Home Blog Page 7

An important meeting regarding the improvement of health facilities in South Waziristan was held at the Health Secretariat, Peshawar, under the chairmanship of the Provincial Minister for Health, Mr. Khaliq ur Rehman.

The meeting was attended by the Secretary Health, Deputy Chief Planning Officer (P&D), Regional Director South Region Dr. Kamran Zakaria, Managing Director Health Foundation Dr. Khizar Hayat, and District Health Officer Upper South Waziristan Dr. Tufail Sherani.

During the meeting, detailed deliberations were held on the challenges faced by the health sector in South Waziristan, as well as ongoing and upcoming development projects. Special discussion was held on the long-standing issue of Mola Khan Sarai Hospital, which was being operated under the PPP mode. Due to certain administrative and technical issues, the hospital’s services had been affected. As a result of the continuous efforts of MPA Muhammad Asif Khan Mehsud and the Health Department, the recruitment advertisement for hospital staff has now been issued. The Provincial Minister for Health assured that formal approval will be granted in the upcoming cabinet meeting, after which the hospital will be made functional within the same month, Insha’Allah.

The meeting also reviewed the upgradation of Basic Health Units (BHUs) in South Waziristan. Due to past militancy and conflict, many BHU buildings and infrastructure had been severely damaged. It was decided that all BHUs in South Waziristan will be included in the upgradation scheme, for which principled approval has already been granted. Along with full rehabilitation of these facilities, shortages of human resources will also be addressed.

Detailed discussions were also held regarding the funding of Tank Nara and Makeen Hospitals, which are approximately 70 to 80 percent complete. The meeting emphasized the immediate release of remaining funds so that these projects can be completed at the earliest and better healthcare services can be provided to the public.

Furthermore, the Pakistan Red Crescent Society (PRCS) partnership model was discussed, under which more than half of the BHUs in South Waziristan will be handed over to PRCS under a sharing model, similar to the successful provision of quality healthcare services at BHU Baloch Kot.

The meeting also addressed shortages of infrastructure, medical equipment, and furniture in hospitals. On this occasion, the Provincial Minister for Health assured that these issues will be resolved on a war footing.

Similarly, it was agreed to provide 4 to 5 new ambulances to South Waziristan to expand Rescue 1122 emergency services, in order to strengthen emergency medical response across the district.

At the conclusion of the meeting, the Provincial Minister for Health and the Secretary Health directed the DHO Upper South Waziristan to submit a progress report every fifteen days to ensure continuous monitoring and evaluation of the projects.

Finally, the public was assured that the health sector in South Waziristan is being given top priority, and that, Insha’Allah, all health-related issues will be resolved on a priority basis, as healthcare is a fundamental right of the people and the government is fully committed to safeguarding this right.

وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا دورہ لاہور/ چکری ریسٹ ایریا سیل/ معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کا بیان

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی منتخب پارلیمنٹیرینز کے ہمراہ دورہ لاہور کے لیے روانہ ہو چکے ہیں، شفیع جان

پنجاب حکومت نے خوف و بوکھلاہٹ میں چکری کے مقام پر قیام کے لئے مختص ایریا سیل کر دیا،شفیع جان

پنجاب پولیس نے چکری کے مقام پر وزیر اعلی سہیل آفریدی کا راستہ روکا، شفیع جان

منتخب وزیراعلیٰ کے دورے میں رکاوٹیں کھڑی کرنا افسوسناک اور قابل مذمت ہے، شفیع جان

ریسٹ ایریا کو سیل کرنا اور راستہ روکنا پنجاب حکومت کے خوف کی واضح علامت ہے، شفیع جان

جعلی پنجاب حکومت عوام کی آواز دبانے کی ناکام کوشش کر رہی ہے، شفیع جان

حسن ابدال اور چکری میں کارکنوں کے شاندار استقبال سے پنجاب حکومت خوفزدہ ہو گئی، شفیع جان

پنجاب پر زبردستی مسلط حکومت آمریت کا مظاہرہ کر رہی ہے، شفیع جان

ایک منتخب وزیراعلیٰ کا دیگر صوبوں کا دورہ آئینی، قانونی اور جمہوری حق ہے، شفیع جان

پنجاب حکومت حوصلہ رکھے، ابھی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی لاہور پہنچے بھی نہیں، شفیع جان

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے استقبال کے لیے لاہور میں کارکنوں کا جوش و جذبہ عروج پر ہے، شفیع جان

پنجاب حکومت کے اوچھے ہتھکنڈوں سے ہم خوفزدہ نہیں ہوں گے، شفیع جان

قائدِاعظم محمد علی جناحؒ کا یوم پیدائش، صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان کا پیغام

صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان نے بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناحؒ کے یوم پیدائش کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ قائداعظمؒ کی جدوجہد ہمیں نہ صرف ایک آزاد وطن دے گئی بلکہ خودداری، آئین کی بالادستی اور عوامی حاکمیت کا واضح راستہ بھی متعین کیا۔اپنے پیغام میں ریاض خان نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ اصولوں، دیانت داری اور قانون کی حکمرانی پر یقین رکھنے والے عظیم رہنما تھے۔ ان کے فرمودات ایمان، اتحاد اور نظم آج بھی ہماری قومی زندگی کے لیے مشعل راہ ہیں۔ صوبائی وزیر آبپاشی نے کہا کہ آج قائداعظمؒ کے نظریے کو عملی شکل دینے کے لیے بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان حقیقی آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ عمران خان کی تحریک دراصل قائداعظمؒ کے اس خواب کی تعبیر ہے جس میں ایک خودمختار، باوقار اور آئین و قانون کے مطابق چلنے والا پاکستان شامل تھا۔ ریاض خان نے کہا کہ حقیقی آزادی کا مطلب عوام کی بالادستی، شفاف نظام، آزاد عدلیہ اور ایک ایسا پاکستان ہے جہاں فیصلے بیرونی دباؤ کے بجائے عوامی مفاد میں کیے جائیں۔ یہ وہی نظریہ ہے جس کی بنیاد قائدِاعظمؒ نے رکھی اور جسے آج عمران خان آگے بڑھا رہے ہیں۔ صوبائی وزیر آبپاشی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف قائداعظمؒ کے افکار اور عمران خان کے وژن حقیقی آزادی کی روشنی میں ملک کی ترقی، خوشحالی اور خودداری کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

قومی تشخص اور وقار کی علامت ادارے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کی نجکاری کو کیسے کامیاب قدم تصور کیا جا سکتا ہے،شفیع جان

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ شفیع جان نے وفاقی حکومت کی نجکاری پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے قومی تشخص اور وقار کی علامت ادارے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کی نیلامی کر دی ہے، جسے کسی بھی صورت میں ایک کامیاب قدم نہیں کہا جا سکتا۔ اس نوعیت کے فیصلے وہی جماعتیں کر سکتی ہیں جنہیں نہ عوامی احساسات کا ادراک ہو اور نہ ہی جو عوامی مینڈیٹ کے ذریعے اقتدار میں آئی ہوں۔انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی تباہی کی بڑی وجہ اس ادارے میں وفاق میں بغیر مینڈیٹ کے براجمان انہی جماعتوں کی سیاسی مداخلت، اقربا پروری اور کرپشن رہی ہے، جس کے باعث ایک وقت میں کامیاب ترین ادارے کو اس نہج تک پہنچا دیا گیا، اور اب اسے اونے پونے داموں فروخت کر دیا گیا ہے۔شفیع جان نے کہا کہ نجکاری کے عمل میں نہ قومی وقار کا خیال رکھا گیا اور نہ ہی اس ادارے سے وابستہ ہزاروں ملازمین کے مستقبل کو مدنظر رکھا گیا۔ نجکاری کے بعد 135 ارب روپے کی مالی بولی میں سے حکومت کے پاس محض 7.5 فیصد حصہ باقی رہ جائے گا، جو وفاقی حکومت کی نااہلی کا واضح ثبوت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ملکی معاشی ترقی کے لیے وفاقی حکومت کے پاس نہ کوئی واضح وژن ہے اور نہ ہی عوامی مینڈیٹ، جس کے باعث نہ بیرونی سرمایہ کاری آ رہی ہے اور نہ ہی ملکی معیشت ترقی کر پا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فیصلہ سازی کے فقدان اور واضح معاشی پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے ملک شدید معاشی عدم استحکام کا شکار ہے۔شفیع جان نے کہا کہ کرپشن اور اقربا پروری کے باعث یوٹیلیٹی اسٹورز جیسے قومی ادارے کو بھی تباہ کر دیا گیا، جبکہ جعلی وفاقی حکومت کی نااہلی کے سبب عوام روز بروز مہنگائی کے دلدل میں دھنستے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کے لیے بیرونی سرمایہ کاری ناگزیر ہے، مگر وفاقی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے سرمایہ کار سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔بعد ازاں بانی چیئرمین عمران خان کی ہدایت پر شروع کی گئی اسٹریٹ موومنٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے بانی چیئرمین عمران خان کا پیغام ملتے ہی اسٹریٹ موومنٹ کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں پارٹی کارکنوں، انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن سمیت دیگر پارٹی تنظیموں کو متحرک کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف ملک کی واحد سیاسی جماعت ہے جس کی مقبولیت کا اعتراف عالمی سطح پر بھی کیا جا رہا ہے۔ عمران خان اور دیگر قائدین و ورکرز کی رہائی کے لیے اسٹریٹ موومنٹ ہمارا آئینی، قانونی اور جمہوری حق ہے۔ پاکستان تحریک انصاف ایک جمہوری سیاسی جماعت ہے جو جمہوریت کی بالادستی پر مکمل یقین رکھتی ہے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ معدنیات کا اجلاس بدھ کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ معدنیات کا اجلاس بدھ کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین اور رکن صوبائی اسمبلی اکرام اللہ غازی نے کی۔ اجلاس میں کمیٹی کے اراکین و ممبران صوبائی اسمبلی محمد یامین خان ، محمد نثارباز ، ارباب محمد عثمان،محمد انور خان، محبوب شیر اور محترمہ صوبیہ شاہد نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ سیکرٹری معدنیات،مع متعلقہ عملہ، محکمہ قانون، محکمہ خزانہ اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے افسران بھی اجلاس میں موجود تھے۔اجلاس میں مختلف پارلمانی سوالات اور سابقہ اجلاس کے احکامات پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ رکن صوبائی اسمبلی احمد کنڈی کی جانب سے 15 اپریل 2025 کے اجلاس میں پیش کیے گئے سوال پر محکمہ معدنیات نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ صوبے کے مختلف اضلاع میں مجموعی طور پر 3900 بارودی (Blasting) لائسنس جاری کیے گئے ہیں، جن میں سے 2198 لائسنسوں کے تحت کان کنی کا عمل جاری ہے، جبکہ باقی لائسنس تنازعات کی وجہ سے غیر فعال ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ بارودی لائسنسوں کا اجرا متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کے احکامات کے تحت کیا جاتا ہے اور این او سی قانون کے مطابق جاری کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر چیئرمین قائمہ کمیٹی نے محکمہ معدنیات کے حکام کو ہدایت کی کہ کان کنی کے لیے لیز جاری ہوتے ہی فوری طور پر کام شروع کر دینا چاہیے تاکہ تنازعات سے بچا جا سکے اور مقامی آبادی ترقیاتی ثمرات سے مستفید ہو سکے۔محترمہ صوبیہ شاہد کے سوال کے جواب میں محکمہ معدنیات کے ڈائریکٹر جنرل نے کمیٹی کو بتایا کہ جہاں آبادی 50 گھروں پر مشتمل ہو، وہاں 2017 کے ایکٹ کے تحت کان کنی کے لیے لیز جاری نہیں کی جاتی۔ مزید بتایا گیا کہ صوبے کے مختلف اضلاع میں اب تک 7416 مقامات پر کان کنی کے لیے لیز دی جا چکی ہے۔ اس پر قائمہ کمیٹی نے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں اس حوالے سے مکمل اور تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔اجلاس میں رکن قائمہ کمیٹی اور رکن صوبائی اسمبلی محمد نثار کے سوال پر سیکرٹری معدنیات نے بتایا کہ ضلع باجوڑ میں گرائے ماٹ کے لیے چار سال قبل تین لائسنس جاری کیے گئے تھے، تاہم تنازعات کے باعث ان پر اب تک کام شروع نہیں ہو سکا۔ سیکرٹری معدنیات نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ ان تینوں لائسنسوں کو منسوخ کر دیا جائے گا اور آئندہ اجلاس میں اس کا نوٹیفکیشن پیش کیا جائے گا۔اجلاس کے اختتام پر چیئرمین قائمہ کمیٹی نے حکم دیا کہ آئندہ اجلاس میں ڈی جی کوہاٹ اپنی حاضری یقینی بنائیں۔ انہوں نے سیکرٹری معدنیات کو ہدایت کی کہ متعلقہ ایکٹ میں ترمیم کے لیے اقدامات کیے جائیں اور عدالتی سٹے کے عمل کو روکنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کی جائے تاکہ ترقیاتی کام بغیر کسی تعطل کے جاری رہ سکیں۔

صوبے کی ترقی کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہے ہیں، مسائل کے حل کے لیے مل کر کام کریں گے، عاقب اللہ خان

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ریلیف، بحالی و آباد کاری عاقب اللہ خان نے کہا ہے کہ صوبے کی ترقی و خوشحالی کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہے ہیں، درپیش مسائل کے حل کے لیے مل کر کام کریں گے, جس کے لیے تمام صوبائی محکموں کی بھرپور ہم آہنگی ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے پشاور میں پی ڈی ایم اے کی جانب سے اگلے پانچ سالوں کے لیے منصوبہ بندی سے متعلق منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں سیکرٹری محکمہ ریلیف، ڈی جی پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، کمیونیکیشن اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ، ایری گیشن اور محکمہ جنگلات کے نمائندوں کے بشمول اکیڈیمیا اور دیگر افسران و اسٹیک ہولڈرز بھی شریک تھے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر ریلیف کو پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی مجوزہ پانچ سالا منصوبہ بندی کے حوالے سے تفصیلی بریفننگ دی گئی، اور انہیں مذکورہ منصوبہ بندی کے اغراض و مقاصد سمیت اس کی اہمیت کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ اجلاس میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ 2010، نیشنل ڈیزاسٹر، رسک ریڈکشن ایکٹ، سنڈائی فریم ورک چار ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن 2015-2030، ایمرجنسی رسپانس میکنزم، رسک پروفائلنگ، اور امپلیمنٹیشن کمیٹی سے متعلق غور و خوض کیا گیا۔ بریفینگ میں بتایا گیا کہ صوبائی ڈیزاسٹر ریڈکشن پالیسی کو بھی مذکورہ پلان کا حصہ بنایا جا رہا ہے اور خیبر پختونخوا پورے ملک میں واحد صوبہ جو اس قسم کے منصوبے کو عملی شکل دے رہا ہے۔ ۔ صوبائی وزیر ریلیف نے پی ڈی ایم اے پر زور دیا کہ وہ نہ صرف صوبائی سطح پر بلکہ ضلعی اور تحصیل سطح پر بھی ارلی وارننگ سسٹم کو تیز تر کردیں تاکہ کسی افت کی صورت میں عوام کو محفوظ مقام تک پہنچانے کیلئے کافی وقت مل سکے ۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں قدرتی افات سے نمٹنے کیلئے عملی اقادامات کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو افات کے اثرات سے بچایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیونٹی کو بروقت پیغام رسانی ، افات کے دوران عوام کو محفوظ مقامات پر پہنچانے اور افات کے بعد دوبارہ آبادکاری جیسے دیگر امور میں غفلت ناقابل برداشت ہوگا، اور اس صورت میں ضرور ایکشن بھی لیا جائے گا۔

کوہستان جرگہ کا پالیسی میں وضاحت اور پائیدار جنگلاتی نظم و نسق کا مطالبہ، سکریٹری جنید خان نے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا

کوہستان فارسٹ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے ایک نمائندہ وفد نے ثقافتی روایت کے مطابق جرگہ کی صورت میں سیکرٹری محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات، خیبرپختونخوا جنید خان سے ملاقات کی۔ ملاقات کا مقصد کوہستان ریجن میں جنگلات کے مالکان کو درپیش مسائل اور پائیدار جنگلاتی انتظام کے اہم پہلوؤں پر تفصیلی غور و خوض تھا۔اس نمائندہ وفد میں کوہستان سے تعلق رکھنے والے اراکینِ صوبائی اسمبلی سجاد اللہ، سردار ریاض اور فضل حق کے علاوہ مقامی سٹیک ہولڈرز پر مشتمل چوبیس رکنی جرگہ شامل تھا۔ یہ اجلاس درحقیقت علاقے کی اجتماعی آواز کا مظہر تھا، جس میں ایک طرف روزگار کے تحفظ کی فکر نمایاں تھی تو دوسری جانب جنگلاتی وسائل کے تحفظ کا عزم بھی جھلکتا نظر آیا۔جرگہ اجلاس میں چیف کنزرویٹر فارسٹ ریجن ون و ٹو احمد جلیل، شوکت فیاض اور محکمہ جنگلات کے دیگر سینئر افسران بھی شریک ہوئے، جن کی موجودگی نے اجلاس کو ادارہ جاتی وقار اور فنی بصیرت فراہم کی۔جرگہ ارکان نے اپنے مؤقف میں نشاندہی کی کہ موجودہ پالیسی فریم ورک کے تحت جنگلات سے قانونی طور پر حاصل کی گئی لاکھوں مکعب فٹ لکڑی مختلف مقامات پر پڑی ہوئی ہے، جبکہ بڑی مقدار منڈیوں تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ اس ذخیرے میں شامل حکومت کا بیس فیصد حصہ بھی تاخیری طریقہ کار کے باعث خراب ہونے اور ضائع ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔ جرگہ نے زور دیا کہ پالیسی کو اس کی اصل روح کے مطابق بحال کیا جائے، کیونکہ طویل غیر یقینی صورتحال نہ صرف معاشی نقصان بلکہ قومی وسائل کے ضیاع کا سبب بن رہی ہے۔وفد نے مزید کہا کہ مانیٹرنگ کے نام پر بعض مراحل کو بلاجواز بار بار دہرایا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں نجی املاک اور سرکاری وسائل دونوں متاثر ہو رہے ہیں۔ جرگہ نے ایک جامع، شفاف اور یک وقتی مانیٹرنگ نظام اپنانے کی تجویز دی تاکہ کارکردگی، اعتماد اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ایک اور اہم تجویز کے طور پر جرگہ نے مطالبہ کیا کہ حکومت کے بیس فیصد حصے کو ٹرانزٹ ڈپو میں علیحدہ کیا جائے اور مالکان کا حصہ فوری طور پر واگزار کیا جائے۔ اس اقدام سے نہ صرف بروقت منڈیوں تک ترسیل ممکن ہو گی بلکہ جنگلات کے مالکان کو مالی دباؤ سے نجات ملے گی اور منصفانہ وسائل کی تقسیم کا اصول بھی برقرار رہے گا۔جرگہ کے تحفظات کا جواب دیتے ہوئے سیکرٹری جنید خان نے بالخصوص اراکینِ صوبائی اسمبلی اور جرگہ کے معززین کو یقین دلایا کہ پالیسی پر عملدرآمد میں درپیش قانونی پیچیدگیوں اور انتظامی رکاوٹوں کو باہمی مشاورت کے ذریعے دور کیا جائے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ جرگہ کے منتخب نمائندے آئندہ ہفتے چیف کنزرویٹر فارسٹ ریجن ٹو سے ملاقات کر کے قابلِ عمل حل تجویز کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ ورکنگ پلان اور مانیٹرنگ فریم ورک کے تفصیلی جائزے کے لیے ایک دوسرا جرگہ اجلاس منعقد کیا جائے گا، اور اگر حتمی سفارشات کے لیے صوبائی کابینہ کی منظوری درکار ہوئی تو بلا تاخیر سمری کی صورت میں صوبائی حکومت کو ارسال کی جائے گی۔آخر میں جنید خان نے کوہستان کے نمائندہ وفد کو محکمہ جنگلات کی جانب سے مکمل تعاون اور ادارہ جاتی حمایت کا یقین دلایا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومتِ خیبرپختونخوا، وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کے وژن“گرین خیبرپختونخوا”کے تحت، نہ صرف کوہستان بلکہ صوبے کے تمام اضلاع میں جنگلاتی مسائل کے حل اور پائیدار جنگلاتی رقبے کے فروغ کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لائے گی، تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے روزگار اور فطری حسن دونوں محفوظ رہ سکیں۔

خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت خلیق الرحمٰن نے بدھ کے روز قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس ایم ٹی آئی نوشہرہ میں جنرل میڈیسن بی وارڈ، سی پی سی ہال اور نوشہرہ میڈیکل کالج میں ملٹی پرپز ہال کا باقاعدہ افتتاح کیا

خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت خلیق الرحمٰن نے بدھ کے روز قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس ایم ٹی آئی نوشہرہ میں جنرل میڈیسن بی وارڈ، سی پی سی ہال اور نوشہرہ میڈیکل کالج میں ملٹی پرپز ہال کا باقاعدہ افتتاح کیا۔افتتاحی تقریب میں صوبائی وزیرِ صحت کے ہمراہ ممبر قومی اسمبلی سید شاہ احد علی شاہ، ممبر صوبائی اسمبلی میاں محمد عمر کاکاخیل، ممبران صوبائی اسمبلی اشفاق خان اور زر عالم خان بھی موجود تھے۔اس موقع پر ڈین/چیف ایگزیکٹو نوشہرہ میڈیکل کالج و ہسپتال ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر حمزاللہ خان اور میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر عثمان حقانی نے مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا اور ہسپتال ا و رمیڈیکل کالج کے مختلف شعبہ جات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے ہسپتال کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔ جس پر صوبائی وزیرِ صحت نے ہسپتال اور میڈیکل کالج کی انتظامیہ کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ صوبے میں صحت کی سہولیات کی بہتری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔بعد ازاں صوبائی وزیرِ صحت اور معزز ممبران قومی و صوبائی اسمبلی نے جنرل میڈیسن وارڈ اور میڈیکل کالج کے ملٹی پرپز ہال کا افتتاح کیا اور نئے وارڈ کا تفصیلی دورہ کیا۔ انہوں نے ہسپتال کے مختلف شعبہ جات بالخصوص ٹراما ایمرجنسی میں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیا، مریضوں کی عیادت کی اور علاج و معالجے کے حوالے سے مریضوں سے براہِ راست آگاہی حاصل کی۔صوبائی وزیرِ صحت اور ممبران قومی و صوبائی اسمبلی نے ہسپتال و میڈیکل کالج کی انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان اقدامات سے عوام کو بہتر اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان کی ہدایت پر محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈی آئی خان ڈویژن ٹانک میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کے معاملے پر سخت انتظامی کارروائی عمل میں لائی گئی

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان کی ہدایت پر محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈی آئی خان ڈویژن ٹانک میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کے معاملے پر سخت انتظامی کارروائی عمل میں لائی گئی اس سلسلے میں محکمہ سے جاری ہونے والے اعلامیہ کے مطابق چیف انجینئر (سنٹر)، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ریجن پشاور کو عوامی مفاد میں فوری طور پر تبدیل کرتے ہوئے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ نتظامی امور کے تسلسل اور سرکاری امور کی بروقت انجام دہی کو یقینی بنانے کے لیے چیف انجینئر (نارتھ) کو چیف انجینئر (سنٹر)، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ریجن پشاور کا اضافی چارج ان کی موجودہ ذمہ داریوں کے ساتھ تاحکمِ ثانی سونپ دیا گیا ہے صوبائی وزیر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ نے واضح کیا ہے کہ محکمہ میں غیر قانونی تعیناتیوں، اختیارات کے ناجائز استعمال اور قواعد سے ہٹ کر کسی بھی اقدام کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی انہوں نے کہا کہ محکمہ میں شفافیت، میرٹ اور قانون کی بالادستی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے گزشتہ روز گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول نمبر 1 ہری پور کا اچانک دورہ کیا

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے گزشتہ روز گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول نمبر 1 ہری پور کا اچانک دورہ کیا۔اس موقع پر سکول کے پرنسپل ظفر عباسی اور وائس پرنسپل فواد حسین نے وزیر تعلیم کا پر جوش استقبال کیا اور انہیں ادارے کی تعلیمی سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔ ارشد ایوب خان نے ہائر سیکنڈری سیکشن، امتحانی ہال، آئی ٹی لیب اور فلٹریشن پلانٹ کا معائنہ کیا اور طلبہ سے نصابی علوم پر گفتگو کی۔ انہوں نے کلاس روم میں بطور طالب علم بیٹھ کر اساتذہ سے لیکچر بھی سنا اور اساتذہ کی تدریسی صلاحیتوں کو سراہا۔ صوبائی وزیر نے دورے کے دوران ادارے کے پرنسپل کی جانب سے پیش کردہ مسائل کے حل کی یقینی دہانی کراتے ہوئے سکول میں سولر سسٹم، آئی ٹی لیب، امتحانی ہال کی تزئین و آرائش اور نئی پوسٹوں کے مطالبات کی فوری منظوری کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ سکول بیسڈ فیسلیٹی کے تحت گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول نمبر 1 ہری پور کو سنٹر آف ایکسیلینس کا درجہ دیا جا چکا ہے جہاں جدید سہولیات اور بہترین اساتذہ فراہم کیے جائیں گے۔ صوبائی وزیر نے اس موقع پر تعلیمی اصلاحات کے ذریعے نظام میں انقلابی تبدیلیاں لانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ 11 ارب روپے کی فنڈنگ سے 16 ہزار تدریسی آسامیوں پر بھرتیاں کی جائیں گی اور سکولوں میں نئے کلاس رومز اور آئی ٹی لیبز بھی قائم کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 6 ہزار اساتذہ کنٹریکٹ پر بھرتی کیے جائیں گے جبکہ ریشنلائزیشن پالیسی پر عمل درآمد تیز کیا جا رہا ہے جبکہ تدریسی اور مینجمنٹ کیڈر کو علیحدہ کیا جا رہا ہے تاکہ اساتذہ سکولوں میں تدریسی فرائض انجام دیں اور محکمہ تعلیم سے سفارشی کلچر کا خاتمہ کیا جا سکے۔