Home Blog Page 68

گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کا جائزہ اجلاس

گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے کی۔ سیکرٹری محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم اور دیگر حکام اجلاس میں شریک ہوئے۔ اجلاس کو ابتک کی پیشرفت پر آگاہ کیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبائی حکومت کے گورننس روڈمیپ کے تحت محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم میں اصلاحات کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبرپختونخوا میں تعلیمی سہولیات کی بہتری کے لیے انقلابی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ صوبہ بھر کے سرکاری سکولوں کو فرنیچر کی فراہمی کا عمل جاری ہے، جو جون 2026 تک مکمل کر لیا جائے گا، جس کے بعد تمام سکولوں میں طلبہ کو معیاری فرنیچر کی سہولت میسر ہوگی۔ محکمہ تعلیم نے سکولوں میں تعلیمی انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے ساڑھے تین ہزار نئے کمروں کی تعمیر کی منصوبہ بندی بھی مکمل کر لی ہے، اسی طرح امتحانی نظام میں شفافیت اور معیار کو بہتر بنانے کے لیے اہم اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں۔ اس ضمن میں تمام تعلیمی بورڈز کو ہدایت کی گئی ہے کہ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات 2026 میں ہر ڈسپلن کے کم از کم تین پیپرز ای مارکنگ کے طریقہ کار کے تحت یقینی بنائیں۔ اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کے لیے 20 ہزار اساتذہ کی بھرتی کا عمل جاری ہے، جو 28 فروری تک مکمل کر لیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ سکولوں میں اساتذہ کی 90 فیصد حاضری یقینی بنانے کے لیے مؤثر مانیٹرنگ کا نظام نافذ کیا گیا ہے۔ اجلاس کو سال 2025 میں مکمل کئے گئے اہداف پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ طلبہ کی ذہنی اور جسمانی نشوونما کے فروغ کے لیے نومبر اور دسمبر 2025 کے دوران مختلف کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد بھی کیا گیا، جس سے طلبہ میں صحت مند سرگرمیوں کے رجحان کو فروغ ملا ہے۔دریں اثنا محکمہ صحت سے متعلق چیف سیکرٹری کی زیرصدارت اجلاس میں بتایا گیا کہ گڈ گورننس روڈمیپ کے تحت خیبرپختونخوا کے 250 بنیادی مراکز صحت میں بیسک ایمرجنسی ابسٹریکٹ اینڈ نیو بورن کئیر خدمات اور سہولیات کی 24 گھنٹے فراہمی ا ور دستیابی کو یقینی بنا یا گیا ہے۔ یہ سروسز اب دن رات دستیاب ہوں گی ان مراکز میں میڈیکل عملہ اور دیگر سہولیات بھی یقینی بنائی گئی ہیں۔ محکمہ صحت کے عملے کی حاضری کو یقینی بناتے ہوئے بائیو میٹرک حاضری متعارف کرائی جارہی ہے جبکہ خیبر پختونخوا کی ہیلتھ سیکٹر پالیسی کا ازسر نو جائزہ مکمل کر لیا گیا ہے۔ میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز ایم ٹی آئیز کی کارکردگی جانچنے کے لیے پالیسی میں گڈ گورننس روڈمیپ کے تحت اصلاحات لائی جائیں گی۔ ایم ٹی آئیز ہسپتالوں میں موثر گورننس کو یقینی بنانے کے لیے بورڈ آف گورنرز اراکین کی اہلیت کے معیار کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔ حال ہی میں، محکمہ صحت نے دو کامیاب امیونائزیشن مہم چلائیں، پشاور میں خصوصی مہم میں 81فیصد کمیونٹی کوریج کے ساتھ 93فیصد ویکسینیشن کوریج حاصل کی گئی جبکہ خسرہ-روبیلا مہم میں صوبے بھر میں 99 فیصد ہدف حاصل کرتے ہوئے بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے گئے۔ ان مہمات میں شامل عملے کو ان کی خدمات کے اعتراف میں اعزازیہ دینا بھی زیر غور ہے۔امیونائزیشن روڈمیپ کے تحت معمول کے حفاظتی ٹیکے لگانے کا دسمبر 2027 تک 90فیصد کوریج کا ہدف رکھا گیا ہے، جوکہ 2026 کے آخر تک حاصل ہونے کی امید ہے۔

پشاور پبلک سکول اینڈ کالج کے بورڈ آف گورنر کا اجلاس خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم اور چیئر مین بورڈ آف گورنر ارشد ایوب خان کی صدارت میں جمعرات کے روز پشاور پبلک سکول اینڈ کالج میں منعقد ہوا

پشاور پبلک سکول اینڈ کالج کے بورڈ آف گورنر کا اجلاس خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم اور چیئر مین بورڈ آف گورنر ارشد ایوب خان کی صدارت میں جمعرات کے روز پشاور پبلک سکول اینڈ کالج میں منعقد ہوا۔ اس موقع پرپرنسپل پشاور پبلک سکول اینڈ کالج اور ایلیمنٹری اینڈسیکنڈری فاؤنڈیشن ایجوکیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر قیصر عالم بھی موجود تھے۔اجلاس کے دوران پرنسپل پشاور پبلک سکول اینڈ کالج قیصر عالم نے ادارے کی نمایاں کامیابیوں، بحالی کے جامع منصوبے اور مستقبل کے واضح وژن پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے تعلیمی معیار، نظم و ضبط اور ہمہ جہتی طالب علم ترقی کے لیے ادارے کے عزم کو اجاگر کیا، جس میں وسائل کے مؤثر استعمال اور شفاف مالی نظم و نسق پر خصوصی توجہ دی گئی۔اجلاس میں سکول بحالی منصوبہ اور اس پر عملدرآمد،بجٹ کی منظوری اور مالی منصوبہ بندی،سکول کی تزئین و آرائش کے لیے پی سی۔ون کی تیاری اور پیش رفت،وسائل کے بہترین اور مؤثر استعمال کا جائزہ کے ساتھ طالبات کے لیے گرلز ہاسٹل کی سہولیات کی فراہمی اور بہتری پر غور کیا گیا۔ اسی طرح ادارے کی اہم کامیابیوں اور اقدامات کے حوالے سے اساتذہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے لیے تربیتی پروگرامز،ڈیجیٹل تعلیم کے فروغ کے لیے ورچوئل سکولنگ کا آغاز،تعلیمی اور انتظامی کمیٹیوں کا قیام،سکول میں صفائی مہم اسمارٹ سکول انفارمیشن سسٹم کا نفاذ،طلبہ سپورٹس ویک کا انعقاد،کمیٹی روم کا قیام،پرنسپل آفس کی تزئین و آرائش و فرنشنگ اور سرمائی تعطیلات میں طلبہ کی تعلیمی مصروفیات کے منصو بے سمیت دیگر امور زیر غور آئے۔اجلاس میں ادارے کے کلاس رومزکی تزین، فرنیچر کی فراہمی، طلبہ کو اے۔ آئی ٹیکنالوجی سے روشناس کرانے، اساتذہ کی استعداد کار میں مزید اضافہ کرنے کے لئے جدید تربیت کا اہتمام کرنے پر غور خوض کیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم اور بورڈ آف گورنر کے چیئر مین ارشد ایوب خان نے کہا کہ آئندہ امتحانات ایس۔ ایل۔او بیسڈ ہو ں گے اور اساتذہ ایٹا کے ذریعے بھرتی کئے جائیں گے۔

خیبرپختونخوا کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینز کی بحالی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے

خیبرپختونخوا کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینز کی بحالی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں محکمہ اعلیٰ تعلیم کے حکام کے ساتھ مختلف طلبہ تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی اور طلبہ یونینز کی بحالی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔اجلاس میں اسلامی جمعیت طلبہ، انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن، پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن، پختونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن اور دیگر طلبہ سوسائٹیز کے عہدیداران نے طلبہ یونینز کی بحالی کے حوالے سے اپنے مؤقف اور تجاویز پیش کیں۔ اجلاس کے دوران انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی صدر مشرف آفریدی کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کرنے کی منظوری دی گئی، جس میں محکمہ اعلیٰ تعلیم کے نمائندگان اور مختلف طلبہ یونینز کے قائدین شامل ہوں گے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مذکورہ کمیٹی آئندہ پندرہ روز کے اندر اپنی سفارشات مرتب کر کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں پیش کرے گی، تاکہ طلبہ یونینز کی بحالی کے لیے ایک متفقہ اور قابلِ عمل لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی نے کہا کہ حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ جلد از جلد تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینز کو بحال کیا جائے، کیونکہ طلبہ یونینز کی بحالی سے ملکی اور صوبائی سطح پر باصلاحیت اور جمہوری قیادت ابھر کر سامنے آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایک آمرانہ دور میں اپنی حکمرانی کو دوام دینے کے لیے طلبہ یونینز جیسی قیادت کے نرسری نظام پر کاری ضرب لگائی گئی، جس کے منفی اثرات آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔مینا خان آفریدی نے مزید کہا کہ طلبہ یونینز کی بحالی سے موروثی سیاست، جاگیردارانہ سوچ اور مخصوص طبقات کی اجارہ داری کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا، جبکہ نوجوانوں کو حقیقی جمہوری عمل میں کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بعض نامعلوم قوتیں آج بھی پاکستان میں حقیقی جمہوری قیادت کے فروغ کی راہ میں رکاوٹ بننا چاہتی ہیں، تاہم صوبائی حکومت اس سلسلے میں اپنے عزم پر قائم ہے۔اجلاس کے اختتام پر اس امر کا اعادہ کیا گیا کہ خیبرپختونخوا حکومت طلبہ کے حقوق کے تحفظ اور تعلیمی اداروں میں مثبت، جمہوری اور تعمیری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرے گی۔خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے کی مختلف جامعات میں تدریسی اور غیر تدریسی سٹاف کی بھرتی سے متعلق امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں جامعہ شانگلہ، انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز پشاور اور جامعہ باچا خان چارسدہ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران جامعہ شانگلہ میں تدریسی اور معاون عملے کی بھرتی کے عمل کا جائزہ لیا گیا، جس پر صوبائی وزیر نے ہدایت کی کہ بھرتیوں کے عمل کو مزید ریشنلائز کیا جائے تاکہ وسائل کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے جامعہ شانگلہ کو یہ بھی ہدایت دی کہ مختلف شعبہ جات میں طلبہ کی انرولمنٹ کو طے شدہ فارمولے کے تحت مزید بڑھایا جائے۔ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ جامعہ شانگلہ میں سیکیورٹی گارڈز اور مالیاتی نوعیت کی بعض پوسٹوں کو آؤٹ سورس کیا جائے گا۔انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز پشاور کے حوالے سے اجلاس میں ادارے کی تمام مجوزہ سٹاف بھرتیوں پر اتفاقِ رائے کا اظہار کیا گیا، جبکہ وزیر اعلیٰ تعلیم نے ہدایت کی کہ انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز اور جامعہ شانگلہ میں سٹاف بھرتی کا عمل فی الفور مکمل کیا جائے تاکہ تعلیمی اور انتظامی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔اجلاس میں جامعہ باچا خان چارسدہ میں سٹاف بھرتی سے متعلق فیصلے کو مؤخر کرتے ہوئے ہدایت کی گئی کہ جامعہ کے حکام مزید ہوم ورک کے ساتھ آئندہ اجلاس میں یہ ایجنڈا دوبارہ پیش کریں تاکہ تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے کی جامعات میں شفاف، منصفانہ اور ضرورت کے مطابق بھرتیوں کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ اعلیٰ تعلیم کے معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

Newly Posted DG KPRA, Ms. Irum Naz, Assumes Charge

The newly posted Director General of the Khyber Pakhtunkhwa Revenue Authority (KPRA), Ms. Irum Naz, has formally assumed office. Ms. Irum Naz is an officer of the PMS Group and was previously serving as Director Admin, HR, and Coordination at KPRA. She has also served as Deputy Secretary in the Finance Department, as Secretary to the Commissioner Mardan, and in the Establishment Department of Khyber Pakhtunkhwa.
In her statement on the occasion, she said that she will make every possible effort not only to achieve the revenue targets set by the provincial government but also to surpass them with good margins.

آئی جی جیل خانہ جات کا سنٹرل جیل ہری پور کا تفصیلی دورہ، قیدیوں کی سہولیات کا جائزہ لیا

انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات خیبر پختونخوا ریحان گل خٹک نے جمعرات کے روز سنٹرل جیل ہری پور کا تفصیلی دورہ کیا جہاں انہوں نے جیل کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا اور قیدیوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا،دورے کا مقصد جیل میں نظم وضبط،سیکیورٹی، شفافیت اور قیدیوں کی فلاح و بہبود سے متعلق انتظامات کا جائزہ لینا تھا،دورے کے دوران آئی جی جیل خانہ جات نے بیرکس، کچن، ہسپتال،کنٹرول روم،ڈی آر سی اور فیکٹری سمیت مختلف حصوں کا دورہ کر کے فراہم سہولیات اور سیکیورٹی انتظامات کا معائنہ کیا،انہوں نے قیدیوں کی رہائش،صفائی ستھرائی کے نظام،خوراک کے معیار اور طبی سہولیات پر مجموعی طور پر اطمینان کا اظہار کیا،آئی جی جیل خانہ جات کے ہمراہ ڈی آئی جی پریزن نجم عباسی اور دیگر جیل افسران بھی موجود تھے،آئی جی جیل خانہ جات نے جدید کنٹرول روم اور دیگر ضروری سہولتوں کا افتتاح کیا اور جیل انتظامیہ کو ہدایت کی کہ قیدیوں کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے اور اصلاحی و فلاحی سرگرمیوں کو مزید موثر بنایا جائے تاکہ قیدی اپنی سزا مکمل کرنے کے بعد ایک بہتر اور کارآمد شہری بن کر معاشرے میں واپس لوٹ سکیں،اس موقع پر سپرنٹنڈنٹ سنٹرل جیل ہری پور محمد حامد اعظم اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ مقدس خان جدون نے آئی جی جیل خانہ جات کو جیل کے مجموعی انتظامات،درپیش مسائل اور جاری اصلاحاتی اقدامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی،آئی جی نے افسران اور جیل عملے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ محکمہ جیل خانہ جات میں بہتری لانے اور قیدیوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں،دورے کے اختتام پر آئی جی جیل خانہ جات نے قیدیوں سے بھی ملاقات کی،ان کے مسائل سنے اور متعلقہ شکایات کے فوری حل کی یقین دہانی کرائی،انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جیلوں کو اصلاحی مراکز بنانے کے لیے اقدامات مزید تیز کیے جائیں گے تاکہ قیدی مثبت تبدیلی کے ساتھ معاشرے کا مفید حصہ بن سکیں۔

خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان کی زیرِ صدارت ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول حیات آباد پشاور میں صوبہ بھر میں ٹیکس ریکوری کے حوالے سے ششماہی کارکردگی کا جائزہ اجلاس منعقد

خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان کی زیرِ صدارت ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول حیات آباد پشاور میں صوبہ بھر میں ٹیکس ریکوری کے حوالے سے ششماہی کارکردگی کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں سیکریٹری ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول خالد الیاس،ڈائریکٹرز اور ایکسائز و ٹیکسیشن آفیسرز نے شرکت کی۔اجلاس میں صوبائی وزیر کو مختلف صوبائی ٹیکسیشن کی مدوں میں پشاور شہر اور صوبے کے دیگر تمام اضلاع کے حوالے سے ماہ دسمبر اور ششماہی محصولات کے حوالے سے تفصیلات اوراعدادوشمار پیش کیئے گئے۔اس موقع پر صوبائی وزیر ایکسائز نے شہر پشاور کے مختلف ایکسائز و ٹیکسیشن کے دفاتر اور اضلاعی افسران کو اعدادوشمار کے متعین اہداف سے بڑھ کر ریونیو حاصل کرنے کیلئے کوششیں کرنے کی ہدایت کی۔انھوں نے کہا کہ ٹیکسیشن کا دائرہ بڑھانے اور اس کے نٹ میں قانون کے مطابق نئے یونٹس کو شامل کرنے کیلئے محکمہ کے افسران اور عملہ اپنی متعین ذمہ داریاں فریضہ سمجھ کر ادا کریں۔صوبائی وزیر نے کہا کہ افسران اس بات میں نہ پڑیں کہ متعین ہدف پورا ہوگیا بلکہ اپنے فیلڈ سٹاف کو متحرک کریں تاکہ ٹیکسیشن کو توقع کے مطابق زیادہ بڑھایا جاسکے۔انھوں نے مزید کہا کہ اس ضمن میں کسی کی جانب سے کوئی پہلو تہی قبول نہیں ہوگی۔سید فخرجہان نے کہا کہ آئندہ چھ مہینوں کے دوران محکمہ کے مختلف ایکسائز دفاتر اور اضلاع سے آنی والے اعداد و شمارانکی توقع کے مطابق مزید بڑھانی ہوگی تاکہ قومی خزانے کو اس سال اپنے متعین اہداف سے زائد آمدنی فراہم کی جاسکے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اس ضمن میں کارکردگی کا ماہانہ اجلاس سیکریٹری ایکسائز کی صدارت میں منعقد ہوگا جبکہ اپریل میں صوبائی وزیر ایکسائز دوبارہ ٹیکس کولیکشن کا جائزہ لیں گے۔

صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم کی زیرصدارت لیگل کمیٹی کا ایک اہم اجلاس۔

خیبر پختونخوا کے وزیر قانون آفتاب عالم کی زیرصدارت لیگل کمیٹی کا ایک اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا جس میں رکن صوبائی اسمبلی صوبیہ شاہد، ممبر صوبائی اسمبلی اختر خان، اور منیر حسین لغمانی اور ارباب محمد عثمان خان نے بذریعہ زوم شرکت کی جبکہ سیکرٹری محکمہ قانون اختر سعید ترک، محکمہ داخلہ، محکمہ قانون، محکمہ پراسکیوشن، ایڈوکیٹ جنرل آفس اور دیگر متعلقہ محکموں کے حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں صوبے میں رائج مختلف قوانین اور ان سے جڑے سقم پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا بالخصوص انسدادِ دہشت گردی ایکٹ میں موجود نقائص کی نشاندہی اور اس قانون کو موجودہ زمینی حقائق اور حالات سے ہم آہنگ بنانے کے حوالے سے مختلف تجاویز اور آراء پیش کی گئیں۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ محکمہ داخلہ کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ میں تین اہم ڈسکریپنسیز کی نشاندہی کی گئی ہے، تاہم ایکٹ کا جامع اور ہمہ جہت جائزہ لینے کے لیے ایک ذیلی کمیٹی (سب کمیٹی) کے قیام کی تجویز بھی پیش کی گئی۔ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت سزا و جزا کے نظام کو زمینی حقائق سے ہم آہنگ کرنے کے حوالے سے محکمہ داخلہ کے حکام نے مختلف تجاویز پیش کیں۔ اجلاس میں مروجہ قوانین، مجوزہ قانونی ترامیم کے مسودات اور عدالتی احکامات پر عملدرآمد کی مجموعی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔ کمیٹی نے قانون سازی کے عمل کو مزید مؤثر، شفاف اور آئین کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر اتفاق کیا۔اجلاس کے دوران رکن صوبائی اسمبلی منیر حسین لغمانی نے تفتیش کے معیار کو بہتر بنانے اور انصاف کی فراہمی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔وزیر قانون نے کہا کہ محکمہ داخلہ نے مذکورہ ایکٹ کو پراسکیوشن کے نقطہ نظر سے دیکھا ہے تاہم عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے اس ایکٹ کو تحقیقی بنیادوں پر مطالعہ کرنے ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق، گڈ گورننس، خواتین اور کمزور طبقات کے تحفظ سے متعلق قانونی پہلوؤں پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں مؤثر قانون سازی، عدالتی فیصلوں پر بروقت عملدرآمد اور قانونی نظام میں اصلاحات حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ اُنہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ قانونی معاملات میں باہمی رابطہ اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ عوام کو بروقت اور مؤثر انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

باچاخان میڈیکل کمپلیکس ایم ٹی آئی صوابی میں نیوٹریشن اسٹیبلائزیشن سینٹر کا افتتاح

خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت خلیق الرحمن نے باچاخان میڈیکل کمپلیکس ایم ٹی آئی صوابی میں قائم نیوٹریشن اسٹیبلائزیشن سنٹر کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔ یہ سنٹر حکومتِ خیبر پختونخوا، بے نظیر نشوونما پروگرام اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے باہمی اشتراک سے قائم کیا گیا ہے۔افتتاحی تقریب میں چیئرپرسن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سنٹر روبینہ خالد، ڈائریکٹر جنرل بی آئی ایس پی عاصم اعجاز اور عالمی ادارہ صحت کے پاکستان میں نمائندہ لیو ڈپنگ نے خصوصی شرکت کی، جبکہ ہسپتال انتظامیہ، طبی ماہرین اور متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیرِ صحت خلیق الرحمن نے کہا کہ صوبائی حکومت صحت کے شعبے کو اپنی اولین ترجیح قرار دے چکی ہے اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غذائی قلت کے شکار بچوں کے علاج و نگہداشت کے لیے نیوٹریشن اسٹیبلائزیشن سنٹر کا قیام ایک اہم پیش رفت ہے، جو نوزائیدہ بچوں کی صحت کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔صوبائی وزیرِ صحت نے نیوٹریشن اسٹیبلائزیشن سینٹر کے قیام میں تعاون پر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، بے نظیر نشوونما پروگرام اور عالمی ادارہ صحت کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے صحت کے شعبے کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔افتتاح کے بعد صوبائی وزیرِ صحت اور مہمانوں نے سینٹر کا تفصیلی دورہ کیا اور زیر علاج بچوں کے والدین سے ملاقات کر کے فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا۔ عالمی ادارہ صحت کے نمائندے لیو ڈپنگ نے صحت کے شعبے میں حکومتِ خیبر پختونخوا کے ساتھ مزید تعاون کی یقین دہانی کرائی۔اس موقع پر ہسپتال ڈائریکٹر نے صوبائی وزیرِ صحت کو گزشتہ سال کے دوران فراہم کی گئی طبی سہولیات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی اور مستقبل میں عوامی سہولت کے لیے شروع کیے جانے والے بڑے منصوبوں سے بھی آگاہ کیا۔ہسپتال انتظامیہ کے مطابق نیوٹریشن اسٹیبلائزیشن سینٹر 10 بستروں پر مشتمل ہے، جہاں پیدائشی طور پر کمزور اور غذائی قلت کا شکار نوزائیدہ بچوں کو خصوصی طبی نگہداشت، علاج اور غذائی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس سینٹر کے قیام سے نوزائیدہ بچوں کی اموات میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان کی زیرِ صدارت ضلع لکی مروت میں محکمہ آبنوشی کی مختلف جاری و مجوزہ سکیموں سے متعلق ایک اہم اجلاس جمعرات کے روز پشاور میں منعقد ہوا

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان کی زیرِ صدارت ضلع لکی مروت میں محکمہ آبنوشی کی مختلف جاری و مجوزہ سکیموں سے متعلق ایک اہم اجلاس جمعرات کے روز پشاور میں منعقد ہوا جس میں لکی مروت کے رکن خیبر پختونخوا اسمبلی جوہر محمد، سیکرٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ مسعود یونس، ایڈیشنل سیکرٹری، چیف انجینئر ساؤتھ، ڈائریکٹر ٹیکنیکل اور محکمہ کے دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران رکن صوبائی اسمبلی جوہر محمد نے ضلع لکی مروت میں محکمہ آبنوشی کے تحت جاری واٹر سپلائی سکیموں سے متعلق تفصیلی طور پر آگاہ کیااور نشاندہی کی کہ ان کے حلقے میں بعض واٹر سپلائی سکیمیں تاحال نامکمل ہیں، جن پر اگر کام کی رفتار تیز کی جائے اور معیاری میٹریل کا استعمال یقینی بنایا جائے تو عوام کا دیرینہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹیوب ویلوں کی سولرائزیشن کے عمل میں بھی تیزی لائی جائے تاکہ عوام کو بلا تعطل صاف پانی کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے رکن صوبائی اسمبلی نے اجلاس میں یہ تجویز بھی دی کہ وہ ٹیوب ویل آپریٹرز جو اپنی ڈیوٹی میں غفلت برت رہے ہیں اور ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا نہیں کر رہے، ان کے خلاف فوری محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ نظام کی بہتری اور عوامی سہولت کو یقینی بنایا جا سکیصوبائی وزیر فضل شکور خان نے رکن صوبائی اسمبلی کو یقین دہانی کرائی کہ ضلع لکی مروت میں جاری تمام سکیموں پر کام کی رفتار تیز کی جائے گی۔ انہوں نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام ترقیاتی منصوبوں میں معیاری کام اور معیاری میٹریل کے استعمال کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ اس مقصد کے لیے انہی ٹھیکیداروں کو کام دیا جائے جن کی سابقہ کارکردگی تسلی بخش ہو اور جنہوں نے ماضی میں معیاری کام کیا ہو۔ انہوں نے محکمہ کی ساکھ اور امیج کو بہتر بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کے لیے تمام افسران کو ایک ٹیم ورک کے طور پر کام کرنا ہوگا اور عوامی مفاد کو ہر صورت ترجیح دی جائے

Peace, Good Governance and Transparency Top Priorities in Khyber Pakhtunkhwa: Shafi Jan

Special Assistant to Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa on Information and Public Relations Shafi Jan has said that ensuring law and order, promoting good governance, and strengthening transparency in government institutions are the top priorities of KP provincial government. for this purpose, Chief Minister Sohail Afridi is personally overseeing all administrative affairs of the province.

He added that to resolve public issues, eliminate corruption and provide services at people doorsteps, Chief Minister Sohail Afridi has initiated a series of online Khuli Kacharis. In this regard, clear directives have also been issued to the administrative secretaries of all government departments.

In a statement issued here, Shafi Jan said that in line with vision of Chief Minister Sohail Afridi, the Khyber Pakhtunkhwa government has introduced a comprehensive system titled “Awam Ka Ehsas” for the effective, prompt and transparent redressal of public complaints. Through this system, citizens can lodge their complaints via various digital and traditional platforms. He described the initiative as a significant step towards good governance.

He further stated that Khyber Pakhtunkhwa has a genuinely elected public government where complete freedom of expression prevails. Chief Minister Sohail Afridi, following the vision of PTI founding chairman Imran Khan, belongs to an middle-class family and under his leadership, a new era of people-oriented governance has begun in the province. he said further that this era will guarantee peace, development, and prosperity.

Special Assistant Shafi Jan asserted that all attempts to malign the Chief Minister will fail, adding that honor and disgrace lie in the hands of Almighty Allah.

He clarified that Khyber Pakhtunkhwa government has also ensured complete freedom of expression for opposition parties and journalists, as freedom of expression strengthens democracy and promotes democratic values.

Shafi Jan further said that Chief Minister Sohail Afridi visit to Sindh has opened a new chapter in the history of street movement. The enthusiasm of the people in Karachi, Hyderabad and other areas is clear evidence of their political awareness. He added that street movement will continue across the country, further mobilizing the public politically and that a system of oppression and fascism will no longer be allowed to prevail.