خیبر پختونخوا ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی اورویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نوشہرہ کے زیر اہتمام ہنرمند خواتین کے لیے روزگار میلے کا انعقادکیا گیا، جس کا مقصد خواتین کو باعزت روزگار، کاروبار اور معاشی خودمختاری کے بہتر مواقع فراہم کرنا تھا۔میلے کی تقریب میں پارلیمانی سیکرٹری برائے ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول خیبرپختونخوا اور بانی صدر نوشہرہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری حاجی زرعالم خان، منیجنگ ڈائریکٹر کے پی ٹیوٹا میاں عبدالقادر شاہ، بانی رہنما نوشہرہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سردار فخر عالم خان اور چیئرپرسن ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری رابعہ تاج نے خصوصی شرکت کی اور ہنرمند خواتین کے قائم مختلف سٹالز کا دورہ کیا، اور ان کی فنی مہارت، تخلیقی صلاحیتوں اور کاروباری جذبے کو سراہتے ہوئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ خواتین کی معاشی خودمختاری، باوقار روزگار اور محفوظ کاروباری ماحول کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان کے وژن کے مطابق خواتین کو مساوی مواقع، محفوظ ماحول اور معاشی ترقی کے لیے ہر ممکن سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ وہ معاشرے کی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکیں۔میلے کے انعقاد کے حوالے سےوزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے فنی تعلیم محمد عثمان خان بیٹنی نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے وژن کے مطابق صوبائی حکومت فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کے فروغ اور خواتین کو ہنر مند بنا کر معاشی طور پر خودمختار بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی معاشی ترقی درحقیقت صوبے کی مجموعی ترقی کی ضمانت ہے، اور حکومت انہیں جدید، مارکیٹ پر مبنی ہنر، باعزت روزگار اور کاروباری مواقع فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔محمد عثمان خان بیٹنی نے کا مزید کہنا تھا کہ کے پی ٹیوٹا کے تحت خواتین کے لیے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تربیتی پروگرام متعارف کرائے جا رہے ہیں تاکہ وہ نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہنرمند خواتین کے لیے روزگار میلوں کا انعقاد اور صنعت سے روابط کے فروغ جیسے اقدامات انہیں بااختیار بنانے اور پائیدار معاشی ترقی کے حصول میں اہم سنگِ میل ثابت ہوں گے۔انہوں نے روزگار میلے کے کامیاب انعقاد پر GIZ، نوشہرہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور تمام منتظمین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ حکومت خیبرپختونخوا فنی تعلیم کے فروغ، خواتین کی ہنرمندی اور انہیں باعزت روزگار اور خودروزگار کے قابل بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبے کی ترقی اور عوامی فلاح کے لیے تاریخی اقدامات کیے جا رہے ہیں، شفیع جان
وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبر پختونخوا شفیع جان نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمدسہیل آفریدی کی قیادت میں صوبائی حکومت عوام کی فلاح و بہبود، شفاف طرز حکمرانی، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی پائیدار ترقی کے لیے تاریخی اقدامات کر رہی ہے۔ عوامی مسائل کا بروقت حل اور عوام کو ان کی دہلیز پر سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار سول سیکرٹریٹ میں اپنے دفتر میں بدھ کے روز مختلف علاقوں سے آئے ہوئے وفود سے ملاقاتوں کے دوران کیا۔اس موقع پر وفود میں شامل افراد نے اپنے اپنے علاقوں کو درپیش اجتماعی نوعیت کے مسائل، ترقیاتی منصوبوں، بنیادی سہولیات اور دیگر عوامی امور سے متعلق صوبائی وزیر کو آگاہ کیا،صوبائی وزیر نے وفود کے مسائل کو غور سے سنا اور موقع پر ہی متعلقہ محکموں کے افسران سے رابطہ کرکے عوامی مسائل کے فوری اور مؤثر حل کے لیے ضروری ہدایات جاری کیں۔شفیع جان نے کہا کہ بانی چئیرمن عمران خان کے ویژن پر عمل پیرا ہوکر صوبائی حکومت صحت، تعلیم، امن و امان، انفراسٹرکچر، مواصلات، صاف پانی، توانائی، زراعت اور دیگر عوامی فلاحی شعبوں میں اربوں روپے کی لاگت سے منصوبوں پر عملدرآمد کر رہی ہے تاکہ ترقی کے ثمرات صوبے کے ہر شہری تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت شفافیت، میرٹ اور عوامی خدمت کے اصولوں پر عمل پیرا ہے اور تمام دستیاب وسائل عوام کی بہتری پر خرچ کیے جا رہے ہیں،انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی ہدایت پر صوبائی وزرا مختلف اضلاع کے دورے کرتے ہیں تاکہ شہریوں کے مسائل بروقت حل کیے جا سکیں۔ صوبائی حکومت عوام کی توقعات پر پورا اترنے اور ایک خوشحال، ترقی یافتہ اور مستحکم خیبر پختونخوا کی تعمیر کے لیے بھرپور عزم کے ساتھ کام کر رہی ہے۔
Malik Kamran Rajar, National Technical Specialist of the UNDP DHL Project, accompanied by his team, called on Dr. Sumera Shams, Chairperson of the Khyber Pakhtunkhwa Commission on the Status of Women (KPCSW), in Peshawar.
Malik Kamran Rajar, National Technical Specialist of the UNDP DHL Project, accompanied by his team, called on Dr. Sumera Shams, Chairperson of the Khyber Pakhtunkhwa Commission on the Status of Women (KPCSW), in Peshawar.
The meeting was also attended by Shazia Atta, Secretary of KPCSW, and Amna Durrani, Director Programming.
The discussion focused on exploring opportunities for collaboration in the areas of good governance, women’s empowerment, women’s economic empowerment, and other matters of mutual interest.
Both sides reaffirmed their commitment to strengthening institutional collaboration to advance gender equality, inclusive development, and the welfare and empowerment of women across Khyber Pakhtunkhwa. They also agreed to continue working together through strategic partnerships and joint initiatives to support the achievement of sustainable development goals.
Home and Tribal Affairs Department Inaugurates Complaint Cell (1992)
Timely Redressal of Public Complaints, Transparent Governance and Efficient Service Delivery Are the Provincial Government’s Top Priorities, Says Tariq Saeed Marwat
Special Assistant to the Chief Minister for Home and Tribal Affairs, Tariq Saeed Marwat, as the chief guest, formally inaugurated the Complaint Cell (1992) established by the Home and Tribal Affairs Department, Government of Khyber Pakhtunkhwa.
The inauguration ceremony was attended by senior officers and officials of the Home and Tribal Affairs Department. On the occasion, Deputy Director Home and Tribal Affairs, Rafaqat Khan, gave a detailed presentation to the Special Assistant on the establishment, operational mechanism, scope and complaint management system of the Complaint Cell.
The Special Assistant was informed that the Home and Tribal Affairs Department has formally notified the establishment of the Complaint Cell. Through the new facility, complaints, suggestions and public grievances relating to the Home and Tribal Affairs Department and its attached institutions can be submitted through Complaint Helpline 1992 and Telephone No. 091-9214941. Complaints may also be lodged through email, written applications and other officially approved communication channels.
The briefing further highlighted that every complaint received will be properly documented, while the identity of complainants will remain strictly confidential. All complaints will be forwarded to the relevant authorities for prompt action, and a comprehensive monitoring and follow-up mechanism has been established to ensure timely resolution and effective public service delivery.
It was further informed that Director (IT) Muhammad Bashir has been appointed as the overall In-charge of the Complaint Cell. He will oversee its operations, monitor the complaint resolution process and ensure the preparation of periodic performance reports.
Addressing the ceremony, Tariq Saeed Marwat said that, in line with the vision of Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa Muhammad Sohail Khan Afridi, the timely resolution of public complaints, transparent governance, accountability and efficient service delivery are among the provincial government’s foremost priorities. He said the establishment of Complaint Cell (1992) will provide citizens with an effective and reliable platform to register their complaints and seek timely redress, thereby further strengthening public confidence in government institutions.
The Special Assistant directed the concerned authorities to ensure that all complaints are processed and resolved within the prescribed timeframe. He stressed the importance of maintaining an effective monitoring and follow-up mechanism and called upon all relevant officers to discharge their responsibilities with honesty, professionalism and dedication to provide prompt and quality relief to the public.
Complaint Cell Helpline: 1992
Telephone: 091-9214941
سرکاری گندم کی ریلیز سے آٹے اور گندم کی قیمتوں میں کمی، پنجاب حکومت کی غلط پالیسیوں سے ملک بھر میں آٹا مہنگا ہوا، ڈاکٹر محمد اسرار خان
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے خوراک ڈاکٹر محمد اسرار خان نے کہا ہے کہ حکومت خیبرپختونخوا نے صوبائی اسٹریٹیجک ریزرو سے روزانہ 2 ہزار میٹرک ٹن سرکاری گندم کی ریلیز شروع کر دی ہے، جس کے تحت 100 کلوگرام کے 20 ہزار بیگز روزانہ فلور ملز کو فراہم کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام کے مثبت اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور گندم و آٹے کی قیمتوں میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ معاون خصوصی نے گزشتہ روز جاری ویڈیو بیان میں کہا کہ حکومت خیبرپختونخوا نے 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2 ہزار 520 روپے مقرر کر دی ہے۔ عوام سے اپیل ہے کہ سرکاری گندم سے تیار کردہ آٹے کے معیار پر کڑی نظر رکھیں اور کسی بھی قسم کے غیر معیاری آٹے کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غیر معیاری آٹا فراہم کرنے والی فلور مل کا کوٹہ منسوخ کرنے کے ساتھ اس کے خلاف قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔ڈاکٹر محمد اسرار خان نے کہا کہ حکومت خیبرپختونخوا عوام کو معیاری اور سستا آٹا فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے، تاہم پنجاب حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث ملک بھر میں آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ڈاکٹر محمد اسرار نے بتایا کہ پنجاب حکومت آئین کے آرٹیکل 151 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وفاقی حکومت کی سرپرستی میں گندم اور آٹے کی بین الصوبائی ترسیل پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔معاون خصوصی نے مزید کہا کہ پنجاب کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس خیبرپختونخوا آنے والے گندم اور آٹے کے ٹرکوں کو بھتہ دیے بغیر گزرنے نہیں دیتیں، جس سے اشیائے خورونوش کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ یا تو بین الصوبائی ترسیل پر عائد غیر قانونی پابندیاں فوری طور پر ختم کی جائیں یا خیبرپختونخوا حکومت اور مقامی تاجر برادری کو قریبی ممالک سے گندم درآمد کرنے کی اجازت دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ قریبی ممالک سے کم قیمت پر معیاری گندم درآمد کی جا سکتی ہے، جس کے معیار کی نگرانی مقامی تاجر اور سرمایہ کار خود کریں گے، جبکہ صوبائی حکومت بھی مؤثر نگرانی یقینی بنائے گی۔ڈاکٹر محمد اسرار خان نے خبردار کیا کہ اگر وفاقی حکومت بین الصوبائی آزاد تجارت بحال نہیں کرتی یا گندم درآمد کرنے کی اجازت نہیں دیتی تو مستقبل میں کسی بھی بحران یا قیمتوں میں اضافے کی تمام تر ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوگی۔
ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات اسلام زیب کی صدارت میں صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کے اجلاس میں 35 ارب روپے سے زائد کے 18 منصوبوں کی منظوری
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی خصوصی ہدایات پر ملاکنڈ ڈویژن میں سیاحتی مقامات تک رسائی کے لیے 5 ارب روپے کی لاگت سے سڑکوں کا منصوبہ منظور کیا گیا۔ ان سڑکوں کی تعمیر سے سیاحت کے شعبے کو فروغ ملے گا اور مقامی کاروبار و معیشت کو تقویت حاصل ہوگی۔ نئے روڈ انفراسٹرکچر سے سیاحتی مقامات تک رسائی آسان ہوگی، سفری وقت میں کمی آئے گی اور سیاحوں و مقامی آبادی کے لیے محفوظ اور ہموار سفر یقینی بنایا جا سکے گا۔ضلع سوات میں منظور شدہ منصوبوں میں شاہی باغ اتروڑ روڈ کی اپ گریڈیشن، کو شنکو درہ روڈ کی تعمیر، داد سر روڈ کی تعمیر، منگو کروڑئی کنڈاو روڈ کی تعمیر، سولتنر روڈ کی تعمیر اور گبین جبہ روڈ کی تعمیر نو و بحالی شامل ہیں۔ ضلع دیر بالا میں اشریت گوالدئی سے سربانڈہ سمات شاہی تک روڈ کی تعمیر، ڈنکر جاندرے سے کٹورا جھیل تک روڈ کی تعمیر اور برکند اوشیرئی سے کنڈاو ٹاپ تک روڈ کی تعمیر کی منظوری دی گئی ہے۔ ضلع دیر پائین میں سیا سے حیدر کنڈاو روڈ پی کے-15 کی تعمیر، اسو روڈ کی تعمیر، منائی جاکڑ بابا روڈ کی تعمیر، اوسکئی برچرئی روڈ کی تعمیر، مینہ سر بالا سے دشت لیلا روڈ کی تعمیر، باغ سے نرئی کنڈاو روڈ کی تعمیر اور ضیام آسمان شان خوشحال پٹے ٹاپ روڈ کی تعمیر شامل ہے۔ جبکہ ضلع چترال بالا میں قاقلشٹ میڈوز روڈ کی اپ گریڈیشن کا منصوبہ منظور کیا گیا ہے۔اجلاس میں فورم کے ممبران اور متعلقہ محکموں کے سینئر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں روڈز کے شعبے کے اہم منصوبوں کی منظوری دی گئی جن میں ضلع بنوں میں حوید تا تختئی خیل روڈ اور مین ہبک سورانی روڈ سے پولیس چوکی ہبک اور بات چوک سے منڈوری مٹوٹ اللہ شاہ سرنی تک سڑک کی تعمیر و فزیبلٹی سٹڈی، چشمہ تا دراتنگ روڈ براستہ کافر کوٹ کی بہتری و بحالی، ضلع خیبر میں تین آر سی پلوں اور لنک روڈز کی تعمیر اور الحاج شیل پمپ سے تیرا مین اور لنک روڈز تک 10.5 کلومیٹر طویل سڑک کی تعمیر اور بلیک ٹاپنگ، پشاور یونیورسٹی روڈ سے رینگ روڈ تک لنک روڈز کی تعمیر، انڈس ہائی وے سے بنوں سٹی تک 26 کلومیٹر روڈ کو دو رویہ کرنے کے لیے فزیبلٹی سٹڈی اور تفصیلی انجینئرنگ ڈیزائن، ضلع بنوں میں باران ڈیم سے جانی خیل اور پولیس سٹیشن میریان سے ہوالا روڈ کی بحالی اور تعمیر نو، ضلع ہری پور کی تمام یونین کونسلوں میں اندرون سڑکوں کی تعمیر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اجلاس میں تحصیل مٹہ سوات میں پبلک پارک کے قیام، محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ میں واٹر چارجز کلیکشن کے لیے ای-گورننس سیل اور سی بی آئی ایس کے قیام، اے آئی پی اور کے پی کے ذریعے عام شہری کا خاص منصوبہ اور انسٹیوٹ آف پیٹرولیم ٹیکنالوجی کے قیام کی سکیموں پر بھی منظوری دی گئی۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری اسلام زیب نے کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا صوبے کی ترقی اور عوامی فلاح کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منظور شدہ منصوبوں پر عملدرآمد میں شفافیت، معیار اور مقررہ مدت کی پابندی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام جلد از جلد ان سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس بدھ کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں چیئرمین قائمہ کمیٹی و رکن صوبائی اسمبلی مشتاق احمد غنی کی زیر صدارت منعقد ہوا
خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس بدھ کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں چیئرمین قائمہ کمیٹی و رکن صوبائی اسمبلی مشتاق احمد غنی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر صحت خلیق الزمان، ممبران قائمہ کمیٹی اور صوبائی اسمبلی کے اراکین اصف مسعود، اکرام اللہ غازی، حامد الرحمٰن، اعجاز،محمد عدنان خان، سریش کمار، بیری لال، عسکر پرویز، محترمہ ثوبیہ شاہد، محترمہ اسماء عالم، محترمہ ریحانہ اسماعیل اور محترمہ جمیلہ پراچہ نے شرکت کی۔ اجلاس میں سیکرٹری صحت بمع متعلقہ افسران اکاؤنٹنٹ جنرل آفس، محکمہ قانون، محکمہ خزانہ اور صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ کے متعلقہ افسران بھی شریک ہوئے، جہاں صوبے میں صحت کے شعبے سے متعلق مختلف اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران رکن صوبائی اسمبلی اصف مسعود نے ضلع اپر وزیرستان میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) آفس سمیت تمام بنیادی مراکز صحت کو شمسی توانائی (سولرائزیشن) پر منتقل کرنے کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے باعث صحت کی خدمات بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ اس پر سیکرٹری صحت نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کے تحت صوبے کے بیشتر سرکاری صحت مراکز کو مرحلہ وار شمسی توانائی پر منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ اپر وزیرستان کے تمام متعلقہ صحت مراکز کو بھی جلد اس منصوبے میں شامل کر لیا جائے گا تاکہ وہاں بلا تعطل طبی خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔رکن صوبائی اسمبلی حامد الرحمٰن نے محکمہ صحت میں مختلف کیڈرز میں ضرورت سے زائد بھرتیوں اور مبینہ بے ضابطگیوں کا معاملہ اٹھایا۔ اس پر چیئرمین قائمہ کمیٹی مشتاق احمد غنی نے حقائق جاننے کے لیے ایک ذیلی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی۔ کمیٹی پندرہ روز کے اندر اپنی رپورٹ قائمہ کمیٹی کو پیش کرے گی، جس میں مختلف کیڈرز میں ہونے والی بھرتیوں، ان کے طریقہ کار، شفافیت اور قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا تاکہ ضروری اصلاحات کے لیے مؤثر سفارشات مرتب کی جا سکیں۔اجلاس میں اقلیتی اراکین سریش کمار اور عسکر پرویز نے محکمہ صحت میں اقلیتی طالب علموں کے داخلے کے سلسلے میں مختص دو فیصد ایم ایس/او ڈی ایم ایس کوٹے پر عملدرآمد میں تاخیر کا معاملہ بھی اٹھایا۔ سیکرٹری صحت نے بتایا کہ اس حوالے سے محکمہ قانون سے مشاورت جاری ہے اور جلد ایک جامع سمری منظوری کے لیے پیش کی جائے گی تاکہ اس مسئلے کا مستقل اور قانونی حل ممکن بنایا جا سکے۔رکن صوبائی اسمبلی اعجاز محمد نے نحقی ہیلتھ سینٹر میں تعینات ڈی ایم ایس کے خلاف انکوائری مکمل ہونے کے باوجود ان کی تعیناتی برقرار رہنے پر تشویش کا اظہار کیا۔ سیکرٹری صحت نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں جلد مناسب انتظامی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور متعلقہ قواعد کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔ کمیٹی نے اس موقع پر محکمہ صحت میں احتساب، شفافیت اور میرٹ کو ہر سطح پر یقینی بنانے پر زور دیا تاکہ عوام کا اعتماد مزید مستحکم ہو۔رکن صوبائی اسمبلی عدنان خان نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ایوب میڈیکل کالج کی عمارت زلزلے سے متاثر ہوئی تھی، جسے اب آئرن شیڈ کے ذریعے مضبوط اور محفوظ بنایا جا رہا ہے تاکہ طلبہ، عملے اور مریضوں کے لیے محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر چیئرمین قائمہ کمیٹی مشتاق احمد غنی نے ایوب ٹیچنگ ہسپتال میں ایم آر آئی مشین اور اس سے متعلقہ ریکارڈ کے جائزے کے لیے قائم فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ طلب کی۔ کمیٹی کی چیئرپرسن محترمہ شہلا بانو نے بتایا کہ رپورٹ مکمل ہو چکی ہے اور اسے آئندہ اجلاس میں قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔انہوں نے محکمہ صحت کے حکام کو مزید ہدایت کی کہ صحت کے شعبے سے متعلق تمام معاملات میں شفافیت، میرٹ، مؤثر نگرانی اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، کیونکہ عوامی فلاح اور صحت کی بہتر خدمات حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔
Adviser to the Chief Minister Malak Liaqat Ali Khan Chairs Important Meeting on the Proposed Khyber Pakhtunkhwa Acid and Burn Crimes (Prevention and Rehabilitation) Bill
Adviser to the Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa for Social Welfare, Special Education and Women Empowerment, Malak Liaqat Ali Khan, chaired an important meeting to review the proposed Khyber Pakhtunkhwa Acid and Burn Crimes (Prevention and Rehabilitation) Bill. The meeting was attended by the Secretary of the Social Welfare, Special Education and Women Empowerment Department, former Member of the Provincial Assembly Ms. Asiya Khattak, representatives of the Khyber Pakhtunkhwa Commission on the Status of Women, senior officials from relevant departments, and other key stakeholders.
During the meeting, participants received a comprehensive briefing on the proposed legislation. It was highlighted that the primary objective of the Bill is to effectively prevent acid and burn crimes while ensuring the protection of victims’ rights through immediate medical treatment, psychological support, legal assistance, social rehabilitation, and financial assistance. The briefing also covered the various provisions of the proposed legislation, institutional responsibilities, victim protection mechanisms, rehabilitation frameworks, and strategies for its effective implementation.
Addressing the meeting, Malak Liaqat Ali Khan stated that the protection of women, children, and other vulnerable segments of society remains one of the foremost priorities of the Government of Khyber Pakhtunkhwa. He emphasized that strong and effective legislation is essential to prevent heinous crimes such as acid attacks and burn violence, ensure that perpetrators are brought to justice, and guarantee timely justice, comprehensive protection, and dignified rehabilitation for survivors.
Malak Liaqat Ali Khan directed the relevant departments to further strengthen the proposed Bill through extensive consultations with all concerned institutions, legal experts, and stakeholders to ensure that it is comprehensive, practical, and effective. He further stressed the need to include clear and robust provisions for emergency medical care, psychological rehabilitation, legal assistance, financial support, social reintegration, and the restoration of survivors to a life of dignity.
The participants also presented their recommendations and suggestions on the proposed legislation, which were reviewed in detail. It was agreed that the Bill would be finalized after incorporating the recommendations of all relevant stakeholders and would then be processed through the necessary legislative procedures for its early enactment in the province.
Concluding the meeting, Malak Liaqat Ali Khan reaffirmed the Government of Khyber Pakhtunkhwa’s unwavering commitment to protecting the lives, dignity, and rights of women, children, and other vulnerable individuals. He reiterated that the provincial government will continue introducing effective legislation that not only prevents such crimes but also ensures the comprehensive rehabilitation of survivors and supports their dignified reintegration into society.
دورِ جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ مؤثر قانون سازی حکومت کی اولین ترجیح ہے، آفتاب عالم
وزیر قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور خیبر پختونخوا ایڈووکیٹ آفتاب عالم نے کہا ہے کہ مؤثر قانون سازی وقت کی اہم ضرورت ہے اور حکومت دورِ جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ قانونی نظام کی تشکیل کے لیے صوبے میں نافذ قوانین کا ازسرِنو جامع جائزہ لے رہی ہے تاکہ انہیں موجودہ حالات اور عوامی ضروریات کے مطابق مزید مؤثر، قابلِ عمل اور جدید بنایا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت جدید تقاضوں سے ہم آہنگ قانون سازی کے عمل کو تیز، مؤثر اور شفاف بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے تاکہ عوام کو بہتر قانونی تحفظ اور انصاف کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز پشاور میں کابینہ کی قانون ساز کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں مشیرِ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا برائے خزانہ مزمل اسلم، سیکرٹری محکمہ قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور، سیکرٹری محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول،سیکرٹری محکمہ ہیومن ریسورس مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ،سپیشل سیکرٹری محکمہ داخلہ و قبائلی امور، بورڈ آف ریونیو، محکمہ قانون، ایڈووکیٹ جنرل آفس اور دیگر متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں انسدادِ دہشت گردی (ترمیمی) بل 2026، ضابطۂ فوجداری (ترمیمی) بل 2026، وٹنس پروٹیکشن (ترمیمی) ایکٹ 2026 اور ایکسائز فورس بل 2026 پر تفصیلی غور کیا گیا۔ شرکاء نے ان مجوزہ قوانین کے مختلف قانونی، انتظامی اور مالیاتی پہلوؤں کا جائزہ لیا اور اس امر پر اتفاق کیا کہ نئے قوانین یا ترامیم کی مالی ذمہ داری (Financial Implications) کو ہر ممکن حد تک کم رکھتے ہوئے ان کی مؤثریت کو یقینی بنایا جائے۔وزیر قانون آفتاب عالم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت بھی انسدادِ دہشت گردی (ترمیمی) بل، ضابطۂ فوجداری (ترمیمی) بل اور وٹنس پروٹیکشن (ترمیمی) ایکٹ میں ترامیم پر غور کر رہی ہے، لہٰذا صوبائی سطح پر تیار کیے جانے والے مسودات کا وفاقی مسودات کے ساتھ تقابلی جائزہ لیا جائے تاکہ دونوں سطحوں پر قوانین میں ہم آہنگی پیدا ہو، قانونی تضادات سے بچا جا سکے اور قومی سطح پر یکساں اور مؤثر قانونی نظام کو فروغ دیا جا سکے۔اجلاس میں نارکوٹکس کنٹرول فورس کے مجوزہ قیام سے متعلق امور کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر فورس کے مجوزہ ڈھانچے، اختیارات اور انتظامی امور پر مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔ مجوزہ فورس میں کمانڈنٹ، ڈپٹی کمانڈنٹ، ڈائریکٹر، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسرز، اسسٹنٹ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسرز، انسپکٹرز، سب انسپکٹرز، اسسٹنٹ سب انسپکٹرز، کانسٹیبلز، وائرلیس آپریٹرز اور ڈرائیورز شامل ہوں گے۔ اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ فورس کا قیام جدید تقاضوں کے مطابق مؤثر انسدادِ منشیات کارروائیوں، قانون کے مؤثر نفاذ اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔اجلاس کے اختتام پر مختلف محکموں کو ہدایت کی گئی کہ وہ متعلقہ بلوں پر اپنی سفارشات جلد از جلد مرتب کرکے کابینہ کی قانون ساز کمیٹی کو پیش کریں تاکہ قانون سازی کا عمل بروقت مکمل کیا جا سکے۔
سیکرٹری ہاؤسنگ محمد انور خان کی زیر صدارت میگا سٹی نوشہرہ منصوبے کا جائزہ اجلاس، ترقیاتی کام تیز کرنے اور منصوبہ جلد مکمل کرنے کی ہدایت
خیبر پختونخوا کے سیکرٹری برائے ہاؤسنگ محمد انور خان کی زیر صدارت بدھ کے روز ان کے دفتر میں میگا سٹی نوشہرہ منصوبے سے متعلق ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری ہاؤسنگ خالق داد خان، ڈائریکٹر جنرل ہاؤسنگ زاہد خان، پراجیکٹ ڈائریکٹر نیو پشاور ویلی عبدالودود، ڈائریکٹر ٹیکنیکل ون عمران ہلال، ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن امان الحق، محکمہ ہاؤسنگ، محکمہ مال، کنسلٹنٹ نیسپاک اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں سیکرٹری ہاؤسنگ کو میگا سٹی نوشہرہ کے جاری ترقیاتی کاموں، ماسٹر پلان، الاٹیز کو درپیش مسائل، اراضی سے متعلق شکایات اور منصوبے پر اب تک ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے منصوبے کے فیز ون، فیز ٹو اور فیز تھری کی پیش رفت، ڈیزائن اور مختلف تکنیکی امور سے بھی آگاہ کیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ منصوبے کے لیے تقریباً 85 فیصد اراضی حاصل کی جا چکی ہے، جبکہ کنسلٹنٹ نیسپاک کے کردار اور ذمہ داریوں پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر سیکرٹری ہاؤسنگ محمد انور خان نے ہدایت کی کہ کنسلٹنٹ نیسپاک فیز ون پر کام کی رفتار مزید تیز کرے اور مطلوبہ مرحلے کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ میگا سٹی نوشہرہ منصوبے میں مزید تاخیر نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے، لہٰذا تمام متعلقہ ادارے ترجیحی بنیادوں پر منصوبے کی بروقت تکمیل کو یقینی بنائیں۔سیکرٹری ہاؤسنگ نے مزید ہدایت کی کہ متنازعہ اراضی کے معاملات افہام و تفہیم اور باہمی مشاورت کے ذریعے حل کیے جائیں تاکہ منصوبے کی پیش رفت متاثر نہ ہو۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تمام پلاٹ الاٹیز کو دستیاب وسائل کے مطابق ترجیحی بنیادوں پر بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔اجلاس کے اختتام پر سیکرٹری ہاؤسنگ نے آئندہ جائزہ اجلاس میں کنسلٹنٹ نیسپاک کے نمائندوں کی لازمی شرکت یقینی بنانے کی ہدایت بھی جاری کی۔
