Home Blog Page 44

پاکستان تحریک انصاف کا پشاور میں تاریخی جلسہ عمران خان کی رہائی کی تحریک کا آغاز ہے، شفیع جان

وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبر پختونخوا شفیع جان نے کہا ہے کہ پشاور میں پاکستان تحریک انصاف کا تاریخی جلسہ بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کی تحریک کا باقاعدہ آغاز ہے اور یہ جلسہ عمران خان اور ان کے نامزد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر عوام، خصوصاً نوجوانوں، کے بھرپور اعتماد کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جلسہ عمران خان کی رہائی کی تحریک میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام اور پاکستان تحریک انصاف کے نوجوانوں نے بڑی تعداد میں جلسے میں شرکت کرکے ثابت کر دیا ہے کہ عمران خان آج بھی اس ملک کے سب سے مقبول سیاسی لیڈر ہے،شفیع جان نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے جلسے سے اپنے خطاب میں جو مطالبات پیش کیے، وہ مکمل طور پر آئین اور قانون کے دائرے میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے کیونکہ دونوں کو انصاف کی بلا تاخیر فراہمی انکا بنیادی حق ہے،شفیع جان نے مطالبہ کیا کہ عمران خان پر عائد تمام پابندیاں فوری طور پر ختم کی جائیں، ان کے اہل خانہ، وکلا، ذاتی معالجین، سیاسی رفقا اور دوستوں سے ملاقاتوں کی مکمل اجازت دی جائے اور جیل مینوئل کے مطابق تمام سہولیات بلا تاخیر فراہم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے تمام مطالبات آئینی، قانونی اور مکمل طور پر جائز ہیں،
شفیع جان نے کہا کہ عمران خان سے ملاقاتوں، انصاف کے حصول اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے پاکستان تحریک انصاف نے ہمیشہ تمام آئینی اور قانونی راستے اختیار کیے ، عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے اور انہیں ڈاکٹروں، وکلا اور پارٹی قیادت تک رسائی نہیں دی جا رہی، جو آئین، قانون، جیل قواعد اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے

انھوں نے کہا کہ 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب ہونے والے تاریخی لانگ مارچ میں عوام اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکن بڑی تعداد میں شرکت کریں گے۔ پاکستان تحریک انصاف اپنی جدوجہد آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے جاری رکھے ہوئے ہے اور عمران خان کی رہائی، انصاف کی بالادستی اور عوام کے مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے ہر جمہوری، آئینی اور قانونی راستہ اختیار کرے گی۔

سیاحوں کو محفوظ اور معیاری سہولیات کی فراہمی کے لیے ٹورسٹ فیسلیٹیشن سنٹرز اور ٹورازم پولیس فعال ہیں، ملک عدیل اقبال

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے سیاحت و ثقافت ملک عدیل اقبال نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت سیاحت کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے، سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے اور سیاحوں کو عالمی معیار کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ سیاحتی مقامات پر ٹورسٹ فیسلیٹیشن سنٹرز قائم کیے جا رہے ہیں جبکہ سرمایہ کاروں کی سہولت کے لیے ون ونڈو آپریشن بھی متعارف کرایا جائے گا تاکہ سیاحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیر اہتمام اور سلک روڈ انٹرپرائزز کے اشتراک سے بین الاقوامی سلک روٹ فیسٹیول 2026 کے حوالے سے منعقدہ بزنس بریفنگ سیشن سے بطور مہمان خصوصی خطاب کے دوران کیا۔ تقریب میں سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر جنید الطاف، کاروباری شخصیات، سرمایہ کاروں نے شرکت کی۔معاون خصوصی ملک عدیل اقبال نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور بانی چیئرمین عمران خان کے وژن کے مطابق صوبے میں سیاحت کے فروغ کے لیے جامع حکمت عملی پر عمل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سیاحت کے فروغ کے حکومتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ “میزبان پروگرام” کے تحت مستحق افراد کو بلاسود قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ اپنے گھروں کی تزئین و آرائش کرکے انہیں ہوم اسٹے کے طور پر سیاحوں کے لیے تیار کریں۔ اس اقدام سے نہ صرف سیاحوں کو معیاری رہائش میسر آئے گی بلکہ مقامی آبادی کے لیے روزگار اور آمدن کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے، جس سے مقامی معیشت مستحکم ہوگی۔انہوں نے کہا کہ سیاحوں کی رہنمائی اور سہولت کے لیے ٹورازم ہیلپ لائن 1422 متعارف کرائی گئی ہے، جہاں سے سیاح اپنے سفر، سیاحتی مقامات اور دیگر ضروری معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ اسی طرح سیاحتی علاقوں میں ٹورازم پولیس بھی تعینات کی گئی ہے تاکہ سیاحوں کو محفوظ اور خوشگوار ماحول فراہم کیا جا سکے۔معاون خصوصی نے مزید کہا کہ حکومت ایوبیہ چیئر لفٹ کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے اقدامات کررہی ہے جبکہ نتھیاگلی میں ٹریفک کے مسائل کے حل کے لیے پارکنگ پلازوں کی تعمیر کی منصوبہ بندی بھی جاری ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ بغیر این او سی تعمیرات کرنے والے افراد اپنے نقصان کے خود ذمہ دار ہوں گے اور متعلقہ قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔ ملک عدیل اقبال نے کہا کہ محکمہ سیاحت میں موجود بدعنوان عناصر کی نشاندہی کی جائے، حکومت ایسے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرے گی اور انہیں نشانِ عبرت بنایا جائے گا۔اس موقع پر بین الاقوامی سلک روٹ فیسٹیول 2026 کے اغراض و مقاصد، علاقائی تجارت، سرمایہ کاری، اقتصادی تعاون، سیاحت اور ثقافتی تبادلوں کے فروغ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ شرکاء کو بین الاقوامی کاروباری روابط، غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات اور خطے میں تجارتی تعاون کے فروغ سے متعلق بھی آگاہ کیا گیا۔

KP Irrigation Minister Riaz Khan says sports steer youth towards positive activities and play a vital role in building a healthy society Irrigation Minister attends football tournament final match as chief guest at Jokhela Ground, Buner

The Khyber Pakhtunkhwa Minister for Irrigation, Riaz Khan, attended the closing ceremony of the football tournament final held at Jokhela Football Ground, district Buner, as the Chief Guest.

The event was attended by local elders, elected public representatives, sports personalities, young players, and a large number of sports lovers.

Following the final match, the Provincial Minister distributed trophies, medals, and prizes among the winning and runner up team and players for their outstanding performance . He also appreciated both finalist teams for displaying excellent sportsmanship and a high standard of football throughout the tournament.

Addressing the closing ceremony, Provincial Minister Mr Riaz Khan said that sports serve as an effective means of promoting the physical and mental development of young people while encouraging them to engage in positive and constructive activities.

He said that the promotion of sports is essential for the development of a healthy society and that the current KP government is taking practical measures to provide improved sports facilities for the youth across the province.

He added that the incumbent KP government remains committed to identifying and promoting young sporting talent and will continue to extend every possible support for the development of sports infrastructure so that young athletes can fully utilize their abilities and bring laurels to the province at both national and international levels.

Congratulating the organizers on the successful conduct of the tournament, the KP irrigation minister remarked that such healthy sports activities play a significant role in promoting social harmony, unity, brotherhood, and positive values within society. He urged the youth to devote their energies to education, sports, and other positive activities to become responsible citizens of the society.
At the conclusion of the ceremony, participants thanked provincial minister for his presence.

تعلیمی بورڈ مردان نے ایس ایس سی سالانہ اول امتحان 2026 کے پوزیشن ہولڈرز کا اعلان کر دیا

بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن، مردان نے ایس ایس سی(میٹرک) سالانہ اول امتحان 2026 کے پوزیشن ہولڈر طلبہ و طالبات کے ناموں کا باضابطہ اعلان کر دیا۔ اس سلسلے میں بورڈ کے آڈیٹوریم میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں صوبائی سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن خالد خان، ڈپٹی کمشنر مردان واصف رحمان اور ڈائریکٹر ہائر ایجوکیشن خیبر پختونخوا ڈاکٹر فریداللہ شاہ نے بطور مہمانانِ خصوصی شرکت کی۔ تقریب میں تعلیمی اداروں کے سربراہان، اساتذہ، والدین، طلبہ و طالبات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین بورڈ، پروفیسر جہانزیب نے کہا کہ آج کا دن محنت، لگن اور عزم کی فتح کا دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات نے دن رات محنت کرکے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور آج انہیں اپنی کاوشوں کا بہترین صلہ ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی بورڈ مردان نے امتحانی نظام میں شفافیت، میرٹ اور انصاف کو یقینی بنانے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لائیں، جس کے نتیجے میں ہر طالب علم کو اس کی محنت کے مطابق حق ملا۔
چیئرمین بورڈ نے اس امر پر خصوصی خوشی کا اظہار کیا کہ نوشہرہ اور صوابی کے دور دراز علاقوں کے سرکاری تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والی طالبات نے نمایاں پوزیشنیں حاصل کرکے یہ ثابت کر دیا کہ کامیابی کا دار و مدار صرف محنت، عزم اور لگن پر ہوتا ہے، نہ کہ وسائل پر۔ انہوں نے کامیاب طلبہ و طالبات، ان کے والدین اور اساتذہ کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہی نوجوان مستقبل میں ملک و قوم کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔انہوں نے مہمانانِ خصوصی کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اپنی مصروفیات سے وقت نکال کر تقریب میں شرکت کی اور کامیاب طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی کی۔اس موقع پر کنٹرولر امتحانات، حافظ محمد فیاض نے پوزیشن ہولڈرز کے ناموں کا اعلان کیا۔
مہمانِ خصوصی صوبائی سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن خالد خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ تعلیم ہی ترقی، خوشحالی اور قومی استحکام کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں معیاری تعلیم کے ذریعے نئی نسل کو اس قابل بنانا ہوگا کہ وہ ترقی یافتہ ممالک کے نوجوانوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہو سکے۔بعد ازاں ڈپٹی کمشنر مردان واصف الرحمن اور ڈائریکٹر ہائر ایجوکیشن ڈاکٹر فریداللہ شاہ نے بھی خطاب کیا اور کامیاب طلبہ و طالبات کو شاندار کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔کنٹرولر امتحانات حافظ فیاض محمد نے اعلان کیا کہ سائنس گروپ میں ماہین ایوب نے 1171 نمبر حاصل کرکے مجموعی طور پر پہلی پوزیشن حاصل کی۔ ان کا تعلق گرلز کیڈٹ کالج مردان سے ہے۔سمیرا عمران نے 1166 نمبر حاصل کرکے دوسری پوزیشن حاصل کی، جبکہ ان کا تعلق بھی گرلز کیڈٹ کالج مردان سے ہے۔ضازمان نے 1165 نمبر حاصل کرکے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ ان کا تعلق بھی گرلز کیڈٹ کالج مردان سے ہے۔آرٹس گروپ میں عائشہ سجاد نے 1091 نمبر حاصل کرکے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ ان کا تعلق گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری سکول اکبرپورہ، نوشہرہ سے ہے۔ہاجرہ قاسم نے 1072 نمبر حاصل کرکے دوسری پوزیشن حاصل کی۔ ان کا تعلق گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری سکول ڈاک اسماعیل خیل سے ہے۔میمونہ نے 1069 نمبر حاصل کرکے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ ان کا تعلق گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری سکول جہانگیرہ، صوابی سے ہے۔کنٹرولر امتحانات کے مطابق دہم جماعت کے سائنس گروپ میں 56,788 امیدواروں نے امتحان میں شرکت کی، جن میں سے 48,453 امیدوار کامیاب قرار پائے۔ اس طرح کامیابی کا تناسب 85.32 فیصد رہا۔آرٹس گروپ میں 20,754 امیدواروں نے امتحان دیا، جن میں سے 13,596 کامیاب قرار پائے، جبکہ کامیابی کا تناسب 65.50 فیصد رہا۔مجموعی طور پر دہم جماعت میں 77,544 امیدوار امتحان میں شریک ہوئے، جن میں سے 62,049 کامیاب قرار پائے۔ اس طرح مجموعی نتیجہ 80.02 فیصد رہا۔کنٹرولر امتحانات کے مطابق نہم جماعت کے سائنس گروپ میں 61,293 امیدواروں نے امتحان میں شرکت کی، جن میں سے 60,911 کامیاب قرار پائے اور کامیابی کا تناسب 99.38 فیصد رہا۔آرٹس گروپ میں 21,172 امیدوار امتحان میں شریک ہوئے، جن میں سے 20,858 کامیاب قرار پائے، جبکہ کامیابی کا تناسب 98.52 فیصد رہا۔مجموعی طور پر نہم جماعت میں 82,465 امیدواروں نے امتحان دیا، جن میں سے 81,769 کامیاب قرار پائے اور مجموعی کامیابی کا تناسب 99.16 فیصد رہا۔تقریب کے اختتام پر مہمانانِ خصوصی نے پوزیشن ہولڈر طلبہ و طالبات میں شیلڈز، تعریفی اسناد اور نقد انعامات تقسیم کیے۔ اس موقع پر ان کی غیر معمولی تعلیمی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے انہیں مستقبل میں مزید محنت، اعلیٰ کارکردگی اور قومی خدمت کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھنے کی تلقین کی گئی۔

سیکرٹری توانائی وبرقیات نثاراحمد نے گڈ گورننس کے تحت محکمہ میں بہتری ، شفافیت اور احتساب کے لیے اہم فیصلہ کرتے ہوئے تمام ماتحت اداروں کوسختی سے ہدایت جاری کی

سیکرٹری توانائی وبرقیات نثاراحمد نے گڈ گورننس کے تحت محکمہ میں بہتری ، شفافیت اور احتساب کے لیے اہم فیصلہ کرتے ہوئے تمام ماتحت اداروں کوسختی سے ہدایت جاری کی ہیں کہ وہ ناقص کارکردگی کے حامل ملازمین کی فہرست تیار کریں اور ایسے افسران کو حساس اور عوام سے براہ راست رابطے والی اسامیوں پر تعینات نہ کیا جائے، جبکہ تمام تقرریاں اور تبادلے صرف میرٹ اور کارکردگی کی بنیاد پر کیے جائیں۔ حکومت نے سرکاری خریداری اور مالیاتی امور میں شفافیت یقینی بنانے، عوامی شکایات کے موثر ازالے کا نظام قائم کرنے، سرکاری خدمات کو ڈیجیٹل بنانے اور افسران کو بروقت اور موثر عوامی خدمت کا پابند بنانے کی بھی ہدایت کی ہے۔انہوں نے کہاہے کہ کرپشن معاشرے کی سب سے بڑی لعنت ہے جواداروں کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے محکمہ توانائی اوراسکے تما م ذیلی اداروں میں کرپٹ افسران واہلکاروں کے لئے اب کوئی جگہ نہیں ہے۔ادارے میں اب کوئی بھی کرپشن میں ملوث پایا گیا تواس کو نشان عبرت بنایا جائے گا۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخواکی ہدایات کی روشنی میں دیگراداروں کی طرح محکمہ توانائی وبرقیات میں بھی عوامی شکایات سیل قائم کردیاگیا ہے جس کی مانیٹرنگ روزمرہ کی بنیادوں پر شفاف ومیرٹ کی بنیادوں پرکی جائے گی اورعوامی شکایات کا ازالہ بروقت کیا جائے گا۔ محکمہ توانائی اوراسکے تمام ماتحت اداروں کی ملکیتی ایسی تمام سرکاری گاڑیاں جوکہ غیرمجازافراد اوراداروں کے زیراستعمال ہیں کی واپسی کے لئے سخت ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔محکمے کا عوام میں اچھاامیج لانے کے لئے کھلی کچہریوں کے ذریعے براہ راست رابطے تیز کردیئے گئے ہیں۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے محکمہ توانائی میں ایک جلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ماتحت اداروں پیڈو،کے پی آئل اینڈ گیس کمپنی،انسپکٹریٹ آف الیکٹریسٹی،کے پی ٹرانسمیشن اینڈ گرڈ سسٹم کمپنی کے سربراہاں سمیت ادارے کے سینئرافسران نے شرکت کی۔ اجلا س میں سیکرٹری توانائی وبرقیات نثاراحمد نے ہدایت کی کہ محکمے کے تمام افسران اور اہلکاروں کی کارکردگی اور دیانت داری کا ریکارڈ مرتب کیاجائے جس کی روشنی میں اچھی کارکردگی دکھانے والے افسران کی حوصلہ افزائی جبکہ بدعنوانی، غفلت یا بدانتظامی میں ملوث اہلکاروں کے خلاف فوری محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے تمام فیلڈ افسران بشمول پراجیکٹ ڈائریکٹرز کو بھی خبردارکرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی امور میں اب غیر ضروری تاخیر پر ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔محکمے میں قائم شکایت سیل میں رشوت یا غیر قانونی مطالبات سے متعلق ہر شکایت کی فوری تحقیقات کر کے سخت کارروائی کی جائے گی۔انتظامی اصلاحات کے تحت محکموں میں امور کے انجام دینے کےطریقہ کار آسان بنانے، غیر ضروری مراحل ختم کرنے، اختیارات کی مناسب سطح پر منتقلی اور تمام خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن تیز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ درخواستوں، ان کی نگرانی اور خدمات کی فراہمی آن لائن ممکن بنائی جا سکے۔انہوں نے ماتحت اداروں کے سربراہان کو فیلڈ دفاتر اور ترقیاتی منصوبوں کے اچانک دورے کرنے کی ہدایت کی اورکارکردگی کو طے شدہ اہداف کے مطابق جانچ کررپورٹ پیش کرنے کی سختی سے ہدایات جاری کیں۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و ویمن ایمپاورمنٹ ملک لیاقت علی خان سے ان کے دفتر میں پارلیمانی سیکرٹری برائے سماجی بہبود و رکنِ صوبائی اسمبلی محمد اعظم خان اور پارلیمانی سیکرٹری برائے ٹرانسپورٹ و رکنِ صوبائی اسمبلی شفیع اللہ خان نے جمعرات کے روزملاقات

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و ویمن ایمپاورمنٹ ملک لیاقت علی خان سے ان کے دفتر میں پارلیمانی سیکرٹری برائے سماجی بہبود و رکنِ صوبائی اسمبلی محمد اعظم خان اور پارلیمانی سیکرٹری برائے ٹرانسپورٹ و رکنِ صوبائی اسمبلی شفیع اللہ خان نے جمعرات کے روزملاقات کی۔ملاقات کے دوران صوبے میں سماجی بہبود، خصوصی تعلیم، ویمن ایمپاورمنٹ، عوامی فلاح و بہبود، ترقیاتی منصوبوں اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر مستحق، نادار، یتیم، خصوصی افراد، خواتین اور دیگر کمزور طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے جاری حکومتی اقدامات کا جائزہ لیا گیا، جبکہ ان منصوبوں کو مزید مؤثر، شفاف اور عوام دوست بنانے کے حوالے سے مختلف تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔مشیرِ وزیراعلیٰ ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت وزیراعلیٰ کی قیادت میں معاشرے کے محروم اور مستحق طبقات کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماجی بہبود کے شعبے میں جاری اصلاحات، خصوصی تعلیم کے فروغ، خواتین کو بااختیار بنانے اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں، جن کے ثمرات عام آدمی تک پہنچانے کے لیے تمام متعلقہ ادارے بھرپور انداز میں کام کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ عوامی نمائندوں اور متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ اور باہمی تعاون ہی عوامی مسائل کے بروقت حل کی ضمانت ہے۔ حکومت اس امر کے لیے پُرعزم ہے کہ ہر شہری، بالخصوص خصوصی افراد، یتیم بچوں، بزرگ شہریوں، خواتین اور دیگر مستحق طبقات کو ریاست کی جانب سے بہتر سہولیات اور مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔پارلیمانی سیکرٹری برائے سماجی بہبود و رکنِ صوبائی اسمبلی محمد اعظم خان اور پارلیمانی سیکرٹری برائے ٹرانسپورٹ و رکنِ صوبائی اسمبلی شفیع اللہ خان نے اپنے اپنے حلقوں میں عوام کو درپیش مسائل، سماجی بہبود سے متعلق ضروریات اور ترقیاتی امور سے مشیرِ وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے سماجی بہبود کے شعبے میں کیے جانے والے اقدامات کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی فلاح و بہبود، خصوصی افراد کی خدمت، خواتین کے تحفظ اور ترقیاتی منصوبوں کی مؤثر تکمیل کے لیے وہ حکومت کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھیں گے۔ملاقات کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ عوامی رابطوں کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، فلاحی منصوبوں کی مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے گا اور صوبے میں سماجی بہبود کے شعبے کو مزید فعال اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

صوبائی وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے خیبرپختونخوا کے تمام تعلیمی بورڈز کے نہم و دہم کے امتحانات میں پوزیشن حاصل کرنے اور کامیاب ہونے والے تمام طلبہ و طالبات کو دلی مبارکباد پیش کی

صوبائی وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے خیبرپختونخوا کے تمام تعلیمی بورڈز کے نہم و دہم کے امتحانات میں پوزیشن حاصل کرنے اور کامیاب ہونے والے تمام طلبہ و طالبات کو دلی مبارکباد پیش کی ہے۔اپنے ایک بیان میںصوبائی وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خانے طلبہ کی شاندار کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی محنت اور لگن صوبے کے لیے باعثِ فخر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امتحانی نظام میں میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے نقل کے خلاف ہماری جنگ پورے زور و شور سے جاری رہے گی۔امتحانی عملے کے کردار کو سراہتے ہوئے وزیر برائے الیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نے بالخصوص نوجوان گریجویٹس کی تعریف کی جنہوں نے امتحانی ڈیوٹی دیانتداری اور خلوص کے ساتھ انجام دی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پیشہ ورانہ مہارت کو وسیع پیمانے پر سراہا گیا ہے اور یہ آئندہ کے لیے ایک بہترین مثال ہے۔اہم اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے ارشد ایوب خان نے سرکاری سکولوں میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے کانسیپٹ بیسڈ لرننگ اور سٹوڈنٹ لرننگ آؤٹ کمز (SLOs)پر محکمے کی توجہ کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ رٹے کی بجائے فہم پر مبنی تعلیم کی طرف یہ تبدیلی طلبہ میں تنقیدی سوچ پیدا کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔تعلیمی شعبے میں تکنیکی ترقی کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیر برائے ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ارشد ایوب خان نے ای-مارکنگ کو ایک مثبت اور بروقت اقدام قرار دیا جو نتائج کی مرتب بندی کو زیادہ تیز، منصفانہ اور شفاف بنائے گا۔رشد ایوب خان نے شفاف پالیسیوں، میرٹ پر مبنی نظام اور مسلسل اصلاحات کے ذریعے خیبرپختونخوا میں ابتدائی و ثانوی تعلیم کو مضبوط بنانےکے صوبائی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ طلبہ کا مستقبل بہتر بنایا جا سکے۔

یومِ شہدائے پولیس پر صوبائی وزراء آفتاب عالم اور شفیع جان کا شہداء کو بھرپور خراجِ عقیدت، قربانیوں کو امن و استحکام کی بنیاد قرار

کوہاٹ میں یومِ شہدائے پولیس کے موقع پر ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی جس میں خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم، صوبائی وزیر اطلاعات و تعلقاتِ عامہ شفیع جان اور سینیٹر خرم ذیشان نے شرکت کرتے ہوئے پولیس کے شہداء کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کی قربانیوں کو ملک میں امن، قانون کی بالادستی اور قومی استحکام کی مضبوط بنیاد قرار دیا۔ تقریب میں کمشنر کوہاٹ ڈویژن سید معتصم باللہ شاہ، ڈی آئی جی کوہاٹ عرفان طارق، ڈپٹی کمشنر کوہاٹ محمد نواز وزیر، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر رائے مظہر اقبال، پولیس و ضلعی انتظامیہ کے افسران، سیاسی و سماجی شخصیات اور شہداء کے اہل خانہ نے شرکت کی۔ اس موقع پر شہداء کی یادگار پر پھول چڑھائے گئے، فاتحہ خوانی کی گئی اور شہداء کی عظیم قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزراء آفتاب عالم اورشفیع جان نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس کے شہداء نے وطن میں امن و امان کے قیام، قانون کی بالادستی، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے تاریخ رقم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کے شہداء پوری قوم کے حقیقی ہیرو ہیں جن کی لازوال قربانیوں کی بدولت آج معاشرے میں امن، استحکام اور تحفظ کا احساس ممکن ہوا ہے اور قوم انہیں ہمیشہ عزت و احترام کے ساتھ یاد رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کے خاندانوں کی کفالت، فلاح و بہبود اور عزت و تکریم حکومت اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ صوبائی حکومت پولیس شہداء کے اہل خانہ کی مالی معاونت، سرکاری ملازمتوں، تعلیمی سہولیات اور دیگر مراعات کی فراہمی کیلئے مؤثر اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ انہیں ہر ممکن سہولت اور تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ صوبائی وزراء نے کہا کہ دہشت گردی خیبرپختونخوا سمیت پورے ملک کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے تاہم حکومت اس ناسور کے مکمل خاتمے اور دیرپا امن کے قیام کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں زخمی ہونے والے پولیس غازیوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بہادری، استقامت اور فرض شناسی نوجوان نسل کیلئے مشعلِ راہ ہے جبکہ انہی جری جوانوں کی قربانیوں کے باعث صوبے میں امن و امان کی صورتحال مزید مستحکم ہوئی ہے۔ تقریب کے اختتام پر پولیس شہداء کے درجات کی بلندی، ان کے اہل خانہ کیلئے صبرِ جمیل، زخمی اہلکاروں کی جلد صحت یابی اور ملک میں پائیدار امن، قانون کی بالادستی، استحکام اور ترقی کیلئے خصوصی دعا بھی کی گئی۔

یومِ استحصالِ کشمیر (5 اگست) کے موقع پرچیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کا پیغام

5 اگست یومِ استحصالِ کشمیر’ کی مناسبت سے ہم اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ مکمل ہمدردی اور حمایت کا اظہار کرتے ہیں، جو بھارت کے غیر قانونی قبضے اور ظلم و ستم کا شکار ہیں۔ بھارت کی جانب سے 2019 میں آرٹیکل 370 اور 35-A کا یکطرفہ اور غیر قانونی خاتمہ نہ صرف بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی تھی بلکہ یہ کشمیری عوام کی سیاسی، ثقافتی اور آبادیاتی شناخت پر بھی ایک سنگین حملہ تھا۔ ہم بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بھارت کو اس کے غیر قانونی اقدامات اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر جوابدہ بنائیں۔ہم کشمیری عوام کی بہادری، قربانیوں اور جدوجہد کو سلام پیش کرتے ہیں، جنہوں نے ہر مشکل کے باوجود اپنی آزادی کی جدوجہد جاری رکھی ہوئی ہے۔ ان کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی۔خیبر پختونخوا کی حکومت اور عوام کشمیریوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں اور رہیں گے۔

دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور پائیدار امن کے لیے عسکری و سیاسی قیادت کو متحد ہو کر مؤثر حکمت عملی اپنانا ہوگی، طارق محمود آریانی

یومِ شہدائے پولیس کے موقع پر مردان میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں پولیس کے شہداء اور غازیوں کی بے مثال قربانیوں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ تقریب میں شہداء کے اہلِ خانہ، عوامی نمائندوں، سول و پولیس حکام، مختلف محکموں کے افسران، طلبہ و طالبات اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر برائے ریونیو اینڈ اسٹیٹ طارق محمود آریانی نے کہا کہ وطن کے امن، استحکام اور عوام کے تحفظ کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء پوری قوم کا فخر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا اور ان کے اہلِ خانہ کی عزت و تکریم ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے اور ملک میں پائیدار امن کے قیام کے لیے عسکری اور سیاسی قیادت کو باہمی اعتماد، اتحاد اور مربوط حکمت عملی کے تحت مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ قومی یکجہتی ہی وہ قوت ہے جس سے امن دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو ہمیشہ کے لیے ناکام بنایا جا سکتا ہے۔رکنِ قومی اسمبلی علی محمد خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ شہداء کی قربانیاں قوم کے ماتھے کا جھومر ہیں اور ان کا قرض کبھی ادا نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے تجویز دی کہ شہداء کے خاندانوں کی فلاح، بحالی اور مسائل کے مستقل حل کے لیے ایک باقاعدہ وزارت قائم کی جائے تاکہ ان خاندانوں کو ایک مؤثر اور مربوط نظام کے تحت سہولیات فراہم کی جا سکیں۔کمشنر مردان ڈویژن جاوید مروت نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دے کر امن کی بنیاد مضبوط کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کے اہلِ خانہ کے مسائل کے حل کے لیے ایک ایسا فعال اور مؤثر نظام تشکیل دینے کی ضرورت ہے جس کے ذریعے ان کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کیے جا سکیں اور انہیں غیر ضروری دفتری کارروائی سے نجات ملے۔ڈی آئی جی مردان قاسم علی خان نے کہا کہ قربانیاں زندہ قوموں کی علامت ہوتی ہیں اور خیبر پختونخوا پولیس نے اجتماعی مفاد، امن و امان اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے لازوال قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کے جوانوں نے اپنے خون اور پسینے سے امن کی آبیاری کی ہے اور مستقبل میں بھی امن کے قیام کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مردان مسعود بنگش نے کہا کہ مردان میں قائم امن پولیس کے شہداء اور غازیوں کی بے مثال قربانیوں کا ثمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی قربانیاں تاریخ کا روشن باب ہیں جن کا کوئی نعم البدل نہیں اور پوری قوم اپنے شہداء کی ہمیشہ مقروض رہے گی۔تقریب کے دوران پولیس کے شہداء کی قربانیوں، بہادری اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کے کردار پر مبنی خصوصی دستاویزی فلم پیش کی گئی جسے شرکاء نے بے حد سراہا۔ طلبہ و طالبات نے شہداء کی عظمت، حب الوطنی اور امن کے موضوع پر تقاریر پیش کیں جبکہ ملی نغموں کے ذریعے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، جس سے تقریب کا ماحول جذباتی اور حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہوگیا۔تقریب کے اختتام پر شہداء کے درجات کی بلندی، غازیوں کی صحت و سلامتی، وطنِ عزیز میں دیرپا امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔