پشاور میں خیبر پختونخوا کی کابینہ کی قائمہ کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں بی آر ٹی منصوبے کے حوالے سے کنٹونمنٹ بورڈ پشاور کے ساتھ درپیش ادائیگیوں کے مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کی صدارت صوبائی وزیر قانون، پارلیمانی امور و انسانی حقوق آفتاب عالم ایڈووکیٹ نے کی۔ اجلاس میں وزیر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان،وزیر بلدیات و دیہی ترقی مینا خان آفریدی، مشیر خزانہ مزمل اسلم نے زوم کے ذریعے شرکت کی جبکہ سیکرٹری محکمہ قانون اختر سعید ترک،ڈی جی پی ڈی اے شاہ فہد، محکمہ قانون، محکمہ ٹرانسپورٹ و ماس ٹرازٹ، محکمہ خزانہ، محکمہ بلدیات اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔اجلاس میں بی آر ٹی کی مسلسل آپریشنل فعالیت کو یقینی بنانے کے لیے کنٹونمنٹ بورڈ پشاور کے واجبات، مالی ذمہ داریوں اور باہمی معاہدوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ شرکاء نے اس امر پر اتفاق کیا کہ ادائیگیوں سے متعلق مسائل کو باہمی مشاورت اور قانونی و انتظامی دائرہ کار میں رہتے ہوئے جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ عوامی مفاد سے جڑے اس اہم منصوبے کو کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہ ہو۔صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم ایڈووکیٹ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی آر ٹی منصوبہ شہری ٹرانسپورٹ کے نظام میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور حکومت اس سے متعلق تمام مالی اور انتظامی امور کو شفاف، منصفانہ اور قانون کے مطابق حل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ کنٹونمنٹ بورڈ پشاور کے ساتھ قریبی رابطہ رکھ کر قابلِ عمل تجاویز مرتب کی جائیں اور ادائیگیوں کے معاملات کو جلد حتمی شکل دی جائے۔اجلاس کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ قائمہ کمیٹی کی سفارشات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے آئندہ اجلاس میں پیش رفت رپورٹ پیش کی جائے گی تاکہ مسئلے کا پائیدار اور دیرپا حل یقینی بنایا جا سکے۔
ساؤتھ ریجن واٹر سپلائی سکیموں کی بروقت تکمیل کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائی جائیں صوبائی وزیر فضل شکور خان
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان کی زیرِ صدارت ساؤتھ ریجن میں جاری واٹر سپلائی سکیموں سے متعلق ایک اہم اجلاس جمعرات کے روز پشاور میں منعقد ہوا، جس میں چیف انجنئیر ساؤتھ، متعلقہ ایکسینز اور دیگر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ساؤتھ ریجن میں جاری اور زیرِ تکمیل واٹر سپلائی سکیموں کی پیش رفت، درپیش مسائل اور تکمیلی مراحل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اس موقع پرصوبائی وزیر فضل شکور خان نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ساؤتھ ریجن میں جاری واٹر سپلائی سکیموں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو صاف پینے کے پانی کی فراہمی ممکن ہو سکے۔ انہوں نے مذید ہدایت کی کہ واٹر سپلائی سکیموں پر کام کی رفتار میں مزید تیزی لائی جائے اور اس ضمن میں کسی بھی قسم کی تاخیر یا غفلت ناقابلِ برداشت ہوگی صوبائی وزیر نے کہا کہ جن واٹر سپلائی سکیموں میں میسنگ فسیلیٹیز موجود ہیں، انہیں فوری طور پر پورا کیا جائے تاکہ سکیموں کو مکمل طور پر فعال بنا کر عوام کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچایا جا سکے۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ ترقیاتی سکیموں میں سست روی اور غیر سنجیدگی کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی فضل شکور خان نے مزید کہا کہ واٹر سپلائی سکیموں کی بروقت تکمیل کے لیے فنڈز جلد ریلیز کیے جائیں گے انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح عوام کو صاف اور محفوظ پینے کے پانی کی فراہمی ہے، کیونکہ پانی کی دستیابی صحتِ عامہ اور معیارِ زندگی میں بہتری کا بنیادی ذریعہ ہے واٹر سپلائی سکیموں کی تکمیل سے عوام زیادہ سے زیادہ مستفید ہو نگے۔
خیبر پختونخواکے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے کہا ہے کہ محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے شعبے کو مزید فعال اور مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ اس کی بہتری کے لیے اس میں دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق مربوط نظام لایا جا رہا ہے
خیبر پختونخواکے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے کہا ہے کہ محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے شعبے کو مزید فعال اور مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ اس کی بہتری کے لیے اس میں دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق مربوط نظام لایا جا رہا ہے جس کے تحت موجودہ تعلیمی معیار میں اضافہ ممکن ہو سکے گا اورصوبے کے بچے زیور تعلیم سے صحیح معنوں میں روشناس ہو سکیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں پرائیویٹ سکول ریگولیٹری اتھارٹی(پی ایس ار اے) کے ممبران سید انس تقریم کا کا خیل اور فضل اللہ داودزئی کے ساتھ ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ملاقات کے دوران صوبائی وزیر نے نجی تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل نہایت سنجیدگی سے سنے اور یقین دلایا کہ عنقریب پرائیویٹ سکول ریگولیٹری اتھارٹی کا ایک اجلاس منعقد کیا جائے گا۔ جس میں پی ایس آر اے کے منتخب ممبران کو شرکت کے لیے مدعو کیا جائے گا تاکہ درپیش مسائل کا حل نکالنے کے لیے قابل عمل تجاویز مرتب کی جا سکیں۔ اس موقع پر ممبر ان پی ایس ار اے نے مسائل توجہ سے سننے اور ان کے حل کی یقین دہانی پر صوبائی وزیر کا شکریہ اداکیا۔
آئینی عہدوں کو سیاست سے بالاتر رہنا چاہیے، شفیع جان
زیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ شفیع جان نے صوبائی حکومت کے خلاف دی جانے والی حالیہ سیاسی بیان بازی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی عہدوں سے وابستہ افراد کو سیاسی کردار ادا کرنے کی بجائے آئین کی پاسداری کرنی چاہیے۔ آئینی مناصب کا تقاضا ہے کہ وہ وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی اور استحکام کے فروغ کا ذریعہ بنیں، نہ کہ سیاسی محاذ آرائی کا۔انہوں نے کہا کہ منتخب صوبائی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے خلاف مسلسل سیاسی بیان بازی دراصل سیاسی مایوسی کی عکاس ہے۔ صوبائی حکومت اور پارٹی پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد، من گھڑت اور حقائق کے برعکس ہیں۔شفیع جان نے کہا کہ خیبرپختونخوا واحد صوبہ ہے جہاں حقیقی عوامی مینڈیٹ سے حکومت قائم ہے، جبکہ دیگر صوبوں میں عوام کی رائے کے برعکس حکومتیں مسلط کی گئی ہیں۔ عوامی مینڈیٹ سے قائم ہونے والی حکومت کو بیان بازی اور سیاسی دباؤ کے ذریعے کمزور نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے عوامی فلاح و بہبود، شفاف طرزِ حکمرانی اور بہتر گورننس کے لیے دن رات کام کر رہی ہے۔ صوبے میں امن و امان کی بہتری، شفافیت اور فلاحی اقدامات حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں، اور صوبائی حکومت کی کارکردگی کا عالمی سطح پر اعتراف بھی کیا جا چکا ہے۔معاون خصوصی نے واضح کیا کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے فیصلے کا اختیار بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے پاس ہے، اور بانی پی ٹی آئی کو کسی این آر او کی ضرورت نہیں۔ این آر او کس نے لیے، یہ بات پوری دنیا جانتی ہے۔
دریں اثناء وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور مریم اورنگزیب کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ وفاق اور پنجاب کے وزراء میں سیاسی عدم برداشت عروج پر ہے۔ جعلی وفاقی اور پنجاب حکومت نے بشریٰ بی بی اور دیگر خواتین کو جعلی مقدمات کے ذریعے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کی خواتین کے خلاف ظلم و جبر کی ایک طویل تاریخ ہے۔ کیا پنجاب میں خواتین پر تشدد اور انہیں سڑکوں پر گھسیٹنا ہماری معاشرتی اقدار کی کھلی پامالی نہیں؟ عمران خان کی بہنوں اور دیگر خواتین پر واٹر کینن کا استعمال کون سے مہذب معاشرے میں ہوتا ہے؟۔شفیع جان نے مزید کہا کہ بے بنیاد الزامات لگانا مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کا وطیرہ ہے، اور پاکستان تحریک انصاف ڈٹ کر نام نہاد جعلی اور عوام پر زبردستی مسلط حکمرانوں کا مقابلہ کرتی رہے گی۔
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے ریلیف، بحالی و آباد کاری عاقب اللہ خان نے ڈیجیٹل کمپنسیشن پلیٹ فارم کا افتتاح کیا
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) خیبر پختونخوا نے صوبے بھر میں قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کو بروقت، شفاف اور مؤثر مالی امداد کی فراہمی کے لیے ڈیجیٹل کمپنسیشن پلیٹ فارم کامیابی سے متعارف کرا دیا ہے۔ اس نئے نظام کے تحت ضلعی انتظامیہ بغیر کسی تاخیر کے آفات سے متاثرہ افراد کے معاوضہ کیسز کا اندراج کرے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی یہ سہولت حاصل ہوگی کہ وہ دستک ایپ کے ذریعے اپنا کیس خود رجسٹر کر سکیں۔ کیس کے اندراج کے بعد متعلقہ حکام کی جانب سے تصدیق کا عمل مکمل کیا جائے گا، جس کے بعد مستحق افراد کے کیسز کو ڈیجیٹل سسٹم پر معاوضے کے لیے منظور کیا جائے گا۔ نظام کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے پی ڈی ایم اے خیبر پختونخوا کی جانب سے ضلعی انتظامیہ کے عملے کے لیے چار روزہ جامع تربیتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ تربیت کے دوران ڈیٹا اکٹھا کرنے، تصدیق کے عمل اور مطلوبہ دستاویزات کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر اپ لوڈ کرنے کے حوالے سے تفصیلی رہنمائی فراہم کی گئی، تاکہ کیسز کی بروقت اور درست تکمیل ممکن ہو سکے۔ ڈیجیٹل سسٹم کے تحت جیسے ہی کسی کیس کی منظوری دی جاتی ہے، معاوضے کی رقم براہِ راست متاثرہ فرد کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کر دی جاتی ہے، جس سے دستی کارروائی اور غیر ضروری رکاوٹوں کا خاتمہ ممکن ہوا ہے۔ اس اقدام کا مقصد شفافیت کو فروغ دینا، سروس ڈیلیوری کو بہتر بنانا اور متاثرین کو فوری ریلیف فراہم کرنا ہے۔ڈیجیٹل کمپنسیشن پلیٹ فارم کا باقاعدہ افتتاح صوبائی وزیر برائے ریلیف و بحالی جناب عاقب اللہ خان نے سیکرٹری ریلیف، بحالی و آبادکاری سہیل خان کے ہمراہ کیا۔تربیتی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر عاقب اللہ خان نے نظام کے مؤثر استعمال پر زور دیا اور ضلعی انتظامیہ کے افسران کو ہدایت کی کہ وہ اس پلیٹ فارم کو ذمہ داری اور شفافیت کے ساتھ استعمال کریں۔ انہوں نے پی ڈی ایم اے خیبر پختونخوا کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے صوبائی حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اس موقع پر سیکرٹری ریلیف جناب سہیل خان نے صوبائی وزیر کو ڈیجیٹل نظام کے مجموعی ڈھانچے اور طریقہ کار سے آگاہ کیا۔ انہوں نے پی ڈی ایم اے خیبر پختونخوا کی جانب سے متعارف کرائے گئے اس جدید، شفاف اور عوام دوست نظام کو گڈ گورننس اور بروقت ریلیف کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
وزیرِ صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمان کی زیر صدارت پیڈیاٹرک ڈائریکٹرز کا ایک اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا
وزیرِ صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمان کی زیر صدارت پیڈیاٹرک ڈائریکٹرز کا ایک اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا جس میں صوبے کے بچوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر شاہین آفریدی سمیت تمام متعلقہ پیڈیاٹرک ڈائریکٹرز اور شعبہ جات کے سربراہان نے شرکت کی۔اجلاس میں بچوں کی صحت سے متعلقہ سہولیات کی موجودہ صورتحال اور درپیش مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ صوبائی وزیرِ صحت نے اجلاس میں شریک افسران کے پیش کردہ تمام اہم مسائل توجہ سے سنے اور ان کے حل کے لیے محکمہ صحت کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی اور تمام پیڈیاٹرک ڈائریکٹرز کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اداروں میں ڈاکٹرز، نرسز اور متعلقہ طبی عملے کی ڈیوٹی اوقات میں بروقت دستیابی کو یقینی بنائیں اور نظم و ضبط پر سختی سے عمل کریں۔ انہوں نے ہسپتالوں میں صفائی ستھرائی اور حفظانِ صحت کے اصولوں پر عملدرآمد کی بھی سختی سے ہدایت کی اور کہا کہ معیاری علاج کا آغاز صاف اور منظم ماحول سے ہوتا ہے۔اجلاس میں مستقبل کی منصوبہ بندی پر بات کرتے ہوئے صوبائی وزیرِ صحت نے کہا کہ جدید سہولیات سے آراستہ خیبر انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کے قیام سے بڑے ہسپتالوں پر مریضوں کا بوجھ نمایاں حد تک کم ہو جائے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ غیر ضروری ریفرلز کی حوصلہ شکنی کے لیے ضلعی اور تدریسی ہسپتالوں میں بستروں اور وارڈز کی تعداد میں اضافہ کیا جائے تاکہ بچوں کو علاج مقامی سطح پر میسر ہو سکے۔صوبائی وزیرِ صحت نے یقین دہانی کرائی کہ محکمہ صحت تمام ضروری طبی آلات کی فراہمی کو یقینی بنائے گا اور خالی آسامیوں کو پُر کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ کو ہدایت کی کہ سپیشلسٹ ڈاکٹرز کی کمی کو ریشنلائزیشن پالیسی کے تحت فوری طور پر دور کیا جائے تاکہ صوبے بھر میں انسانی وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن بنائی جا سکے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری اور ایک بڑا قومی فریضہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ صحت بنیادی صحت کے مراکز کو مضبوط بنانے میں مصروف ہے تاکہ عوام کو ضلعی سطح پر بنیادی علاج معالجہ میسر آ سکے اور انہیں غیر ضروری مالی بوجھ اور وقت کے ضیاع سے بچایا جا سکے۔صوبائی وزیرِ صحت نے واضح کیا کہ ڈیوٹی میں کوتاہی، غیر حاضری اور غفلت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اصلاحاتی پالیسی پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے سخت احتساب اور مانیٹرنگ کا مربوط نظام نافذ کیا جائے گا تاکہ صحت کے شعبے میں خدمات کی فراہمی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے طریقہ کار و ضابطہ کارروائی، استحقاق اور حکومتی یقین دہانیوں کے نفاذ کا ایک اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا
خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے طریقہ کار و ضابطہ کارروائی، استحقاق اور حکومتی یقین دہانیوں کے نفاذ کا ایک اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا جس میں سپیکر کے پی اسمبلی بابر سلیم سواتی، ڈپٹی سپیکر و چیئرپرسن کمیٹی ثریا بی بی اور صوبائی وزیر برائے قانون و پارلیمانی امور آفتاب عالم ایڈووکیٹ سمیت کمیٹی کے اراکین اور ممبران صوبائی اسمبلی صوبیہ شاہد اور محمد عبدالسلام نے شرکت کی جبکہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل انعام خان اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں خیبر پختونخوا اسمبلی (اختیارات، استثنیٰ اور مراعات) ایکٹ 1988 پر تفصیلی غور کیا گیا جو ایوان کی جانب سے قائمہ کمیٹی کو بھیجا گیا تھا۔ اجلاس کے دوران اسمبلی کارروائی میں نان الیکٹڈ مشیروں، معاونینِ خصوصی اور ایڈووکیٹ جنرل کی شرکت اور اس حوالے سے ان کے استحقاق پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں تجویز دی گئی کہ دورانِ اسمبلی کارروائی کسی بھی غیر معمولی صورتِ حال یا مشکلات کی صورت میں اسمبلی سٹاف کے لیے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کو خصوصی استحقاق حاصل ہونا چاہیے۔ کسی اجلاس، بورڈ یا چیئرپرسن شپ کی صدارت کے حوالے سے صوبائی وزیر قانون نے واضح کیا کہ یہ معاملہ آئینی اختیارات کے زمرے میں آتا ہے نہ کہ حکومتی استحقاق کے۔اجلاس میں ممبرانِ صوبائی اسمبلی کے لیے سرکاری رہائش گاہ میں قیام کی مدت کو سات دن تک محدود رکھنے کی تجویز پیش کی گئی۔ اسی طرح ممبرانِ اسمبلی کے ہسپتالوں، ہیلتھ سینٹرز، ڈسپنسریوں، پاپولیشن پلاننگ سینٹرز یا دیگر عوامی دفاتر کے دوروں سے متعلق استحقاق کو بھی زیر غور لایا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرپرسن قائمہ کمیٹی محترمہ ثریا بی بی نے کہا کہ پارلیمانی نظام کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ اسمبلی کے اختیارات، استحقاق اور قواعد و ضوابط کو واضح، مؤثر اور آئینی تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ قائمہ کمیٹی کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے قوانین کی جامع جانچ پڑتال کرے جو پارلیمان کی خودمختاری اور مؤثر قانون سازی کے عمل کو مضبوط بنائیں۔اس موقع پر صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم ایڈووکیٹ نے کہا کہ صوبائی حکومت پارلیمانی روایات کے تحفظ اور قانون سازی کے عمل کو مزید مؤثر بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کے اختیارات اور استحقاق سے متعلق قوانین میں بہتری سے نہ صرف ایوان کی کارکردگی میں اضافہ ہوگا بلکہ جمہوری نظام بھی مزید مضبوط ہوگا۔ وزیر قانون نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مجوزہ سفارشات کو آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے حتمی شکل دی جائے تاکہ انہیں جلد ایوان میں پیش کیا جا سکے۔اجلاس میں کمیٹی اراکین نے مختلف نکات پر اپنی آراء پیش کیں اور قانون کے مختلف پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے مزید مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات خیبرپختونخوا مینا خان آفریدی نے الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے شعبے سے وابستہ طلبہ کو درپیش مسائل کے حل کے لیے بروقت اقدام اٹھاتے ہوئے صوبہ بھر میں پائی جانے والی بے چینی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے
وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات خیبرپختونخوا مینا خان آفریدی نے الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے شعبے سے وابستہ طلبہ کو درپیش مسائل کے حل کے لیے بروقت اقدام اٹھاتے ہوئے صوبہ بھر میں پائی جانے والی بے چینی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں الائیڈ ہیلتھ سائنسز ڈگری پروگرامز سے متعلق موجودہ صورتحال، درپیش چیلنجز اور مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے مینا خان آفریدی نے کہا کہ صوبے کی متعدد جامعات میں الائیڈ ہیلتھ سائنسز سے وابستہ طلبہ کی پیشہ ورانہ استعداد کار بڑھانے کے حوالے سے مختلف تکنیکی اور انتظامی چیلنجز درپیش ہیں، جنہیں فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ کوئی بھی سرکاری یا نجی جامعہ اپنی مرضی سے الائیڈ ہیلتھ سائنسز کی نشستوں کی تقسیم نہیں کرے گی بلکہ سیٹوں کی الاٹمنٹ معیار (کوالٹی) کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جائے گی۔وزیر اعلیٰ تعلیم نے اس بات پر زور دیا کہ جو طلبہ جہاں بھی اس وقت انرولڈ ہیں، ان کی ڈگری کو کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے اور وہ اپنی متعلقہ جامعات کے طے شدہ طریقہ کار کے تحت اپنی تعلیم جاری رکھیں گے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت کسی صورت طلبہ کے مستقبل کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں دے گی۔اجلاس میں وائس چانسلر جامعہ گومل، ڈیرہ اسماعیل خان ڈاکٹر ظفر، خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے حکام اور محکمہ اعلیٰ تعلیم کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ الائیڈ ہیلتھ سائنسز سے متعلق درپیش تکنیکی چیلنجز کے خاتمے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل ایک ٹاسک فورس قائم کی جائے گی، جو محکمہ اعلیٰ تعلیم کے تحت فوری طور پر ایک جامع اور قابلِ عمل طریقہ کار وضع کرے گی۔مزید یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے طلبہ کی پیشہ ورانہ مہارت میں اضافے کے لیے انہیں انٹرن شپ کے مواقع فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ عملی میدان میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں۔ مینا خان آفریدی نے کہا کہ طلبہ ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں اور الائیڈ ہیلتھ سائنسز سے وابستہ طلبہ صحت کے شعبے میں کمیونٹی کے لیے نمایاں خدماتسرانجام دیتے ہیں۔اجلاس کے اختتام پر وزیر برائے اعلیٰ تعلیم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت خیبرپختونخوا اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں معیار، شفافیت اور طلبہ کے مفادات کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائے گی۔
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی کی زیر صدارت حلقہ پی کے 83 سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ابتدائی و ثانوی تعلیم کے نظام کو مزید بہتر بنانے پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی کی زیر صدارت حلقہ پی کے 83 سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ابتدائی و ثانوی تعلیم کے نظام کو مزید بہتر بنانے پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں چیف پلاننگ آفیسر ابتدائی و ثانوی تعلیم زین گیلانی نے وزیر اعلیٰ تعلیم کو حلقہ پی کے 83 میں تعلیمی سہولیات اور جاری ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے جامع بریفنگ دی۔اجلاس کے دوران وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے ہدایت کی کہ حلقہ پی کے 83 میں مقامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے دو نئے کمیونٹی اسکولز قائم کیے جائیں تاکہ بچوں کو گھر کے قریب معیاری تعلیمی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ پرائمری اور ہائر سیکنڈری اسکولز میں خستہ حال کمروں کو فوری طور پر منہدم کر کے دوبارہ تعمیر کیا جائے تاکہ طلبہ کو محفوظ اور بہتر تعلیمی ماحول فراہم ہو۔وزیر اعلیٰ تعلیم نے گورنمنٹ پرائمری اسکول ڈبگری روڈ پشاور کی عمارت کی فوری تعمیر شروع کرنے کی بھی ہدایت جاری کی۔ انہوں نے کہا کہ حلقہ پی کے 83 میں واقع تمام اسکولز کو پیرنٹس ٹیچر کونسل (پی ٹی سی) فنڈز فراہم کیے جائیں گے تاکہ اسکولوں کی سطح پر درپیش چھوٹے مگر اہم مسائل کو بروقت حل کیا جا سکے۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ سکولوں میں تدریسی و غیر تدریسی عملے کی کمی کو دس دن کے اندر پورا کیا جائے گا۔ وزیر نے بتایا کہ حلقہ پی کے 83 میں چالیس سے زائد اسکولوں میں فرنیچر کی فراہمی کا عمل مکمل کیا جا چکا ہے، جبکہ جنوری کے اختتام تک تمام سکولوں میں سولرائزیشن سسٹمز کی مرمت مکمل کر لی جائے گی۔ اس کے علاوہ جن سکولوں میں ابھی تک سولر سسٹم نصب نہیں، وہاں آئندہ تین ماہ کے اندر سولرائزیشن مکمل کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مینا خان آفریدی نے کہا کہ حلقہ پی کے 83 میں تعلیم سمیت ہر شعبے میں ترقیاتی کام جاری ہیں اور صوبے بھر میں حقیقی تبدیلی کے فروغ کے لیے حکومت سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ معیاری تعلیم کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
کامرس ایجوکیشن و مینجمنٹ سائنسز خیبرپختونخوا کے ڈائریکٹر جنرل، ڈائریکٹرز اور ڈپٹی ڈائریکٹرز کے سروس رولز کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا
کامرس ایجوکیشن و مینجمنٹ سائنسز خیبرپختونخوا کے ڈائریکٹر جنرل، ڈائریکٹرز اور ڈپٹی ڈائریکٹرز کے سروس رولز کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری اعلیٰ تعلیم، اسپیشل سیکرٹری اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے ڈائریکٹرز (بی پی ایس 19) کے عہدوں پر پروونشل مینجمنٹ سروس یا کسی اور کیڈر کے افسران کی تعیناتی کی تجویز کو مسترد کر دیا۔ وزیر اعلیٰ تعلیم نے واضح کیا کہ وہ ملازمین جو فیلڈ سے ہو کر محنت اور تجربے کے ساتھ اعلیٰ عہدوں تک پہنچتے ہیں، انہیں انتظامی پوسٹس پر خدمات انجام دینے کا پورا حق حاصل ہے۔مینا خان آفریدی نے کہا کہ محکمہ جاتی افسران کو انتظامی ذمہ داریاں دینے سے نہ صرف ادارہ جاتی تجربے سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے بلکہ ملازمین کی حوصلہ افزائی بھی ہوتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سروس رولز کی تشکیل میں میرٹ، تجربے اور محکمہ جاتی سروس کو بنیادی حیثیت دی جائے۔اجلاس کے اختتام پر وزیر برائے اعلیٰ تعلیم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت خیبرپختونخوا تمام محکموں میں شفاف، منصفانہ اور مساوی ترقی کے مواقع فراہم کرنے کے لیے سروس رولز کو مؤثر اور بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔
