خیبر پختونخوا حکومت نے جرمن حکومت کے تعاون سے صوبے میں سماجی تحفظ کی پہلی سٹریٹیجی کا باضابطہ اجرا کر دیا ہے۔ اس اقدام کو صوبے میں عوامی وقار، مساوی شمولیت اور سماجی استحکام کے فروغ کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ حکومت خیبر پختونخواکے تحت قائم پبلک پالیسی و سماجی تحفظ اصلاحات یونٹ کے زیرِ اہتمام پشاور کے ایک مقامی ہوٹل میں بدھ کے روز ایک تقریب کا انعقاد ہوا جس میں سپیشل سیکریٹری محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات حکومت خیبر پختونخوا محمد نادر خان رانا نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی جبکہ صوبائی، وفاقی اور دیگر صوبوں کے اعلیٰ حکام، ترقیاتی اداروں، ماہرین تعلیم اور سول سوسائٹی کے نمائندے بھی اس موقع پر موجود تھے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سپیشل سیکریٹری محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات محمد نادر خان رانا نے کہا کہ سماجی تحفظ نہ صرف ایک اخلاقی ذمہ داری ہے بلکہ انسانی ترقی اور سماجی ہم آہنگی میں ایک بنیادی سرمایہ کاری بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ معاشی غیر یقینی، موسمی خطرات اور سماجی تبدیلیوں کے اس دور میں سماج کی مضبوطی اسی میں ہے کہ لوگ خطرات کے باوجود خود کو سنبھالنے کے قابل ہوں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دیگر مقررین نے سٹریٹیجی کے نفاذ، اس کے دیرپا اثرات اور بین الصوبائی تعاون کے پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور کہا کہ یہ سٹریٹیجی ایک مربوط اور عوام دوست نظام کے قیام کے لیے تیار کی گئی ہے تاکہ مختلف فلاحی پروگرام ایک ہی فریم ورک کے تحت باہمی ربط کے ساتھ انجام دئے جا سکیں، یہ دستاویز صوبے کی سماجی تحفظ پالیسی 2022ء کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے جس کا مقصد غربت کے خاتمے، صنفی مساوات، روزگار کے مواقع اور آفات سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔ یہ منصوبہ جرمن ڈیویلپمنٹ کوآپریشن کے تحت جی آئی زی اور ایف سی ڈی اوکے ساتھ مشترکہ طور پر تیار کیا گیا ہے۔اس موقع پرجی آئی زی کی کنٹری ڈائریکٹر نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی سماجی تحفظ حکمتِ عملی ایک جامع اور مضبوط معاشرے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ یہ حکمتِ عملی ایک بھرپور مشاورت کے عمل کے ذریعے تیار کی گئی ہے، جو مضبوط سیاسی عزم اور مشترکہ وژن کی عکاس ہے تاکہ سماجی تحفظ کو مؤثر، ڈیٹا پر مبنی اور ماحولیاتی و معاشی چیلنجز کے مطابق یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ جی آئی زی کو اس وژن کے حقیقت میں بدلنے کے لیے صوبے کے ساتھ اپنا تعاون جاری رکھنے پر فخر ہے۔ایڈیشنل سیکریٹری محمد توفیق نے کہا کہ یہ حکمتِ عملی مختلف فلاحی منصوبوں کو ایک جگہ لا کر ایک مضبوط اور منظم نظام قائم کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سماجی تحفظ اتھارٹی، مشترکہ ڈیٹا نظام اور بہتر مالی انتظام کے ذریعے ہم ایک ایسا شفاف اور پائیدار نظام بنا رہے ہیں جو امداد کو خیرات کی بجائے ریاستی ذمہ داری کے طور پر یقینی بنائے گا۔ڈائریکٹر جنرل پائیدار ترقیاتی یونٹ محمد خالد زمان نے کہا کہ یہ کامیابی مؤثر شراکت داری اور مشترکہ وژن کی مظہر ہے۔ صوبائی قیادت کے عزم، ٹیموں کی محنت اور جرمن ادارے کے تکنیکی تعاون نے اسے ممکن بنایا ہے اور اب اصل مرحلہ عمل درآمد کا ہے تاکہ اس وژن کو غریب اور کمزور گھرانوں کے لیے حقیقی فائدے میں بدلا جا سکے۔پبلک پالیسی و سماجی تحفظ اصلاحات یونٹ کے سربراہ کامران خان نے کہا کہ یہ حکمتِ عملی جدید ٹیکنالوجی اور درست اعداد و شمار پر مبنی نظام متعارف کراتی ہے۔ صوبائی سماجی و معاشی رجسٹری اور مشترکہ ادائیگی کا نظام شفافیت بڑھائے گا، ڈوپلیکیشن ختم کرے گا اور امداد کو بہتر انداز میں مستحقین تک پہنچائے گا۔جرمن ترقیاتی ادارے کی منصوبہ سربراہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے اپنی پہلی سماجی تحفظ کی سٹریٹیجی تیار کر کے دور اندیشی کا مظاہرہ کیا ہے۔ عزت، شمولیت اور لچک کے اصولوں پر مبنی یہ منصوبہ دیگر صوبوں کے لیے ایک مثال ہے۔ جرمن حکومت اس سفر میں اپنے تعاون کو جاری رکھنے پر فخر محسوس کرتی ہے۔تقریب کے اختتام پر تمام اداروں اور ماہرین کا شکریہ ادا کیا گیا جنہوں نے اس حکمتِ عملی کی تیاری میں کردار ادا کیا۔ سماجی تحفظ اتھارٹی کے قیام کے بعد، خیبر پختونخوا اس حکمتِ عملی کو عملی اقدامات اور عوامی خدمت میں بدلنے کے لیے پرعزم ہے۔
ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم، عابد مجید کی زیر صدارت ایم ڈی کیٹ 2025 کے انتظامات کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد
ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم، عابد مجید کی زیر صدارت ایم ڈی کیٹ 2025 کے انتظامات کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر، متعلقہ کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، ڈی جی ہیلتھ، پولیس، ایف آئی اے، آئی بی اور سپیشل برانچ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں ایم ڈی کیٹ کے شفاف، پُرامن اور مثالی انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ امتحانی ہالوں کے اطراف دفعہ 144 نافذ کی جائے گی اور فول پروف سیکیورٹی پلان ترتیب دیا جائے گا۔ امیدواران کی تصدیق نادرا کے بائیو میٹرک سسٹم کے ذریعے کی جائے گی جبکہ ان کی تین مراحل میں جدید آلات سے مکمل باڈی سرچ کی جائے گی۔ امتحانی ہالوں میں خفیہ کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جائے گی تاکہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی بروقت نشاندہی ممکن ہو سکے۔امتحانی مواد کی ترسیل اور واپسی پولیس کے خصوصی سکواڈ اور سول انتظامیہ کی نگرانی میں انجام دی جائے گی۔ امتحانی عملے کی کلیئرنس خفیہ اداروں سے کرائی جائے گی تاکہ امتحانی عمل مکمل طور پر محفوظ اور غیر جانبدار رہے۔ امتحانی مراکز پر واک تھرو گیٹس، اسکینرز، موبائل جیمرز اور پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے تاکہ کسی بھی قسم کی تکنیکی یا سیکیورٹی خلاف ورزی کو روکا جا سکے۔امیدواران کے لیے امتحانی مراکز میں واش روم، فرسٹ ایڈ، ڈاکٹرز، نرسنگ اسٹاف اور 1122 ایمبولینس سروس کی سہولت دستیاب ہوگی۔ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی اور والدین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ گاڑیاں سڑکوں پر پارک کرنے کے بجائے بچوں کو صرف پک اینڈ ڈراپ کریں تاکہ امتحانی مراکز کے اطراف ٹریفک جام سے بچا جا سکے۔حکام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایم ڈی کیٹ 2025 کو مکمل شفافیت، سیکیورٹی اور سہولت کے ساتھ منعقد کیا جائے گا تاکہ طلبہ کو ایک محفوظ، منصفانہ اور مثالی امتحانی ماحول فراہم کیا جا سکے۔
حکومتی اقدامات کی تشہیر و عوامی آگہی کے لئے انفارمیشن افسران کی کارکردگی کلیدی حیثیت رکھتی ہے، افسران تخلیقی انداز میں کام کریں، سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر محمد بختیار خان
سیکرٹری اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا ڈاکٹر محمد بختیار خان نے کہا ہے کہ محکمہ اطلاعات حکومت اور عوام کے درمیان ایک مضبوط رابطہ پل کا کردار ادا کرتا ہے۔ گڈ گورننس سے عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات کی مؤثر تشہیر کے لیے محکمہ کے افسران کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔یہ بات انہوں نے منگل کے روز اطلاع سیل سول سیکرٹریٹ پشاور میں انفارمیشن افسران کیساتھ منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں ڈائریکٹر ایڈمن ابنِ امین،سٹیشن ڈائریکٹر پختونخوا ریڈیو پشاور ہارون داودزئی، ڈپٹی ڈائریکٹرز نثار خان اور حبیب اللہ محسود سمیت پبلک ریلیشن آفیسرز نے شرکت کی۔سیکرٹری اطلاعات نے کہا کہ محکمہ میں ایک نیا منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے جس کے تحت میڈیا پبلسٹی کی تمام اقسام کی مؤثر مانیٹرنگ ممکن ہوگی۔ انہوں نے پرنٹ میڈیا مانیٹرنگ کے حوالے سے کمیونکیشن سیکشن کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے مختلف پہلوؤں سے اخباری کوریج کے اعدادوشمار صحیح انداز میں حاصل ہو سکیں گے۔انہوں نے بتایا کہ نئی اشتہاری پالیسی میں ڈیجیٹل میڈیا کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ حکومتی تشہیر کے عمل میں نئے میڈیا پلیٹ فارمز کو مؤثر طور پر استعمال کیا جا سکے۔ڈاکٹر بختیار خان نے پبلک ریلیشن آفیسرز پر زور دیا کہ وہ اپنے اپنے شعبہ جات میں تخلیقی اور نتیجہ خیز کام پر خصوصی توجہ دیں تاکہ حکومتی پیغام زیادہ مؤثر انداز میں عوام تک پہنچایا جا سکے۔اجلاس کے دوران انفارمیشن افسران نے اپنے مسائل سے بھی سیکرٹری اطلاعات کو آگاہ کیا، جس پر انہوں نے ہر ممکن تعاون اور مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی۔سیکرٹری اطلاعات نے نئی حکومتی کابینہ کے قیام کے بعد افسران کو اپنی کارکردگی میں مزید بہتری لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ اطلاعات صوبائی حکومت کی ترجیحات کو اجاگر کرنے اور عوامی اعتماد کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کرتا رہے گا۔
کے ایم یو میں بریسٹ کینسر آگاہی سیمینار کا انعقاد
خیبر میڈیکل یونیورسٹی (کے ایم یو) پشاور میں ایچ ای سی پنک ربن آگاہی پروگرام کے تعاون سے بریسٹ کینسر آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔اس سیمینار کا مقصد خواتین میں اس موذی مرض کی ابتدائی تشخیص، بچاؤ اور بروقت علاج کے بارے میں شعور اجاگر کرنا تھا۔تقریب میں وائس چانسلر خیبر میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق، ڈین بیسک میڈیکل سائنسز ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر روبینہ نازلی، پروفیسر ڈاکٹر عندلیب آفتاب (ایسوسی ایٹ پروفیسر آف کیمسٹری، آرمی پبلک اسکول پشاور)، ڈین نرسنگ سائنسز پروفیسر ڈاکٹر دلدار محمد، اور پروفیسر ڈاکٹر نجمہ ناز کے علاوہ اساتذہ، طلبہ و طالبات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔پروگرام کے فوکل پرسن اور آرگنائزر لیکچرار عمران وحید تھے۔ڈاکٹر نجمہ ناز نے اپنی تحقیقی پریزنٹیشن میں بریسٹ کینسر پر سابقہ اور حالیہ مطالعات کا تقابلی جائزہ پیش کیا، جس میں اس بیماری کے بڑھتے ہوئے رجحان اور سائنس پر مبنی جدید علاج کے طریقہ کار پر روشنی ڈالی گئی۔اپنے خطاب میں وائس چانسلر کے ایم یو پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق نے کہا کہ بریسٹ کینسر کے بڑھتے ہوئے کیسز ہمارے معاشرے کے لیے ایک سنگین چیلنج ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے عوامی آگاہی، ابتدائی تشخیص، تحقیق اور پالیسی سطح پر سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنی صحت کے بارے میں باخبر، محتاط اور خود ذمے دار بنیں۔انہوں نے مزید کہا کہ خیبر میڈیکل یونیورسٹی خواتین میں بریسٹ کینسر آگاہی کے فروغ کے لیے میڈیکل طلبہ، نرسنگ اسٹاف اور عوامی مہمات کے ذریعے شعور بیدار کرنے میں فعال کردار ادا کر رہی ہے۔پروفیسر ڈاکٹر روبینہ نازلی نے کہا کہ دنیا بھر میں ہر آٹھ میں سے ایک خاتون بریسٹ کینسر میں مبتلا ہوتی ہے، تاہم اگر ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہو جائے تو علاج ممکن اور مؤثر ثابت ہوتا ہے۔انہوں نے خواتین پر زور دیا کہ وہ خود معائنہ کی عادت اپنائیں، چھاتی یا نپل کے گرد کسی بھی غیر معمولی تبدیلی کو نظرانداز نہ کریں، اور وقتاً فوقتاً الٹراساؤنڈ یا میموگرافی کے ذریعے چیک اپ کروائیں۔ پروفیسر ڈاکٹر عندلیب آفتاب، جو خود بریسٹ کینسر کی سروائیور ہیں، نے اپنی تین سالہ جدوجہد اور مکمل صحت یابی کا تجربہ شرکاء کے ساتھ شیئر کیا۔انہوں نے کہا کہ ابتدائی تشخیص، مناسب علاج، ریڈی ایشن، باقاعدہ چیک اپ، اور ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل اسٹاف و اہلِ خانہ کے تعاون نے انہیں اس بیماری پر قابو پانے میں مدد دی۔انہوں نے کہا کہ“اللہ کے فضل، صبر اور حوصلے سے کوئی بھی مشکل ناممکن نہیں۔ خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنی جسمانی اور ذہنی صحت کے بارے میں باخبر رہیں اور معمول کے مطابق چیک اپ کرواتی رہیں۔”اختتامی سیشن میں طلبہ و طالبات نے آگاہی خاکے (اسکیچز) پیش کیے جن میں بریسٹ کینسر سے بچاؤ، احتیاطی تدابیر اور عوامی آگاہی کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔تقریب کے اختتام پر آگاہی واک کا بھی اہتمام کیا گیا جس میں طلبہ، اساتذہ اور منتظمین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پر فنڈ ریزنگ کی خصوصی سرگرمی بھی منعقد کی گئی، جس میں طلبہ نے پُرجوش انداز میں عطیات جمع کرائے تاکہ اس مہم کے تسلسل کو برقرار رکھا جا سکے۔
سیکریٹری محکمہ صنعت و حرفت اور فنی تعلیم خیبرپختونخوا مسعود احمد نے صنعتی شعبے کی ترقی کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وقت کا تقاضا ہے کہ صنعت کاری میں سرمایہ کاری کی جائے
سیکریٹری محکمہ صنعت و حرفت اور فنی تعلیم خیبرپختونخوا مسعود احمد نے صنعتی شعبے کی ترقی کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وقت کا تقاضا ہے کہ صنعت کاری میں سرمایہ کاری کی جائے جو صوبے کی پائدار معاشی ترقی کیلئے ضروری ہے۔انھوں نے کہا کہ صوبے میں چھوٹی صنعتوں کی ترقی و ترویج کیلیے سمال انڈسٹریز ڈویلپمنٹ بورڈ کا کردار مسلمہ ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز سمال انڈسٹریز ڈویلپمنٹ بورڈ کوہاٹ روڈ پشاور کے دورے کے موقع پر محکمانہ بریفننگ کے دوران کیا۔ اس موقع پر منیجنگ ڈائریکٹر عبدالحمید خان ڈائریکٹرفنانس بشیر احمد۔ ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹرز ذوالفقار علی صاحبزادہ اور نعمان فیاض،جائنٹ ڈائریکٹرز انجینئر صفدر عباس افریدی، صمد درویش،سید غالب حسین شاہ اور سلمان خان، ڈپٹی ڈائریکٹرز محمد قاسم،مجاہد مقصود، اصغر حسین، زوہیب حسن خان، پراجیکٹ ڈائریکٹر عبدالرحمان خان اورپاک جرمن کے محمد مشتاق بھی موجود تھے۔دورے کے دوران ایم ڈی عبدالحمید خان نے سیکرٹری مسعود احمد کو ادارے سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی اور ان کی معاونت ڈی ایم ڈی نعمان فیاض نے کی۔سیکریٹری صنعت کو بورڈ کی کارکردگی،ذمہ داریوں،اہداف اور پیشہ ورانہ امور کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔اس موقع پر سیکرٹری صنعت وحرفت اور فنی تعلیم مسعود نے کہا کہ بڑی صنعتوں کے قیام کیساتھ سمال انڈسٹری کے فروغ کا ایک اہم اور فعال کردار ہے اور ایس آئی ڈی بی صوبے میں صنعت کاری کے حوالے سیچھوٹی صنعتوں کے قیام اور ترقی دینے میں اپنا ایک کردار رکھتا ہے. سیکریٹری صنعت نے پاک جرمن ووڈ ورکنگ سنٹرکا بھی دورہ کیا اور سنٹر کیتربیتی سیکشن میں خصوصی دلچسپی لی۔
پراجیکٹ مینجمنٹ اینڈ ایمپلیمنٹیشن یونٹ (PMIU)، محکمہ صحت خیبر پختونخوا میں سیکنڈری ہیلتھ کیئر ہسپتالوں کی تجدیدکاری کے حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد
پراجیکٹ مینجمنٹ اینڈ ایمپلیمنٹیشن یونٹ (PMIU)، محکمہ صحت خیبر پختونخوا میں سیکنڈری ہیلتھ کیئر ہسپتالوں کی تجدیدکاری کے حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت ڈاکٹر شہزاد فیصل، پروجیکٹ ڈائریکٹر PMIU نے کی۔اجلاس میں محکمہ صحت، مواصلات و تعمیرات (C&W)، نیسپاک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک (ADB) کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں جاری منصوبوں کی پیش رفت اور نیسپاک کی جانب سے پیش کردہ ٹائم لائنز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نیسپاک PC-1(3) اورPC-1(4) کے تحت مختلف ضلعی ہسپتالوں کے ڈیزائن تیار کرے گا جن میں کنگ عبداللہ ٹیچنگ ہسپتال مانسہرہ، ڈی ایچ کیو بٹ خیلہ، ڈی ایچ کیو چترال لوئر، ڈی ایچ کیو ٹانک، ڈی ایچ کیو ہنگو، ڈی ایچ کیو بٹگرام، ڈی ایچ کیو (بونیر)، ڈی ایچ کیو لکی مروت، سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہسپتال سوات، ڈی ایچ کیو مردان، ڈی ایچ کیو کوہستان، ڈی ایچ کیو الپوری شانگلہ، ڈی ایچ کیو باجوڑ (خار)، ڈی ایچ کیو لنڈی کوتل، ڈی ایچ کیو وانا ساوتھ وزیرستان، ڈی ایچ کیو پاراچنار، ڈی ایچ کیو میران شاہ، ڈی ایچ کیو مشتی میلہ اور ڈی ایچ کیو غلنئی (مہمند) شامل ہیں۔ڈاکٹر شہزاد فیصل نے اس موقع پر کہا کہ منصوبوں کی بروقت تکمیل اور محکموں کے درمیان قریبی رابطہ ہی بہتر اور معیاری صحت سہولیات کی فراہمی کی ضمانت ہے۔
پشاورکی خوبصورتی کے لئے پیڈو کا پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ساتھ تعاون پراتفاق
سیکرٹری توانائی وبرقیات خیبرپختونخوا کی ہدایت پرچیف ایگزیکٹو پیڈو سید حبیب اللہ شاہ نے ڈائریکٹرجنرل پشاور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی(پی ڈی اے) شاہ فہد سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ا س موقع پرڈائریکٹر جنرل پی ڈی اے نے خیبر پختونخوا میں پائیدار ترقی کے لیے پیڈو کے جاری تعاون کو سراہا اور کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (CSR) فریم ورک کے تحت پشاورکے پوش رہائشی علاقوں حیات آباد اور ریگی ماڈل ٹاؤن کی خوبصورتی کے لئے جاری اقدامات میں پیڈو کے تعاون کی درخواست کی۔چیف ایگزیکٹو پیڈونے مذکورہ تجویز کا خیرمقدم کیا اور پیڈو کے کمیونٹی پر مبنی اور ماحولیاتی ذمہ دار منصوبوں کی حمایت کرنے کے عزم کا اعادہ کیا اورفیصلہ کیا کہ پہلے مرحلے میں، پیڈو حیات آباد میں قائم گول چکروں (چوکوں) کی خوبصورتی کی ذمہ داری لیتے ہوئے ا نکی تزئین وآرائش کے لئے اقدامات کئے جائیں گے، اسی طرح دوسرے مرحلے میں پیڈو اور پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی باہمی تعاون سے سر سبز، صاف اور ماحول دوست سرگرمیوں کوجاری رکھتے ہوئے پشاور شہرکی خوبصورتی کے لئے مزید اقدامات کرینگے۔ملاقات کے دوران چیف ایگزیکٹو پیڈوانجینئرحبیب اللہ شاہ نے پشاورمیں قائم سرکاری رہائشی کالونی ریگی ماڈل ٹاؤن میں پیڈو ملازمین کی رہائشی کالونی کے لیے زمین مختص کرنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی، جس کا مقصد ملازمین کے لیے زندگی کی بہتر سہولیات اور حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل پی ڈی اے نے پیڈوملازمین کی فلاح و بہبود کے حوالے سے سی ای او پیڈوکے مستقبل کے حوالے سے وژن کی تعریف کی اور اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ملاقات میں باہمی تعاون اور پشاور کو ایک سرسبز، صاف ستھرا اور خوبصورت شہر بنانے کے مشترکہ کوششوں کوجاری رکھنے کے عزم کااعادہ کیاگیا۔
ریڈیو کی بحالی عوامی اعتماد کی نئی کہانی
ریڈیو ایک ایسا ذریعہ ابلاغ ہے جو آج کے ڈیجیٹل دور میں بھی اپنی افادیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ دنیا بھر میں لاکھوں لوگ ریڈیو سنتے ہیں اور یہ میڈیم اب بھی عوامی سطح پر تیز ترین، سستا اور قابلِ اعتماد ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان خصوصاً خیبر پختونخوا میں ریڈیو کی تاریخ نہایت اہم رہی ہے۔ کبھی یہی ریڈیو جنگی حالات میں عوام کا واحد سہارا تھا کبھی تعلیم و آگاہی کی بنیادی کھڑکی۔ مگر افسوس کہ بد انتظامی، فنڈز کی کمی اور حکومتی عدم توجہی کے باعث یہ اہم ادارہ رفتہ رفتہ زوال کا شکار ہوتا گیا۔
اب حکومت خیبر پختونخوا نے یہ خوشخبری دی ہے کہ صوبے کے تمام ایف ایم ریڈیو اسٹیشن مکمل طور پر بحال ہو کر دوبارہ آن ایئر ہو گئے ہیں۔ ڈائریکٹوریٹ آف انفارمیشن اینڈ پبلک ریلیشنز خیبرپختونخوا کی شب و روز محنت، انجینیئرز اور پروڈیوسرز کی قربانیوں اور نئی انتظامی حکمتِ عملی کی بدولت یہ ممکن ہو پایا۔ یہ اقدام نہ صرف ایک ادارے کی بحالی ہے بلکہ اس سے عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد کا رشتہ بھی جُڑتا ہے۔
خیبر پختونخوا کے زیادہ تر علاقے پسماندہ ہیں۔ نئے ضم شدہ اضلاع میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ کی سہولت محدود ہے۔ ایسے میں ریڈیو ان علاقوں کے عوام کے لیے معلومات اور آگاہی کا سب سے سستا اور تیز ذریعہ ہے۔ ریڈیو کے ذریعے لوگ نہ صرف حکومتی پالیسیوں سے باخبر ہوتے ہیں بلکہ صحت، تعلیم، کاشتکاری، موسمی حالات اور دیگر عوامی امور کے حوالے سے رہنمائی بھی حاصل کرتے ہیں۔
پروگرامنگ کی بحالی کے بعد پختونخوا ریڈیو نے دوبارہ تفریحی، تعلیمی اور عوامی آگاہی پر مبنی نشریات کا آغاز کیا ہے۔ پروڈیوسرز نے صحت، تعلیم، کرنٹ افیئرز اور انفوٹینمنٹ پر نئے پروگرام ترتیب دیے ہیں۔ یہ پروگرام عوام کے مزاج کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیے گئے ہیں تاکہ ہر طبقے کو اپنی دلچسپی کے مطابق مواد میسر آ سکے۔
ریڈیو نیٹ ورک کی بحالی میں سب سے بڑا کردار انہی لوگوں نے ادا کیا جو برسوں سے گمنام محنت کر رہے تھے۔ انجینیئرز نے ناکارہ ٹرانسمیٹر اور مشینری مقامی سطح پر مرمت کی، بجائے اس کے کہ کروڑوں روپے خرچ کر کے نئے آلات درآمد کیے جائیں۔ یہ عمل ایک طرف اخراجات میں کمی کا باعث بنا تو دوسری طرف یہ ثابت کر دیا کہ اگر سرکاری ملازمین کو عزت، اعتماد اور موقع دیا جائے تو وہ غیر معمولی نتائج دے سکتے ہیں۔
دوسری طرف پروڈیوسرز نے فوری طور پر نئے پروگرام لانچ کر کے یہ ثابت کر دیا کہ ریڈیو صرف ایک تکنیکی مشین نہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی آواز ہے جو عوام کی سوچ اور طرزِ زندگی کو متاثر کرتی ہے۔
یہ درست ہے کہ ریڈیو نیٹ ورک کی بحالی ایک بڑی کامیابی ہے لیکن یہ صرف پہلا قدم ہے۔ اصل چیلنج اس کامیابی کو برقرار رکھنا ہے۔ ماضی میں کئی بار ایسے اعلانات کیے گئے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ادارے پھر بد حالی کا شکار ہو گئے۔ اس بار بھی خدشہ یہی ہے کہ اگر حکومت نے بجٹ اور سروس سٹرکچر کی طرف توجہ نہ دی تو یہ کامیابی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکے گی۔
ریڈیو انجینیئرز اور پروڈیوسرز بارہا یہ مطالبہ کر چکے ہیں کہ ان کے لیے واضح سروس سٹرکچر بنایا جائے ترقی اور تنخواہوں میں برابری دی جائے تاکہ ان کا مورال بلند رہے۔ بصورتِ دیگر یہ محنت کش طبقہ پھر سے مایوسی کا شکار ہو سکتا ہے۔
یہ تصور غلط ہے کہ ریڈیو حکومت کے لیے محض ایک بوجھ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر اس ادارے کو درست انداز میں چلایا جائے تو یہ خود کفیل بھی ہو سکتا ہے۔ حکومت ہر سال اشتہارات اور آگاہی مہمات پر اربوں روپے خرچ کرتی ہے۔ اگر انہی مہمات کو اپنے ریڈیو نیٹ ورک کے ذریعے چلایا جائے تو یہ اخراجات بڑی حد تک کم ہو سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ مقامی سطح پر کمرشل اشتہارات سے بھی ریونیو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح ریڈیو نیٹ ورک نہ صرف اپنی بقا قائم رکھے گا بلکہ حکومت کے لیے آمدنی کا ذریعہ بھی بنے گا۔
ریڈیو کی بحالی کا ایک اور اہم پہلو عوامی اعتماد ہے۔ لوگ ریڈیو کو ہمیشہ ایک سچائی اور حقیقت پر مبنی پلیٹ فارم سمجھتے رہے ہیں۔ موجودہ دور میں سوشل میڈیا پر جعلی خبروں اور افواہوں کا طوفان ہے۔ ایسے میں ریڈیو کی نشریات ایک توازن فراہم کر سکتی ہیں۔ اگر پروگرامنگ معیاری اور غیر جانبدارانہ رہی تو لوگ ایک بار پھر ریڈیو پر بھروسہ کریں گے۔
پختونخوا ریڈیو نیٹ ورک کی ویب سائٹ کا قیام بھی ایک انقلابی قدم ہے۔ اب نہ صرف صوبے کے لوگ بلکہ دنیا بھر میں بسنے والے پختون اور دیگر سامعین بھی پختونخوا ریڈیو کو سن سکتے ہیں۔ اس اقدام سے صوبے کی ثقافت، موسیقی اور عوامی مسائل عالمی سطح پر اجاگر ہوں گے۔ یہ نہ صرف ایک معلوماتی سہولت ہے بلکہ صوبے کے تشخص کو بہتر بنانے کا بھی ذریعہ ہے۔
حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ جلد ہی ریڈیو میرانشاہ اور ریڈیو خیبر کو بھی نیٹ ورک میں شامل کیا جائے گا۔ اگر ایسا ہوا تو یہ ضم شدہ قبائلی اضلاع کے عوام کے لیے ایک بڑا تحفہ ہوگا۔ وہاں کے لوگوں کو مقامی زبان میں معلومات، تفریح اور تعلیم کی سہولت میسر آئے گی۔ یہ اقدام ان علاقوں میں قومی ہم آہنگی اور ترقی کو فروغ دے گا۔
پختونخوا ریڈیو نیٹ ورک کی بحالی ایک تاریخی سنگِ میل ہے۔ مگر اصل کامیابی تب ہوگی جب یہ ادارہ تسلسل کے ساتھ چلتا رہے۔ اس کے لیے حکومت کو بجٹ کی بروقت فراہمی، ملازمین کے مسائل کا حل اور معیاری پروگرامنگ کو یقینی بنانا ہوگا۔ ریڈیو صرف ایک تفریحی میڈیم نہیں بلکہ یہ حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کی ایک مضبوط زنجیر ہے۔ اگر اسے سنجیدگی سے چلایا گیا تو یہ نہ صرف صوبے کی ترقی کا ذریعہ بنے گا بلکہ قومی سطح پر بھی ایک مثال قائم کرے گا۔
تحریر: اطہر سوری,سٹیشن منیجر,پختونخوا ریڈیو کوہاٹ
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں محکمے میں جاری گڈ گورننس اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں محکمے میں جاری گڈ گورننس اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں محکمہ سی اینڈ ڈبلیو میں اسٹریٹیجک پلاننگ، ڈیزائن اور سپروژن یونٹ کے قیام پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو میں فنی مہارت بڑھانے کے لئے ایک اسٹریٹجک پلاننگ ڈیزائن اینڈ سپروژن یونٹ (ایس پی ڈی ایس یو) قائم کرنے کی تیاریاں مکمل ہیں جو کام کے معیار اور منصوبہ بندی میں بہتری لائے گا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو میں اسٹریٹیجک پلاننگ، ڈیزائن اور سپروژن یونٹ کے قیام کا مقصد شفافیت کو فروغ دینا، منصوبوں کی لاگت میں کمی، اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال یقینی بنانا ہے۔ یونٹ کا قیام حکومت خیبرپختونخوا کی ترجیحات میں شامل ہے اور گڈ گورننس روڈ میپ کے اہداف کا حصہ ہے۔ اجلاس میں یونٹ کے قیام کیلئے مختلف آپشنز زیر غور آئے اور ان پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ تعمیرات میں لائٹ گیج اسٹرکچر متعارف کرانے پر کام جاری ہے تاکہ کم لاگت اور کم وقت میں منصوبے مکمل ہوں۔ اس کیلئے ابتدائی طور پر خیبرپختونخوا کے پانچ اضلاع میں آٹھ سکولوں کی نشاندہی کی گئی ہے جنہیں لائٹ گیج اسٹرکچر کے تحت تعمیر کیا جائے گا۔ اس طریقے سے یہ سکول ایک تہائی کم وقت میں مکمل ہوں گے اور پچاس سال تک پائیدار رہیں گے۔ مزید برآں محکمہ سی اینڈ ڈبلیو نے 100 فیصد ای پیڈز پر منتقلی مکمل کرلی ہے اور اب بولی جمع کرانے، کال ڈپازٹ اور کام کے تجزیے کا نظام آن لائن ہوگا۔ ای پروکیورمنٹ کے اس نظام سے شفافیت کو یقینی بنایا جارہا ہے۔محکمہ سی اینڈ ڈبلیو میں سڑکوں کے معائنہ و تجزیہ کے لئے روڈ ایسٹ مینجمنٹ سسٹم بھی فعال ہوچکا ہے۔چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق تعمیرات میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے۔ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو میں گڈ گورننس اقدامات کے نفاذ سے محکمہ کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
کمشنر ہزارہ ڈویژن فیاض علی شاہ کی زیرِ صدارت ڈویژنل نفاذ و نگرانی کمیٹی برائے انسدادِ تمباکو نوشی کا اجلاس
کمشنر ہزارہ ڈویژن فیاض علی شاہ کی زیرِ صدارت ڈویژنل نفاذ و نگرانی کمیٹی برائے انسدادِ تمباکو نوشی کا اجلاس کمشنر آفس ایبٹ آباد میں منعقد ہوا، جس میں تمام اضلاع کے افسران نے بذریعہ ویڈیو رابطہ شرکت کی۔
اجلاس میں محکمہ صحت کے کوآرڈینیٹر نے تمباکو نوشی کے نقصانات اور جاری اقدامات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔
کمشنر ہزارہ فیاض علی شاہ نے کہا کہ نوجوان نسل کو تمباکو نوشی کے مضر اثرات سے محفوظ رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی گئی کہ وہ محکمہ خصوصی تعلیم سمیت متعلقہ اداروں کے تعاون سے اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں آگاہی نشستوں کا اہتمام کریں۔مزید ہدایت دی گئی کہ تعلیمی اداروں کے پچاس میٹر کے اندر تمباکو مصنوعات کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ ابتدائی مرحلے میں دکانداروں کو انتباہ جاری کیا جائے اور خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔کمشنر ہزارہ فیاض علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اضلاع کے بڑے عوامی پارکس کو “تمباکو سے پاک پارکس” قرار دیتے ہوئے باقاعدہ اعلامیہ جاری کریں اور پارکس کے داخلی دروازوں پر “یہاں تمباکو نوشی ممنوع ہے” کے بورڈ نمایاں طور پر آویزاں کریں۔مزید یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ تمام اضلاع میں ضلعی نفاذی کمیٹیوں کے اجلاس فوری طور پر بلائے جائیں اور اسسٹنٹ کمشنرز کو قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کی ہدایت کیجائے۔
