Home Blog Page 7

خیبر میں شہید ایس ایچ او ریاض حسین کی نمازِ جنازہ سرکاری اعزاز کے ساتھ اداکی گئی

شہید ایس ایچ او ریاض حسین کی نمازِ جنازہ پولیس لائنز خیبر شاکس میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئی۔ نمازِ جنازہ میں چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ، ڈی پی او خیبر وقار احمد، ڈپٹی کمشنر خیبر شاہد علی، عسکری حکام، منتخب نمائندگان، پولیس افسران و اہلکاروں، شہید کے لواحقین اور اہل علاقہ نے بھی شرکت کی۔اس موقع پر طارق سعید مروت نے شہید کے لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاض حسین نے فرض کی ادائیگی کے دوران اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے پولیس کے مقدس فرائض اور عوام کے تحفظ کے لیے اپنی وابستگی کا عملی ثبوت دیا ہے۔معاونِ خصوصی نے شہید پولیس افسر کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کی قربانیاں قوم کے لیے باعثِ فخر ہیں۔ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور ان کے خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔انہوں نے شہید کے بلند درجات اور مغفرت کے لیے دعا کرتے ہوئے لواحقین کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی۔طارق سعید مروت نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ اور پائیدار امن کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور جرائم کے خلاف جدوجہد میں پولیس افسران و اہلکاروں کا کردار قابلِ قدر ہے، جبکہ شہید ریاض حسین جیسے بہادر افسران کی خدمات محکمہ پولیس کے لیے قابلِ فخر سرمایہ ہیں۔

ڈھوڈہ شریف روڈ کی تعمیر مکمل، وزیرِ قانون آفتاب عالم نے باقاعدہ افتتاح کر دیا

خیبرپختونخوا کے وزیرِ قانون آفتاب عالم نے سابق چیئرمین عابد خان، پاکستان تحریک انصاف کے مقامی رہنماؤں اور کارکنوں کے ہمراہ ڈھوڈہ روڈ کی تعمیر و بحالی کے کام کا افتتاح کر دیا۔ یہ روڈ گزشتہ 25 سالوں سے تعمیر و مرمت کا منتظر تھا۔ خستہ حالی کے باعث علاقے کے مکینوں کو طویل عرصے سے آمدورفت میں مشکلات کا سامنا تھا۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آفتاب عالم نے کہا کہ ماضی کے برعکس وہ خالی خولی نعروں کے بجائے عملی کام پر یقین رکھتے ہیں اور عوامی مسائل کے حل کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی کام عوام کا حق ہیں، کسی پر احسان نہیں۔ ان کے بقول، عوام نے اپنے قیمتی ووٹ کے ذریعے نمائندوں کو اقتدار کے ایوانوں تک پہنچایا ہے اس لئے منتخب نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے اعتماد پر پورا اتریں۔ وزیرِ قانون نے کہا، “ہم عوام کو ہرگز مایوس نہیں کریں گے اور ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے ان کے دیرینہ مسائل کے حل کیلئے عملی اقدامات جاری رکھیں گے۔” انہوں نے ڈھوڈہ روڈ کی تکمیل کو علاقے کے عوام کے دیرینہ مطالبے کی تکمیل کی جانب اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ منصوبے کی تکمیل سے مقامی آبادی کو آمدورفت میں سہولت ملے گی اور علاقے میں بنیادی ڈھانچے کی صورتحال بہتر ہوگی۔ افتتاحی تقریب میں مقامی سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں نے شرکت کی، جبکہ مقررین نے منصوبے پر کام کے آغاز کو علاقے میں ترقیاتی سرگرمیوں کے تسلسل کی علامت قرار دیا۔

درازندہ دھماکہ انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے، قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دلی افسوس ہے، شفیع جان

خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درازندہ میں امن میلہ کے قریب قائم جوائنٹ چیک پوسٹ پر دھماکے کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
اپنے دفتر سے جاری ایک بیان میں صوبائی وزیر نے کہا کہ درازندہ دھماکہ انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت واقعہ ہے۔ دھماکے اور بعد ازاں زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے والی ایمبولینس پر دوسرے حملے کے نتیجے میں مجموعی طور پر 13 افراد شہید جبکہ 35 افراد زخمی ہوئے۔ ابتدائی واقعے میں شہید ہونے والوں میں ایک کسٹمز اہلکار جبکہ باقی شہری شامل ہیں۔ شہداء میں 9 مرد، 2 خواتین اور ایک بچہ شامل ہے۔
شفیع جان نے کہا کہ زخمیوں کو ایمبولینس کے ذریعے ہسپتال منتقل کرنے کے دوران ریسکیو اہلکاروں کو بھی دوسرے حملے میں نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک ریسکیو اہلکار شہید جبکہ دو ریسکیو اہلکار زخمی ہوگئے۔
صوبائی وزیر اطلاعات نے ریسکیو اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر زخمیوں کو بچانے اور انہیں ہسپتال منتقل کرنے والے ریسکیو اہلکاروں کو نشانہ بنانا انتہائی سفاکانہ اور انسانیت کے منافی عمل ہے۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے لے جانے والی ایمبولینس پر حملہ اور ریسکیو اہلکار کی شہادت انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔
شفیع جان نے کہا کہ زخمیوں کو فوری طبی امداد کی فراہمی اور ہسپتالوں میں منتقلی کا عمل جاری ہے، جبکہ 25 زخمیوں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال ڈیرہ اسماعیل خان ریفر کیا گیا ہے۔ متعلقہ حکام زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہداء کے اہل خانہ کے غم میں برابر کی شریک ہے اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعاگو ہے۔
صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبرپختونخوا دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن صوبہ ہے، جہاں عوام، سیاسی قیادت، علمائے کرام، پولیس اور سکیورٹی فورسز نے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا کے عوام کی قربانیوں کو سیاسی بیانات کی نذر نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی صرف خیبرپختونخوا کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک کی قومی سلامتی اور انسانی زندگیوں سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ ایسے حساس معاملے پر ہر سطح سے ایسے بیانات سے گریز کیا جانا چاہیے جو صوبوں کے درمیان نفرت، بداعتمادی یا تقسیم کو فروغ دیں۔
شفیع جان نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قوم کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد کرنے کی ضرورت ہے۔ خیبرپختونخوا کے عوام کئی دہائیوں سے دہشتگردی کا براہِ راست سامنا کر رہے ہیں اور اس جنگ میں ہزاروں قیمتی جانوں کی قربانیاں دی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی صوبے یا اس کی منتخب قیادت کو دہشتگردی کے تناظر میں سیاسی مفادات کے لیے نشانہ بنانا مسئلے کا حل نہیں۔ اس نوعیت کی بیان بازی سے پیدا ہونے والی نفرت اور باہمی بداعتمادی کا فائدہ دہشتگرد عناصر اٹھا سکتے ہیں۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے وفاق اور صوبوں، سیاسی قیادت، عوام، علما، پولیس اور سکیورٹی فورسز کے مابین تعاون اور مشترکہ حکمت عملی ضروری ہے۔ قومی سلامتی کے اس اہم مسئلے کو سیاسی اختلافات سے بالاتر رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
شفیع جان نے کہا کہ دہشتگرد اپنے مذموم عزائم کے ذریعے خیبرپختونخوا کے عوام کے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔ دہشتگردی کے خاتمے اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کا سلسلہ جاری رہے گا۔

وزیر اطلاعات شفیع جان کی صوبائی وزیر بلدیات مینا خان آفریدی کی رہائش گاہ آمد،بھتیجے کی وفات پر فاتحہ خوانی اور تعزیت

خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر اطلاعات، سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی شفیع جان نے پشاور میں صوبائی وزیر بلدیات و اعلی تعلیم مینا خان آفریدی کی رہائش گاہ کا دورہ کیا اور ان کے بھتیجے کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی۔ انھوں نے سوگوار خاندان سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا اور کہا کہ سوگوار خاندان کے لئے یہ ایک ناقابل تلافی نقصان ہے، ہماری تمام تر ہمدردیاں سوگوار خاندان کے ساتھ ہیں،انھوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنے جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو یہ صدمہ صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کرنے کی ہمت و توفیق دے، اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی صدر جنید اکبر خان، رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

بریکوٹ کٹیگری سی ہسپتال کا باقاعدہ افتتاح

صوبائی وزیر ہاؤسنگ خیبرپختونخوا ڈاکٹر امجد علی نے 65 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل ہونے والے بریکوٹ کٹیگری سی ہسپتال کی نئی عمارت کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ بریکوٹ کٹیگری سی ہسپتال کی تکمیل علاقے کے عوام کے لیے صحت کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ ہسپتال کے فعال ہونے سے بریکوٹ اور گردونواح کے ہزاروں افراد کو جدید اور معیاری طبی سہولیات مقامی سطح پر میسر ہوں گی۔ہسپتال میں ایمرجنسی، ایکسرے، لیبارٹری، آرتھوپیڈک، لیبر روم، ڈینٹل اور امراض چشم کے شعبوں سمیت مختلف اہم شعبہ جات فعال کر دیے گئے ہیں، جبکہ مریضوں کی بہتر دیکھ بھال کے لیے ضروری طبی و معاون عملہ بھی تعینات کیا گیا ہے۔ایمرجنسی سروس کی دستیابی سے حادثات اور ہنگامی حالات میں بروقت طبی امداد ممکن ہوگی، جبکہ لیبارٹری اور ایکسرے کی سہولت سے مریضوں کو بنیادی تشخیصی سہولیات ایک ہی جگہ میسر آئیں گی۔ اسی طرح لیبر روم، آرتھوپیڈک، ڈینٹل اورامراض چشم کے شعبوں کی سہولیات سے خواتین، ہڈیوں و جوڑوں، دانتوں اور آنکھوں کے مریضوں کو مقامی سطح پر علاج کی سہولت حاصل ہوگی۔ہسپتال کی تکمیل سے بریکوٹ سمیت ملحقہ علاقوں کے عوام کو علاج معالجے کے لیے دور دراز شہروں کا رخ کرنے کی ضرورت کم ہوگی۔ 65 کروڑ روپے کا یہ منصوبہ علاقے میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کی جانب اہم قدم ہے۔

یو این ڈی پی نمائندے کی ڈائریکٹر جنرل پراسیکیوشن خیبرپختونخوا سے ملاقات پراسیکیوشن سروس کی استعدادِ کار، اکیڈمی کے فعال کردار اور کیس مینجمنٹ سسٹم کی اپ گریڈیشن پر تبادلہ خیال

اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کے نمائندے اسد ہارون نے ڈائریکٹر جنرل پراسیکیوشن خیبرپختونخوا محمد رفیق خان مہمند سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ڈائریکٹر مانیٹرنگ زیشان اللہ آفریدی بھی موجود تھے۔ ملاقات میں خیبرپختونخوا میں پراسیکیوشن سروس کی پیشہ ورانہ استعدادِ کار میں اضافے، ڈیجیٹل نظام کی مزید بہتری اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران پراسیکیوٹرز کی پیشہ ورانہ استعدادِ کار بڑھانے کے لیے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تربیتی اور صلاحیت سازی کے پروگرامز کے انعقاد پر گفتگو ہوئی۔ خیبرپختونخوا پراسیکیوشن اکیڈمی کو فعال اور مؤثر بنانے کے لیے ضروری معاونت اور اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔فریقین نے کیس مینجمنٹ سسٹم کی اپ گریڈیشن اور مزید توسیع کے لیے تکنیکی معاونت کی ضرورت پر بھی تبادلہ خیال کیا، تاکہ مقدمات کی نگرانی، ڈیٹا مینجمنٹ اور کیسز کی پیش رفت کے ریکارڈ کو مزید منظم اور مؤثر بنایا جا سکے۔

ملاقات میں پراسیکیوشن سروس میں جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل سلوشنز کے مؤثر استعمال کے ذریعے کیس مینجمنٹ، مانیٹرنگ اور ادارہ جاتی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے امور بھی زیرِ بحث آئے۔ڈائریکٹر جنرل پراسیکیوشن خیبرپختونخوا محمد رفیق خان مہمند نے پراسیکیوشن سروس کی استعدادِ کار میں اضافے، پراسیکیوشن اکیڈمی کے مؤثر عملیاتی آغاز اور کیس مینجمنٹ سسٹم کی اپ گریڈیشن کے لیے UNDP کی تکنیکی معاونت اور تعاون کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ پراسیکیوشن سروس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور مؤثر نظامِ انصاف کے لیے باہمی تعاون کو مزید فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

سیکیورٹی خدشات کے دوران فرائض انجام دینے والے PEHL-911 کے اہلکاروں کو خراجِ تحسین

پراجیکٹ ڈائریکٹر PEHL-911، محکمہ داخلہ و قبائلی امور خیبرپختونخوا رفاقت خان نے سیکیورٹی خدشات کے باعث سیکرٹریٹ خالی کیے جانے کے باوجود فرائض انجام دینے والے PEHL-911 کی dedicated ٹیم کےممبران کو شاندار خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔رفاقت خان نے کہا کہ سیکیورٹی خدشات کے باعث جب پورا سیکرٹریٹ خالی کرایا گیا، اس دوران بھی PEHL-911 کے اہلکار شہریوں کی کالز کا جواب دینے اور ضروری عوامی خدمات کی فراہمی کے لیے فرنٹ لائن پر موجود رہے۔پراجیکٹ ڈائریکٹر نے محمد عمار، ادریس خان، فیضان پرویز، جواد احمد، شہروز خان، عبداللہ شیخ اور سعید انور کی جرات، فرض شناسی، جذبہ خدمت اور پیشہ ورانہ وابستگی کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ مشکل اور غیر معمولی صورتحال کے دوران ٹیم کے ارکان کا ڈیوٹی پر موجود رہنا عوامی خدمت کے حقیقی جذبے اور ذمہ داری کا مظہر ہے۔ ان کی پیشہ ورانہ وابستگی PEHL-911 کی ٹیم کے لیے باعثِ فخر ہے۔رفاقت خان نے کہا کہ ٹیم کے ارکان نے مشکل حالات میں جس حوصلے، لگن اور باہمی تعاون کا مظاہرہ کیا، اسے قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ شہریوں کی خدمت اور اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے ان کی وابستگی قابلِ تحسین ہے۔انہوں نے کہا، “مجھے PEHL-911 کی پوری ٹیم پر فخر ہے، جس نے ثابت قدم رہتے ہوئے شہریوں کی خدمت کی اور مشکل وقت میں اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں نبھائیں۔”a

59th Meeting of Provincial Cabinet

Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa Muhammad Sohail Afridi has said that, over the past three to four days, individuals in plain clothes have been targeting the party’s workers, organisational office-bearers and elected representatives. Addressing a meeting of the provincial cabinet, the Chief Minister said that Minister for Communications and Works Shakeel Khan had been subjected to an attempted assassination and an attempt had also been made to abduct him, but the perpetrators failed in their attempt. He said that, a day earlier, individuals in plain clothes had also reached the residence of Minister for Irrigation Riaz Khan. “Similar incidents are being reported from Dera Ismail Khan and other districts, where our workers and elected representatives are being subjected to the same treatment,” the Chief Minister said. He added that MNA Fazal Khan had been abducted in Mardan, while unidentified individuals had also raided the residence of Provincial Minister Fakhar Jahan. “If even members of the provincial cabinet are not safe from such elements, what does this mean for the rest of Pakistan?” the Chief Minister asked. He said that those involved were afraid of the power of the people and that no person acting with reason would resort to such measures. “Such treatment of members of the Khyber Pakhtunkhwa cabinet is unacceptable,” he said. Referring to recent statements attributed to Rana Sanaullah, the Chief Minister said that statements had been made describing the people of Khyber Pakhtunkhwa as terrorists. He also expressed concern over statement by Maryam Safdar that she faces no threat from India but from three smaller provinces of Pakistan.The Chief Minister said that Khyber Pakhtunkhwa is being cut off from the rest of the country and that all routes to and from the province are being closed. “The rest of Pakistan will remain open, but no one will be able to enter or leave Khyber Pakhtunkhwa,” he said. “What should be made of an attempt to isolate Khyber Pakhtunkhwa from the rest of Pakistan and close all routes to the province? Is there a conspiracy underway? Is there an attempt to repeat a tragedy like that of East Pakistan?” the Chief Minister asked. He said that whoever was behind any such effort should receive a clear message: “Pakistan is ours.” He added that those seeking to divide Pakistan or separate Khyber Pakhtunkhwa from the country would face a clear response. “We were Pakistanis, we are Pakistanis and, God willing, we will remain Pakistanis,” he said. The Chief Minister further said that individuals in plain clothes were intimidating and threatening members of the bureaucracy, police, deputy commissioners and district police officers. Addressing the officials directly, he said: “You must not be afraid. If the provincial government is not asking you to do anything unlawful, do not comply with unlawful orders issued by any institution or department.” The Chief Minister said that Pakistan belonged to all its citizens and that peaceful protest was a constitutional and legal right. “This is not anyone’s personal Pakistan; this is the Pakistan of all of us,” he said. He said that the provincial government’s concerns are not being heard and that there remains no meaningful opportunity for its position to be heard. “In such circumstances, the Constitution allows peaceful protest, and we will exercise this right. As long as the Constitution guarantees the right to peaceful protest, we will continue our peaceful struggle,” he said. Addressing the people of Khyber Pakhtunkhwa and Pakistan, the Chief Minister said: “Do not panic and do not be afraid. The more oppressive a person becomes, the greater their fear.” He called on the people to stand up for their rights and real freedom and to continue their peaceful struggle. “God willing, this period of oppression will come to an end very soon,” he said.

Minister for Information & Public Relations, Science, Technology and Information Technology, Shafi Jan, later briefed the media on important decisions taken by the Khyber Pakhtunkhwa Cabinet, including the approval of the Khyber Pakhtunkhwa Police Act 2026, describing it as a landmark step towards strengthening police accountability, professional efficiency and public service delivery. Shafi Jan said that the proposed legislation would introduce a comprehensive institutional framework aimed at making the police more accountable to the public while strengthening investigation, improving career progression and establishing clearer distinctions between policy-making and operational functions. He said that, upon enactment by the Provincial Assembly, the new law would strengthen the investigation mechanism through the introduction of Regional Investigation Officers (RIOs) in the province. “The proposed Police Act is designed to strengthen the investigation system and enhance professional capacity within the police by introducing a dedicated regional investigation structure,” he said. The Minister said the legislation would also introduce greater institutional accountability in police postings and transfers, particularly with regard to the appointment and transfer of Regional Police Officers (RPOs) and District Police Officers (DPOs) under the Khyber Pakhtunkhwa Rules of Business, 1985. Highlighting the provisions relating to career development, Shafi Jan said the proposed Act would address long-standing hurdles in the promotion of police officers by rationalizing the promotional, fast-track promotion and direct recruitment quotas. “The legislation seeks to remove impediments to the long-awaited promotion of officers and provide a more structured mechanism for career progression by increasing promotion quota for the police force,” he said. The Minister further explained that the proposed law would introduce a clear separation between the policy and operational streams of policing through the establishment of two distinct institutional forums—the Police Policy Board, to be headed by the Chief Minister, and the Police Operations Board, to be headed by the Provincial Police Officer (PPO). According to Shafi Jan, the proposed legislation would also introduce a performance-based accountability mechanism for the PPO. He said that the Act would provide the provincial government with the authority to seek the repatriation of the PPO in case of unsatisfactory performance, thereby strengthening institutional oversight and ensuring greater responsibility at the highest level of police command. He added that the PPO would also be required to prepare and present an annual policing plan before the Police Policy Board for consideration and approval. “The annual policing plan will provide a structured framework for policing priorities, performance and institutional objectives, subject to approval by the Police Policy Board,” he said. He said the Act would introduce a clear and comprehensive mechanism for the functioning of Dispute Resolution Councils (DRCs) across the province, addressing the existing gap in the legal framework. To ensure greater transparency, accountability and uniformity, all existing DRCs would be dissolved and reconstituted afresh in accordance with the provisions of the new law.

According to him, the Cabinet also approved the Khyber Pakhtunkhwa Stamp (Amendment) Bill, 2026, the revised cost estimate for the intake structure and tunnel (up to daylight) under the Peshawar Water Supply Scheme, and the release of the balance allocation along with a supplementary grant for land acquisition in respect of the ADP scheme for the construction of sports complexes in District Chitral. Cabinet members, the Chief Secretary, administrative secretaries, and the Inspector General of Khyber Pakhtunkhwa Police attended the Cabinet meeting, with Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa Muhammad Sohail Afridi in the chair.

شہید پولیس اہلکار محمد آفاق کو خراجِ عقیدت، دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے داخلہ و قبائلی امور طارق سعید مروت نے ملک سعد شہید پولیس لائن میں شہید پولیس اہلکار محمد آفاق کی نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد اپنے خصوصی پیغام میں شہید اہلکار کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔طارق سعید مروت نے کہا کہ پولیس جوان محمد آفاق نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے پشاور کے سینکڑوں شہریوں کی جانیں بچائیں۔ ان کی عظیم قربانی ان شاء اللہ رائیگاں نہیں جائے گی۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج اور تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ یہ جنگ کسی ایک فرد یا ادارے کی جنگ نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ جنگ ہے۔معاونِ خصوصی نے کہا کہ کسی کو اس غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی ایک شخص یا ادارے کی جنگ ہے۔ صوبائی حکومت اپنی تمام قانون نافذ کرنے والی ایجنسیز کے ساتھ مکمل عزم اور یکجہتی کے ساتھ کھڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کی گولیاں ختم ہو جائیں گی، مگر خیبرپختونخوا کے غیور عوام کے حوصلے اور عزم ختم نہیں ہوں گے۔ ہمارے بہادر پولیس اہلکاروں اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں دہشت گردی کے خلاف ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔طارق سعید مروت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہر ممکن تعاون فراہم کرتی رہے گی اور دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔انہوں نے شہید محمد آفاق کے اہل خانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قوم اپنے بہادر شہداء کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔

وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع جان کی پولیس لائنز پشاور میں شہید پولیس اہلکار محمد آفاق کی نماز جنازہ میں شرکت

خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات، سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی شفیع جان نے پولیس لائنز پشاور میں متھرا پشاور میں دہشت گردوں سے مقابلے کے دوران شہید ہونے والے پولیس اہلکار محمد آفاق کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔وزیر اطلاعات نے شہید پولیس اہلکار کے جسد خاکی پر پھول رکھے اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر انھوں نے شہید اہلکار کے بھائی اور دیگر لواحقین سے ملاقات کی اور ان سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے شہید کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا بھی کی۔اس موقع پر وزیر اطلاعات شفیع جان نے کہا کہ شہید پولیس اہلکار نے فرض کی ادائیگی کے دوران اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا، جس پر پوری قوم انہیں سلام پیش کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ شہداء ہمارا فخر ہیں، ہم ان کی قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا پولیس فورس کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔صوبائی وزیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس کے شہداء کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی۔ پولیس اہلکاروں نے امن و امان کو برقرار رکھنے اور عوام کے تحفظ کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں، دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کے لئے اقدامات جاری رہینگے۔شفیع جان نے کہا کہ صوبائی حکومت اس دکھ کی گھڑی میں شہید اہلکار کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے اور شہداء کے خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔شہید پولیس اہلکار محمد آفاق کی نماز جنازہ میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی، معاون خصوصی برائے محکمہ داخلہ طارق سعید مروت، رکن قومی اسمبلی شیر علی ارباب، آئی جی پولیس اور دیگر افسران نے بھی شرکت کی۔