The Khyber Pakhtunkhwa Local Government Commission has been fully reactivated and resumed its operations with the holding of its first meeting since 2024, chaired by Provincial Minister for Local Government Meena Khan Afridi.
The 41st meeting of the commission was attended by all members, including Ahmed Karim Kundi. During the session, the commission took up several key agenda items related to governance, accountability, and administrative oversight at the local level.
The commission discussed criminal cases pertaining to the chairman of Village Council Miter Wari in Upper Dir and decided to initiate a formal inquiry through the Local Government Department. It was resolved that the inquiry report would be completed and presented in the commission’s next meeting.
In another decision, the commission resolved to summon, in their personal capacity, a village council chairman and secretary accused of issuing birth certificates to Afghan nationals, to hear their stance on the matter. Similarly, in a separate case involving the Village Council Chairman of Dubandi, Malakand, the commission decided to summon the concerned chairman, secretary, and Assistant Director Local Government over the issue of prolonged absence and the proposed removal from office.
The commission also ratified a judicial decision related to Tehsil Nazim Inamullah Khan.
Chairing the meeting, Meena Khan Afridi directed that a complete schedule of commission meetings for the entire year be issued and emphasized that meetings of the Local Government Commission would now be held on a regular basis.
He reiterated the government’s commitment to strengthening the local government system, stating that the transfer of powers to the grassroots level would be ensured under all circumstances to improve governance and service delivery across the province.
KP Local Government Commission Reactivated, Holds First Meeting Since 2024
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی کا دنگرام ہاؤسنگ سکیم سوات کا دورہ، ترقیاتی کاموں کا جائزہ
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی نے کہا ہے کہ 1.22 ارب روپے کی لاگت سے زیر تعمیر رہائشی منصوبہ دنگرام سوات پر باقاعدہ کام کا آغاز فروری 2025 کو ہوا جبکہ اس کی تکمیل کے لیے اگست 2027 کا ٹائم فریم دیا گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ضلع سوات میں دنگرام ہاؤسنگ سکیم کے دورہ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ دورہ کے موقع پر صوبائی وزیر کو تفصیلی بریفنگ دی گئی اور انہیں منصوبے کے مختلف پہلوؤں، پیشرفت اور درکار اقدامات سے متعلق آگاہ کیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ دنگرام ہاؤسنگ سکیم، خیبر پختونخوا ہاؤسنگ اتھارٹی کا ایک فلیگ شپ منصوبہ ہے، جس کا مقصد سوات میں ایک جدید، منظم اور سہولیات سے آراستہ ایک رہائشی منصوبے کی تعمیر ہے۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ مذکورہ رہائشی سکیم مجموعی طور پر 682 پلاٹس پر مشتمل ہے، جن میں 7 مرلہ کے 256 جبکہ 5 مرلہ کے 426 پلاٹس شامل ہیں۔ صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد علی نے معیار کام اور پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا، ان کا کہنا تھا کہ محکمہ ہاؤسنگ خیبرپختونخوا تمام رہائشی منصوبوں میں معیاری سڑکوں، پارکنگ ایریاز کی تعمیر کے ساتھ ساتھ پانی کی فراہمی، نکاس اب، باؤنڈری والز، واٹر ٹینکس، سیپٹک ٹینکس اور ٹیوب ویلز کی تعمیر اور دیگر تمام لوازمات یقینی بنا رہا ہے، تاکہ پائیدار اور منظم شہری ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔
خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت خلیق الرحمان کی زیرِ صدارت ہیلتھ ڈائریکٹوریٹ پشاور میں پراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (پی ڈی اے) کا ایک اجلاس منعقد ہوا
خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت خلیق الرحمان کی زیرِ صدارت ہیلتھ ڈائریکٹوریٹ پشاور میں پراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (پی ڈی اے) کا ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیکرٹری صحت اور محکمہ صحت کے حکام نے بھی شرکت کی۔صوبائی وزیرِ صحت نے اجلاس میں شریک ایسوسی ایشن کے نمائندگان کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ اجلاس کا مقصد ڈاکٹروں کو درپیش مسائل پر تفصیلی گفتگو کرنا اور صوبے بھر میں صحت کی سہولیات کو مؤثر اور بہتر بنانے کے لیے باہمی اعتماد پر مبنی ایک مضبوط ورکنگ ریلیشن شپ قائم کرنا ہے۔اجلاس کے دوران صوبائی وزیرِ صحت اور سیکرٹری صحت نے پی ڈی اے کو یقین دہانی کرائی کہ محکمہ صحت ڈاکٹروں کی تمام زیرِ التواء ترقیوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیاجائے گا، جبکہ ڈاکٹروں کے دیرینہ اور جائز مطالبات کو جلد از جلد حل کیا جائے گا۔صوبائی وزیرِ صحت نے اس موقع پر یہ بھی اعلان کیا کہ ڈاکٹروں کو درپیش ٹیکس سے متعلق مسائل کے حل کے لیے پی ڈی اے کے نمائندگان کی سیکرٹری ایکسائز کے ساتھ ایک علیحدہ ملاقات بھی مقرر کی جائے گی۔
پی ڈی اے کے نمائندگان نے ڈاکٹر وردہ کے قتل کے مقدمے میں صوبائی وزیرِ صحت کے فعال اور سنجیدہ کردار پر خصوصی شکریہ ادا کیا۔ صوبائی وزیرِ صحت نے یقین دہانی کرائی کہ وہ ڈاکٹروں کے جائز حقوق اور مطالبات کے لیے ہر فورم پر ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے، تاہم انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ محکمہ صحت ڈاکٹروں سے دیانتداری، پیشہ ورانہ ذمہ داری اور مکمل لگن کے ساتھ خدمات کی توقع رکھتا ہے۔صوبائی وزیرِ صحت نے واضح کیا کہ حکومت کی پالیسی میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز (ایم ٹی آئیز) کے بجائے بنیادی صحت کی سہولیات کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہے، کیونکہ ایم ٹی آئیز خودمختار بورڈز اور وسائل کے تحت کام کر رہی ہیں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ تمام ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز (ڈی ایچ اوز) اور ہسپتال ڈائریکٹرز کو واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ غفلت، نااہلی یا کسی بھی قسم کی بدعنوانی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ مزید بتایا گیا کہ نئی ہیلتھ پالیسی حتمی مراحل میں ہے، جو ڈاکٹروں کو درپیش بیشتر مسائل کے حل میں معاون ثابت ہوگی۔ محکمہ صحت ڈاکٹروں کے مالی اور سماجی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہا ہے، جبکہ اصلاحاتی ایجنڈا ڈاکٹروں، مریضوں اور انتظامیہ کے درمیان موجود خلا کو کم کرنے پر مرکوز ہے۔صوبائی وزیرِ صحت نے کہا کہ حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز اور پیشہ ورانہ تنظیموں کے ساتھ مسلسل مشاورت اور تعاون کے ذریعے اصلاحات کو آگے بڑھا رہی ہے۔ یہ تعاون سیاسی وابستگیوں اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہوگا، جبکہ میرٹ کو صحت کے نظام میں انقلاب لانے کی بنیاد بنایا جائے گا۔اجلاس کے اختتام پر صوبائی وزیرِ صحت نے کہا کہ صحت کا شعبہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور حکومت کا عزم ہے کہ خیبر پختونخوا کو ایک صحت مند، صاف ستھرا اور خوشحال صوبہ بنایا جائے۔
ریسکیو1122 سالانہ کارکردگی رپورٹ (2025)جاری
خیبر پختونخوا ایمرجنسی ریسکیو سروس (ریسکیو 1122) کے صوبائی ہیڈ کوارٹر میں سالانہ کارکردگی اجلاس منعقد ہوا، اس موقع پر بلال احمد فیضی ترجمان ریسکیو1122 نے کہا کہ ریسکیو1122 نے گزشتہ سال 2025 میں 2 لاکھ 71 ہزار سے زائد ایمرجنسیز میں خدمات فراہم کیں، جن میں 1 لاکھ 69 ہزار سے زائد میڈیکل، 25 ہزار سے زائد ٹریفک حادثات،5691 آگ لگنے کے واقعات، 780 ڈوبنے کے واقعات، 4439 جرائم, 194عمارتیں و چھتیں منہدم، مائنز 10، مختلف نوعیت کے گیس و سلینڈر دھماکے 93 اور دیگر مختلف ایمرجنسیز 6924 شامل ہیں، بلال احمد فیضی نے بتایا کہ ریسکیو1122 نے 2 لاکھ 89 ہزار سے زائد زخمیوں و مریضوں کوطبی امداد فراہم کی اور علاج معالجے کے لیے ہسپتال منتقل کیا، ریسکیو1122 نے ہیلتھ ایمبولینس (ریفرل) کے ذریعے 58800 شدید زخمیوں و مریضوں کو بہتر علاج معالجے کے ضلع کے اندر اور دوسرے اضلاع کے بڑے ہسپتالوں کو منتقل کیاجبکہ اس دوران مختلف واقعات میں 6185 افراد جاں بحق ہوئے۔ ریسکیو1122 شہری علاقوں کے ساتھ ساتھ ضم شدہ اضلاع اور سابق ایف آر ز میں بھی عوام الناس کو ان کی دہلیز پر یکساں خدمات فراہم کررہا ہے۔ ریسکیو1122 نے صوبے کے مختلف سیاحتی مقامات پر عارضی ریسکیو پوائنٹس و سٹیشنز بھی قائم کیے ہیں جہاں سیاحوں کے ساتھ ساتھ مقامی افراد کو بھی ایمرجنسیز کے دوران سہولیات فراہم کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی کی سالانہ کارکردگی رپورٹ 2025 جاری
خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے سال 2025 کی سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری کر دی۔ رپورٹ کے مطابق صوبہ بھر میں 92 ہزار 312 مختلف خوردونوش اشیاء سے منسلک کاروباروں کے معائنے کیے گئے، جبکہ 4 لاکھ 13 ہزار 888 کلوگرام و لیٹرز غیر معیاری اور مضرِ صحت خوراکی اشیاء تلف کی گئیں۔سالانہ کارکردگی رپورٹ میں بتایا گیا کہ فوڈ اتھارٹی نے قوانین کی خلاف ورزی پر 7 ہزار 685 بہتری کے نوٹسز جاری کیے، جبکہ حفظانِ صحت کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی پر 142 خوراکی کاروبار سیل کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق خوراک سے منسلک کاروباروں کے لیے 89 تربیتی اور 1,167 آگاہی سیشنز منعقد کیے گئے۔سال 2025 کے دوران 40 ہزار 932 نئے لائسنس جاری اور تجدید کیے گئے، جبکہ 1,318 فوڈ پراڈکٹس رجسٹرڈ کی گئیں۔ پراڈکٹ رجسٹریشن، لائسنسز اور جرمانوں کی مد میں 253.8 ملین روپے سرکاری خزانے میں جمع کیے گئے۔رپورٹ کے مطابق مجموعی معائنوں میں 29,905 کریانہ سٹورز، 6,338 ہول سیل ڈیلرز، 6,228 بیکری شاپس، 5,184 ڈھابہ، ٹی سٹالز، شوارمہ و دہی بلے شاپس، 4,836 پولٹری و فش شاپس، 4,764 ہوٹلز، 4,688 ڈیری شاپس و فارمز، 4,579 فروٹس و سبزی شاپس، 3,426 میٹ شاپس، 2,115 کباب شاپس اور 1,832 ریسٹورنٹس شامل ہیں۔اسی طرح 1,411 ڈسٹری بیوشن پوائنٹس، 895 چپس و پاپس فیکٹریز، 446 مصالحہ جات کارخانے، 442 فاسٹ فوڈ پوائنٹس، 411 شہد کی دکانیں اور 68 ڈیری انڈسٹریز کا بھی معائنہ کیا گیا۔تلف شدہ اشیاء میں 184,379 لیٹرز مشروبات، 36,854 کلوگرام گوشت، 21,741 کلو مصالحہ جات، 20,559 کلو پاپس و چپس، 17,065 کلو آئل و گھی، 14,614 لیٹرز دودھ اور 12,376 کلو بیکری آئٹمز شامل ہیں۔پبی، نوشہرہ اور حطار انڈسٹریل زون ہری پور میں جعلی مشروبات اور جعلی و مصنوعی دودھ تیار کرنے میں ملوث 3 بڑی فیکٹریاں بند کر کے کروڑوں روپے مالیت کی مشینری ضبط کی گئی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی کی سٹیٹک پراونشل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری میں 2,813 خوراکی نمونوں کی جانچ کی گئی، جن میں 2,074 نمونے تسلی بخش جبکہ 738 غیر معیاری قرار پائے۔ ٹیسٹنگ میں پانی، گھی و آئل، مشروبات، مصالحہ جات، پاپس، نمکو، چائے کی پتی، سرکہ،کیچپ، جیم، اور کسٹرڈ پاؤڈر وغیرہ شامل تھے۔اسی طرح موبائل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری کے ذریعے دودھ، آئل، گھی، شہد، مشروبات، مصالحہ جات، گوشت اور جوسز، آئس کریم، گرین ٹی،گڑ،فروزن فوڈز دیگر کئی فوڈز کے 14,213 نمونے چیک کیے گئے، جن میں 10,139 نمونے تسلی بخش جبکہ 4,074 غیر معیاری قرار پائے۔رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں فوڈ سیفٹی کے حوالے سے 8 خصوصی مہمات چلائی گئیں، جن میں مصالحہ جات، نمکو، چپس، واٹر فلٹریشن پلانٹس، بوتل بند پانی اور لائسنس و پراڈکٹ رجسٹریشن شامل ہیں۔ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی واصف سعید نے سالانہ رپورٹ جاری کرنے کے موقع پر بتایا کہ حکومت خیبرپختونخوا کی ھدایات پر صوبے میں خوراکی اشیاء کی جانچ کے لیے سرکاری سطح پر اپنی نوعیت کی پہلی پراونشل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری اینڈ سینٹر فار ریسرچ قائم کرکے باقاعدہ افتتاح کیا گیا ہے، جبکہ فوڈ اتھارٹی کے تمام امور کو تقریباً مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
جمہوریت کے استحکام میں آزاد صحافت کا کردار کلیدی ہے، شفیع جان
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور صحافی برادری کو درپیش مسائل و مشکلات سے بخوبی آگاہ ہے،انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے استحکام میں آزاد اور ذمہ دار صحافت کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے نوشہرہ پریس کلب کی نو منتخب کابینہ کی حلف برداری تقریب کے موقع پر بات چیت کے دوران کیا، اس موقع پر معاون خصوصی شفیع جان نے نو منتخب صدر تفہیم الرحمان اور کابینہ کے تمام اراکین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا،اس دوران صدر پریس کلب نے معاون خصوصی کو پریس کلب کو درپیش مسائل و مشکلات سے آگاہ کیا اور پریس کلب نوشہرہ کے دورے کی دعوت دی جس پر معاون خصوصی نے تمام مسائل کے جلد حل کی یقین دہانی کراتے ہوئے آئندہ ہفتے نوشہرہ پریس کلب کے دورے کا اعلان کیا،اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی میاں عمر کاکا خیل بھی موجود تھے، معاون خصوصی نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پریس کلبوں میں شفاف انتخابات کے ذریعے کابینہ کا انتخاب ایک خوش آئند اور مثبت روایت ہے جو جمہوری اقدار کے فروغ کا مظہر ہے،انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت آزادی اظہار رائے پر مکمل یقین رکھتی ہے اور صحافیوں کو پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے لیے بہتر، محفوظ اور سازگار ماحول کی فراہمی کو یقینی بنا رہی ہے،انہوں نے مزید کہا کہ نوشہرہ سمیت صوبے بھر کے تمام پریس کلبوں کو درپیش مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا جبکہ نوشہرہ پریس کلب کو سالانہ گرانٹ کی جلد فراہمی بھی یقینی بنائی جائے گی،انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ہر مشکل وقت میں صحافی برادری کے ساتھ کھڑی ہے اور صحافیوں کی مثبت اور تعمیری تنقید کا ہمیشہ خیر مقدم کیا جائے گا،دریں اثنا معاون خصوصی شفیع جان نے سال نو کے آغاز پر پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ نیا سال نئی امیدوں، نئے عزم اور بہتر مستقبل کی نوید لے کر آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سال 2025 پاکستان کی تاریخ میں غیر آئینی ترامیم اور جمہوریت پر حملوں کا سیاہ سال ثابت ہوا،انہوں نے دعا کی کہ نیا سال پاکستان کے عوام کے لیے ترقی اور خوشحالی کا سال ثابت ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ سال 2026 عوامی مینڈیٹ کی واپسی اور جعلی حکومتوں کے خاتمے کا سال ہوگا۔ شفیع جان نے مزید کہا کہ جعلی حکومت کے خاتمے اور عمران خان کی رہائی کے بغیر حقیقی معاشی ترقی ممکن نہیں،عوامی مینڈیٹ چرانا آئین و قانون کی صریح خلاف ورزی اور ایک جرم ہے، انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا عطا تارڑ بشری بی بی کی جعلی مقدمات اور قید، علیمہ خان اور دیگر سیاسی خواتین پر ظلم و جبر کی مذمت کرینگے۔جعلی فارم 47 حکومت نے ڈاکٹر یاسمین راشد، صنم جاوید اور دیگر خواتین رہنماوں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا، شفیع جان نے مزید بتایا کہ خیبر پختونخوا میں شفاف طرز حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کے سفر کو مزید تیز کیا جائے گا اور صوبے کے عوام کی ترقی کے لیے مزید اقدامات اٹھائے جائیں گے،اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے اقدامات میں تیزی لائی جائے گی جبکہ نیا سال عوامی حقوق کی بحالی اور جمہوریت کے استحکام کا سال ثابت ہوگا۔
محکمہ بلدیات خیبر پختونخوا کی عوامی خدمات بہتر بنانے کے لئے مؤثر اقدامات کا سلسلہ جاری, فیلڈ سرگرمیوں کی نگرانی کے لئے مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرنے کا فیصلہ
چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کی زیرِ صدارت اجلاس میں محکمہ بلدیات کی عوامی خدمات کی بہتری کیلئے جاری اقدامات پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ محکمہ بلدیات صوبے میں مؤثر عوامی خدمات کی فراہمی اور شہریوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے لئے مسلسل عملی اقدامات کر رہا ہے۔ محکمے نے اپنی جاری کوششوں کے تحت دسمبر کے لئے مقرر کردہ اہم اہداف کامیابی سے حاصل کر لئے ہیں۔ محکمہ بلدیات کی جانب سے عوامی شکایات کے ازالے کے لئے مختلف علاقوں میں مین ہول کورز کی تنصیب کا عمل جاری ہے جبکہ روزانہ کی بنیاد پر کچرے کی باقاعدہ صفائی اور منتقلی کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔ شفافیت اور احتساب کے فروغ کے لئے حکومت کی جانب سے عملے کی حاضری اور فیلڈ سرگرمیوں کی مؤثر نگرانی کے لئے ایک جدید مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس سے خدمات کی بروقت فراہمی اور کارکردگی میں مزید بہتری آئے گی۔ مزید برآں محکمہ بلدیات نے پھل و سبزی منڈیوں، بس ٹرمینلز اور تفریحی فواروں سمیت مختلف عوامی مقامات پر صفائی کے مؤثر انتظامات کئے ہیں۔ پشاور میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سسٹم کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، جبکہ پارکوں، بازاروں اور گلی محلوں میں صفائی کی نگرانی کے لئے کیمروں سے لیس کمانڈ اینڈ کنٹرول روم قائم کرنے کا بھی منصوبہ ہے۔
کیپرا کی شاندار کارکردگی
خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی (کیپرا) نے مالی سال 2025-26 کے پہلے چھ ماہ (جولائی تا دسمبر) کے دوران سیلز ٹیکس آن سروسز کی مد میں 30 فیصد اضافے کے ساتھ 23.26 ارب روپے کے محاصل اکھٹے کرلئے، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ وصولیاں 17.92 ارب روپے تھیں۔کیپرا کے میڈیا ونگ کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، سیلز ٹیکس آن سروسز کی مد میں 5.34 ارب روپے کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو صوبہ بھر میں سروسز کے شعبے میں ٹیکس نیٹ کی توسیع اور بہتر حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ اتھارٹی نے رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران مجموعی طور پر 26.62 ارب روپے کے محاصل اکٹھے کئے ہیں۔ جن میں 23.26 ارب روپے سیلز ٹیکس آن سروسز جبکہ 3.36 ارب روپے انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (IDC) کی مد میں وصول کیے گئے ہیں۔ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں کیپرا کے مجموعی محاصل 23.81 ارب روپے تھے، جن میں سیلز ٹیکس آن سروسز سے 17.92 ارب اور آئی ڈی سی سے 5.89 ارب روپے شامل تھے۔ڈائریکٹر جنرل کیپرا فوزیہ اقبال نے ادارے کے افسران اور عملے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ سیلز ٹیکس آن سروسز میں نمایاں اضافہ مؤثر منصوبہ بندی، انفورسمنٹ اور کیپرا کے افسران کی ان تک محنت کا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ“سیلز ٹیکس آن سروسز میں شاندار اضافہ کیپرا ٹیم کی حکمت عملی، محنت اور پیشہ ورانہ کارکردگی کی عکاسی کرتا ہے۔ اسی جذبے اور منظم حکمت عملی کے ساتھ کیپرا رواں مالی سال کے اہداف حاصل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ڈائریکٹر جنرل نے ٹیکس دہندگان کا بھی شکریہ ادا کیا جن کے اعتماد، تعاون اور شراکت داری نے کے کیپرا کی کامیابیوں میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا جناب محمد سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ کے مشیر برائے خزانہ جناب مزمل اسلم کی رہنمائی اور تعاون کو بھی سراہا اور کہا کہ ان کی قیادت کیپرا میں اصلاحات کے نفاذ اور محصولات میں اضافے کے لیے کلیدی ثابت ہوئی ہے۔
صوبائی ورکرز ویلفیئر بورڈ خیبر پختونخوا کا 108واں اجلاس چیئرمین بورڈ کیپٹن (ر) میاں عادل اقبال کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں محنت کشوں کی فلاح و بہبود سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے
صوبائی ورکرز ویلفیئر بورڈ خیبر پختونخوا کا 108واں اجلاس چیئرمین بورڈ کیپٹن (ر) میاں عادل اقبال کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں محنت کشوں کی فلاح و بہبود سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں سیکرٹری ورکرز ویلفیئر بورڈ شیر عالم خان نے مختلف امور پر بورڈ کو تفصیلی بریفنگ دی۔اجلاس میں ورکرز ویلفیئر بورڈ کے سینئر افسران کے علاوہ حکومتی اور مزدور تنظیموں کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں مختلف امور زیر غور لائے گئے اور ان پر سیر حاصل بحث کی گئی۔ اس موقع پر بورڈ نے اس اہم تجویز کی منظوری دی کہ رواں سال محنت کشوں کے 10 بچوں اور بچیوں کو سی ایس ایس امتحان کی تیاری کی خاطر چار ماہ کی خصوصی تربیت کے لیے سول سروسز اکیڈمی لاہور بھجوایا جائے گا، تاکہ محنت کش طبقے کے بچوں کو قومی سطح کے مقابلہ جاتی امتحانات میں مؤثر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔بورڈ نے محنت کشوں کی فلاح و بہبود کو مزید مستحکم بنانے کے لیے جہیز گرانٹ میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے رقم 4 لاکھ روپے سے بڑھا کر 6 لاکھ روپے کرنے کی منظوری دی، جبکہ ڈیتھ گرانٹ 8 لاکھ روپے سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے کر دی گئی، تاکہ مرحوم محنت کش کے اہل خانہ کو بہتر مالی سہارا فراہم کیا جا سکے۔اجلاس کے دوران HR کمیٹی اور ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی (DPC) کی سفارشات بھی پیش کی گئیں، جنہیں بورڈ نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔صوبائی وزیر برائے محنت فیصل خان ترکئی کی خصوصی ہدایت پر ریگی للمہ پشاور میں واقع 2056 فیملی فلیٹس میں کمرشل مارکیٹ، ہسپتال اور بچیوں کے لیے گرلز اسکول کے قیام کی بھی باقاعدہ منظوری دی گئی، جس سے رہائشیوں کو بنیادی اور معیاری سہولیات میسر آئیں گی۔اس کے علاوہ سابقہ بورڈ کی جانب سے منظور شدہ اسٹیچنگ (سلائی) پائلٹ پروجیکٹ کی کارکردگی بھی اجلاس میں پیش کی گئی۔ بورڈ نے ووکیشنل انسٹی ٹیوٹس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اس منصوبے کو پورے صوبے میں شروع کرنے کی منظوری دے دی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین بورڈ کیپٹن (ر) میاں عادل اقبال نے کہا کہ خیبر پختونخوا ورکرز ویلفیئر بورڈ محنت کش طبقے کی فلاح، معاشی تحفظ اور سماجی بہتری کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتا رہے گا
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم کا پشاورپبلک سکول اینڈ کالج کا دورہ
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے جمعرات کے روز پشاورپبلک سکول اینڈ کالج کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ادارے میں جاری اصلاحاتی و بحالی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔دورے کے دوران انہوں نے طلبہ کی تعلیمی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی سرگرمیوں کو غیر ضروری تقریبات اور نمائشی سرگرمیوں پر فوقیت دی جائے اور ادارے کی تمام تر توجہ خالصتاً اکیڈمکس امور پر مرکوز ہونی چاہیے۔ صوبائی وزیر نے اس موقع پر ادارے کے نئے تعینات ہونے والے پرنسپل کی کاوشوں اورسمارٹ سکول مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے مؤثر نفاذ کو سراہاتے ہوئے کہا کہ اس کی بددولت کم عرصہ میں ادارے کے انتظامی اور تعلیمی سرگرمیوں میں شفافیت اور بہتری آئی ہے۔ انہوں نے پشاورپبلک سکول اینڈ کالج کی ساکھ کی بحالی کے لیے کیے گئے اقدامات کو بھی قابلِ تحسین قرار دیا۔ انہوں نے پرنسپل کو ہدایت کی کہ فوری طور پر ایک جامع تعلیمی منصوبہ تیار کیا جائے اور گزشتہ سال کی اساتذہ کی کارکردگی رپورٹس بھی پیش کی جائیں تاکہ کے۔پی۔آئی بنیاد پر ترقیاتی نظام متعارف کرایا جا سکے۔ انہوں نے سکول کے انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے اور ترقیاتی کاموں کے لیے فوری طور پر PC-1 جمع کرانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ انتظامی اصلاحات کے ساتھ ساتھ تعلیمی معیار کو اولین ترجیح دی جائے۔طلبہ کی فلاح و بہبود کے حوالے سے صوبائی وزیر نے ہاسٹل کی سہولیات میں مزید بہتری کی ہدایت کی۔
