا کو بھی مذکورہ مد میں رقوم فراہم کی گئی ہیں لیکن اس کے باوجود یہ پراجکیٹ پہلے ہی بڑی تاخیر کا شکار رہا ہے اور اس میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔صوبائی وزیرمواصلات و تعمیرات نے بعدازاں دو کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل ہونے والی مشئی شریف سڑک کا بھی با ضابطہ افتتاح کیا اس موقع پر افتتاحی تقریب سے اپنے خطاب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت کے ایجنڈے میں کرپشن کا خاتمہ سرفرست ہے اور ہم تمام اداروں کو کرپشن سے پاک اور بااختیار بنانا چاہتے ہیں تاکہ وہ عوام کی بہتر طریقے سے خدمات سرانجام دے سکیں۔انھوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ صوبے میں تمام منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے اور بہتر معیارکو ہر حال میں یقینی بنانا ہوگا جس پر ہرگز سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے انسدادِ بدعنوانی بریگیڈیئر (ر) محمد مصدق عباسی کی زیر صدارت انٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی پہلی ماہانہ کھلی کچہری

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے انسدادِ بدعنوانی بریگیڈیئر (ر) محمد مصدق عباسی کی زیر صدارت انٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی پہلی ماہانہ کھلی کچہری ڈائریکٹوریٹ آف انٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پشاور میں منگل کے روز منعقد ہوئی جس میں ڈائریکٹر انٹی کرپشن رب نواز خان سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی اور سائلین کی شکایات تفصیل سے سنیں۔کھلی کچہری کا انعقاد پشاور کے علاوہ ڈائریکٹوریٹ آف انٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے ریجنل دفاترنوشہرہ، مردان، سوات، مالاکنڈ، آبیٹ آباد،کوہاٹ،بنوں، ڈی آئی خان اور مانسہرہ میں بھی کیا گیا اورانٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق 544 سے زائد افراد نے کھلی کچہری میں شرکت کی جبکہ 52 شکایات درج کی گئیں۔ کھلی کچہری میں گفتگو کرتے ہوئے معاون خصوصی برائے انسداد بدعنوانی بریگیڈیئر ر مصدق عباسی نے کہاکہ سرکاری اداروں میں بدعنوانی کا خاتمہ انٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کا بنیادی مینڈیٹ ہے۔ انٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ شکایت کنندگان کا معاون ادارہ ہے۔کسی بھی محکمے میں اختیارات کا غلط استعمال ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ جو بھی سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے یا غبن کرنے میں ملوث ہو اس سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ بریگیڈیئر (ر) محمد مصدق عباسی نے غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کی تشہیر کی روک تھام کیلئے متعلقہ اداروں سے ملکر اقدامات اٹھانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ تشہیری ادارے تشہیری مہم اجازت نامے اور دیگر لوازمات کی تصدیق کے بعد کریں۔ شہری ہاؤسنگ سوسائٹیز میں پلاٹ کی خریداری سے پہلے متعلقہ اجازت ناموں ا ور دستاویزات کی تصدیق لازمی کریں تاکہ بعد میں مسائل و پریشانی کا سامنا نہ کرنے پڑے اور قیمتی سرمایہ ضائع ہونے سے بچ جائے۔ کھلی کچہری میں شہریوں نے نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے حوالے سے شکایات پیش کیں۔ اسی طرح مختلف سرکاری محکموں میں ٹھیکوں اور خریداری میں متعلقہ قوانین پر عمل نہ کرنے کی شکایت پر معاون حصوصی بریگیڈیئر (ر)مصدق عباسی نے ٹھیکوں اور خریداری کی تفصیل کیپرا سے حاصل کرنے کی ہدایت کی اور بے ضابطگی ثابت ہونے پر کاروائی کی ہدایت کی۔ اسی طرح محکمہ جنگلات مانسہرہ سے متعلق شہری کی شکایت پر ترجیحی بنیادوں پر کاروائی کی ہدایت کی گئی۔ کوآپریٹیو سوسائٹی تاروجبہ نوشہرہ میں بائی لاز کے عدم نافذ اوردکانوں کے غیر قانونی الاٹمنٹ کے حوالے سے شکایات پر معاون خصوصی نے شکایات کی تصدیق کی ہدایت کی۔ معاون خصوصی بریگیڈیئر (ر) مصدق عباسی نے درج شکایات کے حوالے سے انٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ حکام کو درج شکایات کو ٹریک کرتے ہوئے ان پرپیشرفت اور کارروائی سے آگاہ رکھنے کی ہدایت کی۔ شہریوں نے معاون خصوصی بریگیڈیئر (ر)مصدق عباسی کی جانب سے کھلی کچہری کی انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ کھلی کچہریوں کے انعقاد سے محکمے ا ور عوام میں فاصلے کم ہونگے۔ انٹی کرپشن کے ریجنل دفاتر میں بھی کھلی کچہریوں کا انعقاد کیا جہاں پر عوامی شکایات و مسائل سنے گئے۔

مون سون بارشوں اور سیلاب کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کیلئے اقدامات، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری کی زیر صدارت اجلاس

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری کی زیرصدارت پیر کے روز مون سون بارشوں اور سیلاب کے نقصانات سے بچنے کیلئے پیشگی اقدامات کے بارے میں اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ داخلہ و قبائلی امور، متعلقہ انتظامی سیکرٹریز سمیت آرمی، ریسکیو، پی ڈی ایم اے سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز بھی ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔اجلاس میں جن علاقوں میں فلیش فلڈز کا خطرہ موجود ہے وہاں ضروری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں محکمہ ریلیف کی جانب سے مون سون پلان پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ 2022 کے سیلاب کو مدنظر رکھتے ہوئے حفاظتی اقدامات کئے جارہے ہیں جبکہ تمام محکموں اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کے بعد مون سون پلان ترتیب دیا گیا ہے۔چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ طوفانی بارشوں، آندھی اور سیلاب کے نتیجے میں نقصانات سے بچنے کیلئے تمام ادارے پیشگی اقدامات بروقت مکمل کریں۔ سیاحتی اضلاع میں سیاحوں کی آمد کے پیش نظر اقدامات کئے جائیں۔شہروں میں اربن فلڈنگ کی روک تھام کے لئے تمام متعلقہ ادارے الرٹ رہیں اور ضروری اقدامات یقینی بنائے جائیں۔دریاؤں اور نالوں کے اطراف سیلاب سے بچاو کے لئے حفاظتی بندوں کا معائنہ کیا جائے اور حفاظتی انتظامات پر خصوصی توجہ دی جائے۔ ضلعی انتظامیہ دریاؤں اور نالوں کے اطراف غیر قانونی تعمیرات اور ناجائز تجاوزات کیخلاف کاروائیاں جاری رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیلاب سے بچاؤ کے لئے فنڈز کی دستیابی یقینی بنائی جارہی ہے۔ چیف سیکرٹری کا مزید کہنا تھا کہ سیلاب کے خطرے سے دوچار اضلاع میں انتظامیہ پہلے سے اشیائے خوردونوش، پیٹرول اور ادویات کا وافر ذخیرہ یقینی بنائیں۔ چیف سیکرٹری کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کو کم سے کم کرنے کیلئے بروقت اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مون سون بارشوں کے دوران ضلعی انتظامیہ کے افسران اپنے ڈیوٹی اسٹیشن میں موجود رہیں اور صورتحال پر نظر رکھیں۔

خیبر پختونخوا کے وزیر جنگلات و ماحولیات فضل حکیم خان یوسفزئی نے انار گلی مدین شاہ گرام جنگل میں

خیبر پختونخوا کے وزیر جنگلات و ماحولیات فضل حکیم خان یوسفزئی نے انار گلی مدین شاہ گرام جنگل میں 10ہزار سے زائد فٹ کی بلندی پرواقع پہاڑی کا خود دورہ کیا جہاں پر انہوں نے درختوں کی مارکنگ کے عمل کا جائزہ لیا، اس موقع پر ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر امجد، ممبران صوبائی اسمبلی میاں شرافت علی اور محمد نعیم بھی ان کے ہمراہ تھے، صوبائی وزیر نے دیگر علاقوں میں بھی جنگلات کا معائنہ کیا اس موقع پر صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے محکمہ جنگلات کیحکام سے بات چیت کرتے ہوئے انہیں واضح ہدایت کی کہ چونکہ صوبائی حکومت کی جانب سے جنگلات کی کٹائی پر مکمل پابندی عائد ہے، حکومت کے حکم کی پاسداری نہ کرنے والوں کو سخت سے سخت سزا دی جائے گی انہوں نے درختوں کی مارکنگ کو بھی شفاف طریقے سے مکمل کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ یہ جنگلات ہمارا قومی اثاثہ ہیں اور جنگلات کا دشمن ہمارا اور علاقے کا دشمن ہے لہذا وہ کسی بھی رو رعایت کے مستحق نہیں انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت جنگلات میں اضافے کیلئے ٹھوس اقدامات اُٹھا رہی ہے اور اس ضمن میں عام لوگوں پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہیں کہ وہ کلائمیٹ چینج سے نمٹنے کیلئے اپنے گھروں اور علاقوں میں زیادہ سے زیادہ شجر کاری کریں تاکہ ہماری آنے والے نسلوں کو ایک محفوظ قدرتی ماحول میسرہوسکے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی وثانوی تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا ہے

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی وثانوی تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا ہے کہ ہیومن کیپیٹل انویسمنٹ پراجیکٹ کے تحت صوبے کے منتخب اضلاع میں تعلیمی ایمرجنسی کے تحت انقلابی اقدامات جاری ہیں۔ ڈبل شفٹ سکولز پروگرام کے تحت 150 سکول، 327 اے ایل پی سنٹرز اور 386 گرلز کمیونٹی سکول قائم کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان پروگرام سے کل 78 ہزار 375 طلباء و طالبات مستفید ہو رہے ہیں جبکہ پراجیکٹ کے لیے کل ٹارگٹ 3 لاکھ بچوں کا منتخب کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس پراجیکٹ میں 55 فیصد گرلز اور 45 فیصد بوائز کو سہولیات کی فراہمی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ جبکہ ابھی تک 500 سکولوں کے 977 اساتذہ کو تربیت فراہم کی گئی ہے اور سی پی ڈی پروگرام کا اجراء بھی عنقریب کیا جائے گا۔ جس کے لیے ایک لاکھ سے زائد اساتذہ کو تربیت کی فراہمی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر تعلیم نے ہیومن کیپیٹل انویسمنٹ پراجیکٹ کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری ایجوکیشن مسعود احمد، سپیشل سیکرٹری اسفندیار خٹک اور ہیومن کیپیٹل انویسمنٹ پراجیکٹ ٹیم کے علاوہ محکمہ تعلیم کے دیگر اعلیٰ حکام کام نے شرکت کی۔ وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ پراجیکٹ کے تحت 1500 سکول لیڈرز کو تربیت بھی فراہم کی جائے گی جس کے لیے کورس ماڈیول تیار کئے گئے ہیں اور اعلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن کے 2 ہزار اساتذہ کو تربیت بھی فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پراجیکٹ کے تحت 9 ہزار 514 اساتذہ کو انڈکشن پروگرام کے تحت تربیت فراہم کی گئی ہے اور مزید 25 ہزار اساتذہ کو بھی تربیت دی جائے گی۔ وزیر تعلیم کا مزید کہنا تھا کہ ڈیجیٹل کورس، ڈیجیٹائزڈ لیکچرز اور ان لائن کورسز کے لئے ڈیجیٹل سٹوڈیو کے قیام پر بھی کام جاری ہے جو کہ عنقریب ڈی پی ڈی میں قائم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہیومن کیپیٹل انویسمنٹ پراجیکٹ کے تحت 872 کلاس رومز کی تعمیر پر بھی کام جاری ہے جبکہ منتخب اضلاع میں 1400 کلاس رومز تعمیر کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اسی طرح 120 پرائمری سکولوں کو مڈل سکولز تک اپگریڈ کر نے 42 سکولوں کو مڈل سے ہائی لیول تک اپگریڈ کرنے پر بھی کام جاری ہے۔ وزیر تعلیم نے حکام کو ہدایت جاری کی کہ پراجیکٹ کے ہر سیگمنٹ کی تکمیل کے لیے ڈیڈ لائن مقرر کریں تاکہ کام لیٹ نہ ہو اور منصوبے بروقت مکمل ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس پراجیکٹ کا ماہانہ جائزہ اجلاس منعقد ہوگا اور ہدایت کی کہ کام کی رفتار میں مزید تیزی لائی جائے۔ وزیر تعلیم کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ پراجیکٹ کے تحت سیلاب سے متاثرہ 532 سکولز بھی بنائے جائیں گے۔ وزیر تعلیم نے پراجیکٹ ٹیم کو ہدایت کی کہ تمام منصوبوں کو ٹائم لائن کے اندر مکمل کریں تاکہ اس پراجیکٹ کے فوائد طلباء و طالبات، اساتذہ اور منتخب اضلاع کے عوام تک منتقل ہو سکیں انہوں نے کہا کہ اس پراجیکٹ کی تکمیل سے منتخب اضلاع میں شرحِ خواندگی بڑھے گی، انرولمنٹ میں اضافہ ہوگا اور ڈراپ اؤٹ ریشو کو کنٹرول کیا جائے گا۔

صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پختون یار خان نے کہا ہے

صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پختون یار خان نے کہا ہے کہ عدالتیں ہمارے لئے معززاور قابل احترام ادارے ہیں جو مظلوموں کا ساتھ دے رہے ہیں اور ان کو سستے انصاف کی فراہمی کیلئے ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں انٹی کرپشن عدالت میں میرے حق میں فیصلے نے ثابت کر دیا ہے کہ عمران خان کے سپاہیوں کا دامن صاف ہے جس طرح ہم باعزت بری ہوئے اسی طرح عمران خان بھی باعزت بری ہونگے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے انٹی کرپشن عدالت سے ان کے حق میں فیصلہ آنے پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیااُنہوں نے معززعداکت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج انہیں انصاف ملا اور عدالت سے امید بھی یہی تھی کہ انصاف ضرور ملے گا کیونکہ میرے اوپر تمام کیسز جھوٹے تھے جس میں کوئی صداقت نہیں تھی اُنہوں نے کہاکہ ہمارے قائد عمران خان کے اوپر بھی بنائے گئے تمام کیسز سیاسی ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ جلد ہی ان کو بھی انصاف ملے گا اور وہ تمام کیسوں سے بری ہوجائیں گے اُنہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی عدالتوں سے انصاف کی امید اور توقع رکھتی ہے وہ کبھی بھی عدالت کے ساتھ ٹکراؤ نہیں چاہتی مخالفین چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے قائدین کو جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر سیاست سے باہر کیا جائے لیکن ان کے ناپاک عزائم خاک میں مل جائیں گے اور تحریک انصاف ایک بار پھر سرخرو ہوگی۔

خیبرپختونخوا پر ضم اضلاع کے ملازمین کی تنخواہوں کا 40 ارب اضافی بوجھ ہے

> خیبرپختونخوا پر ضم اضلاع کے ملازمین کی تنخواہوں کا 40 ارب اضافی بوجھ ہے جبکہ تنخواہوں میں 60 فیصد اضافہ کے باوجود وفاقی حکومت صرف 66 ارب دے رہی ہے مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر وفاق کو ضم اضلاع فنڈز پر ٹھیک شرم دلا رہے ہیں کیونکہ خیبرپختونخوا پر ضم اضلاع کے ملازمین کی تنخواہوں کا 40 ارب اضافی بوجھ ہے جبکہ تنخواہوں میں 60 فیصد اضافہ کے باوجود وفاقی حکومت صرف 66 ارب دے رہی ہے ان خیالات کا اظہار مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے اپنے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے کشمیر کے فنڈز 70 سے 107 ارب اور گلگت بلتستان کا 51 سے 68 ارب روپے کر دئیے ہیں جبکہ خیبرپختونخوا بشمول ضم اضلاع کے ساتھ امتیازی سلوک جاری ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ وزیراعلی خیبرپختونخوا اور محکمہ خزانہ نے وزیراعظم، وفاقی وزیر خزانہ کو آگاہ کیا ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ زیادتی اور ناانصافی کے باوجود خیبرپختونخوا حکومت نے تاریخ کا سب سے بڑا سرپلس بجٹ دیا اورضم اضلاع کے جاری اخراجات پر مزاکرات جاری ہیں اور بال وفاقی حکومت کے کورٹ میں ہے۔ ایک دوسرے بیان میں مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے صوبے کے ہائیڈرو پاور منصوبوں پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جبوڑی ہائیڈرو پاور پراجیکٹ مانسہرہ 10 میگاواٹ، کروڑا ہائیڈرو پاور پراجیکٹ شانگلہ 11 میگاواٹ اور کوٹو لوئر دیر ہائیڈرو پاور 40 میگاواٹ منصوبوں پر بھی 90 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تینوں منصوبے وفاق کے ساتھ کمرشل آپریشن ڈیٹ اور بجلی خریداری معاہدہ کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہیں۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ لاوی ہائیڈرو پاور پراجیکٹ چترال 69 میگاواٹ، گورکن مٹلتان سوات 84 میگاواٹ منصوبے پر 50 فیصد سے زیادہ کام کیا گیا ہے اور مذکورہ منصوبے اے ڈی پی اور ہائیڈرو ڈیویلپمنٹ فنڈز سے قائم کیے جا رہے ہیں

خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت میجر (ر) سجاد بارکوال نے محکمہ زراعت کے متعلقہ افسران کو ہدایت

خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت میجر (ر) سجاد بارکوال نے محکمہ زراعت کے متعلقہ افسران کو ہدایت کی ہے کہ ورلڈ بینک پراجیکٹس سمیت دیگر فارن فنڈنگ منصوبوں اور صوبے میں جاری نئی اے ڈی پی سکیموں پر کام کی رفتار میں تیزی لا تے ہوئے کاشتکاروں اور عوام کے بہتر مفاد میں انہیں بروقت مکمل کیا جائے انہوں نے یہ ہدایات محکمہ زراعت کی جوائنٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔اجلاس میں سیکرٹری زراعت جاوید مروت اور محکمہ زراعت کے تمام ونگ کے ڈائریکٹر جنرلز کے علاوہ زرعی یونیورسٹی پشاور، سوات اور ڈی ائی خان کے رجسٹرارز نے شرکت کی اورگزشتہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں اور اس ضمن میں ہونے والی پیشرفت اور اب تک ہونے والے اقدامات کے بارے میں صوبائی وزیر کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔صوبائی وزیر نے ہدایت کی کہ ایک محکمانہ ذیلی کمیٹی تشکیل دی جائے جو منصوبوں کے لیے مختص فنڈز کو صحیح طریقے سے استعمال میں لانے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے کیونکہ سکیموں کی مقررہ وقت میں تکمیل سے نہ صرف زمینداروں کو فائدہ ہوگا بلکہ صوبے کے معاشی استحکام میں بھی کلیدی کردار ادا کر سکے گا انہوں نے محکمہ زراعت کے فیلڈ افسران کو سختی سے تاکید کی کہ وہ اپنے دفتروں میں بیٹھنے کی بجائے زیادہ تر وقت فیلڈ سرگرمیوں میں گزاریں تاکہ افسران کے زرعی سائنسی علوم سے کاشتکار طبقہ مستفید ہو سکے انہوں نے خبردار کیا کہ جو افسران اپنے کام میں دلچسپی نہیں لیتے اور ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں ان کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی انہوں نے کہا ہے کہ تمام افسران باہمی روابط اور اجتماعیت کے ساتھ اپنی خدمات سرانجام دیں۔

محکمہ صنعت میں ڈیجیٹائزیشن کی جانب ایک اہم قدم

> سمال انڈسٹریز ڈویلپمنٹ بورڈ کے ادارے پاک جرمن ووڈ ورکنگ سنٹر کے تمام امور کو ڈیجیٹائز کردیا گیا

> وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت وحرفت اور فنی تعلیم عبدالکریم تورڈھیر نے نئے سسٹم کا افتتاح کیا

وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت وحرفت اور فنی تعلیم عبدالکریم تورڈھیر نے پیر کے روز پشاورمیں سمال انڈسٹریز ڈویلپمنٹ بورڈ کے ماتحت ادارے پاک جرمن ووڈ ورکنگ سنٹر کے نئے انٹرپرائز ریسورس پلاننگ (ERP) سسٹم کا افتتاح کردیا۔اس نظام سے انتہائی جدید سافٹ وئیر کے ذریعے سرکاری شعبے میں فرنیچر کی صنعت کے مذکورہ اہم سنٹر کے امور کو عملا ڈیجیٹائزکردیا گیا ہے جس کے ذریعے ادارے کے تمام آپریشنل تفصیلات و معلومات ان لائن دستیاب ہوں گے۔اس سے ادارے کی کارکردگی میں جدت اور شفافیت آئے گی اور وسائل کی بہتر پلاننگ، ادارے کے مالی امور، انسانی وسائل،خریداری اور دیگر شعبوں میں یہ نظام ایک مفید کردار ادا کرے گا۔دوران افتتاح منیجنگ ڈائریکٹر سمال انڈسٹریز ڈویلپمنٹ بورڈ حبیب اللہ عارف،ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹرز نعمان فیاض اور صاحبزادہ ذوالفقاراور پاک جرمن سنٹر کے منیجر حبیب الرحمان کے علاؤہ دیگر افسران اور عملہ بھی موجود تھا۔ اس موقع پر معاون خصوصی کو مذکورہ نئے سافٹ وئیر سسٹم کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے منصوبے کے کنسلٹنٹ نے بتایا کہ ای آر پی نظام دنیا میں استعمال ہونے والی جدید ٹیکنالوجی کے تحت عمل میں لایا گیا ہے۔اس میں ادارے کے تمام امور کو سافٹ وئیر پر ڈال دیا گیا ہے اور اب ادارے کا ریکارڈ و دیگر معلومات روایتی دفتری طریقوں کے بجائے ان لائن دستیاب ہوں گے۔اس موقع پر وزیر اعلی کے معاون خصوصی نے پاک جرمن سنٹر کی ترقی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے میں کامیابی حکومت کے ڈیجٹائزیشن کے ویژن کو عملی جامہ پہنانے میں ایک اہم قدم ہے جو صنعت کے شعبے میں عمل میں لائی گئی یے۔ انھوں نے کہا کہ اداروں کی کامیابی اور ترقی کے اس عمل میں مزید بہتری بھی لائیں گے اور پاک جرمن سنٹر سمیت علاقائی ووڈ ورکنگ سنٹرز کو بطور برانڈ ترقی دینے کی کوشش کریں گے۔انھوں نے مزید کہا کہ پاک جرمن سنٹر کی ای ارپی سسٹم کو ماڈل بنا کر صوبے کے دیگر ووڈ ورکنگ سنٹرز میں بھی اپنایا جائے۔معاون خصوصی نے کہا کہ پاک جرمن سنٹر میں کام کرنے والے زیر تربیت ہنرمندوں کے کام کی تشہیر کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ یہاں پر ہونے والے معیاری کام سے متعلق معلومات کو عام کیا جا سکے۔اس موقع پر انھوں نے سنٹر کے اندر ووڈ ورکنگ کے ٹریننگ سنٹر کا دورہ بھی کیا اور فر نیچر سازی کے کام کا جائزہ لیا اور اس کو سراہا۔