Home Blog Page 52

شہداء کی قربانیاں قوم کا فخر ہیں، ان کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا، طارق سعید مروت

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے داخلہ و قبائلی امور طارق سعید مروت نے پولیس لائن ٹانک میں گزشتہ شب مانجھی خیل چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے میں جامِ شہادت نوش کرنے والے پولیس کانسٹیبل بلال خان، کانسٹیبل طلاء محمد اور محکمہ جنگلات کے فارسٹ گارڈ نور اعظم کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔نمازِ جنازہ میں چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ، انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی جواد قمر، آر پی او ڈیرہ اسماعیل خان غلام مبشر میکن، کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان، ڈی پی او ٹانک عبدالصمد خان، ڈپٹی کمشنر ٹانک جمشید خان، پولیس و ضلعی انتظامیہ کے افسران، جوانوں اور علاقائی عمائدین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر شہداء کے جسدِ خاکی پر پھولوں کی چادریں چڑھائی گئیں جبکہ پولیس کے چاق و چوبند دستے نے مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ سلامی پیش کی۔ طارق سعید مروت نے شہداء کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت اس دکھ کی گھڑی میں شہداء کے خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی ہر ممکن سرپرستی، معاونت اور فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے خصوصی دعا بھی کی۔بعد ازاں معاونِ خصوصی نے چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پولیس اور دیگر اعلیٰ حکام کے ہمراہ دہشت گرد حملے میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کانسٹیبل عصمت اللہ، کانسٹیبل جسیم خان، کانسٹیبل داؤد خان اور کانسٹیبل پیر غلام کی عیادت کی۔ انہوں نے زخمی اہلکاروں کی بہادری اور حوصلے کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی اور یقین دہانی کرائی کہ ان کے علاج، مالی معاونت اور دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔ اس موقع پر معاونِ خصوصی طارق سعید مروت نے کہا کہ وطن کی خاطر جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے ہمارے بہادر شہداء پوری قوم کا فخر ہیں۔ ان کی لازوال قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جائیں گی اور ان کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا۔ معاونِ خصوصی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عوام ،حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے یکسو ہیں اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبائی حکومت اس ضمن میں تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ، قانون کی حکمرانی اور پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام ممکنہ اقدامات پوری قوت سے جاری رکھے جائیں گے۔

معاون خصوصی ملک عدیل اقبال کی زیر صدارت کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کااے ڈی پی اجلاس، ترقیاتی منصوبے مقررہ مدت اور معیار کے مطابق مکمل کرنے پر زور

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے سیاحت، ثقافت، آثار قدیمہ و عجائب گھر ملک عدیل اقبال کی زیر صدارت خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) برائے مالی سال 2026-27 کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی شاہد خان سمیت متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت جاری اور مجوزہ منصوبوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ معاون خصوصی ملک عدیل اقبال نے منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی سکیموں پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے اور منصوبوں کو مقررہ معیار اور مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات یقینی بنائے جائیں۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ مالی سال 2026-27 کے دوران کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کی 17 جاری اور 5 نئی ترقیاتی سکیموں پر کام جاری ہے۔ ان منصوبوں میں سیاحتی انفراسٹرکچر کی بہتری، نئے تفریحی مقامات کی تعمیر، ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ اور سیاحوں کو جدید سہولیات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔اس موقع پر معاونِ خصوصی ملک عدیل اقبال نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبے میں سیاحت کے فروغ کے لیے مؤثر اور نتیجہ خیز اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ٹورازم ہیلپ لائن 1422 کی بھرپور تشہیر کی جائے تاکہ ملکی و غیر ملکی سیاح اس سہولت سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کر سکیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت عملی طور پر نظر آنی چاہیے اور سالانہ ترقیاتی پروگرام کا باقاعدگی سے جائزہ لینے کے لیے تواتر کے ساتھ اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ تمام جاری منصوبوں کو بروقت اور اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل کیا جائے گا تاکہ خیبرپختونخوا میں سیاحت اور ثقافت کو مزید فروغ ملے، مقامی معیشت مستحکم ہو، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں اور ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو عالمی معیار کی سہولیات فراہم کرنے کے حکومتی وژن کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔

گندم بحران کا نقصان کسان اور صارف دونوں کو ہوا اتنی لاپرواہی کا ذمہ دار کوئی تو ہوگا۔ ابھی نئے گندم سیزن میں 8 سے 9 ماہ باقی ہیں اگر درآمد کی گئی تو کتنا ملکی زرمبادلہ لگے گا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے گندم بحران اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر رواں سال گندم کی بمپر فصل ہوئی تھی تو پھر پنجاب اور سندھ دونوں اپنے گندم خریداری کے ہدف کا بمشکل 15 فیصد ہی حاصل کیوں نہ کرسکے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ گندم کی مارکیٹ میں قیمتیں مسلسل بڑھتی رہیں لیکن متعلقہ اداروں نے بروقت کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر وہ کون سے ذخیرہ اندوز (اسٹاکسٹ) تھے جنہوں نے اس عرصے میں مارکیٹ سے بڑی مقدار میں گندم خرید کر ذخیرہ کی، جس کے باعث کسان کو اس کی محنت کا مناسب معاوضہ نہ مل سکا جبکہ صارفین بھی مہنگی گندم خریدنے پر مجبور ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اس سنگین غفلت کی ذمہ داری بھی کسی نہ کسی کو قبول کرنا ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئے گندم سیزن میں ابھی آٹھ سے نو ماہ باقی ہیں، اگر اس دوران گندم درآمد کرنا پڑی تو اس پر قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوگا، جس سے ملکی معیشت پر مزید دباؤ بڑھے گا۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر ردعمل دیتے ہوئے مشیر خزانہ نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتی تو کم از کم تقریباً 1,700 ارب روپے کی پٹرولیم لیوی میں عارضی کمی کر کے عوام کو فوری ریلیف فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ دنوں کے دوران پٹرول کی قیمت میں 21 روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 56 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جس نے عوام کی مشکلات میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔
مزمل اسلم نے کہا کہ موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کے باعث عوام مسلسل مہنگائی کے شدید جھٹکے برداشت کر رہے ہیں اور یہ اثرات تاقیامت یاد رکھے جائیں گے۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت کے اتحادی جماعتیں آخر کس کارکردگی کی بنیاد پر کشمیر انتخابات میں عوام سے ووٹ مانگ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کا طوفان آنے والا نہیں بلکہ آ چکا ہے۔ وفاقی محکمہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ٹماٹر کی قیمت میں 253 فیصد، پیاز 81 فیصد، آٹا 74 فیصد، ایل پی جی 46 فیصد، پٹرول و ڈیزل 32 فیصد جبکہ بجلی کے نرخوں میں 23 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسی طرح حساس قیمتوں کے اشاریے کے مطابق ایک ہفتے کے دوران مہنگائی میں 0.91 فیصد جبکہ سالانہ بنیادوں پر 9.66 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

جدید ایمرجنسی ریسپانس سسٹم کے ذریعے عوام کو بروقت امداد کی فراہمی مزید مؤثر بنائی جا رہی ہے، شفیع جان

وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبر پختونخوا شفیع جان نے معاون خصوصی برائے محکمہ داخلہ طارق سعید مروت کے ہمراہ محکمہ داخلہ کے زیر انتظام ایمرجنسی ہیلپ لائن سینٹر 911 کا دورہ کیا۔ اس موقع پر پراجیکٹ ڈائریکٹر رفاقت خان نے انہیں 911 ایمرجنسی سروس کے آپریشنز، کارکردگی اور جدید نظام سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ شہری ایک ہی ہیلپ لائن 911 کے ذریعے پولیس، ریسکیو 1122، پی ڈی ایم اے، ٹورازم اور دیگر متعلقہ اداروں تک ہنگامی صورتحال میں فوری رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ یہ نظام مختلف اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ اور بروقت ردعمل کو یقینی بناتا ہے۔ بریفنگ میں مزید گیا کہ شہری موبائل سم یا نیٹ ورک کے بغیر بھی ہنگامی صورتحال میں 911 پر کال کر سکتے ہیں،اس موقع پر وزیر اطلاعات شفیع جان نے کہا کہ 911 ایمرجنسی ہیلپ لائن عوام کو مربوط، جدید اور بروقت ایمرجنسی خدمات کی فراہمی کا ایک اہم منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ یہ نظام نہ صرف عوام کو فوری امداد کی فراہمی یقینی بنا رہا ہے بلکہ متعلقہ اداروں کے درمیان رابطے اور تعاون کو بھی مزید مؤثر بنائے گا،شفیع جان نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت عوام کو جدید، مربوط اور تیز رفتار ایمرجنسی سہولیات کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے،انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے 2022 میں خیبر پختونخوا میں 911 ایمرجنسی سروس کا افتتاح کیا تھا، تاہم بدقسمتی سے وفاقی حکومت نے صحت کارڈ کی طرح اس عوامی خدمت کے اہم منصوبے کو بھی معطل کر دیا تھا،وزیر اطلاعات نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت شہریوں کو عالمی معیار کی ایمرجنسی سہولیات فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے

خیبر پختونخوا میں ماحول دوست صنعتی ترقی کی جانب اہم پیش رفت

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے فنی تعلیم اور چیئرمین خیبر پختونخوا تکنیکی تعلیم و فنی تربیت اتھارٹی محمد عثمان خان بیٹنی نے گورنمنٹ ٹیچر ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، حیات آباد پشاور میں قائم مرکزِ امتیاز میں زگ زیگ اینٹ سازی ٹیکنالوجی پر مبنی جدید فنی و پیشہ ورانہ تربیتی پیکیج کی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔تقریب کے دوران ماحول دوست صنعتی ترقی، جدید فنی تربیت کے فروغ اور ہنرمند افرادی قوت کی تیاری کے لیے تیار کردہ قابلیت پر مبنی تربیتی پیکیج پیش کیا گیا۔ یہ پیکیج اینٹ سازی کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ مہارتوں کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرے گا۔تقریب میں سندھ حکومت کے معاونِ خصوصی برائے تکنیکی تعلیم جنید بلند، منیجنگ ڈائریکٹر خیبر پختونخوا تکنیکی تعلیم و فنی تربیت اتھارٹی میاں عبدالقادر شاہ، منیجنگ ڈائریکٹر سندھ ٹیوٹا غلام مرتضیٰ شیخ، منصوبے کے سربراہ ڈاکٹر ریاض، جامعات کے نمائندگان، متعلقہ اداروں کے افسران اور فنی تعلیم سے وابستہ ماہرین نے شرکت کی۔شہید بینظیر بھٹو ویمن یونیورسٹی پشاور، بین الاقوامی محنت تنظیم (ILO)، خیبر پختونخوا تکنیکی تعلیم و فنی تربیت اتھارٹی (KP-TEVTA) اور اطالوی ایجنسی برائے ترقیاتی تعاون (AICS) کے تعاون سے تیار کردہ یہ تربیتی پیکیج زگ زیگ اینٹ سازی ٹیکنالوجی کے فروغ، ماحول دوست صنعت کے قیام اور ہنرمند افرادی قوت کی تیاری کے لیے ایک اہم اقدام قرار دیا گیاہے۔معاونِ خصوصی برائے فنی تعلیم محمد عثمان خان بیٹنی نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نوجوانوں، خواتین اور ہنر کے خواہشمند افراد کو جدید فنی تعلیم اور روزگار سے ہم آہنگ مہارتیں فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ زگ زیگ اینٹ سازی ٹیکنالوجی اینٹوں کی صنعت میں جدید اور ماحول دوست نظام ہے، جس کے ذریعے فضائی آلودگی اور کاربن کے اخراج میں کمی کے ساتھ ساتھ پیداواری صلاحیت میں بھی اضافہ ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ اس جدید ٹیکنالوجی کے نمایاں فوائد میں
تقریباً 30 فیصد ایندھن کی بچت
،فضائی آلودگی اور کاربن کے اخراج میں نمایاں کمی
،روزانہ 45 ہزار سے 50 ہزار اینٹوں کی پیداواری صلاحیت
،اعلیٰ معیار کی اینٹوں کی پیداوار میں بہتری،
نوجوانوں اور خواتین کے لیے باعزت روزگار کے نئے مواقع شامل ہیں۔محمد عثمان خان بیٹنی نے کہا کہ بین الصوبائی تعاون کے ذریعے جدید ٹیکنالوجی کے تجربات کا تبادلہ، ماحول دوست صنعت کا فروغ اور ملک بھر میں ہنرمند افرادی قوت کی تیاری کو مزید تقویت دی جا سکتی ہے۔انہوں نے شہید بینظیر بھٹو ویمن یونیورسٹی پشاور، بین الاقوامی محنت تنظیم، حکومتِ اٹلی، اطالوی ایجنسی برائے ترقیاتی تعاون، KP-TEVTA، قومی فنی تعلیم و تربیت کمیشن اور دیگر شراکت دار اداروں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت ایسے منصوبوں کی سرپرستی جاری رکھے گی جو نوجوانوں کو بااختیار بنانے، ماحول کے تحفظ اور پائیدار معاشی ترقی میں معاون ثابت ہوں۔

ضلع چارسدہ میں ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ، عوامی فلاحی منصوبے ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیے جائیں، شکیل احمد

خیبر پختونخوا کے وزیر مواصلات و تعمیرات شکیل احمد اور وزیر برائے معدنیات عارف احمد زئی نے ضلع چارسدہ میں محکمہ مواصلات و تعمیرات کے ہائی وے ڈویژن اور بلڈنگ کنسٹرکشن ڈویژن کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ بریفنگ اجلاس کی مشترکہ صدارت کی۔اجلاس میں رکن قومی اسمبلی ملک انور تاج، چیف انجینیئر سینٹرل میگا پراجیکٹس جمشید علی خان، منیجنگ ڈائریکٹر خیبر پختونخوا ہائی وے اتھارٹی انجینیئر سہیل خان، سپرنٹنڈنگ انجینیئر شہاب خان، ایکسیئن چارسدہ رابعہ اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران چیف انجینیئر ہائی وے ڈویژن اور ایکسیئن بلڈنگ کنسٹرکشن نے صوبائی وزراء کو ضلع چارسدہ میں محکمہ مواصلات و تعمیرات کے تحت مکمل شدہ، جاری اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں، سالانہ ترقیاتی پروگرام، تعمیراتی سرگرمیوں اور محکمانہ کارکردگی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات شکیل احمد نے محکمہ کی مجموعی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ عوامی فلاح کے تمام منصوبے مقررہ مدت کے اندر اور ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیے جائیں تاکہ عوام کو جلد از جلد معیاری سہولیات میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوامی وسائل کے شفاف اور مؤثر استعمال پر یقین رکھتی ہے اور ترقیاتی منصوبوں میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔بعد ازاں صوبائی وزیر شکیل احمد نے مونڈہ ڈیم ، مٹہ کتوزئی روڈ اور بٹگرام بائی پاس روڈ کے جاری تعمیراتی کاموں کا تفصیلی معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام منصوبوں میں اعلیٰ معیار کی تعمیر کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور تعمیراتی میٹریل سمیت تمام تکنیکی تقاضوں پر سختی سے عمل کیا جائے۔انہوں نے واضح کیا کہ عوامی ترقیاتی منصوبوں کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل حکومت کی اولین ترجیح ہے تاکہ عوام کو محفوظ، جدید اور پائیدار انفراسٹرکچر کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

زرعی تحقیق قومی ترقی اور غذائی تحفظ کی ضمانت ہے، سائنسدانوں کی خدمات قابل ستائش ہیں، شفیع جان

مشیر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا برائے زراعت میاں محمد عمر کی خصوصی ہدایت پر زرعی تحقیقاتی ادارہ مینگورہ سوات کے سائنسدانوں کے اعزاز میں پشاور میںتقسیم ایوارڈ کی ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں صوبائی وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے بھی شرکت کی۔تقریب میں اے آر آئی مینگورہ سوات کے سائنسدانوں کو تحقیقی خدمات اور نمایاں کارکردگی پر اعزازی شیلڈز سے نوازا گیا، او موقع پرصوبائی وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ زرعی تحقیق قومی ترقی اور غذائی تحفظ کی ضمانت ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت کا شعبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور زرعیسائنسدانوں کی خدمات قابل ستائش ہیں،تقریب سے اپنے خطاب میں مشیر زراعت میاں عمر نے کہا کہ محققین اپنے علم اور تحقیق سے قوموں کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ صوبائی حکومت زراعت کی ترقی اور کاشتکاروں کی خوشحالی کے لیے بھی بھرپور اقدامات کر رہی ہے،انہوں نےکہا کہ اے آر آئی مینگورہ سوات کے سائنسدانوں نے زرعی تحقیق کے میدان میں شاندار خدمات انجام دی ہیں اور ان کی کارکردگی کے اعتراف میں یہ تقریب منعقد کی گئی ہے۔ انہوں نے ک مزیدہا کہ حکومت زرعی تحقیق کے فروغ، سائنسدانوں کی حوصلہ افزائی اور ان کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی تاکہ جدید تحقیق کے ثمرات برا ہ راست کاشتکاروں تک پہنچ سکیں۔ڈائریکٹر پلاننگ ایگریکلچر ریسرچ طاہر سجاد نے سائنسدانوں کی خدمات کے اعتراف پر مشیر وزیراعلیٰ کا شکریہ ادا کیا، جبکہ اے آر آئی مینگورہ سوات کے ڈائریکٹر ڈاکٹر روشن علی نے اعزاز کو پورے محکمہ زراعت کی مشترکہ کامیابی قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ادارہ مستقبل میں بھی جدید زرعی تحقیق کے ذریعے کاشتکاروں کی خدمت جاری رکھے گا۔تقریب میںسائنسدانوں کو تحقیقی خدمات اور نمایاں کارکردگی پر اعزازی شیلڈز سے بھینوازا گیا،

وزیرِ ریونیو و اسٹیٹ طارق محمود آریانی کا سروس ڈیلیوری سنٹر تخت بھائی کا اچانک دورہ

وزیرِ ریونیو و سٹیٹ خیبر پختونخوا طارق محمود آریانی نے آج سروس ڈیلیوری سنٹر تخت بھائی کا اچانک دورہ کیا، جہاں انہوں نے عوام کو ریونیو خدمات کی فراہمی، دفتری امور اور مختلف شعبہ جات کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا۔دورے کے دوران وزیرِ ریونیو نے سروس ڈیلیوری سنٹر میں موجود شہریوں سے براہِ راست ملاقات کی اور ان کے مسائل، شکایات اور تجاویز سنیں۔ اس موقع پر انہیں تحصیلدار کے طرزِ عمل اور عوامی معاملات میں تاخیر سے متعلق متعدد شکایات موصول ہوئیں، جن پر انہوں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تحصیلدار کو عہدے سے ہٹانے کے احکامات جاری کر دیے۔وزیرِ ریونیو نے اس موقع پر واضح کیا کہ عوامی خدمت میں غفلت، اختیارات کا ناجائز استعمال، بدعنوانی یا شہریوں کے ساتھ نامناسب رویہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین عوام کے خادم ہیں اور انہیں اپنی ذمہ داریاں دیانتداری، شفافیت اور پیشہ ورانہ انداز میں انجام دینی چاہئیں۔طارق محمود آریانی نے دورے کے دوران سب رجسٹرار آفس، اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر اور دیگر متعلقہ دفاتر کا بھی معائنہ کیا۔ انہوں نے ریکارڈ کی دیکھ بھال، سروس ڈیلیوری کے طریقہ کار اور عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ افسران کو خدمات کے معیار کو مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ ریونیو و اسٹیٹ نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت ریونیو نظام میں اصلاحات، شفافیت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ ریونیو میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا زیادہ سے زیادہ استعمال حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے تاکہ عوام کو تیز، آسان اور شفاف خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ ریونیو کی زیادہ سے زیادہ خدمات کو آن لائن منتقل کرنے پر تیزی سے کام جاری ہے، جبکہ سروس ڈیلیوری سنٹرز پر غیر ضروری رش کم کرنے کے لیے فرد کے حصول کی سہولت نادرا ای۔سہولت مراکز اور موبائل ایپلیکیشن کے ذریعے بھی فراہم کرنے کے منصوبے پر پیش رفت جاری ہے۔طارق محمود آریانی نے کہا کہ وہ صوبے بھر میں ریونیو دفاتر کے اچانک دورے جاری رکھیں گے تاکہ عوامی خدمات کی فراہمی کا خود جائزہ لیا جا سکے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی مفاد کے خلاف کام کرنے والے افسران و اہلکاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی، جبکہ ایمانداری اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے افسران کی حوصلہ افزائی بھی کی جائے گی۔وزیرِ ریونیو نے ریونیو افسران اور عملے کو ہدایت کی کہ وہ عوام کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آئیں، ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کریں اور سرکاری خدمات کی بروقت فراہمی کو ہر صورت یقینی بنائیں، کیونکہ عوام کا اعتماد ہی حکومت کی کارکردگی کا اصل پیمانہ ہے۔

Excise and Police to Launch Joint Anti-Narcotics Operations: Syed Fakhar Jehan

Khyber Pakhtunkhwa Minister Excise, Taxation and Narcotics Control, Syed Fakhar Jehan, has said that the Excise Department and Khyber Pakhtunkhwa Police will launch joint anti-narcotics operations across the province as part of the provincial government’s intensified campaign against drug trafficking.

He reaffirmed that the government is pursuing a zero-tolerance policy against drug dealers, smugglers, and elements involved in narcotics-related crimes, emphasizing that protecting the younger generation from the menace of drugs remains one of the government’s highest priorities.

The Minister made these remarks while addressing an Open Public Forum (Khuli Kachehri) in Abbottabad.

The event was attended by Secretary Excise Khalid Ilyas, Deputy Commissioner Abbottabad Sarmad Saleem Akram, District Police Officer Haroon-ur-Rashid, Director General Excise Abdul Haleem Khan, senior officers of the Excise Department, representatives of the business community, real estate sector, local elders, and members of the public.

During the open forum, the Provincial Minister listened to citizens’ complaints, suggestions, and concerns regarding the services of the Excise Department and anti-narcotics measures.

Addressing the gathering, Syed Fakhar Jehan said he has visited Abbottabad under the directions of Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa Muhammad Suhail Afridi and in line with the public welfare vision of Pakistan Tehreek-e-Insaf Founder Imran Khan to ensure prompt resolution of public issues.

He informed participants that Abbottabad has already been included in the provincial government’s Safe City Project and that implementation work will commence in the near future.

The Provincial Minister announced that two dedicated squads from the Excise Department and two squads from the Khyber Pakhtunkhwa Police are being constituted to conduct joint intelligence-based operations against drug traffickers and smugglers.He said these coordinated operations would significantly strengthen the province’s anti-narcotics campaign.

Reaffirming the government’s resolve, Syed Fakhar Jehan stated that the complete elimination of drug trafficking is a key priority of the provincial government.

The Minister said that narcotics, particularly crystal meth (“Ice”), are destroying the future of young people and undermining the social fabric of society.
He further stated that anyone believing they could escape the law through bribery was mistaken. “If any official of my department is found involved in corruption or any illegal activity, strict disciplinary action will be taken, including dismissal from service and criminal prosecution,” he said.

Syed Fakhar Jehan assured participants that the public would witness tangible improvements within one month as a result of the decisions taken during the open forum.

He further stated that the provincial government had allocated more than Rs. 14 billion to the Khyber Pakhtunkhwa Police during the current fiscal year to further strengthen the force’s operational capacity for maintaining law and order and combating crime.

The Minister also said that the Health Card programme had provided significant relief to ordinary citizens by reducing the financial burden of medical treatment and reflected the vision of a welfare-oriented state.

Later, Syed Fakhar Jehan visited the Abbottabad Press Club, where he congratulated the newly elected President and members of the cabinet and extended his best wishes for their successful tenure.

Provincial Minister for Health Khaleeq ur Rehman Chairs Orientation Meeting at Health Secretariat

Provincial Minister for Health Khaleeq ur Rehman chaired an orientation meeting today at the Conference Room of the Health Secretariat. The meeting was attended by Secretary Health Fayaz Ali Shah, Director General Health Services, Directors of the Directorate General Health Services, and other senior officials of the Health Department.

During the meeting, the Directorate General Health Services (DGHS) gave a comprehensive presentation on the organizational structure (organogram) of the Directorate, the functions and responsibilities of its various sections, ongoing public health programmes, institutional performance, and key achievements. The briefing highlighted the role of the Directorate in strengthening primary and secondary healthcare services, disease prevention and control, maternal and child health, immunization, surveillance systems, emergency preparedness, and other public health initiatives across Khyber Pakhtunkhwa.

Speaking on the occasion, Provincial Minister for Health Khaleeq ur Rehman emphasized that effective coordination, strong institutional governance, transparency, and accountability are essential for improving healthcare delivery throughout the province. He directed all directorates and relevant wings of the Health Department to work in close coordination and ensure the timely implementation of government policies and priority health programmes.

The Minister directed the concerned officials to complete all preparations for the upcoming dengue season without delay and present a detailed update on the measures taken in this regard. He instructed that dengue surveillance, vector control activities, public awareness campaigns, hospital preparedness, diagnostic facilities, and the availability of medicines and essential supplies must be reviewed regularly to ensure complete readiness.

Khaleeq ur Rehman further directed all concerned authorities to strengthen coordination among the Health Secretariat, Directorate General Health Services, district health offices, hospitals, and other relevant stakeholders to ensure a coordinated and effective response. He stressed that all reports submitted to the Health Department must be based on actual field data and practical progress, reflecting the real situation on the ground. He directed the officials to focus on tangible outcomes rather than paperwork and to maintain continuous monitoring of all dengue prevention and response activities.

The Minister welcomed Secretary Health Fayaz Ali Shah and expressed confidence that his leadership and administrative experience would further strengthen institutional coordination and accelerate the implementation of health sector reforms. He reaffirmed the provincial government’s commitment to building an efficient, transparent, and patient-centred healthcare system capable of responding effectively to both routine healthcare needs and public health emergencies.

The meeting concluded with a commitment to enhancing coordination, strengthening preparedness for dengue and other public health challenges, and ensuring the provision of quality healthcare services to the people of Khyber Pakhtunkhwa.