خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ زکوٰۃ، عشر، سماجی بہبود، خصوصی تعلیم اوربااختیار خواتین کا اجلاس بدھ کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین اور رکن صوبائی اسمبلی زبیر خان نے کی۔ اجلاس میں کمیٹی کے اراکین و ممبرانِ صوبائی اسمبلی انور زیب خان، نیلوفر بابر، اسماء عالم اور صوبیہ شاہد نے شرکت کی، جبکہ سیکرٹری زکوٰۃ، عشر، سماجی بہبود و خصوصی تعلیم، محکمہ قانون اور صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا کے متعلقہ افسران و عملہ بھی اجلاس میں موجود تھے۔اجلاس میں عشر کے نظام پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جس میں موجودہ طریقہ کار، درپیش مسائل اور عملی اقدامات سے کمیٹی کو آگاہ کیا گیا۔ کمیٹی کے اراکین نے عشر کی وصولی اور تقسیم کے عمل میں شفافیت اور بہتری کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں اورمحکمہ کی جانب سے کمیٹی کے گزشتہ اجلاس کے فیصلوں پر کی گئی کارروائیوں کا جائزہ لیا گیا اور عشر سے متعلق گزشتہ 20 سال کا ریکارڈ بھی کمیٹی کے سامنے پیش کیا گیا۔ کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ اسمبلی کے فلور پر بل کے ذریعے عشر کو بورڈ آف ریونیو سے علیحدہ کیے جانے کے باوجود اسے دوبارہ ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کیوں کیا گیا۔محکمے نے وضاحت دیتے ہوئے بتایا کہ عشر کے مؤثر نفاذ کے لیے 100 اسامیوں کی ضرورت تھی جن کی منظوری محکمہ خزانہ نے دی تھی، تاہم بعد ازاں یہ اسامیاں ختم کر دی گئیں جس کے باعث عشر دوبارہ ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے تحت چلا گیا، جیسا کہ ملک کے دیگر صوبوں میں بھی رائج ہے۔ کمیٹی کو مزید آگاہ کیا گیا کہ عشر ہر زمین سے اگنے والی پیداوار پر دسواں حصہ بنتا ہے اور اس کی ادائیگی زمین مالکان اور زمینداروں کی رضاکارانہ صوابدید پر ہوتی ہے۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی نے ہدایت کی کہ عشر اور زکوٰۃ سے متعلق صوبے کے تمام اضلاع کا جامع ڈیٹا آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے۔اجلاس میں سپیشل ایجوکیشن حیات آباد کمپلیکس کو گاڑیوں کی فراہمی کے معاملے پر بھی غور کیا گیا۔ محکمے نے بتایا کہ 23 گاڑیاں خریدی گئی ہیں جن میں سے دو گاڑیاں عنقریب سپیشل ایجوکیشن حیات آباد کمپلیکس کو فراہم کر دی جائیں گی جبکہ باقی گاڑیاں صوبے کے مختلف اضلاع میں تقسیم کی جائیں گی۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ اس حوالے سے آئندہ اجلاس میں تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ زکوٰۃ فنڈ بیواؤں، یتیموں، معذور افراد اور مستحق بچیوں کی شادی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جس کے لیے پورے صوبے میں زکوٰۃ کمیٹیاں قائم ہیں۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی و برقیات کا اجلاس بدھ کے روز رکن صوبائی اسمبلی و چیئرمین قائمہ کمیٹی داؤد شاہ کی زیر صدارت
پشاورمیں منعقد ہوا جس میں محکمہ پیڈو،پیسکو،سوئی ناردرن گیس اورخیبر پختونخوا آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کے سینئر حکام نے اپنے متعلقہ محکموں کی جانب سے نمائندگی کی۔اجلاس میں محکمہ پیڈو نے خیبر پختونخوا میں چھوٹے بڑے ڈیمز کی تعمیر،مساجد و مدارس میں سولرائزیشن سکیموں،صوبائی ٹرانسمیشن لائن کی تعمیر اور دیگر جاری ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں ا راکین صوبائی اسمبلی انور زیب خان، محمد ریاض خان،ارباب محمد عثمان خان،جمیلہ پراچہ، گل ابراہیم،شازیہ جدون، گورپال سنگھ، شازیہ طہماس، اشبر جدون،اور خدیجہ بی بی نے شرکت کی اور اپنے حلقوں میں جاری بجلی اور گیس لوڈ شیڈنگ بارے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔اس موقع پر چیئر مین قائمہ کمیٹی داؤد شاہ نے کہا ہے کہ کوہاٹ ڈویژن میں گیس و بجلی کی ناروا لوڈ شیڈنگ سے عوام کو جلد از جلد چھٹکارا دلانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے وژن کے مطابق خیبر پختونخوا کو بجلی اور دیگر مقامی پیداوار میں خود کفیل بنارہے ہیں۔اور اس حوالے سے خیبر پختونخوا حکومت سستی بجلی کے لئے اپنی ٹرانسمیشن لائین بنارہی ہے۔انہو ں نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا آئل اینڈ گیس کمپنی لمیٹڈ کی کارگردگی قابل ستائش ہے اور عنقریب اپنا ڈرلنگ سسٹم متعارف کرے گی۔ارباب عثمان،خدیجہ بی بی اور دیگر اراکین اسمبلی نے اپنے حلقوں میں جاری گیس و بجلی لوڈ شیڈنگ سے شرکاء اجلاس کو آگاہ کیا اورکہا کہ مقامی گیس پیداوار پر اس صوبہ کا حق پہلا بنتا ہے لیکن پشاور کوہاٹ ڈویژن اور دیگر اضلاع میں بجلی و گیس کی لوڈ شیڈنگ نامناسب ہے اور اس پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔چیئرمین کمیٹی داؤد شاہ نے بجلی کی ناروا لوڈ شیڈنگ اور پیسکو کی ناقص کارگردگی پر اجلاس کے حکام سے کہا کہ پیسکو کو بھی دیگر محکموں کی طرح آوٹ سورس کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام اس سے مستفید ہوسکیں۔اور اسکے ساتھ ساتھ عرصہ دراز سے پیسکو کا عملہ ایک ہی سٹیشن پر خدمات انجام دے رہا ہے جسکے فوری تبادلہ کی ضرورت ہے۔اراکین اسمبلی نے بجلی لوڈ شیڈنگ،کم وولٹیج،ٹرانسفر مر کی مرمت،بجلی بلوں کی تقسیم کار،میٹر ریڈرز،سٹاف کی کمی،اوور بلنگ اور لائین لاسز بارے اپنے تشویش سے اجلاس کو آگاہ کیا۔اسی طرح اقلیتی رکن اسمبلی گورپال سنگھ نے اپنے مزہبی مقامات پر سولرایزیشن پلانٹس لگانے کی تجویز دی۔داؤد شاہ نے صوبہ بھر کے انڈسٹریل زون کو سولرائزیشن منصوبوں کے تحت لانے کی تجویز دی اور آئندہ اس حوالے سے کام کی تفصیل لانے کی بھی ہدایت کی۔اجلاس میں سیکرٹری انرجی اینڈ پاور نثار احمد،سیکرٹری انڈسٹریز عبداللہ وزیر،چیف ایگزیکٹو آفیسر پیڈو،چیف انجینئر پیسکو آصف جان مروت اور دیگر متعلقہ حکام نے بھی شرکت کی۔
خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی کی پشاور و نوشہرہ میں بڑی کاروائیاں، 2300 کلوگرام ممنوعہ چائنہ سالٹ اور مضرِ صحت گوشت برآمد
خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کی فوڈ سیفٹی ٹیموں نے پشاور اور نوشہرہ میں بڑی کارروائیاں کرتے ہوئے عوام کی صحت سے کھیلنے والے عناصر کے خلاف سخت ایکشن لیا ہے۔ ترجمان فوڈ اتھارٹی نے تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ روز خفیہ اطلاع پر پشاور فوڈ سیفٹی ٹیم نے اشرف روڈ پر واقع ایک گودام پر اچانک چھاپہ مارا، جہاں سے تقریباً 800 کلوگرام ممنوعہ چائنہ سالٹ برآمد کی گئی۔ ضبط شدہ چائنہ سالٹ کو موقع پر ہی تحویل میں لے کر مالکان پر بھاری جرمانے عائد کیے گئے جبکہ مزید قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ترجمان نے مزید بتایا کہ ایک اور کارروائی میں نوشہرہ فوڈ سیفٹی ٹیم پبی بازار میں ایک دکان پر چھاپہ مار کر تقریباً 1500 کلوگرام باسی اور مضرِ صحت گوشت اور چکن پارٹس برآمد کیے، جنہیں موقع پر حفظانِ صحت کے اصولوں کیمطابق تلف کر دیا گیا۔ دکان کو سیل کرتے ہوئے مالکان کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے جبکہ مزید قانونی کارروائی بھی شروع کر دی گئی ہے۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی واصف سعید نے کامیاب کاروائیوں پر فوڈ سیفٹی ٹیموں کو سراہا اور واضح الفاظ میں کہا کہ انسانی صحت سے کھیلنے والے عناصر باز آ جائیں، بصورتِ دیگر ان کے خلاف بلا امتیاز سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کی صحت پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کیا جائے گا اور فوڈ سیفٹی قوانین پر عملدرآمد ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ڈائریکٹر جنرل کا مزید کہنا تھا کہ صوبہ بھر میں خوراک کے معیار کی بہتری کے لیے انسپکشنز اور کارروائیوں کا سلسلہ مزید تیز کیا جائے گا تاکہ عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان نے محکمہ کے متعلقہ افسران کو ہدایت کی ہے کہ صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان نے محکمہ کے متعلقہ افسران کو ہدایت کی ہے کہ صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مفاد کے منصوبوں میں کسی قسم کی سستی یا غیر ضروری تاخیر قابلِ قبول نہیں انہوں نے واضح کیا کہ تمام سکیموں کو مقررہ وقت کے مطابق مکمل کیا جائے اور جن سکیموں کا پی سی ون ابھی تک تیار نہیں کیئے گئے انہیں فوری طور پر مکمل کیا جائے اور تمام پی سی ون اگلے ہفتے تک پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ (پی اینڈ ڈی) ڈیپارٹمنٹ میں منظوری کے لیے جمع کرائے جائیں تاکہ ترقیاتی عمل میں مزید تیزی لائی جا سکے۔ یہ ہدایات انہوں نے بدھ کے روز محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی سکیموں سے متعلق اہم جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔ اجلاس میں چیف انجینئرز، ایکسیئنز و دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی اجلاس میں صوبہ بھر میں جاری اور مجوزہ پی ایچ ای سکیموں پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا جبکہ صوبائی وزیر کو محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی مختلف سکیموں، بالخصوص صوبے میں جاری منصوبوں کی پیش رفت، درپیش مسائل اور آئندہ لائحہ عمل سے متعلق تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے منصوبوں کی تکمیل کی رفتار اور تکنیکی و انتظامی امور پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ عوام کو صاف اور محفوظ پینے کے پانی کی فراہمی خیبر پختونخوا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کو مؤثر، شفاف اور نتیجہ خیز اقدامات یقینی بنانے ہوں گے۔انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ انجام دیں۔
کامرس ایجوکیشن و مینجمنٹ سائنسز خیبرپختونخوا کے ڈائریکٹر جنرل، ڈائریکٹر اور ڈپٹی ڈائریکٹرز کے سروس رولز کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا
کامرس ایجوکیشن و مینجمنٹ سائنسز خیبرپختونخوا کے ڈائریکٹر جنرل، ڈائریکٹر اور ڈپٹی ڈائریکٹرز کے سروس رولز کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا
اجلاس میں سیکرٹری اعلی تعلیم، سپیشل سیکرٹری و دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی
وزیر برائے اعلی تعلیم مینا خان افریدی نے ڈائریکٹرز (بی پی ایس 19) کے پوسٹ پر پراونشل مینجمنٹ یا دیگر کیڈر کے افیسر لگانے کی تجویز مسترد کر دی
جو ملازم فیلڈ سے ہو کر اوپر آئے، انتظامی پوسٹ پر خدمات کی انجام دہی ان کا بھی حق ہے۔ مینا خان افریدی
خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کی پشاور اور نوشہرہ میں بڑی کارروائیاں
خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کی پشاور اور نوشہرہ میں بڑی کارروائیاں
پشاور: خفیہ اطلاع پر فوڈ سیفٹی ٹیم کا اشراف روڈ پر واقع گودام پر چھاپہ، ترجمان فوڈ اتھارٹی
پشاور: گودام سے تقریباً 800 کلوگرام ممنوعہ چائنہ سالٹ برآمد، مالکان پر بھاری جرمانے عائد، مزید کارروائی کا آغاز، ترجمان
پشاور: پبی بازار نوشہرہ میں فوڈ سیفٹی ٹیم کی کارروائی، ایک دکان سے تقریباً 1500 کلوگرام باسی اور مضرِ صحت گوشت و چکن پارٹس برآمد کر کے تلف، ترجمان
پشاور: دوکان سیل کرکے مالکان کے خلاف ایف آئی آر درج، مزید قانونی کارروائی شروع، ترجمان
پشاور : ایسے انسان دشمن عناصر باز آ جائیں، بصورتِ دیگر سخت کارروائی کے لیے تیار رہیں،ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی واصف سعید
پشاور: شہریوں کی صحت پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا ، واصف سعید
سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کی زیرِ صدارت خیبر پختونخوا اسمبلی کی سپیشل سیکورٹی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں قائدِ حزبِ اختلاف ڈاکٹر عباد اللہ، صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم، پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی سمیت کمیٹی کے دیگر اراکینِ صوبائی اسمبلی نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخوا اور ان کی ٹیم نے صوبے میں مجموعی امن و امان، سیکیورٹی صورتحال، پشاور، ضم شدہ اضلاع اور حساس علاقوں میں درپیش چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ دی۔ پولیس حکام کی جانب سے ایک جامع پریزنٹیشن پیش کی گئی، جس میں گزشتہ دو برسوں کے دوران صوبائی حکومت کی جانب سے پولیس فورس کی صلاحیت میں اضافے اور ادارہ جاتی اصلاحات کو سراہا گیا۔ اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ سیکیورٹی کو درپیش موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مزید مربوط اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔اجلاس میں پولیس حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے جدید ٹیکنالوجی، بالخصوص اینٹی ڈرون سسٹمز، اسلحہ، تھانوں اور پولیس اسٹیشنز کی تعمیر و بہتری، اور فنڈنگ کے طریقہ کار میں بہتری درکار ہے۔ ضم شدہ اضلاع میں سیکیورٹی منصوبوں پر خاطر خواہ پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ وہاں فنڈز کی ادائیگی ہو چکی ہے اور آئندہ دو برسوں میں باقی ماندہ کمیوں کو پورا کر لیا جائے گا۔کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کو مضبوط بنانے کے لیے نئی بھرتیوں، مستقل تربیت اور علیحدہ کیڈر کے قیام کی ضرورت ہے تاکہ دیگر صوبوں کی طرز پر ایک مضبوط اور مستقل CTD فورس تشکیل دی جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ انٹیلیجنس نظام کو مؤثر بنانے اور اداروں کے مابین انٹیلیجنس شیئرنگ کو ڈویژنل سطح تک وسعت دینے پر بھی زور دیا گیا۔اجلاس میں پشاور، ڈی آئی خان، بنوں اور لکی مروت سمیت دیگر اضلاع میں سیف سٹی منصوبوں کے جلد آغاز سے بھی آگاہ کیا گیا۔اس موقع پر اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے کہا کہ اسپیشل سیکورٹی کمیٹی کا یہ آخری اجلاس نہیں، آئندہ اجلاسوں متعلقہ اداروں سے بھی بریفنگ لی جائے گی۔ کمیٹی تمام مشاورت کے بعد اپنی جامع سفارشات صوبائی و وفاقی حکومت کو ارسال کرے گی اور انہیں ایوان میں بھی پیش کیا جائے گا۔اسپیکر نے واضح کیا کہ صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام اداروں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی اور ٹھوس پالیسی اقدامات ناگزیر ہیں، اور اسمبلی اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے سیکیورٹی معاملات پر بھرپور کردار ادا کرتی رہے گی۔
The Provincial Minister for Health, Khyber Pakhtunkhwa, Khaliq-ur-Rehman, visited the Emergency Satellite Hospital Nahaqi, Peshawar, where he laid the cornerstone of the Comprehensive Emergency Obstetric and Newborn Care (CEmONC) Unit and a warehouse.
The Provincial Minister for Health, Khyber Pakhtunkhwa, Khaliq-ur-Rehman, visited the Emergency Satellite Hospital Nahaqi, Peshawar, where he laid the cornerstone of the Comprehensive Emergency Obstetric and Newborn Care (CEmONC) Unit and a warehouse. The visit reflects the government’s commitment to strengthening maternal and neonatal healthcare services at the secondary level.
The former MPA Arbab Jehandad Khan, HCIP Project Director Dr. Bilal, the Hospital Director, and other concerned officials were also present on the occasion. The establishment of the CEmONC facility will significantly strengthen the gynecology department by providing complete operation theatre facilities, essential medicines, and well-equipped wards for mothers and newborns. This initiative will help reduce emergency referrals to major tertiary care hospitals in Peshawar and ensure timely care at the local level.
During the visit, the Provincial Minister inspected various units of the hospital, including the OPD, Emergency, Medicine Units, and inpatient wards. He issued clear directives to the Hospital Director to ensure the availability and punctual attendance of doctors, nurses, and paramedical staff. He also emphasized maintaining cleanliness and a hygienic environment across the hospital, stating that negligence in service delivery would not be tolerated as this is the only major healthcare facility catering to the local population.
The Minister stated that the Health Department is actively pursuing its reform agenda, under which the required number of doctors, nurses, paramedical staff, and essential medical equipment will be ensured in public sector hospitals. He further added that the Provincial Government is serious about revamping and equipping primary and secondary healthcare units across all districts to reduce the burden on tertiary care hospitals and provide quality healthcare services at the doorstep of the people.
The Provincial Minister informed that the Health Department is also finalizing a new comprehensive health policy aimed at addressing existing challenges in the healthcare system. He directed doctors and local representatives to refrain from political interference in hospital affairs, emphasizing that hospitals are meant to serve humanity without discrimination on the basis of political affiliation or background.
The Minister further directed the Hospital Director to strictly ensure attendance of all staff members, warning that absenteeism would invite strict disciplinary action. He expressed confidence that, with collective efforts and sincere implementation of reforms, positive and visible improvements in healthcare services across the province will be witnessed soon.
نو منتخب پشاور پریس کلب کا جمہوری انتخاب قابل تحسین ہے، شفیع جان
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے منگل کے روز پشاور پریس کلب کا دورہ کیا جہاں انہوں نے پشاور پریس کلب کے نو منتخب صدر ایم ریاض اور کابینہ کے دیگر اراکین کو انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد پیش کی،اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے معاون خصوصی شفیع جان نے کہا کہ پشاور پریس کلب کی نو منتخب کابینہ کا جمہوری طریقے سے انتخاب جمہوریت کی بہترین مثال ہے، انہوں نے کہا کہ صوبے کے صحافیوں نے مشکل حالات کے باوجود اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دی ہیں۔ صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے جو جمہوریت کے استحکام اور معاشرتی مسائل کے حل میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے،شفیع جان نے کہا کہ صوبائی حکومت صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے اور صحافی برادری کے مسائل کا بخوبی ادراک رکھتی ہے،انہوں نے شہید صحافیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت ہر سال کی طرح عنقریب صحافیوں کے لیے ایک خصوصی پیکج کا اعلان کرے گی،اس موقع پر صدر پشاور پریس کلب ایم ریاض نے معاون خصوصی شفیع جان کا دورہ کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کے صحافی دوست اقدامات قابل تحسین ہیں، انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت صحافیوں کے لیے فلاحی اقدامات کا تسلسل برقرار رکھے گی،بعد ازاں پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا دورہ پنجاب انتہائی کامیاب رہا جہاں پنجاب کے عوام اور پارٹی کارکنوں نے وزیراعلیٰ کا بھرپور استقبال کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس دورے کا مقصد بانی چیئرمین عمران خان کی ہدایت پر اسٹریٹ موومنٹ کا آغاز تھا، جس میں کامیابی حاصل ہوئی۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اسٹریٹ موومنٹ کے سلسلے میں سندھ اور بلوچستان کا بھی دورہ کریں گے، جس کے بعد سیاسی تحریک کی باقاعدہ کال دی جائے گی،معاون خصوصی نے وزیراعلیٰ کے دورہ لاہور کے دوران پنجاب حکومت کے منفی کردار پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لاہور میں کرفیو، اندھیرے اور مکمل بندش کا سماں تھا۔ چکری سے لے کر لبرٹی اور فوڈ اسٹریٹ تک سڑکیں بند کی گئیں،شفیع جان نے عظمیٰ بخاری کو سیاسی خانہ بدوش قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ کبھی پیپلز پارٹی اور کبھی مسلم لیگ (ن) میں رہیں۔ انہوں نے کہا کہ عظمیٰ بخاری کے شوہر فارم 47 کے ذریعے پنجاب اسمبلی کے رکن بنے۔ شفیع جان نے مزید کہا کہ عظمیٰ بخاری کی ہدایت پر اراکین کے ساتھ بدتمیزی کی گئی اور نام نہاد صحافیوں کو اسمبلی میں لایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے عظمیٰ بخاری کو صرف پی ٹی آئی پر الزامات لگانے کے لیے استعمال کیا ہے،صوبے میں قیام امن سے متعلق ایک سوال کے جواب میں معاون خصوصی نے کہا کہ صوبائی حکومت امن و امان کے قیام کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے حال ہی میں پولیس اور سی ٹی ڈی کے لیے 31 ارب روپے کے خصوصی پیکج کی منظوری دی ہے اور دونوں اداروں کی استعداد کار میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت صوبے کے بقایا جات ادا نہیں کر رہی، تاہم صوبائی حکومت اپنے حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی
خیبرپختونخوا اسمبلی کے سپیکر کا پنجاب اسمبلی کے سپیکر کو وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا کی سربراہی میں اراکینِ اسمبلی پر مشتمل وفد کے دورہ پنجاب اسمبلی کے دوران پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر خط
خیبرپختونخوا اسمبلی کے سپیکر بابر سلیم سواتی نے پنجاب اسمبلی کے سپیکر ملک احمد خان کو ایک خط ارسال کیا ہے، جس میں لاہور میں پنجاب اسمبلی کے دورے کے دوران پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کے وفد، جس کی قیادت وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا کر رہے تھے اور جس میں منتخب اراکینِ اسمبلی اور مدعو مہمان شامل تھے، کو دورے سے قبل باقاعدہ سرکاری رابطوں اور پیشگی اطلاع کے باوجود متعدد رکاوٹوں، غیر پیشہ ورانہ طرزِ عمل اور پارلیمانی آداب کی صریح خلاف ورزیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ وفد کے اراکین کو غیر ضروری تاخیر، بار بار سیکیورٹی چیک، جارحانہ سوالات، اور غیر مہذب رویے کا سامنا کرنا پڑا۔خط کے مطابق صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب خیبرپختونخوا کے وزیرِاعلیٰ اسمبلی کی عمارت کی جانب پیدل جارہے تھے سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے روکے گئے اراکین کو دھکے دیے گئے اور نامناسب رویہ اختیار کیا گیا، جس کے باعث وہ واپس اپنی گاڑی کی جانب جانے پر مجبور ہوئے۔ سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی نے اس طرزِ عمل کو آئینی تقاضوں اور پارلیمانی روایات کے سراسر منافی قرار دیا۔
خط میں بعض ایسے افراد کے طرزِ عمل پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے جو خود کو صحافی ظاہر کرتے ہوئے مبینہ طور پر اشتعال انگیز اور متنازعہ سوالات کے ذریعے ماحول کو مزید کشیدہ بنانے اور سرکاری دورے کی سنجیدگی کو متاثر کرنے کا باعث بنے۔اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی نے واضح کیا کہ صوبائی اسمبلیاں آئینی ادارے ہیں اور مختلف صوبوں کے منتخب نمائندوں کے مابین روابط باہمی احترام، ضبطِ نفس اور پارلیمانی آداب کے دائرے میں ہونے چاہئیں۔ خط میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ سیکیورٹی سے متعلق امور کو عوامی توہین یا جسمانی تصادم کے بجائے ادارہ جاتی رابطوں اور پیشگی انتظامات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔اسپیکر نے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی مناسب سطح پر مکمل جانچ کی جائے، جہاں ذمہ داری عائد ہوتی ہو وہاں اس کا تعین کیا جائے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے واضح اور مؤثر ہدایات جاری کی جائیں۔ خط کی نقول چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی کو بھی برائے اطلاع ارسال کی گئی ہیں۔خط کے اختتام پر اس امر کی نشاندہی کی گئی ہے کہ اگر ایسے واقعات کو نظر انداز کیا گیا تو یہ صوبوں کے درمیان ہم آہنگی، باہمی احترام اور وفاقی تعاون کے جذبے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
